دھرنے کے فکر مندوں پر ہنسی آتی ہے ——– خرم شہزاد

0

ویسے تو یہ ایک خوشی کی بات ہے کہ پاکستانی بڑے ہی بے فکرے قسم کے لوگ ہیں جس کی ایک بڑی وجہ ان کی لائی لگ طبیعت ہے۔ لائی لگ کا آسان ترین مطلب دوسروں کی باتوں میں آ جانا ہے اور اگر آپ اپنے آس پاس دیکھیں تو ہماری ایک اکثریت ایسے ہی لوگوں پر مشتمل ہے جو خود کو عقل کل تو سمجھتے ہیں لیکن دوسروں کی باتوں میں آنے میں بھی کمال رکھتے ہیں۔ آپ متفق نہیں تو بتائیے کہ آج پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ؟ مہنگائی، معیشت، کرپشن اور کشمیر کا ذکر آخری بار سنے کتنے دن ہو گئے ہیں، یاد تو ہو گا؟ باربر کی دکان کے باہر بیٹھے موچی سے لے کر چینلز کے ٹاک شوز تک میں آج صرف ایک ہی موضوع زیر بحث ہے جبکہ لوگوں کی آپسی گفتگو میں بھی یہی سوال پوچھا جاتا ہے کہ بھئی اور سناو کیا حال ہے، دھرنے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟

مولانا فضل الرحمان نے دھرنے یا آ زادی مارچ کا کیا اعلان کیا کہ پاکستان اور اہل پاکستان کی جان دنیا جہاں کے تمام کاموں سے چھوٹ گئی اور ہمارے پاس صرف اور صرف ایک مقصد حیات رہ گیا جس کا نام دھرنا یا آزادی مارچ ہے۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس میں شرکت اور کامیابی کی متمنی ہے اگرچہ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ اس دھرنے اور آزادی مارچ کا بنیادی مقصد اور ہدف کیا ہو گا۔ دوسری طرف پاکستانیوں کی دوسری بڑی تعداد اس دھرنے کو روکنے کے لیے کمر کس چکی ہے اور ان میں سے کئی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم یہ کر دیں گے، وہ کر دیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ پاکستانیوں کا تیسرا اور سب سے بڑا گروہ تماش بینوں کا ہے جن کو اس دھرنے کی کامیابی یا ناکامی سے کوئی غرض نہیں، انہیں تو بس ہلا گلا، چس اور چسکے، پوسٹوں کے لیے مواد چاہیے ہوتا ہے۔ یہ لوگ ایک منٹ میں حکومت کے خلاف پوسٹ کرتے ہیں تو دوسرے ہی منٹ میں چسکے لینے کے لیے حکومت مخالفوں کی بھی بینڈ بجاتے نظر آتے ہیں۔ عام آدمی جس کے ہاتھ صبح کا اخبار بھلے شام کو آتا ہو یا وہ کہیں بھی ٹی وی اسکرین تک رسائی رکھتا ہے تو اس کی گفتگو کا پہلا موضوع بھی آج کل کے حالات اور دھرنا ہی ہے۔ اسے بھی آج کل مہنگائی کا کوئی مسئلہ نہیں، اس کے بچوں کا مستقبل کیسا ہو گا، اس پر وہ بعد میں بات کرئے گا لیکن پہلے اسے دھرنے کے بارے کوئی تازہ ترین خبر درکار ہے جسے مزید مصالحے کے ساتھ دوسروں کو سنا کر باخبر ترین شخص کا اعزاز وہ اپنے نام کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت دھرنا اور آزادی مارچ تمام پاکستانیوں کے لیے زندگی موت کا مسئلہ نہیں تو اس کے بعد کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ اس صورت حال میں ایک چھوٹا سا سوال پوچھنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں۔

گزشتہ دور حکومت کی بات ہے کہ نواز شریف پوری آب و تاب کے ساتھ حکومت کر رہے تھے اور جس موقع پر بھی عمران خان یا کسی بھی غیر جمہوری قوت (یہاں کریشن کے خلاف کی جانے والی گفتگو اور حساب کتاب کا ذکر ہے) کی طرف سے حکومت کو کوئی مسئلہ ہوتا، تمام اسمبلی ارکان (حکومت اور اپوزیشن مل ملا کر )جمہوریت کو بچانے کے لیے اکٹھے ہوجاتے۔ بہترین تقاریر ہوتیں اور محمود ایاز کے بجائے ہر الزام کا ملزم دوسرے کا گواہ بن جاتا اور خطرے سے نمٹ لیا جاتا۔ اسمبلی کے اندر ہونے والے اس روز روز کے تماشے سے تنگ آ کر عمران خان نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا اور نوجوانوں کو ڈی چوک پہنچنے کا حکم دیا۔ پورے ملک سے نوجوان لڑکے لڑکیاں تبدیلی کے نام پر اسلام آباد میں جمع ہو گئے۔ کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومت تھی اور وزیر اعلی سمیت تقریبا پوری کابینہ جلسہ گاہ میں نظر آنے لگی۔ امپائر کی انگلی بھی ساتھ ہے، یہ یقین جلسہ کرنے والوں کو تھا جس کا اظہار وہ اکثر اپنی تقاریر میں کرتے۔ مخالفین کا خیال تھا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موبائلز کی بیٹریوں کے خاتمے کے ساتھ ہی کھسکنے لگے گی لیکن عمران خان نے انہیں دھرنے کے آخری دن تک اپنے ساتھ باندھے رکھا اور پونے دو سو دن کا یہ تاریخی دھرنا پاکستان میں اپنی مثال آپ رہا۔ لیکن اتنی شہرت، ساتھ اور تیاری کے باوجود کیا عمران خان حکومت کی کرسی کا ایک پایہ بھی اکھاڑ پائے؟ نہیں۔ ۔ ۔ پوری حکومت کیا وہ ایک وزیر تک سے استعفیٰ نہ لے سکے تھے اور راوی ہلا گلا، چس اور چسکے کے ان دنوں کی داستان کے آخری صفحے پر سکھ چین سے حکومت کرتے نواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کتاب بند کر دیتا ہے۔

اب موجودہ صورت حال سے موازنہ کیجئے۔ مولانا نے دھرنے کا اعلان کیا ہے لیکن نہ تو ان کے پاس عمران خان جیسی شہرت اور نہ مقناطیسی شخصیت، جس سے وہ ہزاروں نوجوانوں کو باہر نکلنے پر مجبور کر دیں۔ ان کے پاس صرف مدارس کے طلبا ہیں جنہیں وہ طاہر القادری صاحب کی طرح ساتھ چلنے پر مجبور کر سکتے ہیںلیکن بہت سے مدارس نے بھی شرکت سے معذرت کر لی ہے، لہذا متوقع تعداد کم ہو جائے گی۔ عمران خان صاحب کے ہاتھ میں اس وقت کے پی کے کی حکومت تھی جو اپنی پوری قوت کے ساتھ دھرنے میں موجود تھی، مولانا کے پاس کہیں کی حکومت چھوڑ اتحاد بھی موجود نہیں ہے، بہت بڑی تعداد اور سپورٹ یہاں بھی ختم ہوئی۔ عمران خان کو امپائر کے ساتھ ہونے کا یقین تھا، پوچھ کر بتائیں کہ مولانا کو کیا اتحادیوں کے ساتھ ہونے کا بھی پوری طرح یقین ہے؟ عمران خان کے دھرنے کو مدد دینے کے لیے جہانگیر ترین اور علیم خان سمیت کئی ایسے لوگ تھے جن کی مدد اور تعاون نے دھرنے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ مولانا کے دھرنے میں ایسی کسی غیبی مدد کا ایک نام جانتے ہوں تو بتا دیں؟

وہ تمام تاجر جن کی انڈر انوائسنگ پکڑی گئی ہے وہ خفیہ طور پر مدد ضرور کریں گے لیکن محتاط بھی ہیں کہ اگر انڈر انوائسنگ پکڑی جا سکتی ہے تو یہاں بھی فنڈنگ پکڑی گئی تو ان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ ان لوگوں کا یہ محتاط رویہ مولانا کے لیے مشکلات بڑھانے کی ایک اور بڑی وجہ بھی ہو سکتا ہے۔ اب اس ساری صورت حال کے بعد مجھے صرف وہ تین باتیں بتا دیں جس کی وجہ سے یہ دھرنا ہونا ممکن ہو گا اور اگر ہو گیا تو ہفتہ بھر بھی چل سکتا ہے؟ ابھی دھرنے کا ہدف اور مقصد تو کسی نے پوچھا بھی نہیں لیکن خیر اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہو گی کہ لوگوں کو بریانی شریانی بوٹیوں کے ساتھ تین وقت ملتی رہے تو انہیں کوئی سوال پوچھ کر بریانی پر لات مارنے کی کیا پڑی ہے۔ بس اس ساری صورت حال کے بعد مجھے دھرنے کے لیے پریشان ہونے والوں پر ہنسی آتی ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے پریشان نہیں، مہنگائی کے لیے پریشانی نہیں، کاروبار اور روزگار کے لیے پریشان نہیں، کرپشن اور نیب کے لیے پریشان نہیں، مغربی یلغار کے بارے پریشان نہیں، یہودی سازشوں کے لیے پریشان نہیں، کشمیر، برما، بوسنیا اور فلسطین کے لیے پریشان نہیں، یمن، ایران، سعودی عرب، شام، ترکی اور اسرائیل کے لیے پریشان نہیں۔ ۔ ۔ آج کل لوگ پریشان ہیں تو بس اس بات پر کہ مولوی آ رہے ہیں نجانے کیا ہو گا۔ جب ہم نہ انہیں روک سکتے ہیں، نہ سمجھا سکتے ہیں، نہ پوچھ سکتے ہیںاور نہ وہ لوگ آ سکتے ہیں تو فکر کیسی۔ مجھے ایسے لوگوں پر ہنسی آ رہی ہے اگر آپ بھی ایسے لوگوں میں شامل ہیں تو خدارا حقیقی مسائل پر فکر مند ہوں تاکہ مسائل حل ہوں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: