اپنی سوچ اپنا ایمان اپنی قبر ۔ محمود فیاض

0

کالج کے زمانے کی بات ہے میرا ایک دوست مجھ سے ناراض ہو گیا۔ ہم چار دوستوں کا ایک گروپ تھا، اس نے کہا کہ میری محمود سے دوستی ختم۔ باقی دوستوں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ اسکا ایمان ختم ہو گیا ہے کیونکہ اس کو عذاب قبر پر یقین نہیں جو کہ ایمان کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔
۔
دوستوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے بتایا کہ ایک دن بحث کے دوران میں نے اپنا نکتہ نظر بتایا تھا کہ میرا خیال ہے قادر مطلق ہر بات پر قادر ہے، اس لیے جو عذاب کی شکلیں بتائی جاتی ہیں وہ انسانی زہن کے سمجھنے کے لیے ہیں، ہو سکتا ہے وہاں اسکی شکل کچھ اور ہو۔
۔
خیر خرابیء بسیار کے بعد اس دوست سے صلح ہو گئی، میں نے اپنے “تجدید ایمان” کے لیے اسکو مزید سمجھانے کی کوشش کی اور اسکو بھی شائد میری بات سمجھ میں آگئی۔
۔
آج میں سمجھتا ہوں کہ میری وہ سوچ تلاش علم میں ایک پڑاؤ تھی۔ میری سمجھ اب اس مقام سے آگے کی منزلیں طے کر چکی ہے۔ مگر اس وقت اس بات کا اظہار ایک شخص کے سامنے، جو مذہب کی تعلیمات کو لغوی معنوں کی حد تک لے کر اس پر سختی سے کاربند ہو، کرنا ایک نادانی تھی۔
۔
آج فیس بک نے ہمارے حلقہ دوستی کو بہت پھیلا دیا ہے، اور ہماری بات آن کی آن میں کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔ اس حلقہ دوستی میں میرے اس باعمل دوست کی طرح کے بہت سے ایسے لوگ ہونگے، جو مذہب کی فلسفیانہ بحثوں کو نہ سمجھ سکتے ہوں، یا انکی طبعیت پر کچھ الفاظ و انداز ناگورا گذریں۔ تو ایسے میں ہماری زمہ داری تھوڑا بڑھ جاتی ہے۔
۔
دوستو! آپ میں سے ایسے لوگ جو اپنی سوچ کو منطقی سمجھ کر بیان کر دینے پر قادر ہیں، ایک لمحے کو اگر ان لوگوں کا خیال کر لیں، جن پر آپ کی سوچ گراں گذر سکتی ہے، یا جن کی زہنی کیفیت اس لائق نہیں کہ وہ بھاری اور دقیق موضوعات کو سہار سکیں، تو سوشل میڈیا پر موجود بہت ساری لایعنی بحثیں ختم ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے آپ اپنے علم کی تلاش میں ابھی کسی پڑاؤ پر ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ آگے بڑھ جائیں، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ ہمیشہ اسی مقام پر رہیں۔ دونوں صورتوں میں ایک متنازعہ بات کو بیان کرنا محض فساد کو ہوا دینا ہے۔
۔
یاد رکھیں، اس موجودہ لمحے میں، جب آپ یہ تحریرپڑھ رہے ہیں، بہت سے لوگ مذہب میں داخل ہو رہے ہیں، اور بہت سے لوگ مذہبی تعلیمات سے باغی ہو رہے ہیں۔ کوئی اپنا عقیدہ چھوڑ رہا ہے، تو کوئی نیا عقیدہ اپنا رہا ہے۔ کوئی مذہب سے فلاسفی کی طرف جا رہا ہے تو کوئی فلاسفی سے مذہب کی طرف آ رہا ہے۔
۔
رب تخلیق و تحقیق نے انسانوں کی بنت اس طرح سے کی ہے کہ نئے خیالات کا ابھرنا، سوچ کے نئے زاویے کھلنا، تشکیک سے یقین کی طرف مڑنا، اور یقین سے تشکیک کی طرف بھٹک جانا، یہ سب انسانی فطرت کا تقاضا ہیں۔ اگر آپ رب کو مانتے ہیں تو اسکی شان تخلیق کے تنوع کو سجدہ کیجیے، اور اگر آپ انسانیت کو مانتے ہیں تو اپنے جیسے انسانوں کی سوچ کے محدودات کو مدنظر رکھیے۔
۔
رب کریم ہمیں اپنے جیسے انسانوں کو زندہ رہنے اور ہنسنے کھیلنے دینے کی توفیق دے۔ اور کسی عقیدے، الفاظ، سوچ کی بنیاد پر ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے سے بچائے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: