چرواہے کی باتیں!! راشد حمزہ

0

آج کل مجھے رہ رہ کر اس چرواہے کی وہ باتیں دوبارہ یاد آ رہی ہیں جو گزشتہ سال ملاقات کے دوران اس نے مجھ سے کی تھیں _ وہ چرواہا تھا، یا شاید بہت کچھ جاننے والا، چرواہے بھی تو بہت کچھ جانتے ہیں بہت کچھ بیان نہیں کرتے بہت کچھ کا اظہار نہیں کر پاتے یا شاید وہ اظہار کے مروجہ طریقوں سے واقف نہیں ہوتے، اس نے مجھے کہا تھا:_

خاص ترتیب، ترشی ترشائی دیواروں سے بنے ہوئے صاف ستھرے مکانوں میں رہنا تمہاری مروجہ عادتیں اور طور زندگی ہے جبکہ ہمارے لئے سخت قسم کی قید ہوتی ہے _ ہم ایک جگہ پر سال سے زیادہ طویل قیام نہیں کرسکتے، اگر مجبوری میں کرنا پڑ جائے تو ہم کسی المناک حادثے کی طرح برداشت کرتے جاتے ہیں،_ ہمارے کپڑے بھیڑ بکریوں کی رال اور جنگلوں کے درختوں اور پودوں کی رطوبتوں سے لتھڑے اور بھاری تو رہتے ہیں لیکن ہمارے اندر کی دنیا سطحی سوچ، مکارانہ اور فنکارانہ منصوبوں سے پاکیزہ رہتی ہے، اور تم لوگ نفیس اور خوبصورت مکانوں کے مکین خوش نما گندگی کی طرح ہو، یہ خوش رنگ اور نفیس دکھائے دینے والے مکان خدائے لازوال کی طرف سے تمہاری قید ہے تاکہ تم لوگ اس پر مطمئن رہ سکو_ تم نفیس کپڑوں میں اس لئے ملبوس رہتے ہو کہ تم دنیا سے اپنا آپ چھپا سکو حالانکہ تمہارے ارد گرد بھی تمہارے جیسوں ہی کی اکثریت ہوتی ہے، تم اپنا آپ ان نفیس ملبوسات میں چھپا تو سکتے ہو لیکن ان نتائج کو نہیں روک سکتے جو تمہارے اندر کی خباثت اور منافقت کی عکاس ہوتی ہے جو دھرتی کے مجموعی دکھ بھی ہیں،_

اے نفیس کپڑوں ملبوس رہنے والے،!! کیا تم نے اپنے گریبان میں کبھی جھانکا ہے کہ تم کتنی بھیانک ہو، کاش تم اپنے گریبان میں بار بار جھانکتے تو یہ دنیا اتنی بھیانک ہرگز نہیں ہوتی__

ہمارے کپڑے تمہاری نظروں میں گندے تو ہوسکتے ہیں لیکن ہم گندے ہر گز نہیں ہوتے ہم کھرے، سچے اور خالص انسان ہوتے ہیں، ہمارے لہجے کھردرے تو ہوتے ہیں کیوں کہ ہم ایسے لہجوں اور طریقوں سے ناواقف رہتے ہیں جو ہمارے مافی الضمیر کو نفیس پردوں میں لپیٹ سکیں،_ ہمارے مکان جھونپڑا نما ہوتے ہیں تاکہ ہمیں ان سے ہجرت کرنے میں تکلیف نہ ہو،_ ہماری جڑیں سفر کی گہری بنیادوں میں پیوستہ ہیں،__ ہم تہذیب و تمدن کے تبدیل ہونے کا گواہ بن سکتے ہیں نظارہ کرسکتے ہیں لیکن اس میں شریک نہیں ہوسکتے کہ ان تبدیلیوں کی وجہ سے ہی انسان تباہی کے دوراہے پر کھڑا ہوا ہے، اگر پیچھے لوٹتا ہے تو ماضی میں دفن ہوجانے کے خطرات ہیں، اور اگر آگے جاتا ہے تو مستقبل کے بھڑکتے شعلوں سے بھسم ہوجانے کے امکانات ہیں، اگر قیام کرتا ہے تو سکون اور موت کا سامنا ہے،__

ہمارے ریوڑ جب مخصوص خطوں پر آباد تمہاری بستیوں سے گزرتے ہیں تب وہ تمہاری عادتوں، رواجوں اور رویوں کو پاؤں تلے روند کر اسے دھول میں تبدیل کردیتے ہیں اسکا مذاق اڑاتے ہیں اور تمہاری ہی بستیوں کے قریب چھوڑ دیتے ہیں،_ جب ہم سفر میں ہوتے ہیں اور چلتے رہتے ہیں تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت ہمیں چھو کر نہیں گزرتا اور تم لوگ رکے ہوئے ہو تو وقت تمہیں زوال کی طرف لے جائے جا رہا ہے، ہم نے اکھٹے غاروں سے نکل کر کپڑے پہن لئے تھے، ہم اب بھی اسی کپڑوں میں ملبوس ہیں مگر تم لوگ نفیس لباسوں میں ملبوس ہوکر بھی بے لباس ہو رہے ہو،_ تم لوگ وقت پر قدرت حاصل کرنے میں تو ناکام رہے لیکن اتنا کیا کہ وقت کے گھومتے پہیے پر قدرت سے پہلے پہل عیاری و مکاری سیکھی پھر اسے عقل و دانش کا نام دیا ایک وقت ایسا کہ وہی عیاری و مکاری لوگوں کا دین بن گئی، ب وہی مکاری و عیاری خباثت بن کر تمہارے اندرون پڑی ہوئی ہے اور وقتا فوقتا ظاہر ہوتی رہتی ہے__

ہمارا ریوڑ ہمارا خاندان ہوتا ہے ھم انکے دکھ درد سمجھتے ہیں،_ اسے کھلانے پلانے کے واسطے صدیوں سے زمین کا سینہ قدموں سے ناپتے آ رہے ہیں،__ ہمارے ریوڑ میں پلنے والی بھیڑ یا بکری کہیں پر بھی خوش نہیں رہ سکتی،_ گرمیوں کے موسم میں دو پہر تک ریوڑ میں شامل تمام بھیڑ بکریاں جب سیر ہوجاتے ہیں تو چرواہا اسے گھنے درختوں کے آرام دہ سایوں کے نیچے اکھٹے کردیتا ہے اور ان کے درمیان میں کسی اونچے پتھر پر بیٹھ کر بانسری بجاتا ہے، بانسری میں کیا بجاتا ہے، آپ جیسے بھائیوں کے المیے، آپ جیسوں پر گزرنے والی قیامتیں اور حادثات اور یہی کہ مستقبل میں زمین پر کیا گزرنا ہے اور یہ سناتے ہیں کہ:_

زندگی موت کی زد میں ہے، ہمارا بھائی انسان ایک دوسرے سے نبرد آزما ہے تعمیر کی بجائے تخریب کواس نے اپنا دین بنا رکھا ہوا ہے،_ زمین پر صرف وہی انسان محفوظ ہے جو آپ کی دیکھ بھال کرتا ہے یعنی وہ چرواہا ہے، چرواہے وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں نہ کوئی جائدادوں کے تنازعوں کی بھینٹ چڑھا سکتے ہیں اور نہ اس پر سرحدات کے قوانین لاگو کئے جاسکتے ہیں اور ان سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ چرواہوں کے مذہب پر کوئی تحقیق بھی نہیں کرتا اس لئے آج تک کسی چرواہے کا مذہب کے نام پر خون بھی نہیں بہا،_ اس سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے کہ چرواہے ہر حال میں تمہارے ساتھ رہتے ہیں تمہارے قیام کیلئے ایسی جگہوں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جہاں تمہیں موسم کی سختیاں برداشت نہ کرنا پڑیں، وہ سرد موسموں میں گرم علاقوں کی طرف ہجرت کرتے ہیں اور گرم موسم میں سرد علاقوں کی طرف،_ پھر وہ اپنے ریوڑ سے یوں مخاطب ہوتا ہے

اے میرے عزیز بھیڑ بکریو!!! ہمارا بھائی انسان اب انسان نہیں رہا وہ کچھ اور بن گیا ہے، اس کی یہ صورت بہت بھیانک ہے اور اپنی نوع کیلئے بہت تباہیوں کا باعث بھی ہے، سب چرواہے ایک جیسے ہوتے ہیں تمہارے نگہبان ہوتے ہیں تم پر نظر رکھتے ہیں اور تمہارا خیال رکھتے ہیں وقت کے پہیے نے زمانے پیچھے کئے، ماضی ایک وسیع، بیکراں و بے کنار سمندر بن گیا لیکن چرواہے ویسے ہی رہیں منکسر المزاج، آبادیوں اور انسانوں سے جھینپ جھینپ کر رہنے والے، انہوں نے تمہاری دیکھ بھال کا طریقہ نہیں بدلا، چرواہوں کی انصاف پسندی کی مثال دی جاتی ہے وہ پورے ریوڑ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں،__

اے میرے عزیز از جان ریوڑ!!

اور انسان آپس میں اتنی تفریق و اختلاف کا شکار ہے کہ ہر خطے کی زبان الگ ہے، ہر علاقے کی علیحدہ سرحدیں ہیں، یہ سرحدیں دراصل خطوں کا تعین نہیں کرتیں بلکہ یہ دو مختلف علاقوں میں رہنے والے ایک ہی نوع یعنی انسانوں کے درمیان پائے جانیوالی تفریق اور رکاوٹیں ظاہر کرتی ہیں، جنہیں انسان نے اصول و ضوابط، قاعدے اور قانون کا نام دے رکھا ہے،_

بانسری میں یہ کہتے ہوئے چرواہا "ٹھنڈی آہ بھرتے ہیں” اسکی آنکھوں میں نمی آجاتی ہیں وہ ارد گرد پہلو پر لیٹی بھیڑ بکریوں پر نگاہیں ڈالتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ تمام بھیڑ بکریاں ہمہ تن گوش ہیں، سب کی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے اور وہ ایسی پرشفقت نظروں سے چرواہے کو دیکھتی ہیں جیسے چرواہا ان کا پیغام بر ہے اور انکی بانسری کے ذریعے الہامی کلام ان کی روحیں پر نازل ہو رہا ہو” تب چرواہا پھر بانسری بجانا شروع کردیتا ہے اور اپنا پورا درد و غم سانس میں لپیٹ کر بانسری کے سینے سے گزار کر فضاؤں کے حوالے کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ” انسان اب ایک انسان نہیں رہا، ہم سب ایک آدم کے بیٹے ہیں پھر بھی تمام انسان مختلف قبیلوں میں بٹے ہوئے ہیں اپنے قبیلوں پر فخر کرتے ہیں اور ان کی بالادستی کیلئے دوسرے قبیلوں سے خونین لڑائیاں لڑتے ہیں اور اس میں انسان کام آجاتے ہیں، کہیں انسانوں کو اپنی زبانوں کی بالادستی کا عارضہ لاحق ہوا ہے تو کہیں اپنی ضرورت سے زیادہ جمع کرنے پر لڑتے ہیں،__

اے میرے عزیز بکریو!!! تم عظیم ہو کہ تم ایک ریوڑ میں رہتیں ہوں اور ایک دوسرے کا خون نہیں پیتی ہوں، تم سب کی زبان ایک ہے تم سب کا خدا بھی ایک ہے، انسانوں کا کیا ہے اب تو ہر علاقے کا ایک مخصوص خدا بھی ہوتا ہے جہاں کہیں خدا پر اتفاق موجود ہے وہاں خدائی وکیلوں پر اتفاق موجود نہیں ہے، اور محض یہ بھی نہیں اب تو ہمارے انسان کی یہ حالت ہوگئی ہے کہ وہ خدا کو سرے مانتے ہی نہیں، وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا موجود ہی نہیں، عقل کو خدا سمجھنے والوں کی یہ بات کیا عقل کو لگتی ہے عقل کی لگتی ہے،__

اے میرے بھیڑ بکریو!!! میں دیکھ رہا ہوں، میری بانسری کی وجہ سے تمہاری آنکھیں بھر آئی ہوئی ہیں اور تم پر غم آلودہ اور پر خمار غنودگی طاری ہو چکی ہے کیونکہ تم میرے درد کو میری باتوں کو اور میرے پیغامات کو پوری توجہ سے سن رہی ہوں اور اس دیکھ بھال کے ساتھ جس طرح میں آپ سب کا کرتا ہوں، اپنے من میں اتار رہی ہوں، اب میں بانسری بجانا بند کردیتا ہوں اور تم سب تخیل کی دنیا میں پہنچ کر اور خالق سے التجا کر کہ انسان کو سیدھے راستے پر لے آ، اس راستے پر جو روشن ہے اور آپ تک براہ راست پہنچتا ہے…

About Author

راشد حمزہ، سوات یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے وابستہ ہیں، تعلیم و تحقیق، لکھنا پڑھنا، انکے مشاغل ہیں، ایک عرصے سے فکشن لکھتے ہیں،__

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: