بچوں کی سماجی تربیت: کیسے؟ —– قاسم یعقوب

0
بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماحول سب سے بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ آپ ایک ہی باپ کے دو بچوں کو دو مختلف ماحول میں رکھیں؛ دونوں میں نظریاتی، شخصی حتیٰ کہ جسمانی طور پر (رنگ، روپ) میں واضح فرق آجائے گا۔ بچہ خودبخود اچھا یا برا نہیں بن جاتا، اگر ایسا درست ہوتا تو تعلیم یا ماحول کے اثرات کا تصور ہی ختم ہوجاتا، یوں بچہ خود بخود اپنی فطرت کے سہارے اچھا یا برا بن جاتا۔
حیاتات کے حوالے سے یونانیوں کے ہاں Abiogenesis کا نظریہ پایا جاتا تھا، جس کی رو سے جاندار اشیا کا غیر جاندار (Non-Living) سے پیدا ہونے کا تصور عام تھا۔ ارسطو بھی اسی بات پر یقین رکھتا تھا مگر جدید حیاتیاتی تصورات Biogenesis نے اسے غلط ثابت کیا اور بتایاکہ جاندار، غیر جاندار اشیا سے خود بخود پیدا نہیں ہوتے۔ وہاں جاندار اپنے وجود کا تخلیقی حصہ چھوڑ جاتے ہیں، جہاں سے نئی تخلیق کا سامان پیدا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ماحول میں رہنے والا بچہ جب اپنے معروض میں آنکھ کھولتا ہے تو اس پر ہر اطراف سے سماجیات حملہ آور ہوتی ہے۔ انسان سماجی جانور ہے، وہ سماجی ماحول میں ہی رہ سکتا ہے۔ بچے پر سماجیات کا گہرا اثر ہوتا ہے، جو بچے کی شخصیت کی تعمیر کے لیے Biogenesis کا کام کرتی ہے۔ لہٰذا اس بات کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں، جو بچے میں متعارف) Induct ہو رہی ہیں، جس سے بچہ ایک نئے دھارے پر بہتا جاتا ہے۔ بچہ سب سے زیادہ توجہ (Attentiveness) مانگتا ہے۔ انسان کا بچہ فطرت کی بجائے سماجی ماحول میں تیار ہوتا ہے، جس میں یکسانیت نہیں، جس طرح کا سماجی ماحول ہوگا، بچہ اسی طرح ڈھلتا جائے گا۔ بہت کم بچے اپنی فطری تخلیقی قوت کے سہارے اپنے معروض کو توڑنے اور کچھ اپنے تجربات کی روشنی میں بنانے پر قادر ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ سماجیات سے بغاوت کی فطری تخلیقی قوت ہر بچے میں موجود نہیں ہوتی۔ جانوروں کی طرح انسان بھی عمومی طور پر پیروی کرنے والا (Follower) فطرت رکھنے والا جان دار ہے، مگر شعور کی قوت سے وہ اپنی تخلیقی قوت کو بروئے کار لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ بے پناہ سماجی ترقی انھی چند انسانوں کی بدولت ہے جو تخلیقی قوت کو اپنے جسم پر نافذ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں؛ ورنہ انسانوں کی کثیر تعداد پیروی (Followed) کرنے والی ہے۔
بچوں کی سماجی تربیت کے لیے چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

۱۔  بچوں کی کبھی خوف پیدا کرنے والی باتوں سے اصلاح کرنے کی کوشش نہ کریں۔ خوف بچے کی شخصیت کو بری طرح تباہ کرتا ہے۔ خوف کی شدت نامیاتی طور پر جسم میں عضویاتی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے، جس سے شخصیت کے نفسیاتی رویوں (Psychological behaviours) میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ انسانی ادراک پر بھی گہرے اثرات پڑتے ہیں۔ بچہ ماحول سے ملنے والی حسی معلومات (Sensory information) کا درست ادراک نہیں کر پاتا۔ اس کے اندر اپنے معروض سے بھاگنے کا جذبہ غالب آجاتا ہے۔ ہمارا عمومی رویہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو ڈراکے ان کو درست سمت لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بچوں کو شخصیت کو مسخ کرنے کا انتہائی خطرناک کھیل ہے۔

۲۔  بچے میں قربانی دینے یا sacrifice کرنے کا مادہ پیدا کریں۔ وقف کرنے یا اپنی اشیا دوسروں کو دینے سے بچے میں وسعتِ قلبی پیدا ہوتی ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ والدین بچوں کے کھلونے بچوں کے سامنے چھینتے اور ان کی اشیا کو دوسروں سے چھپانے کا عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں بچے میں بھی ایسی حرکات پیدا ہوتی ہیں۔ بچوں میں ملکیت (possession) کا جذبہ بہت شدید ہوتا ہے۔ والدین کی حرکات انھیں مزید پختہ کر دیتی ہیں۔ یہیں سے بچے میں ایک دوسرے سے دور جانے اور اپنی’میں‘ کا تصور جنم لیتا ہے۔

۳۔  بچوں کی خواہشات کو بہت اہمیت دی جانی چاہیے۔ خواہش ہی ایسی یارڈ سٹک ہے، جہاں سے بچے کی نفسی یا شخصی جھکائو (Inclination )کا پتہ ملتا۔ ہر خواہش کو پورا کرنا ضروری نہیں مگر ہر خواہش پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ بچہ جب خواہش کا اظہار کرتا ہے تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ کوشش کریں کہ ہر ممکن خواہش جو سماجی طور پر کسی بگاڑ کا باعث نہ ہو، پوری کی جائے تاکہ بچے میں کج فکری یا بغاوت کا عنصر پیدا ہونے کی بجائے افراد سے ہم آہنگی یا امتزاجی رجحانات پیدا ہو سکیں۔ منفی رجحانات کو خوف یا جبر سے رد کرنے کی بجائے، اس کو مثبت انداز سے رفع کریں۔ عموماً بچے کی جنسی، باغی یا دیگر غیر مناسب حرکات پر والدین یا اساتذہ اس قدر منفی رویہ اپناتے ہیں کہ بچے کی شخصیت کو تادیر مسخ کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات بچہ ردعمل میں سنبھل نہیں پاتا۔ سب باتوں کو قبول کرکے اس کا حل نکالنا چاہیے۔

۴۔  بطور استاد، سکول بچوں کے سوالات کو رد نہیں کرنا چاہیے۔ بچوں کے سوالات ان کے کائناتی نظام کو سمجھنے کی طرف پہلی جہت ہوتے ہیں۔ ایسا بچہ جو سوال کر رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے معروض (Outer)کو سمجھنے کی منطقی کوششوں پر مائل ہے۔ کسی سوال کا رد کرنے سے بچے کی شخصیت پر برے اثرات پڑتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کے سوالات کو صرف ان کی تشنگی دور کرنے تک جواب دیا جانا چاہیے۔ ایسے والدین یا اساتذہ جو بچوں کو ان کی حیثیت سے زیادہ جوابات دیتے ہیں، وہ بچوں پر علمی اثر کی بجائے منفی اثر ڈالنے کا باعث بنتے ہیں۔

۵۔  بچوں کو رشتوں کا احترام سکھایا جانا چاہیے۔ ’ رشتہ‘ سماجیاتی عمل کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ رشتوں میں ماں باپ، بہن بھائی، ماں اور باپ کے بہن بھائی، اساتذہ، دوست، سینئرز یا بڑوں کا احترام شامل ہے۔ احترام کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔ اختلاف کرنے اوربے عزتی، نفرت یا دشمنی کرنے میں بہت فرق ہے۔ ہمارے سماجی ماحول میں ان باتوں کا قطعاً خیال نہیں کیا جاتا کہ’ رشتہ ‘کتنی قیمتی چیز ہے۔ اگر خالو، ماموں یا چچا قاتل یا ڈاکو بھی ہو، بچے کو اس سے نفرت مت سکھائیں۔ کیوں کہ ڈاکو یا قاتل ہونا تو قابلِ نفرت ہو سکتا ہے مگر ’رشتہ‘ نہیں۔ اسی طرح استاد کی توہین یا نفرت اور استاد کے نظریات سے اختلاف دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔ بچوں کو سکھائیں کہ استاد کا احترام اُس کا ااحترام نہیں، اُس رشتے کا احترام ہے، جس کی بے توقیری سے بچے میں انسانی رشتوں کی توقیر ختم ہو سکتی ہے اور بچہ خوف ناک حد تک گمراہ سماجی زندگی کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ ہمارے اکثر والدین بچوں کی توہینِ اساتذہ پر خوش ہوتے اور فخر سے بتاتے ہیں کہ ہمارے بچے نے استاد کی غلط بات کو کلاس میں ہی منہ توڑ جواب سے روک دیا۔ وہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ استاد کی بے عزتی کرکے بچے نے ’’لائق‘‘ طالب علم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ کیا والدین، اساتذہ، بزرگ یا بڑے رشتہ دار اگر کسی غلط یا نامناسب بات کا اظہار کر رہے ہوں تو بچوںکو یہ لائسنس دے دینا چاہیے کہ وہ ان کی عزت تار تار کر دیں؟کیا استاد، والد یا کوئی بڑا ایسی غلط بات نہیں کر سکتا جسے بچہ غلط محسوس کرتا ہو؟ کیا کسی بڑے کی غلط بات پر وہ قیمتی ’رشتہ‘ گنوا دینا چاہیے جن کی بدولت وہ قابلِ فخر بننے کی کوشش کر رہا ہے؟ ایسی تربیت بچوں میں باغیانہ اور تکبرانہ (arrogant) رویوں کو پروان چڑھاتی ہے، جو بچے کی شخصیت کو مسخ کر دیتی ہے۔

۶۔  بچے پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی قوت ماں باپ کے نظریات ہوتے ہیں۔ یہ ایسی وقت ہے جو بچے کو سوچنے سمجھنے کی بنیادی اہلیت سے بھی محروم کر دیتی ہے۔ بچوں کے سامنے نظریاتی گفتگو سے اجتناب کیا جانا چاہیے؛ خصوصاً مسلک، سیاسی حمایت، روزمرہ معاملات میں ذاتی ترجیحات وغیرہ۔ بچہ غیر محسوس طریقے سے انھیں اپناتا ہے اور انھیں حرفِ آخر سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ چوں کہ کم دلائل اور ناکافی تجربات کی بنا پر بچہ فیصلہ کرنے کی قوت سے محروم ہوتا ہے، اسے لیے زندگی اور اپنے معروض کی بہتر تفہیم کے لیے وہ دوسروں کے نظریات کا سہارا لینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اپنی موجودگی کا ادراک کروا سکے۔ اس سلسلے میں اُس کی نظریاتی ترجیحات اپنے ماں باپ یا اساتذہ کی نظریاتی ترجیحات بن جاتی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس میں کیا برائی ہے کہ اگر والدین جس چیز کو بہتر سمجھتے ہیں ؛وہ اپنے بچوں کو بھی سکھائیں یا بتائیں، آخر والدین یا سماج کے بڑے اپنے بچوں کے لیے بہتر ہی کریں گے۔ اس سوال میں سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ یہ اُس خواہش کو پیدا کررہا ہے جس میں بچے کی اپنی سوچ یا تجربہ ختم کر دیا جائے۔ بچہ جب اپنی سوچ یا اپنے تجربات کو ختم کرکے اپنے والدین کے خیالات یا ترجیحات کو اپنا لے گا تو اسے اس سوچ یا خیالات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ نظریات کی روح تک اتر ہی نہیں سکے گا۔ وہ اپنے معروض کو سمجھ ہی نہیں سکے گا۔ دوسرے لفظوں میں اُس نے ’رٹا‘ لگا لیا ہے، اسے نہیں پتا کہ وہ جس سوچ کو اپنا رہا ہے اس کی روح کیا ہے، اس میں اچھا یا برا کیا ہے۔ وہ یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ میں اس کو دوسروں پر کیوں ترجیح دے رہا ہوں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سامنے نظریاتی گفتگو سے بہت پرہیز کریں۔ اپنا مسلک، دینی ترجیحات، معاشرتی پسند و ناپسندیدگی اور سیاسی وابستگیاں وغیرہ سے بچوں کو دور رکھا جانا چاہیے۔ بچہ خود محنت کرے اور وہاں تک پہنچے جہاں خیر یا حق ہے۔ والدین کا کام ہے کہ وہ صرف ماحول مہیا کریں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اس طرح والدین کے نظریات سے انحراف بھی کرے۔ افلاطون نے صرف اکادمی (Academy) بنائی تھی، وہاں سے ارسطو خود بخود نکل کے سامنے آگیا۔ افلاطون نے نظریات تھوپنے کی بجائے صرف وہ ماحول پیدا کیا تھا، جس میں علم اور مکالمہ نافع دولت قرار پایا۔ پھر اسی ارسطو نے اپنی درس گاہ لایسیم (lycieum) بنائی۔ لہٰذا ہمیں بچوں پر اپنے نظریات نہیں تھوپنے چاہیے، ورنہ عکرمہ، ابو جہل ہی رہے گا؛ صحابیِ رسول نہیں بن سکے گا۔

۷۔  ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بچوں کو مذہبی تعلیم دی جانی چاہیے کہ نہیں۔ میرے خیال میںب چوں کو صرف اپنے مذہب کی نہیں، بلکہ معاشرے میں رائج تمام مذاہب کے بنیادی اقدار کی تعلیم دی جانی چاہیے۔ یہاں یہ فر ق رکھنا ضروری ہے کہ مذہبی تعلیم اور مذہبی اقدار میں گہرا فرق ہے۔ قدریں نظریات نہیں ہوتیں، انھیں بچوں تک پہنچانا ضروری ہے مگر نظریات پیچیدہ تعلیم اور عقائد کا معاملہ ہے۔ بچہ اس عمر میں نہیں ہوتا کہ وہ عقائد کی سطح پر مذہب کو سمجھ سکے۔ مذاہب صرف دینی معاملات تک محدود نہیں ہوتے بلکہ کسی معاشرے کی ثقافتی اقدار کا آئینہ بھی ہوتے ہیں۔ بچہ نظریات کی پیچیدگی کو سمجھ نہیں رہا ہوتا ہے بلکہ پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے، انھیں جوں کا توں اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ استاد سمجھ رہا ہوتا ہے کہ بچہ حق تک پہنچ رہا ہے، خیر تک رسائی ہورہی ہے مگر وہ اس حقیقت سے ناواقف ہوتا ہے کہ بچہ نظریاتی یا مسلکی و مذہبی ترجیحات کو بڑوں کے کہنے پر اپنا رہا ہوتا ہے، سمجھ نہیں رہا ہوتا۔ بچہ سمجھ بھی کیسے سکتا ہے۔ اس نے زندگی کی پیچیدگی کو ابھی محسوس نہیں کیا اور اس پر مسلکی و مذہبی پیچیدگیاں کیسے سمجھ لے؟ اس لیے ایک استاد جب مسلکی یا نظریاتی سوچ تھوپ رہا ہوتا ہے تو وہ بچہ کے دماغ پر لوہے کی ٹوپی پہنا رہا ہوتا ہے، جو بچے کے دماغ کو ہمیشہ کے لیے چھوٹا کر دیتی ہے۔ اس کے دماغ تک تازہ ہوا کا جھونکا ممنوع ہو جاتا ہے۔

۸۔  بچہ کو اچھی باتیں سمجھانے کی بجائے، ان کو وہ خود کر کے دکھائیں، کیوں کہ بچہ سمجھانے سے کم اور دیکھنے سے زیادہ سیکھتا ہے۔ میں اکثر اپنے چھوٹے طلبہ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کے والدین آپ کو کسی بک شاپ پر لے کے گئے؟ آپ میں سے کتنے بچوں کے والدین کتاب پڑھتے ہیں؟ جواب آتا ہے کہ وہ کبھی بک شاپ پر نہیں گئے اور نہ ہی ان کے والدین کتاب پڑھتے ہیں۔ آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ایسے بچوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ یہاں یہ بات رہے کہ زبردستی کتاب پڑھنے کی تلقین کرنا اور خود کتاب پڑھنے میں بہت فرق ہے۔

۹۔  بچوں میں صنفی تفریق (Gender) نہ پیدا کریں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو نو عمری میں ہی یہ احساس نہ دینا شروع کر دیں وہ لڑکے (مرد) یا لڑکیاں (عورت) ہیں۔ بچیوں کے حوالے سے اساتذہ اور والدین یہ جبر کرتے ہیں کہ ان کو عورت ذات کا شدید احساس دلاتے ہیں جس سے ان کی شخصیت میں خوف، عدم تحفظ اور عدم اطمنانیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یونیورسٹی تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں میں بھی وہی بچپن کا خوف اور عدم تحفظ کا احساس دیکھا جا سکتا ہے۔ بچی پورے معاشرے کو جنسی درندہ سمجھتی اور خود کو ایسا شکار جو کسی وقت بھی شکارے کے ہتھے چڑھ سکتا ہے۔ یہ تعلیم والدین کے ذریعے بچیوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اسی طرح لڑکوں کو یہ احساس دیا جاتا ہے کہ وہ مرد ذات ہیں، انھیں ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے۔ گھر میں کھیلتے بچوں میں ہی اس فرق کو قائم رکھنا شروع کر دیا جاتا ہے جو کہ ایک غلط اندازِ تربیت ہے۔

۱۰۔  بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہیے، ان کو سمجھنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ جب والدین یا اساتذہ جو بچوں سے دور ہوتے جاتے ہیں، ان کے شب و روز کے معاملات سے کنارہ کشی اختیار کرتے جاتے ہیں، ایسے بچے یا طلبہ سیکھنے کے عمل کے لیے معاشرتی ماحول کے قریب چلے جاتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ معاشرے میں خیالات، نظریات اور اعمال(Practices) کا ایک ہجوم ہے، بچے اس مرکب صورتِ حال میں جو ہاتھ لگتا ہے، اٹھا لیتے ہیں۔ بعض اوقات سماجی حوالے سے نہایت خطرناک اشیا بھی اس کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔

(Visited 1 times, 5 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: