کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری —– ڈاکٹر مریم عرفان

1

اس زمانے کا شہر آشوب یہی ہے کہ اب لڑنے کے لیے ہتھیار کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ مکروفریب کے تخت شہی پر بیٹھ کر منزل مل جاتی ہے۔ سامنے والے کو گالی دینے کی مشقت بھی اٹھانے کی فکر نہیں کیونکہ الزام تراشیوں کا دور شروع ہو چکا ہے۔ زمانے کا جھوٹ اس قدر سچ بن کر سامنے آیاہے کہ سچا کبھی بھی سچا نہیں لگتا۔ لفظوں کے ان گورکھ دھندوں میں ایک گورکھ دھندا کچھ دن پہلے اس دنیا سے چلا گیا۔ جی ہاں! ایک سقراط نے زہر کا پیالہ ہونٹوں پر رکھا اور غٹاغٹ اپنے حلق کے نیچے انڈیل لیا۔ مجمع انگشت بدنداں ہے کہ بھلا حرام موت مرنے کی ضرورت کیا تھی۔ یہ آج کل کے استادوں کو بھی پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے جو خودکشیوں کو اتنا ڈرامائی اور تخیلاتی بنارہے ہیں کہ ایک مثال قائم ہو جائے۔ اگر تم اتنے ہی سچے تھے تو اپنا سچ ثابت ہونے تک انتظار کرتے، اتنی جلد بازی نہ دکھاتے۔ تمہاری موت سے کیا جنسی ہراسگی ختم ہو جائے گی؟ جس حسینہ نے تم پر گھورنے کا سخت الزام لگایا کیا اسے اب مزید مرد دیکھنے کی جسارت نہیں کریں گے؟ محمد افضل تمہاری اس خودکشی سے یونیورسٹیاں اور ادارے کبھی بھی ہراسگی پھیلانے سے توبہ تائب نہیں ہوں گے۔ تم ظالم تھے، تم ظالم ہی رہو گے۔ کاش تم مضبوط دل اور اعصاب کے مالک ہوتے، تمہارے سینے میں بھی پتھر کی سل ہوتی، تمہیں فرق ہی نہ پڑتا کہ تم بے قصور ہو۔ تم ایک استاد تھے، تمہاری خودکشی سے زمانے کی سوچ پر کوئی آنچ نہیں آئی۔ بس سوشل میڈیا پر کچھ دیر کے لیے چچ چچ چچ چچ کی آوازیں ابھری ہیں اور طویل خاموشی ہے۔

یہی خودکشی اگر اس پاکباز شاگردہ نے کی ہوتی تو میڈیا کی جان پر بن جانی تھی۔ ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے کچھ خشک روشن خیال چہرے، میک اپ کی دبیز تہوں میں ڈوبے ہوئے گال، لبرٹی چوک بلاک کر کے آستینیں بغلوں تک چڑھائے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کی تصویر بنے سراپا احتجاج ہوتے۔ اسی محمد افضل کو سرعام سنگسار کرنے کی استدعا کی جاتی اور اسے بدعائیہ الفاظ و القابات سے نوازا جاتا۔ صد افسوس! جاہل استاد نے مکرو فریب کا پردہ ہی چاک کر دیا۔

یہ کچھ زیادہ ہی ہو گیا شاید؟ جس کی وجہ میرا محمد افضل سے ہم پیشہ ہونے کا تعلق موجودہے۔ وہ بھی استاد ہے میں بھی استاد ہوں بس وقت اس کا استاد نہیں تھا۔ جنسی ہراسگی ہے کیا اور کیا ہراسمنٹ کی زد میں آنے والا ہر فعل قابل گرفت ہے۔ یہ وہ سوال ہے جس پر ابھی تک کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔ اصل میں ہراسمنٹ کی تعریف و توصیف جس طریقے سے کی جارہی ہے وہ سرے سے غلط ہے۔ جب آپ کسی کو اس کی مرضی کے بنا ہاتھ لگائیں یا قریب ہونے کی کوشش کریں تو وہ ہراسمنٹ کہلاتا ہے لیکن گھورنا کی تشریح آج تک نہیں کی گئی۔ ہراسمنٹ کا لفظ پہلی مرتبہ 1970ء کے لگ بھگ استعمال ہوا جس میں مغربی معاشرہ پیش پیش تھاکیونکہ یہ لفظ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشمکش بھی اہل مغرب کی ہی دین ہے۔ گوروں کے ہاں تو دل کی مرضی پر جسم کے سودے ہوتے ہیں وہاں اخلاقیات کہاں ہے؟ مشرق و مغرب کے اسی تفاوت میں جنسی ہراسگی جیسا لفظ اتنا پروان چڑھا کہ اب اس کی عملی صورتیں ہمارے معاشرے میں بھی نظر آنے لگی ہیں۔ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھارت جنسی ہراسگی میں ملوث ممالک کی فہرست میں آگے ہے۔ وہاں ان کی اپنی خواتین غیر محفوظ ہیں چہ جائیکہ گوری چمڑی تو پکی پکائی کھیر ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس لفظ سے جڑی خباثت اس وقت سامنے آئی جب مخلوط تعلیمی اداروں میں نمبروں کی دوڑ شروع ہوئی یا نوکری کے حصول کے لیے جونیئر اور سینئر کے مابین مفادات کی جنگ کا خاتمہ ہوتا ہی ترک تعلق اور جنسی ہراسگی جیسے الزامات پر ہے۔ یہ کوئی عام سا الزام نہیں ہے بلکہ اس کے درخواست دینے سے پہلے حوصلہ جمع کرنا پڑتا ہے پھر اس کے بعد اس مطلوبہ شخص پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔ رٹ دائر ہوتی ہے، مقدمے کی تاریخیں متعین ہوتی ہیں اور پھر جرح کی جاتی ہے۔ شرمناک سوالات کا لامتناہی سلسلہ دراز ہوتا ہے اور الزام شدہ شخص کو ’ہینگ ٹل ڈیٹھ‘‘ کا آرڈر دیتے ہی اس کا معاشی بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔ میں حیران ہوں ان دیدہ وروں کی شرمناکیوں پر جو ہمارے اداروں میں موجود تو ہے، کھل کھیلنے کا موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، جن کے دفاتر عشرت گاہوں میں بدل چکے ہیں اور جہاں دروازوں سے آگے بھاری بھر کم پردے لٹک رہے ہوتے ہیں، وہاں حسین چہرے روز حاضری بھی دیتے ہیں، ان کے کریڈیٹ آورز بھی پورے ہوتے ہیں، آسائنمنٹس پر نمبر بھی لگتے ہیں، جی۔پی۔اے چارکا ہندسہ کراس کر لیتا ہے۔ نشاطیہ دور کے اس باب میں بہت سے معصوم چہرے حقیقت میں ہراسگی کا نشانہ بنتے ہیں لیکن وہاں کیوں کوئی درخواست نہیں دیتا۔ وہاں یہ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ والی آنٹیاں پلے کارڈ اٹھاکر انصاف کے لیے جمع کیوں نہیں ہوتیں؟

میں حیران ہوں ان دیدہ وروں کی شرمناکیوں پر جن کے دفاتر کے دروازوں کے آگے بھاری بھر کم پردے لٹک رہے ہوتے ہیں، وہاں حسین چہرے روز حاضری بھی دیتے ہیں، ان کے کریڈیٹ آورز بھی پورے ہوتے ہیں، آسائنمنٹس پر نمبر بھی لگتے ہیں، جی۔پی۔اے چارکا ہندسہ کراس کر لیتا ہے۔

ہماری اکثر جامعات کے مختلف شعبوں میں بہت سے کمرے ایسے بھی ہیں جہاں اندر جانے سے پہلے اپنے نالے کس کر باندھنا پڑتے ہیں۔ خود کو چادر میں لپیٹنا پڑتا ہے، نظر نیچی رکھنا پڑتی ہے لیکن کبھی کسی کے اندر اتنی جرأت نہیں دیکھی کہ وہ انتظامیہ کے نام خط پتر لکھ کر احتجاج کرے۔ ہائے! رے ماڑی قسمت محمد افضل جیسے لوگ آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں جنہیں جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے جان سے جانا پڑتا ہے۔ انصاف اٹھ گیا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب انصاف نہ رہے تو ناانصافی کا بت بھی پاش پاش ہو جاتاہے۔ ہماری جامعات میں جاری یہ نفسیاتی لڑائی اور اس کے نتیجے میں الزامات بھگتنے والے لوگوں کی فہرست طویل ہوتی رہی تو پھر درسگاہیں ویران ہوجائیں گی۔ انصاف کی راہ میں حائل یہ تعطل نجانے اور کتنے محمد افضل کھاجائے گا اور مکروفریب کی شہزادیاں دیوار سے سر لگائے، بالوں کی لٹوں کو گھماتی رہیں گی اور ہم جیسے کہتے رہیں گے:

کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری

یہ بھی پڑھیں: مجھے ڈوبتا بھی دیکھ! (ایک استاد نے خود کشی کیوں کی؟) ۔۔۔۔ اورنگ زیب نیازی

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. پہلی بات۔۔۔کہ رائٹرکی تصویراس انداز سے تاثر پیدا کرتی ہے جیسے یہی وہ طالبہ ہو۔ دوسری چیز مخلوط اور سمسٹر سسٹم کی خرابی۔۔۔
    حکومت کا کوئی وژن کسی حوالے سے پاکستان میں کبھی دکھائی نہیں۔۔۔بس جو جیسا چاہے کرے۔ ایسی اندھیر نگری اوراتنی آزادی تویوروپ میں بھی نہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: