خلیل صاحب اور بواسیر ——– ڈاکٹر فرحان کامرانی

0

جامعہ کراچی میں میرا سال دوئم تھا۔ 2004ء کے جنوری میں جب میں ابلاغ عامہ اختیاری کی کلاس میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ اب ہمیں کوئی خلیل صاحب ابلاغ عامہ پڑھائیں گے۔ ابلاغ عامہ کو بحیثیت اختیاری مضمون لینے کی میری ایک بڑی ذاتی اور جذباتی وجہ تھی۔ میرے والد صاحب (مرحوم) نے بھی اسی مضمون میں ماسٹرز کیا تھا اور میں بھی اپنا تبادلہ اس مضمون میں کروا کر اپنے والد کے نقش قدم پر چلنا چاہتاتھا۔ مگر میرے اور ابلاغ عامہ کے درمیان خلیل صاحب آ گئے۔ مگر بات تھوڑی تفصیل طلب ہے۔

ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کا عملاً سب سے ”ویلا“ مضمون بن گیا ہے۔ وجہ اس کی یہ کہ اس کے نظریات کو اس شعبے کے نصاب میں بہت کم جگہ دی گئی ہے اور جو عملی حصے ہیں وہ سکھانے کا کوئی انتظام ہے ہی نہیں۔ اس لئے یہ شعبہ بڑی حد تک بس باتوں ہی باتوں پر چل رہا ہے۔ اگر استاد اچھا ہو، تھوڑا عملی ابلاغ عامہ کا تجربہ رکھتا ہو تو کلاس دلچسپ ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے عملی تجربات بیان کرتا رہتا ہے مگر جس کے پاس عملی تجربہ اتنا دلچسپ نہ ہو یا وہ خلیل صاحب ہو تو آپ کے لئے 50 منٹ کی کلاس کو 50 سال کی محسوس کروا سکتا ہے اور انہی تجربات نے مجھے میرے والد مرحوم کی پیروی کرنے کے ادارے سے ہٹنے پر مجبور کر دیا اورمیں نے نفسیات میں داخلہ لے لیا۔

جب ہم نے خلیل صاحب کی پہلی کلا س لی تو اس میں چند عناصر کی تکرار تھی۔ وہ باتیں کچھ یوں تھیں،

”ارے نرے احمقو! تم کو معلوم بھی ہے تم کس عظیم ہستی سے پڑھ رہے ہو؟“

“I have seen all the world”

”تم لوگ کتنے احمق ہو جو آرٹس پڑھ رہے ہو؟ تمہارا مستقبل کیا ہو گا؟ یہ سب پڑھ کر تم صرف باتیں ہی بنا سکو گے؟ تم میں جو لڑکیاں ہیں چلو ان کو تو شادی کر کے بچے ہی پیدا کرنے ہیں، مگر جو لڑکے ہیں، کیا تم لوگ جدی پشتی رئیس ہو جو اپنی زندگی آرٹس میں ضائع کرنے آگئے؟ تم لوگوں کے لئے مستقبل میں کچھ بھی نہیں۔ “

“I see a dark tunnel in front of you”

محترم خلیل صاحب نے پورے سال کمال ایمانداری سے ساری کلاسز لیں اور پورے سال ہر کلاس میں بس یہی باتیں کیں۔ وہ بڑے پکے مارکسی تھے اور خود کو چھوٹا سا لینن بلکہ اسٹالن سمجھتے تھے۔ میری بدقسمتی یہ تھی کہ خلیل صاحب کا دعویٰ تھا کہ وہ میرے والد کے کسی نوع کے مربی رہے تھے۔ اس لئے میں مروت میں کبھی ان کے سامنے کچھ بول بھی نہ پاتا۔

خلیل صاحب کی باتوں میں ہر وقت دراصل وہی مارکسی فلسفہ بھرا ہوا ہوتا جس کے زیر اثر مونا لیزا کی تصویر کو ایک چھری یا ایک جوتے سے فروتر چیز قرار دیا جاتا ہے۔ یہ وہ فلسفہ ہے جو راقم الحروف کے نزدیک دنیا کے لیے TB اور ایڈز سے بھی زیادہ مہلک ہے۔ ”خلیل صاحبان“ کے بڑھتے ہی چلے جانے نے انسانیت کو جمالیات کے اس بحران سے دوچار کر دیا ہے کہ جہاں دنیا ایک جانب ایک بدصورت کنکریٹ کا جنگل ہے، دوسری جانب دولت، طاقت کی اندھی دوڑ ہے اور ایک پھیکی، بے رنگ، بے مزہ شے کے علاوہ کچھ نہیں۔

جب میں نے جلیل صاحب کو بتایا کہ اس نے ماسٹرز میں نفسیات میں داخلہ لے لیا ہے تو وہ بڑی حقارت بھری ہنسی ہنسے اور بولے ”کیوں میاں؟ پاگل خانے میں نوکری کرو گے؟“ میں نے انہیں بتایا کہ نفسیات صرف نفسیاتی مریضوں کے علاج کا نام نہیں تو وہ اور زیادہ حقارت سے مجھے دیکھتے ہوئے بولے۔ ”پڑھیں گے فارسی، بیچیں گے تیل“۔

اللہ کا احسان ہے کہ خلیل صاحب کی یہ منحوس پیشین گوئی غلط ثابت ہوئی اور الحمد للہ مجھے کبھی تیل بیچنے کی ضرورت پیش نہ آئی مگرخلیل صاحبوں کی اکثریت اس معاشرے میں چورن ہی بیچ رہی ہے، یہ ”عمل عمل“ کا ترانہ پڑھنے والے، یہ سائنس کو آرٹس پر اور ٹیکنالوجی کو سائنس پر فوقیت دینے والے، یہ اسکرو ڈرائیور کو تاج محل سے برتر اور ٹیلی فون ڈائریکٹر کو الف لیلیٰ سے برتر سمجھنے والے ذہنی معذور لوگ اس بات سے بے بہرہ ہیں کہ انسان سائنس و ٹیکنالوجی کے بغیرتو زندہ رہ سکتا ہے، انسان صنعت اور سڑکوں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتا ہے، انسان ان، ”ڈاروینوں“، ”آئن اسٹائنوں“، ”نیوٹنوں“ کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے مگر انسان جمالیات کے بغیر ایک لمحہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہ زندگی سے حسن و جمال کو باہر کر دینے کی تحریک آخر میں انسان سے زندگی کو باہر کر کے ہی دم لے گی۔

میں نے جب پی ایچ ڈی کیا تو کئی بار لوگ نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھ کر MBBS ڈاکٹر سمجھ لیتے۔ کئی مرتبہ میرے پاس لوگ سردرد، پیٹ کے درد، مردانہ کمزوری اور بواسر وغیرہ کا علاج پوچھنے آ جاتے۔ عام طورپر یہ غریب یا غیر تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ ہوتے۔ میں ان کو بتاتا کہ میں ان چیزوں کے علاج کرنے والا ڈاکٹر نہیں تو وہ حیرت سے دیکھتے۔ ایک روز ایک ”خلیل صاحب“ مجھ کو ان سائلین میں بھی ٹکرا گئے۔ آپ دفتر میں بید کی کرسی کی بنائی کرنے آئے تھے اور بواسیر کی پریشانی کا شکار تھے۔ محترم نے بڑی امید سے مجھ سے بواسیر کے مرض کا علاج پوچھا۔ جب میں نے اپنی اس بابت نااہلی کا اظہار کیا تو وہ جلال میں آ گئے اور بولے۔ ۔ ۔ ”پھر آپ سے تو بہتر میں ہوں، مجھے کم از کم یہ کام تو آتا ہے، آپ کو کیا کام آتا ہے؟“ جواباً ہم نے کہا ”مجھے روح کے بواسیر کا علاج آتا ہے، خلیل صاحب۔“ محترم نے ہمیں گھور کر دیکھا اور گویا ہوئے ”روح کا بواسیر کیا چیز ہوتی ہے؟ اور میرا نام خلیل نہیں ہے۔“

میں نے مسکرا کر انہیں دیکھا اور کہا۔ ”بس جس دن آپ کو وہ ہو جائے، مجھ سے رابطہ کیجئے گا۔“ بڑے میاں کرسی بننے میں لگ گئے۔ وہ یقینی طو رپر یہی سوچ رہے تھے کہ ”یہ کوئی پاگل ہے، نکما پاگل جس نے خود کو ڈاکٹر مشہور کر رکھا ہے مگر اسے بواسیر کا علاج کرنا بھی نہیں آتا۔ اس سے بہتر تو یہ کرسی ہے، کم از کم اس پر بیٹھا تو جا سکتا ہے، یہ پنکھا ہے، اس سے ہوا تو آتی ہے، یہ جوتا ہے، اسے پہنا تو جا سکتا ہے مگر اس ڈاکٹر کا مصرف کیا ہے آخر؟ اس جامعہ کا مصرف کیا ہے آخر؟ اس آرٹس فیکلٹی کا مصرف کیا ہے آخر؟ دیوان حافظ اور میر کا مصرف کیا ہے آخر؟ تاج محل اور داستان امیر حمزہ کا مصرف کیا ہے آخر اور اس منحوس بواسیر کا مصرف کیا ہے آخر؟۔“

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: