مجھے ڈوبتا بھی دیکھ! (ایک استاد نے خود کشی کیوں کی؟) —- اورنگ زیب نیازی

0
دنیا میں خود کشی کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ماہرین نفسیات نے خود کشی کے متعدد محرکات کو نشان زد کیا ہے لیکن موت کے درندے میں کیسی کشش ہے؟ اس تہ تک کوئی نہیں پہنچ سکا۔
 12نومبر 1966ء کو اردو کے معروف شاعر شکیب جلالی نے محض 32 سال کی عمر میں ریل کے آگے کود کر خود کشی کر لی۔ اس کی جیب سے ایک کاغذ بر آمد ہوا، جس پر اس کا آخری شعر درج تھا:
تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ، مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
9؍اکتوبر 2019 ء کو گورنمنٹ ایم۔اے۔او کالج لاہور کے جواں سال استاد محمد اٖفضل نے خود کشی کر لی۔ خود کشی سے ایک روز قبل اپنے خلاف قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے سربراہ کے نام آخری درخواست میں اس نے لکھا:
’’میری موت کے بعد میری تنخواہ اور میری بے گناہی کا خط میری ماں کو دے دیا جائے تاکہ وہ اس اطمینان کے ساتھ جی سکے کہ اس کا بیٹا بد کردار نہیں تھا۔‘‘
شکیب، ثروت اور سارا کی خود کشی کے متفرق محرکات تھے۔ معاشرے کی بے حسی، حد سے بڑھی ہوئی شاعرانہ  حساسیت اور موت کی خواہش نے انھیں خود کشی پر آمادہ کیا۔ لیکن محمد افضل کی جبلت میں موت کی خواہش نہیں تھی۔ وہ ایک سیلف میڈ، محنتی انسان تھا، ایک بھر پور کیریئر اس کے سامنے تھا۔ اس کی آخری تحریر چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ وہ جینا چاہتا تھا۔ لیکن اپنی ہی ایک شاگرد کی طرف سے جنسی ہراسانی کے الزام اور انتظامیہ کی بے حسی نے اسے یہ انتہائی قدم ا’ٹھانے پر مجبور کر دیا۔ وہ استاد ہونے کے علاوہ ایک عام انسان بھی تھا۔ ممکن ہے کسی کمزور لمحے میں اس سے یہ غلطی سر زد ہوئی بھی ہو لیکن انکوائری کمیٹی اسے بے گناہ قرار دے چکی تھی۔ اسے کمیٹی کے فیصلے سے زبانی طور آگاہ کر دیا گیا تھا (اس کا اقرار کالج کے پرنسپل اور انکوائری کمیٹی کی سربراہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کر چکے ہیں)۔ اب اس کا مطالبہ محض اتنا تھا کہ اسے بے گناہی کا آفیشل لیٹر دیا جائے اور غلط الزام لگانے والے اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ وہ چاہتا تھا کی وہ اپنی ماں، بیوی اور دیگر خاندان کے سامنے خود کو بے قصور ثابت کر سکے۔ وہ کس کشتی پر بوجھ تھا؟ یا اس کی ذات پر کیسا بوجھ تھا؟ ماں جیسے پیارے، سچے اور سُچے رشتے کے سامنے اپنے کردار کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنے کی اسے واقعی ضرورت تھی ؟یا وہ معاشرے سے سے اپنی بے گناہی کا ثبوت لینا چاہتا تھا؟
اب اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔ لیکن اس کی خود کشی ہمارے سماج، سماجی اقدار اور ترکیب پر بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔ اس اندوہ ناک واقعے نے سب سے کاری ضرب استاد اور شاگرد کے مقدس رشتے پر لگائی ہے۔ اس کے محرکات اور اسباب کی درست نشاندہی ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ایک کم عمر طالبہ کے اندر یہ حوصلہ کیسے پیدا ہوا کہ وہ اپنے ہی استاد پر ایک ایسا الزام لگائے جس کی قیمت اسے اپنی جان کی صورت میں چکانی پڑے۔ جب کہ مذکورہ طالبہ انکوائری کمیٹی کے سامنے یہ اقرار کرتی ہے کہ کلاس سے غیر حاضری اور کم نمبر دینے پر اس نے یہ الزام لگایا تھا۔ اس دیدہ دلیری کی وجہ شاید آزادی اور تانیثیت کا وہ ناقص فہم ہے جو کچے ذہنوں کے اندر زبر دستی ٹھو نسا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں حقوق نسواں کی تحریک کا تصور مغرب سے آیا لیکن اس ضمن میں مغربی اور مشرقی معاشرے کی ترکیب میں بنیادی فرق کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ مغرب میں حقوق نسواں کی تحریک تین مراحل میں آگے بڑھی۔ پہلے مرحلے میں خواتین کے معاشی استحصال کے خلاف آواز اُٹھائی گئی؛ مزدوری کے اوقات کار اور یکساں معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں عورت کے لیے تعلیم، صحت اور دوسرے حقوق کا مطالبہ کیا گیا۔ اور تیسرے مرحلے میں جنسی اور انفرادی آزادی کا نعرہ بلند ہوا۔ ہمارے ہاں کی نسوانی تحریک نے ایک ہی جست میں پہلے دو مراحل عبور کیے اور تیسرے مرحلے پر آکھڑی ہوئی۔ فی الفور وہ کچھ مانگا گیا جس کی گنجائش اس سماج میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ اہداف کے حصول میں ناکامی نے عورت کے اندر غصے، اضطراب، بے چینی، انتقام اور مخالف جنس کے لیے نفرت کے رویوں کو جنم دیا۔ حقوق نسواں کی غلط تشریح اور غلط فہم معاشرے میں موجود مردوں کے لیے ایک طرح کے سماجی دبائو کا باعث بننے لگا جس کا لامحالہ نتیجہ پروفیسر محمد افضل جیسوں کی موت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
سماجی دبائو کی ایک اور شکل معاشرے میں نجی زندگی کے تصور کا ناپید ہونا ہے۔ ’’لوگ کیا کہیں گے۔۔‘‘ کا محاورہ ہماری زندگیوں میں اس حد تک دخیل ہے کہ ہمارے بیشتر اعمال و افعال دوسروں کی خوشنودی اور ان کے رد عمل کے محتاج ہیں۔ محمد افضل کو یہی صورت حال درپیش تھی۔ اس پر ایک عورت نے الزام لگایا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ لاکھ انکوائریوں میں بے گناہ ثابت ہوجانے کے باوجود بھی اسے باقی عمر اس الزام کے ساتھ جینا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا تھا لیکن اسے اپنے معاشرے سے اپنے اچھے کردار کا سرٹیفیکیٹ چاہیے تھا وگرنہ ماں کی مامتا تو بیٹوں سے کردار کے سرٹیفیکیٹ نہیں مانگا کرتی!!
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: