نیلو سے نیلم تک ——– اسما ظفر

1

گئے وقتوں کا ایک قصہ ہے بہت پرانا جب شاید آپ ہم میں سے کئی اس دنیا میں آئے بھی نہیں تھے۔ ذکر ہے ایک لڑکی نیلو کا جو پاکستانی فلموں میں اداکاری کرتی تھی اسکے کریڈٹ پر اتنی معروف فلمیں نا تھیں مگر ایک پہچان بہر حال بنا چکی تھی انڈسٹری میں خاص طور پر انکے رقص فلم بینوں کو بہت بھاتے تھے یہ وہ زمانہ تھا جب تفریح کے ذرائع بہت کم تھے امیر غریب سب سنیما گھروں میں شوق سے فلمیں دیکھنے جایا کرتے تھے۔

فلم میں اداکاری کر کے جگہ اور نام بنانے کے بعد شہرت دولت دونوں ہی اداکار کے قدم چومتی تھی مگر اس زمانے میں خواتین کا فلم میں کام کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا لوگ انہیں بڑے پردے پر دیکھنے کی چاہ تو رکھتے تھے مگر عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے اب بھی کسی حد تک یہی صورت حال ہے۔

تو بات ہو رہی تھی نیلو بیگم کی جو اب مشہور اداکار شان کی والدہ کی حثیت سے بھی معروف ہیں مشہور ہدایت کار ریاض شاہد انکے شوہر تھے انکی شادی کی بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

1965 کے اوائل میں لاہور میں حکومت وقت کے زیر اہتمام ایک کانفرنس کے شرکا کے لئے ایک عشائیہ اور ثقافتی محفل منعقد کی گئی تھی جس میں معروف اداکارہ نیلو کو رقص کرنے کے لئے کہا گیا۔ نیلو کے انکار پر اسےحکومتی اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں۔ اس بے عزتی کی تاب نہ لاتے ہوئے اداکارہ نے نیند کی گولیاں کھا کر اقدام خودکشی کیا۔ نیلو کی جان بچالی گئی اور انکی اس ادا پر فدا ہو کر ریاض شاہد نے ان سے شادی کر لی۔ حبیب جالب نے اس واقعہ کے پس منظر میں ایک نظم ‘ نیلو’ لکھی جسے بعد میں فلم زرقا میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ نیلو پر ہی فلمایا گیا۔

کچھ لوگ اس واقعہ کو شہنشاہ ایران کے دورہِ پاکستان اور مغربی پاکستان کے گورنر ملک امیر محمد خان، نواب آف کالا باغ کے پس منظر میں بھی بیان کرتے ہیں۔

اتنی لمبی تمہید کا مقصد یہ تھا کہ ایک ہیروئن کتنی مجبور ہوتی ہے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں بلکہ ہر وہ عورت جو مردوں کے بیچ رہ کر کام کرتی ہے اس معاشرے میں اس کی زندگی اتنی آسان نہیں جتنی بظاہر ہمیں نظر آتی ہے ایک چمکتی دمکتی اور رنگین فلمی دنیا اور اس میں کام کرنے والی خوبصورت ہیروئنز کو بہت سی لڑکیاں بڑی حسرت سے دیکھتی ہیں مگر انکی اندرونی تکلیفوں سے ہم واقعی انجان ہوتے ہیں۔

اب آتے ہیں اصل قصے کی طرف آجکل اداکارہ نیلم منیر اپنے ایک آئیٹم سونگ کے لیئے جو فلم “کاف کنگنا ” کے لیئے فلمایا گیا بہت چرچے میں ہیں انکی ایک ٹوئیٹ بھی بہت متنازعہ ہو رہی ہے جسمیں انہوں نے نے کچھ ایسا اظہار کیا ہے کہ فلم ’’کاف کنگنا‘‘ میں آئٹم نمبر صرف مُلک کی خاطر کیا کیونکہ پاکستان کے لیے ان کی جان بھی حاضر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہ آئٹم سانگ ان کا پہلا اور آخری ہو۔ یاد رہے یہ فلم پاک فوج کے ترجمان ادارے ISPR کے تحت بن رہی ہے۔

لوگ سوشل میڈیا پر اس کا ذکر انتہائی طنزیہ انداز میں کر رہے ہیں مگر کیا حقیقت وہی ہے جو دکھائی دے رہی ہے؟ کیا ہم نیلو بیگم کا واقعہ فراموش کر چکے ہیں ؟

کیا واقعی نیلم منیر نیلو کی طرح بہادر نہیں ہیں یا انکی بیان کردہ بات ہی حقیقت ہے ؟ ہم آخر ایک ہیروئن سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں وہ پیسے اور شہرت کے لیئے ہی اس لائن میں آئی ہے تو ہر وہ کام کرے گی جو اسے پیسہ دے یا اچھی یا بری شہرت دے کچھ نیلو بیگم کی طرح نیند کی گولیاں کھا لیتی ہیں اور کوئی ٹھمکے لگانے میں عافیت جانتی ہیں بات کوئی بھی ہو سطح سے سمندر کی گہرائی کا اندازہ مشکل ہوتا ہے ہم بھی سطح دیکھ کر قیاس لگانے کی ہی کوشش کر رہے ہیں کیا معلوم اس سمندر کی گہرائی میں کتنے راز چھپے ہیں کیا معلوم ؟ واقعی کیا معلوم۔ ۔ ۔ ۔

بخش دیں بے چاری نیلم کو بھی کیونکہ وہ نیلو جیسی باہمت شاید نا ہو یا شاید اسے پیسے اور نام کی بھوک ہو ہم نہیں جانتے اور نا ہی جاننے کی خواہش رکھتے ہیں آئیں حب الوطنی کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نیلم منیر کے ٹھمکے انجوائے کریں بس باقی سب جانے دیں کیونکہ حقیقت اکثر بہت تلخ ہوتی ہے اور ہر ہیروئن نیلو نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. عادل مظفرپوری on

    مذہبِ شوق میں بک جاتے ہیں اچھے اچھے
    زندگی بسر کہاں سب کی سہل ہوتی ہے

    کوئی مر جاتا ہے گر دام لگایا جائے
    کچھ کے بک جانے میں پوشیدہ پہل ہوتی ہے

    (عادل مظفرپوری)

Leave A Reply

%d bloggers like this: