’’احیائے مذاہب: اتحاد، انتشار اور تصادم‘‘ اثبات کی خصوصی اشاعت ——– محمد حمید شاہد

0

ایک زمانے تک، جب جب ہندوستان اور ادبی جرائد کا ذکر ایک ساتھ ہوا ہمیں ”شب خون“، ”سوغات“، ”نیا ورق“، ”شعر و حکمت“، ”ادبی دنیا“، ”الفاظ“، ”ذہن جدید“، ”غالب نامہ“، ”استعارہ“، ”اردو ادب“، ”ادب ساز“ اور ایسے ہی کئی معروف اور قدرے کم معروف ادبی جرائد یاد آئے جو ہم تک پہنچتے رہے تھے۔

ان ہی میں ”امروز“، ”سبق اردو“ اور انتساب بھی شامل کر لیجیے۔ کئی اور ادبی جرائد بھی یاد آتے ہیں مگر اشعر نجمی کے ”اثبات“ نے اپنے خصوصی شماروں سے بالکل نئی طرح ڈالی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ادبی جرائد ”خصوصی نمبر“ شائع نہیں کرتے رہے ہیں مگر یوں ہے کہ جس لگن، جرات، استقامت اوراپنے مزاج کے ٹیڑھ پن کے ساتھ وہ ”اثبات“ کو مختلف اور چونکانے والا بنا لیتے ہیں یہ کچھ انہی کا حصہ ہے۔ اثبات کا پہلا شمارہ غالباً 2008ء کے وسط میں آیا تھا۔ انہوں نے بہت محنت اور قرینے سے اس کا الگ سا مزاج بنایا، ایسا کہ سب اہم لکھنے والے اس میں چھپنے لگے۔ یہ ان کی محبت ہے کہ مجھ سے انہوں نے مسلسل رابطہ رکھا اور مجھے بھی اس جریدے میں چھپ کا ہمیشہ اچھا لگا۔ پھر یوں ہوا کہ اس جریدے نے ایک انگڑائی لی۔ پہلا سلسلہ موقوف ہوا۔ اور ”اثبات“ کے خصوصی شماروں نے ادبی اور علمی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ اس جریدے کے یہ خصوصی نمبر پاکستان سے بھی چھپنے لگے۔

”ادب میں عریانی اور فحش نگاری“ اور ”مشاہیر علم و ادب کے سرقوں کا محاسبہ“ پر مشتمل ضخیم اور اہم شماروں کا چرچا ابھی تھما نہ تھا کہ ساڑھے تئیس سو صفحات اور دو جلدوں پر مشتمل ”احیائے مذاہب: اتحاد، انتشار اور تصادم“ کے عنوان سے ”عکس پبلی کیشنز“ والوں نے لاہور سے ”اثبات“ کا خصوصی شمارہ چھاپ دیا ہے۔ میں مدیر اور پبلشر دونوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ پہلے کی طرح انہوں نے اس بار بھی یاد رکھا۔

اس شمارے کی خاص بات یہ ہے کہ یک موضوعی ہو کر بھی محض ایک مزاج اور ایک فکری قبیلے کی تحریروں پر مشتمل نہیں ہے تا ہم یوں ہے کہ اس اہم دستاویز میں ہمیں ان موضوعات پر بھی مباحث ملیں گے جن پر سے ہمارا سماج نظریں چرا کر گزر جاتا رہا ہے یاپھر خوف فساد خلق سے یہ موضوعات ناگفتہ رہ جاتے رہے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ اس میں لکھنے والے ہر فرد سے آپ اتفاق کریں تاہم یہ بھی نا مناسب ہو گا کہ اپنے تعصبات کو جھٹکے بغیر ہر تحریر کو رد کرتے جائیں۔ اشعر نجمی نے اپنے دیباچے ”سوال تو اٹھیں گے“ میں لکھا ہے کہ ”مذہب کی تاریخ میں یہ سوال اہم رہا ہے کہ کیا مذاہب اپنی خالصیت اور ابتدائی تعلیمات کو بدلتے ہوئے حالات اور نئے لوگوں میں تبدیلی مذہب کے بعد ان کو برقرار رکھ سکتے ہیں؟ اور کیا مذاہب بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں؟۔۔۔

کیا مذہب کو بدلنا چاہیے یا معاشرہ کو تبدیل کر کے اسے مذاہب کے سانچہ میں ڈھالنا چاہیے؟ یہ کشمکش اور تصادم ہر مذہب کے اندر ہے اور رہے گا۔“ دیکھا جائے تو مذہبی تجدید کا سوال خود مذہب کو ماننے والوں کے ہاں بہت اہم رہا ہے تا ہم جب بھی تجدید اور ری کنسٹریکشن کی بات ہوئی شدید رد عمل سامنے آیا۔ دوسری طرف مذہب کو افیون سمجھنے والے ہوں یا اسے تصادم اور انتشار کا سبب سمجھنے والے، وہ سب اس پر جو سوالات قائم کرتے رہے وہ اپنی جگہ سنجیدہ غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ اس دستاویز میں تجدید، تصادم اور انتشار ہی موضوع ہوئے ہیں۔ اور ہاں، سارتر نے ادیب کی قدر کے لیے یہ پیمانہ تجویز کیا تھا کہ جب تک اس کی تصانیف کو پڑھ کر لوگوں کو غصہ آئے گا، بے چینی ہو گی، شرم آئے گی، نفرت ہو گی یا محبت ہو گی وہ زندہ رہے گا۔ لگ بھگ یہی پیمانہ اشعر نجمی نے شاید ادبی پرچے کے ایک مدیر کا سمجھ کر اپنے لیے لازم کر لیا ہے۔ سو آپ اس خاص اشاعت کی تحریروں سے اتفاق کریں یا اختلاف یہ دستاویز آپ ہی کے لیے ہے کہ یہ ایسا کام ہے جو ادبی علمی صحافت کا مستقل باب ہو گیا ہے۔


اثبات :: احیائے مذاہب : اتحاد، انتشار اور تصادم – (جلد:1 ، فہرست مضامین)
نمبر شمارعنوانمصنف
اداریہ
1سوال تو اٹھیں گے!اشعر نجمی
اسلام اور احیائے اسلام
2اسلامی تاریخ: ایک جائزہمبارک علی
3اسباب اشاعت اسلامریوبن لیوی
4سنی اسلام کا سیاسی پس منظرراشد شاز
5اسلام کا شیعی قالبراشد شاز
6فکر اسلامی: بند دروازے پر دستکخالد تھتھال
7اسلام میں سماجی درجاتریوبن لیوی
8کیا نظریے کا احیا ممکن ہے؟مبارک علی
9محمد ابن عبدالوہاب: تصویر کا دوسرا رخنتانا جے ڈیلونگ
10تجدید پسندی سے پہلے کی اصلاحی تحریکیںفضل الرحمٰن
11تجدید پسندی اور اسلامی معاشرہفضل الرحمٰن
12بر صغیر کی اسلامی تحریکیںمبارک علی
13ہم عصر مذہبی تحریکات کے تجزیاتی مطالعے میں مسائلخالد مسعود
14اسلام پر صوفی ازم کے اثراتجولین بالڈک
15احیائے اسلام اور بھاگتے بھوت کی لنگوٹفرنود عالم
اسلامی معاشرہ: تذبذب کی سماجیات
16خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیںطارق احمد صدیقی
17تہذیبی نرگسیتمبارک حیدر
18اسلام دشمنی کا مبالغہمبارک حیدر
19سیکولرزم کی نئی اسلامی تعبیریںخالد مسعود
20اسلام اور جدیدیتمبارک علی
21بر صغیر کی مسلم ذہنیتعبدالکریم عابد
22شارٹ کٹ اسلامخالد مسعود
23توہین رسالت کیوں ہوتی ہے؟عرفان شہزاد
24سوشل میڈیا سے خائف اشرافیہفرنود عالم
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
25حجاب سے آگےفاطمہ مرنیسی
26مولانا مودودی کا تصور عورتارشد محمود
27حجاب کی حقیقتشیخ برہان الدین
28حجاب: اسلامی فریضہ یا سیاسی اسلام؟طارق فتح
29طلاق کی روایت اور مسلمانوں کا رویہتصنیف حیدر
دینیات، سائنس اور ادب
30نصاب تعلیم اور دینیاتارشد محمود
31مذہبی کٹر پن اور مسلم سائنسپرویز امیر علی ہود بھائی
32اسلامی ادب کا مسئلہسلیم احمد
33فکشن، سماج اور دہشت گردیانتظار حسین
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
34سیاسی اسلاممبارک علی
35اسلامی ریاست کا تصوراصغر علی انجینئر
36قیام خلافت کا مغالطہمبارک حیدر
37شیعہ سنی مخاصمت: مذہبی یا سیاسی؟این بلیک
38جمہوریت مغرب سے کیوں طلوع ہوئی؟فرنود عالم
39جدید قومی ریاست کی جواز خیزیعبداللہ سعید
40ریاستی جوازشاہرام اکبر زادہ
41سعودی عرب: 11 ستمبر کے بعدلاربی صادق
42اسلامی جمہوریہ ایران میں اصلاح کی سیاستفریدہ فرحی
43بنگلہ دیش میں اسلام کی نئی اٹھانتاج آئی ہاشمی
44ازبکستان کا اسلامی قضیہشاہرام اکبر زادہ
45ملیشیا میں اسلام اور سیاسی جواز خیزیعثمان بکر
46انڈونیشیا: منقسم اکثریتگریگ فیلی
47ایردگان کی کامیابی ، صالحین کی خوشیاں اور سیاسی اسلامفرنود عالم
48جماعت احیائے اسلام اور تاجکستان میں خانہ جنگیاحمد رشید
49حزب التحریر: خلافت کے احیا کی جدوجہداحمد رشید
50طالبان کا تاریخی و سیاسی شعوراحمد رشید
51حزب اللہ: سیاسی مؤقف میں تغیر و ارتقامولانا عمار خان ناصر
اسلام، مسلمان اور ہندوستان
52ہندوستان میں اسلام کی اشاعت کے اسبابہربنس مکھیا
53ہندوستان میں اسلام کا پھیلاؤمبارک علی
54الہند کی تشکیلمبارک علی
55اقبال اور ہند اسلامی تہذیبسلیم احمد
56اکبر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی رجحاناتمولانا عبیداللہ سندھی
57ہندوستانی اسلام اور اصلاحی تحریکیںاصغر علی انجینئر
58ہندوستانی مسلمان اور سردار پٹیلرفیق ذکریا
59مابعد تقسیم: بڑھتے اختلافات اور سیاسی اقداممشیر الحق
60مسلم پرسنل لاءآصف فیضی
61جدید ہندوستان میں مسلمانوں کی مذہبی رہنمائیمشیر الحق
62ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف مہم کی وجوہاتوسعت اللہ خان
63مسئلہ کشمیر: حقیقت پسندانہ حلمولانا وحید الدین خاں
اسلامی جمہوریہ پاکستان
64تحریک پاکستان: سیکولر یا مذہبی جدوجہدفرح ضیا
65پاکستان: شناخت کی تلاشمبارک علی
66پاکستان: ایک غیر یقینی ریاستجان۔ آر۔ شمٹ
67پاکستان: اسلام کا قلعہ بنانے کی کوششاشتیاق احمد
68مذہبی انتہا پسندی اور مطالعہ پاکستانسید جعفر احمد
69پاکستان میں جمہوریت کا سوالاشفاق سلیم مرزا
70اسلامائزیشن کے رجحاناتجوناتھن پیرس
71توہین رسالت اور ہمارا ردعملحسن عبدالسمیع
72پاکستانی میڈیا کا اسلامائزیشنخالد احمد
اثبات :: احیائے مذاہب : اتحاد، انتشار اور تصادم – (جلد:2 ، فہرست مضامین)
نمبر شمارعنوانمصنف
اداریہ
1کوئی آداب تشدد ہی سکھادے ہم کو’اشعر نجمی
سارا جہاں ہمارا
2مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہمولانا محمد عمار خان ناصر
3عورتیں، بچے اور طالبانی کلچراحمد رشید
4سعودی عرب میں معتدل اسلام کی لہرثاقب اکبر
5امریکہ، اسلام اور مسلمانثاقب اکبر
6روس کی اسلام اور مسلمانوں سے متعلق حکمت عملیقمر الہدیٰ
7مسلمانوں کے بارے میں چین کی بدلتی پالیسیاحمد رشید
8عالمی تہذیب اور اکیسویں صدی کے نئے اتحادمبارک حیدر
9میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کا قضیہقبلہ ایاز
10احساس مظلومیت کا مبالغہنیر خان
11مسلمانوں کے ہسپانیہ سے عشق کی داستانخالد مسعود
12ایک تارک وطن کا نوحہخالد تھتھال
ہندو، ہندُتو اور ہندوستان
13ہندو احیا پسندی اور ہندُتو تحریکتے پیوتیمنن
14ہندو مذہبی تحریکیںمبارک علی
15مذہبی تشخص کا المیہرومیلا تھاپر
16ہندو اور اسلامی ماورائے قوم مذہبی تحریکیںشیل مایا رام
17راجنم بھومی اور بابری مسجد تنازعہہر بنس مکھیا
18ہندوستان میں قوم پرستی کا بدلتا مکالمہمنیشا ٹیکیکر
19سیکولرزم کی سیاست اور مذہبی رواداری کی بحالیآشیش نندی
20سنگھ پریوار: تاریخ کے دسترخوان پر حرام خوریتانیکا سرکار
21لیکن اب وہ وطن پرست ہیںپون کلکرنی
22دلتوں کا ملک کہاں ہے؟ارون کمار ترپاٹھی
23جعلی خبروں کے زمانے میں (آخری اداریہ)گوری لنکیش
24ہندُتو کیا ہے؟محمد احمد
25ہندو راشٹرمحمد احمد
26ہندُتو کے شارحینادارہ
27ہندُتو اور ہندوستانی سیکولر لیڈر شپیاس منصوری
28گجرات، جمہوریت اور فسطائیتارندھتی رائے
29کشمیر: فوج اور شہری آمنے سامنےکرشن پرتاپ سنگھ
سارے منظر ایک جیسے ساری باتیں ایک سی
30سکھوں کی مذہبی حکومتسر لیپل ہنری
31سکھ مذہبی تحریکیںمبارک علی
32کیتھولک چرچ اور اصلاح مذہبمبارک علی
33یونیفکیشن چرچ: ایک نیا عیسائی فرقہسید عابد حسین
34قومی نو آبادیاتی دینیاتایمنون ریز۔کویکٹزن
35عیسائیت میں مذہبی تحریکیںمبارک علی
36یہودیت اور مذہبی تحریکیںمبارک علی
جہاد، فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی
37مسلح مزاحمت اور اسلامی روایتجون کیلزے
38تشدد کا اسلامائزیشنمولانا وحید الدین خاں
39جہاد فی سبیل اللہمبارک حیدر
40شدت پسندی کا تصور اور نظری الجھاؤمارک سجوگ
41دہشت گردوں کے نقطہ نظر سےفطالی ایم۔ موگادم
42مذہب، ضیاء اور افغانستان میں روس مخالف جہادجان آر۔ شمٹ
43لال مسجد اور ملکی دہشت گردیجان آر۔ شمٹ
44جیش محمد اور ہندو پاک کی سیاستکرسٹین فیئر
45لشکر کی مائیںچودھری محمد نعیم
46داعش کی اصلی قوتمحمد عامر رانا
47کشمیر سے وابستہ جہادی تنظیمیںمجتبیٰ محمد راٹھور
48عسکریت پسند اور ان کا خاندانی پس منظرکرسٹین فیئر
49خودکش حملہ آوروں کے تربیتی کیمپایس۔ ایچ۔ تاجک
50اجمل قصاب کا سفر: راولپنڈی سے ممبئی تکاریان بیکر/ جیوتی تھوتھم
51مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی جامعات میں شدت پسندیمارلن روز
52مجرم ہجوم کی نفسیاتگوہر تاج
53فرقہ وارانہ تشدد اور تشخص کی تبدیلیہر بنس مکھیا
54ممبئیسکیتو مہتا
55ہاشم پورہوبھوتی نارائن رائے
56دہشت گردی کی فصیلیں: گجرات کے بہانےراجندر یادو
محبت فاتح عالم
57عداوت کے ابواب بند کرتے ہوئےراج موہن گاندھی
58تہذیبوں اور ثقافتوں کے مابین مکالمہسید محمد خاتمی
59خدا کا دعویٰ اور دنیوی سیاستآرچ بشپ ڈیسمنڈ توتو
60بے انتہا دشمنی یا انسانی سلامتی؟جوڈی ولیمز
61مکالمے کے ذریعہ سلامتیملکہ نور آف اُردن
62پگھلتے برتن میں اختلاف کا جشنشہزادہ حسن بن طلال
63تہذیبوں کے مابین مکالمہکوفی عنان
64مذہب کے تناظر میں انسانی حقوقخالد مسعود
65بنیادپرستی کا چیلنج اور ہمارا ردعملقاضی جاوید
66نظریۂ قومیت کو خیر باد کہنے کا وقتعرفان شہزاد
67مسلمانوں کو دہشت گردی سے کیوں جوڑا جاتا ہےفرنود عالم
تخلیقی اظہار
68حمدخورشید اکرم
69وندنا (بھوجپوری نظم)شہاب جعفری
70دھنک (ناولٹ)غلام عباس
71الحمد اللہ (کہانی)احمد ندیم قاسمی
72بے جڑ کا درخت (بنگلہ ناول کے ابواب)سید ولی اللہ
73کوچۂ بدنام کی مسجد (عربی کہانی)نجیب محفوظ
74زیارت (فارسی کہانی)جلال آل احمد
75ایک مذہبی بات چیت (ترکی کہانی)اورہن پاموک
76آگ کے پاسبان (نظم)صدیق عالم
77آخری قسط(نظم)صدیق عالم
78خدا اور انسان (نظم)صدیق عالم
79سوالات زندہ ہیں (نظم)صدیق عالم
80جھنّو کو چٹھی ملی (کہانی)فہمیدہ ریاض
81بابر کا مقدمہ (ہندی کہانی)کملیشور
82شاہ عالم کیمپ کی روحیں (ہندی کہانی)اصغر وجاہت
83یوم شجاعت (ہندی کہانی)وندنا راگ
84گجرات کے ایک مقتول کا بیان (ہندی نظم)منگلیش ڈبرال
85فاشسٹ (ہندی نظم)دیوی پرساد مشر
86دعا کے لہجے میں نہیں (ہندی نظم)دیوی پرساد مشر
87<td style=”outline:0px;font-style:inherit;font-weight:inherit
(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: