قائدِ اعظم کا حلفِ وفاداری ——– لالہ صحرائی

0

کہتے ہیں کہ قائدِ اعظم نے آزادی کے وقت جو حلف اٹھایا تھا اس میں حکومت برطانیہ سے وفاداری کا اقرار شامل تھا جو قائد کیلئے یا ہمارے لئے نہایت شرم کی بات ہے۔

ان “باشعور” اعتراض کنندگان سے گزارش ہے کہ بھیا یہ بات باعث شرم ہے تو پھر یہ شرمندگی ایکبار نہیں چار بار ہوئی ہے، قائدِ اعظم تو آپ کے خیال میں ناسمجھ ہوں گے یا انگریز کے ایجنٹ ہوں گے لیکن بعد والے تین گورنر جنرلز کو کیا مسئلہ تھا جو آزادی کے کئی سال بعد بھی وہی حلف اٹھاتے رہے؟

یا تو اکثریت کو پتا ہی آج چلے گا کہ ایک نہیں کُل چار گورنر جنرل اس “جرم” کے مرتکب ہوئے ہیں، یا پھر یہ لوگ پوری بات کو جان بوجھ کے چھپاتے ہیں تاکہ معاملے کی قلعی نہ کھل جائے اور ان کی شرپسندی میں سے ہوا نہ نکل جائے۔

دوسری طرف انڈیا میں بھی دو گورنر جنرل اسی کیپیسٹی میں یہی حلف اٹھا چکے ہیں، ماؤنٹ بیٹن اور راج گوپال اچاریہ کو یہ اجازت کیسے مل گئی کہ وہ بھی حکومت ہند کی بجائے برطانیہ سے وفاداری کا اعلان کر کے انڈیا کی سربراہی کریں؟

ان حضرات کی ہرزہ سرائی پر تبصرہ یہاں پہ ختم ہوا، اس سے آگے کی کہانی صرف ان دوستوں کیلئے ہے جو “اہل علم” کی اس شرانگیزی سے بے چین ہوتے ہیں تاکہ انہیں حقائق کا تسلی بخش علم حاصل ہو جائے۔

قصہ یوں ہے کہ ہندوستان کا ڈومینئین ایسٹ انڈیا کمپنی کی قانونی ملکیت میں تھا جو برٹش مونارچ کی پہلے دور میں بزنس سبسڈری تھی، پھر یہ کالونیل ایڈمنسٹریشن بن گئی تھی۔

یہ محض طاقت کی بنیاد پر غیر قانونی قبضہ نہیں تھا بلکہ بزنس کے اصول سے اس کی ایک تسلیم شدہ حیثیت تھی، جو دنیا بھر میں قابل قبول بھی تھی، ورنہ برطانیہ سے آزادی مانگنے کی بجائے یونائیٹڈ نیشنز میں اقوام عالم سے درخواست کی جاتی کہ قبضہ کنندگان کو ہندوستان سے بیدخل کیا جائے۔

انگریز اپنی تاریخ میں سراج الدولہ شہید سے لیکر بھگت سنگھ شہید تک ہندوستان کے جن حریت پسندوں کو “باغی” قرار دیتا ہے اس کے پیچھے دراصل وہی قانونی حیثیت ہے جس کی میں بات کر رہا ہوں۔

یہ قانونی حیثیت کیسے قائم ہوئی؟ پہلے اس کی ایک جھلک دیکھ لیں۔

برطانوی راج کی تاریخ یوں ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی اپنی ابتداء میں خالص کاروباری افراد کی ایک پرائیویٹ بزنس فرم تھی جس نے ایسٹ انڈیا میں گرم مصالحوں، کاٹن، سلک اور ملتی جلتی مہنگی اجناس کے میدان میں نہ صرف مقامی منڈی کو بہت اچھے ریٹ دیئے بلکہ اس میدان میں فرانس اور پرتگالیوں کی مونوپولی کو بھی توڑا تھا جو اپنی مرضی کے دام پہ سودا خریدتی تھیں۔

اس کاروباری چشمک کے دوران ان کی پرتگالیوں کیساتھ متعدد لڑائیاں ہوئیں تو ملکہ الزیبتھ نے کچھ شئیرز خرید کر سن 1600ء میں اس کمپنی کو رائل چارٹر دیدیا جس سے کمپنی کی حیثیت سیمی گورنمنٹ اینٹرپرائزز کی ہو گئی۔

اس کے بعد 1612 میں جب پرتگالیوں کیساتھ سورت میں ایک انتہائی سخت لڑائی واقع ہوئی تو کمپنی کی درخواست پر برطانوی حکومت نے سر تھامس رو کو سفارتی مشن پر بھیجا جس نے جہانگیر سے درخواست کی ہماری کمپنی کو اپنے تحفظ کیلئے رہائشی اور کاروباری جگہیں خریدنے کی اجازت دی جائے، بدلے میں ہم آپ کو یورپ سے مرغوب اشیائے تعیش پیش کرتے رہیں گے اور برٹش رائل فیملی سے بھی آپ کے خصوصی تعلقات قائم ہوں گے۔

جہانگیر نے اپنے تمام گورنروں کو ہدایت نامہ جاری کر دیا کہ برٹش کمپنی جہاں چاہے، جیسے چاہے رہے اور جس انداز سے چاہے اسے کام کرنے دیا جائے اور پرتگالیوں سمیت کوئی بھی انہیں تنگ مت کرے۔

اس اجازت نامے کے بعد انہوں نے سورت، مدراس، بمبئی اور کلکتہ میں تئیس عدد کارخانے قائم کئے جو انہی کے تعمیر کردہ فورٹ ولیم بنگال، فورٹ جارج مدراس اور بمبئی کیسل میں واقع تھے۔

جہانگیر کی نوازشات سے ان کا جھاکا اسقدر کھلا ہوا تھا کہ بعد کے دور میں انہوں نے مکہ مکرمہ سے آنے والا ایک شاہی بحری جہاز لوٹ لیا جس پر اورنگزیب کیلئے قیمتی تحائف لدے ہوئے تھے جن کی مالیت تقریباً چھ لاکھ پاؤنڈز کے قریب تھی، اس پر اورنگزیب نے اپنے دو کمانڈروں کو حکم دیا کہ انہیں قابو کر کے ان کا تمام کاروبار بند کر دیا جائے، اس واقعے پر برطانیہ سے افسوس کا خط جاری ہوا جس میں قزاقوں کو انسانیت کے دشمن قرار دیکر کمپنی کیلئے معافی کی درخواست کی گئی تو کمپنی کے گرفتار شدہ افسران کو بھاری جرمانہ عائد کر کے رہا کر دیا گیا۔

یہی ایک موقع تھا جب اس بلائے ناگہانی سے جان چھڑائی جا سکتی تھی لیکن معافی کے بعد ان کا کاروباری اسٹیس بھی حسب سابق بحال کر دیا گیا بلکہ بعد کے ایک فرمانروا شاہ عالم ثانی نے ایک معاہدے کے تحت انہیں بنگال سے ریوینیو اکٹھا کرنے کا ٹھیکہ بھی دیدیا۔

اس دور میں تیسری بار کمپنی کا سٹیٹس تبدیل ہوا تھا جس میں پرائیویٹ انٹرپرینئیرز یعنی کمپنی کے سول بانیوں سے سارے شئیرز خرید کے یہ مکمل طور پر ایک ملٹری بزنس کارپوریشن میں ڈھل گئی تھی، یہی وجہ ہے کہ اس کے ڈائریکٹرز برطانوی ہاؤس آف لارڈز کی منظوری سے مقرر ہوتے تھے جو بذات خود بھی لارڈز یا فوجی افسران تھے اور تھرو پراپر چینل برطانوی پارلیمنٹ کو ہی جواب دہ تھے اور ان کی کمان میں برٹش آرمی کمپنی کے حقوق کی حفاظت پر مامور تھی۔

یہاں سے آگے اس کمپنی کے کھیل کو سمجھنا چاہیں تو ماضی کے ضلع ٹیکس کی مثال کو دیکھنا ہو گا جسں کی موجودہ شکل ٹول پلازہ میں تھوڑی سی نظر آتی ہے، اس دور میں گورنمنٹ نے ہر شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور اجناس پر مختلف شرح سے ٹیکس لگا رکھا تھا جسے اکٹھا کرنے کیلئے ہر ضلعے میں پرائیویٹ کمپنیوں کو نیلامی کی بنیاد پر ٹھیکہ دیا جاتا تھا۔

ٹھیکیدار نے جو بولی لگائی ہوتی تھی اتنی سالانہ رقم گورنمنٹ کو ادا کرنا اس پر لازم ٹھہرتی تھی اور اس سے اوپر جمع ہونے والی رقم ٹھیکیدار کا اپنا منافع شمار ہوتی تھی، لہذا اپنا پیسہ پورا کرنے کیلئے ٹھیکیداروں کو اجازت تھی کہ وہ ٹیکس سے بچ کے بھاگنے والی گاڑیوں کو بزور قوت روک سکیں اور ضرورت پڑے تو انہیں قانون کے حوالے بھی کر دیں لہذا انہوں نے اپنی ایک پرائیویٹ فورس رکھی ہوتی تھی جو اپنی حفاظت کیلئے اسلحہ بھی رکھتے تھے اور اپنی گاڑی پر لال بتی اور سائرن بھی لگاتے تھے۔

پندرہ بیس سال پہلے کے تجارت پیشہ لوگ ضلع ٹیکس والے ٹھیکیداروں کی بدمعاشی سے بہت اچھی طرح سے واقف ہیں جو ٹیرف دکھائے بغیر اپنی مرضی کا ٹیکس بھی وصول کیا کرتے تھے جبکہ لاعلمی، عدم یکجہتی اور مروجہ نظام قانون کی حالت کے پیش نظر بیوپاری حضرات ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔

یہی حال ایسٹ انڈیا کمپنی کا تھا، اس نے بھی بنگال کی عوام سے براہ راست ٹیکس اکٹھا کر کے اس ٹھیکے کی مد میں سرکار کو سالانہ چھبیس لاکھ روپے ادا کرنے ہوتے تھے باقی اس کا منافع ہوتا تھا۔

ایک تو یہ بات بنگالی عوام کیلئے ناقابل قبول تھی کہ کوئی ان سے دھونس دھمکی کیساتھ من مرضی کا ٹیکس وصول کرے پھر نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان پرتگالی اور فرانسیسی بزنس کیمپ کے زیادہ قریب تھے، ٹیپو سلطان کا تو نپولین کیساتھ خط و کتابت اور تحفے تحائف کا سلسلہ بھی قائم تھا لہذا صورتحال ایسی بن گئی کہ سراج الدولہ نے مغل سرکار کا حلیف ہونے کے باوجود انگریز کلکٹروں کو کھلم کھلا چیلنج کر دیا۔

جس کمپنی کے پیچھے برطانوی پارلیمنٹ اور اس کی فوج ہو اس کیساتھ کئے گئے معاہدوں سے کوئی کیسے روگردانی کر سکتا تھا اسلئے بزنس کمیونٹی کے جو لوگ بھی ان سے دوبدو ہوتے ان پر یہ طاقت کا استعمال کرنا یہ لوگ اپنا حق سمجھتے تھے۔

ان کے پاس اس وقت تک 26000 کے قریب تربیت یافتہ مقامی سپاہی موجود تھے جنہیں برطانوی فوجیوں نے اپنے قلعوں میں ٹرینڈ کیا تھا، اس کے باوجود سراج الدولہ کی فوجی قوت دیکھ کے آئرش کرنل کو دانتوں تک پسینہ آ گیا تھا پھر اس نے پسپائی اختیار کر کے پہلے اس کی فوجی قوت کو توڑا پھر پلاسی کے میدان میں اس کے مقابلے پر آیا اور غداروں کی مہربانی سے جیت گیا۔

میر جعفر کو جب حکمران بنا دیا گیا تو پھر ذاتی مفاد کیلئے جگہ جگہ لوگ ان کا ساتھ دینے لگے تھے کیونکہ مغل حکومت رُو بہ زوال تھی اور راجے مہاراجے، نواب، جاگیردار وغیرہ سب اپنے مفاد کیلئے تیزی سے ان کیساتھ ملنے لگے، یہی کچھ میسور میں ہوا۔

انگریز چونکہ قانونی معاہدے کے تحت اپنے بزنس رائٹس کا تحفظ کر رہا تھا اسلئے ان معرکوں میں حملہ آور کہلانے کی بجائے الٹا ان مزاحمت کاروں کو قانون کے باغی قرار دیتا تھا۔

اس بات کو جدید نظام میں یوں سمجھ لیں کہ آج کوئی بندہ سرکاری ٹیکس ادا نہ کرے یا کوئی ڈیفالٹر بینک کی رقم ادا نہ کرے تو یہ دونوں ادارے قانونی کاروائی کر کے اس کی جائیداد پر قبضہ بھی کر سکتے ہیں اور اسے قرق کر کے اپنا پیسہ بھی وصول کر سکتے ہیں، اس حساب سے انگریز کے چھوٹے موٹے ملٹری ایکشنز ایک طرح سے مالیاتی ریکوری کے ہی مشن تھے جن کی راہ میں رکاوٹ بننے والے ان کی نظر میں باغی کہلائے اور اپنی جان کیساتھ اپنی جاگیروں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔

سہل پسند حکومت ہند نے اگر کوئی دوطرفہ سنجیدہ فہم معاہدہ کیا ہوتا اور ڈیفالٹرز کے خلاف تادیبی کاروائی کو اپنے ہاتھ میں رکھتی تو شائد ایسے قبضے ہونے کی نوبت ہی نہ آتی یا ان کی ٹھیکے کی رقم واپس کر کے یا ہرجانہ ادا کر کے یا اگر فیڈریشن ہوتی تو مرکزی اسٹینڈنگ آرمی جوابی کاروائی کر کے ان سے یہ قبضے چھڑا سکتی تھی جیسے اورنگزیب نے ان کیساتھ کیا تھا۔

لیکن حکومت کی ناعاقبت اندیشی اور کنفیڈریشن کے نظام کی وجہ سے پہلے مرحلے میں ان کی ٹھیکیداری کے مزاحمت کار جاگیردار مارے گئے پھر ان قرق شدہ جاگیروں پر انگریز نے جب اپنی حکومت بنا لی تو دیگر گروہ بھی ان کیساتھ مختلف کاروباری معاہدوں کی بھینٹ چڑھتے چلے گئے۔

مرکزی حکومت کو اس فرق نہیں پڑتا تھا کہ زید کی جگہ بکر ہو یا بکر کی جگہ زید ہو، اسے ٹیکس دونوں صورتوں میں ملنا تھا، اگر فرق پڑتا بھی تو کمزور ہوتی ہوئی حکومت کچھ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھی، آج بھی حکومت کمزور ہو تو شہروں کے اندر نو۔ گو۔ ایریاز پیدا ہو جاتے ہیں، اسی طرح ہندوستان میں بھی ریاست کے اندر ریاست بننے کا آغاز ہو چکا تھا مگر کنفیڈریش کے نظام اور سہل پسند و کمزور ہونے کے سبب مغل حکومت یہ معاہدہ توڑ کے کمپنی کی سروسز کو ڈس۔مینٹل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی بلآخر حکومت کا اپنا ریوینیو اور اختیار بھی جاتا رہا۔

انگریز کا طریقہ واردات ہر جگہ ایک ہی تھا مگر انفرادی مفادات میں گھری ہوئی مقامی حکومتیں نہ اس کھیل کو سمجھ سکیں نہ ایک دوسرے کو سپورٹ کر سکیں بلکہ الٹا ان کیساتھ دوستی کر کے خود کو مضبوط کرنے کی روش چل پڑی تھی لیکن یہ کسی کے دوست نہیں تھے سو بلآخر ایک ایک کر کے سبھی قرق ہوتے گئے۔

ہندوستان پر قبضہ کوئی ایک ہی دن میں قائم نہیں ہوا بلکہ یہ لیگل ڈیفالٹس کا ایک تسلسل تھا جو ون۔ بائی۔ ون ہر جگہ جان بوجھ کے پیدا کیا گیا، یہاں تک کہ بالائی ہندوستان کے غلام ہونے کے سوا سو سال بعد پنجاب اور سندھ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان کی ویسی ہی کاروباری چالوں میں پھنس گئے تھے جن سے پورا ہندوستان غلام بن چکا تھا۔

بمبئی کے گورنر جان میلکم نے سندھ کے حکمران میر کرم علی تالپور کو میجر سکینی کے ہاتھ پہلے کچھ تحفے تحائف بھیجے، پھر دوستی کا ڈول ڈالا، پھر ان کے بیٹے میر مراد علی کا علاج کرنے کیلئے ڈاکٹر الفنسٹون کو بھیجا جو چھ ماہ تک حیدر آباد میں مقیم رہا، پھر دوطرفہ تعاون، باہمی تجارت اور دریائے سندھ کا سروے کرنے پر مشتمل تین نکاتی معاہدہ کیا جس میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ تالپور حکومت ان کے سروے اور آزادانہ نقل و حرکت میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی، اس کے بعد سندھ میں صنعتکاری، افغانستان کیلئے راہداری، جنگی ساز و سامان اور رسد کے وسائل مہیا کرنے سمیت کئی معاہدے ہوئے۔

پھر حسب طریقۂ واردات پہلے عوام سے تعلقات قائم کئے گئے، پھر یکے بعد دیگرے ان معاہدوں میں ڈیفالٹ پیدا کیا گیا، پھر تادیبی کاروائی کرنے سے قبل عوامی حلقوں میں یہ تاثر پھیلایا کہ انگریز غریبوں کا بہت خیر خواہ ہے، وہ یہاں پر ترقی کا نظام لانا چاہتا ہے جس کا فائدہ عام آدمی کو پہنچے گا مگر حکمران اس کے ساتھ دغا بازی کر رہے ہیں، اس پروپیگنڈے سے ہر حکومت کو ٹیک۔ اوور کرتے وقت انگریز کیخلاف عوامی مزاحمت بالکل نہ ہونے کے برابر ہو جاتی تھی۔

اس کے بعد سندھ پر پہلا حملہ انہوں نے راہداری کے معاہدے کی خلاف ورزی پر کراچی کی بندرگاہ پر کیا تھا لیکن منت ترلے کے بعد یہ قبضہ واپس کر دیا گیا، پھر مزید حالات سازگار کر کے جنرل نیپیئر نے دوسرا حملہ سیہون کی فوجی چھاؤنی سے براہ راست تالپور گورنمنٹ کے دارالحکومت پکا قلعہ حیدر آباد پر کیا تھا، اور یہ کھیل 1832 سے لیکر 1843 تک صرف گیارہ سال کے مختصر سے عرصے میں مکمل بھی کر لیا جس میں تالپور حکمران کے بھتیجے میر صوبدار نے اس لالچ میں بھرپور ساتھ دیا کہ بعد میں اقتدار اسے دیدیا جائے گا، فتح کے بعد یہی میر صوبدار رات کی تاریکی میں اپنے ہندو منشی کیساتھ جا کے جنرل نیپئیر کو مٹھائی دیکر آیا تھا۔

ہندوستان بھر میں سندھ واحد جگہ ہے جس کے حق میں میجر سکینی نے ہی برطانوی عدالت میں مقدمہ قائم کیا تھا کہ جنرل نیپئیر نے تالپور میروں کیساتھ زیادتی کی ہے یعنی یہ اس درجے کا لیگل ڈیفالٹ نہیں تھا جس پر قبضہ کیا جاتا لہذا یہ سندھ میروں کو واپس کیا جائے، اس دعوے کیساتھ سکینی نے سندھ کے تمام معاہدوں کی نقول اور نیپئیر کا وہ اعترافی بیان بھی نتھی کیا تھا جو اس نے فتح سندھ کا پیغام گورنر جنرل کو پہنچانے کیلئے استعمال کیا تھا۔

نیپئیر نے اپنے ٹیلیگرام میں کہا تھا:
I have sinned.
اس جملے کا ظاہری معنی یہ ہے کہ میں نے گناہ کیا ہے اور رعایتِ لفظی سے مفہوم یہ بنتا ہے کہ سندھ اب میرے پاس ہے۔

میجر سکینی بذات خود اس سارے کھیل کا آرکیٹیکٹ تھا کیونکہ یہ روزِ اول سے بمبئی گورنمنٹ اور سندھ گورنمنٹ کے درمیان گورنر بمبئی کا ایجوٹینٹ بمعنی سفارتی نمائیندہ تھا جو ڈپٹی کمشنر کے لیول کا عہدہ تھا اور سندھ کیساتھ تمام معاہدے اسی نے کئے تھے، پھر قبضے کے وقت یہ کرنیلی کا کورس کر کے تازہ تازہ واپس آیا تھا اور اسے امید تھی کہ اسے سندھ میں کوئی بڑا عہدہ دیا جائے گا لیکن نیپئیر نے اسے اوقات میں رکھا یا سائیڈ لائن کر دیا تو نوکری چھوڑ کے یہ واپس چلا گیا اور عدالت میں اس کیس کو چیلنج کر دیا۔

اس کیس پر برطانوی سماج میں بھی کافی چرچا وچار ہوئی کہ ایسا غیر قانونی قدم کیوں اٹھایا گیا لیکن پارلیمنٹ میں ہلکی پھلکی ڈسکشن کے بعد اس معاملے کو دبا دیا گیا۔

ان ساری تفصیلات اور سندھ کی مثال سے اگر یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ ہندوستان کی ریاستیں ان کے حکمرانوں نے قانونی طور پر انگریز کے سامنے ہاری تھیں جو قرقی کے بعد برطانوی پارلیمنٹ کی قانونی ملکیت میں آگئی تھیں تو یہ بات بھی سمجھ میں آ جانی چاہئے کہ ان کی ملکیت واپس لینے کا اب ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ آپ کو بھاری نقدی کے عوض بیچ دیں یا گفٹ کر دیں، انتقالِ جائیداد کا تیسرا طریقہ اسوقت بھی کوئی نہ تھا، آج بھی کوئی نہیں۔

تحریک آزادی کے پیش نظر انگریز کیلئے قبضہ برقرار رکھنا جب ناممکن ہو گیا تھا تو بھی ایک ایگزیکٹیو آرڈر سے یہ جگہ خالی نہیں کی جا سکتی تھی کیونکہ برطانوی پارلیمنٹ اپنی عوام کو جوابدہ ہے لہذا، ہم جا رہے ہیں تم سنبھال لو کی بجائے، یہ ٹرانزیشن صرف ایکٹ آف پارلیمنٹ اور اس کے طے کردہ پروسیجر سے ہی ممکن تھی کہ اس زمین کو کیوں خالی کیا جائے، اس کا اگلا وارث کون ہو گا، یہ کس فارمولے سے تقسیم ہو گی اور کس طریقے سے مقامی وارثوں کے حوالے کی جائے گی۔

اس منظوری کے بعد بھی ہندوستانیوں کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا جس کی بنیاد پر وہ اپنے اپنے حصے کی زمین کو بطور ریاست اقوام عالم کے پاس اینڈورز کرا سکیں تا آنکہ ان کے قانونی نمائندوں کو اتھارٹی لیٹر جاری کر دیا جائے۔

یہ کیسے ممکن تھا کہ ہندوستان سے دو افراد دنیا کو خط لکھتے کہ ہم دو عدد نو زائیدہ ریاستوں کے بانی ہیں اسلئے ہمیں تسلیم کر لیا جائے جبکہ دنیا اس خطے کو حکومت برطانیہ کی غیر منقسم کالونی تسلیم کرتی تھی، اسلئے تین قوموں کے درمیان انتقال جائیداد کا واحد قانونی طریقہ فقط یہی تھا کہ انگریز اپنے دو مختارِ کار مقرر کر کے انہیں اختیار نامہ دیدے جس کی بنیاد پر وہ ہندوستان کی دو حصوں میں تقسیم اور دو قوموں کی آزادی کا اعلان کرنے کے مجاز ہوں پھر ان ریاستوں کی حدبندی، مشترکہ وسائل کی تقسیم اور آئین مرتب ہونے کے بعد اقتدار ان قوموں کے منتخب نمائندوں کو منتقل کر دیں۔

قانون کا فہم رکھنے والے جانتے ہیں کہ جب جائیداد کا مالک کسی کے نام مختار نامہ جاری کرتا ہے تو دراصل مالک کا اختیار ختم اور مختارِ کار کا اختیار شروع ہو جاتا ہے، لہذا اس ڈومینئین پر مختار کار مقرر کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا اشد ضروری تھا کہ اگلا مرحلہ طے کرتے وقت مختار کار اس برطانوی ریزولیوشن کا پاسدار رہے جو انتقال اقتدار کی ضامن ہے کجا یہ کہ وہ اختیار ہاتھ میں آنے کے بعد کوئی نئی قسم کا اعلان کر دے یا اپنی بادشاہت قائم کر لے۔

گورنر جنرل کی قانونی حیثیت کو سمجھنے کیلئے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جمہوریت میں ریاستی انتظام کا سربراہ وزیراعظم ہوتا ہے اور صدرِ مملکت صرف پارلیمانی نظام اور اس کے آئینی اداروں کو آئین کے مطابق چلانے کا نگران اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تصفیہ کاری کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس سے زیادہ یہ عہدہ نظام مملکت میں دخل نہیں دے سکتا اسلئے اس عہدے کو آئینی سربراہ یا کانسٹیٹیوشنل رینک قرار دیا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں اسے ڈیکوریٹری رینک بھی کہتے ہیں، یعنی جہاں قومی حیثیت کا ڈسپلے ہو گا یا آئین کے ترجمان بیانیے کے تحت کوئی سرکاری تقریب منعقد ہو گی اس کی سربراہی صدرِ مملکت کرے گا، جیسے تئیس مارچ اور چودہ اگست کی تقاریب ہیں۔

برطانیہ کی جمہوریت اس سے تھوڑی سی مختلف ہے، جیسے ہندوستانی بادشاہ راجوں مہاراجوں کو اپنا حلیف بناتے تھے ویسے ہی برٹش مونارچ میں بادشاہ اپنے مصاحب چنتا تھا جنہیں وہ لارڈز کہتے تھے، پھر جمہوریت آنے کے بعد انہوں نے لارڈ شپ دینے کا اختیار بادشاہ سے لیکر عوام کو دیدیا اور چونکہ ان کا کوئی آئین نہیں ہے اسلئے آئینی سربراہ یعنی صدر رکھنے کی بھی ضرورت نہیں، لیکن قومی بیانیئے کا نمائندہ ڈیکوریٹری یا نمائشی عہدہ رکھنے کی ضرورت تھی لہذا یہ عہدہ بادشاہ اور اس کے آنے والے جاں نشینوں کو دے دیا گیا۔

اس بات کو اصل میں یوں کہنا چاہئے کہ انہوں نے اپنے نوسٹیلجیا کی بنیاد پر بادشاہت کو نمائشی حد تک قائم رکھنا تھا تا کہ وہ ان کے عظیم الشان ماضی کی یاد دلاتی رہے اسلئے انہوں نے آئین نہیں لکھا اور صدارت کی ڈیکوریٹری پوزیشن مستقل طور پر شاہی خاندان اور ان کے جاں نشینوں کیلئے چھوڑ دی۔

پھر جہاں ریاست کا آئینی سربراہ صدر ہو وہاں صوبے میں اس کا نمائیندہ گورنر کہلاتا ہے جو عام حالات میں تو انتظامی معاملات میں دخل نہیں دیتا لیکن کہیں سیاسی ڈیڈ۔لاک پیدا ہو جائے تو وہاں سے منتخب نمائندے فارغ کر کے گورنر راج کے ذریعے صوبائی انتظامات چلا سکتا ہے۔

اب برطانیہ میں صدر کی جگہ بادشاہت تھی اور ہندوستان کی کالونی جو صوبے کے مترادف تھی اس میں کوئی منتخب نمائیندہ نہیں تھا لہذا اس نظام کو بادشاہ کے نمائیندے یعنی گورنر جنرل تعینات کر کے گورنر راج کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔

اس لیگل پوائنٹ آف ویو سے قائدِ اعظم اور ماؤنٹ بیٹن کا گورنر جنرل بننے کا مطلب پاکستانیوں کا مقرر کردہ پاکستان کا پہلا چیف ایگزیکٹیو ہرگز نہیں بلکہ جس طرح تمام سیاسی پارٹیوں کے اتفاق سے الیکشن کمشنر مقرر کیا جاتا ہے تا کہ ایک نیوٹرل بندہ الیکشن کرا کے آنے والی حکومت کو اقتدار سونپ دے اسی طرح دونوں اطراف نے اپنی اپنی چوائس کا بندہ نامزد کیا تھا جو دراصل حکومت برطانیہ کے صدر کی جگہ پر متمکن بادشاہ کا ہی نمائندہ تھا اس اختیار کیساتھ کہ وسائل کی تقسیم کرا کے اور قوم کا آئین مرتب کرا کے آئینی سربراہ کی حیثیت سے اقتدار آنے والی اسمبلی اور اس کے نمائندے کو منتقل کر کے خود مستعفی ہو جائے گا لہذا اس بندے سے اپنے ایجنڈے پر حلف لینا برطانوی حکومت اور بادشاہ کا حق تھا جو دراصل پاکستانی قوم کے حق کی حفاظت کے بھی عین مترادف تھا۔

سیدنا محمد علی جناح کو انگریز کا بااختیار نمائندہ یعنی گورنر جنرل بن کے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ ان کا ذاتی کام تھا یہ ان کی انگریز کی بجائے خود سے خود کی وفاداری کا حلف تھا یا اپنی ہی قوم سے وفاداری کا حلف تھا، جس قوم کیلئے مملکت بنائی یہ حلف اس قوم کے نام ملکیت و اقتدار ٹرانسفر کرنے کی قسم تھی جو انگریز نہ بھی کہتا تو محمد علی جناح نے یہ قسم بیس سال پہلے سے کھا رکھی تھی بلکہ ہر روز وہ ایک نیا عہد کر کے اٹھتے تھے کہ علیحدہ مملکت لے کے رہنی ہے تو اس میں شرمندہ ہونے والی کیا بات ہے؟

قائد اعظم نے تحریک آزادی کی ساری جنگ کس لئے لڑی تھی؟

مسلمانوں کیلئے حصول مملکت ہی ایک واحد مقصد تھا تو جب مملکت اپنے نام کرانے کا اتھارٹی لیٹر مل رہا تھا تو کیا کہتے، نہیں لے رہے؟

قائد اعظم زندہ رہتے تو مملکت کا آئین مرتب ہونے کے بعد نئی منتخب اسمبلی کو اقتدار سونپ کر قائد نے ایک بار مستعفی ہو جانا تھا پھر چاہے نئی اسمبلی دوبارہ ان کا تقرر کر دیتی، اس تقرر کے بعد قائد اعظم جو حلف لیتے وہ صدر مملکت کی حیثیت سے بالکل ویسا ہی ہوتا جیسا بعد کے صدر مملکت کیلئے ہوتا ہے لیکن ایسا ہو نہ سکا بلکہ قائد کے بعد تین گورنر جنرل اور آئے پھر آئین کے نفاذ کے بعد وہ مرحلہ آیا کہ صدر مملکت کی حیثیت سے آئینی سربراہ اپنے عہدے کا وہ حلف اٹھائے جو خالص پاکستان کیساتھ مشروط ہو کیونکہ برطانیہ کی قانونی حیثیت اس مرحلے پر کلی طور پر ختم ہو جاتی ہے۔

یہ مضمون انتہائی تفصیل کیساتھ اسلئے لکھا ہے کہ آئیندہ جب کوئی “اہل علم” قائد اعظم کے حلف پر سمع خراشی کرے تو عوام الناس اسے علم کی بات سے روشناس کرا سکیں۔

ایسے موقع پر یہ ساری تفصیلات یاد رکھنے یا بیان کرنے کا موقع نہ ملے تو “اہل علم” سے محض اتنا پوچھنا بھی کفایت کرے گا کہ بعد کے گورنر جنرلز کا حلف بھی لے آؤ اور پہلے صدر مملکت کا حلف بھی لے آؤ اور ان دونوں کے مابین وفاداری کے الفاظ کا جو فرق ہے اسے کسی طرح جسٹیفائی کر دو۔

میری طرف سے اس بات کی مکمل گارینٹی ہے کہ یہ کام “اہل علم و شر” سے ہو نہیں پائے گا کیونکہ دیانتداری سے جو کچھ بھی سامنے آئے گا وہ انشاءاللہ یہی کچھ ہو گا جو اس مضمون میں لکھ دیا گیا ہے۔۔۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: