دانشِ عصر: احمد جاوید — (دائیں بائیں بازو کا باہمی تعلق، اقبال احمد اور میر و غالب) گفتگو: خرم سہیل-حصہ 5

0

گذشتہ سے پیوستہ۔ اس گفتگو کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔


سوال: ہمارے اس خطے میں ترقی پسندی كے انقلابیوں كا بھی ایك شہرہ رہا، میں یہ جاننا چاہتا ہوں كہ پرانے وقتوں میں روشن خیال بائیں بازو كے لوگ ہوں یا دائیں بازو كے مذہبی لوگ، سب میں دو عناصر نمایاں تھے، ایک دوسرے كے لیے ایمانداری اور احترام اور برا یا مشکل وقت آنے پر ایک دوسرے كے لیے معاون ثابت ہونا۔ اب ایسا نہیں ہے۔ اس سنہرے ماضی كے بارے میں كچھ بتائیے؟

جواب: بلا شبہ وہ ہمارے ماضی كی سنہری قدریں تھیں۔ یوں كہہ لیں كہ ہمارا ماضی قریب، یعنی میری نو جوانی كا زمانہ ایسا ہی تھا۔ اختلاف دشمنی نہیں بنتا تھا بلكہ ایك دوسرے كی خیر خواہی اور اكرام میں مبالغے پر اكساتا تھا۔ ایوب خان كے دور میں جب بائیں بازو والے پكڑے جا رہے تھا رائیٹسٹوں كی بڑی اكثریت نے احتجاج كیا۔ اسی طرح جب مودودی صاحب كو فوجی عدالت سے سزاے موت سنائی گئی، تو لیفٹ نے اس فیصلے كی علانیہ مخالفت كی تھی۔ ایك مزے كی بات سناؤں، مشہور ماركسسٹ شاعر او دانشور ظہیر كاشمیری بھی اسی زمانے میں تحفظ ختم نبوت كے ایك جلوس میں قادیانیت كے خلاف پر زور نعرے لگا رہے تھے اور پكڑے بھی گئے تھے۔ غرض اس بے مثال سماجی روایت كے مظاہر كی ایك لمبی فہرست ہے۔ میرے دادا استاد، اور اردو كے نقادِ اعظم، محمد حسن عسكری ترقی پسند تحریك كے جان لیوا ناقد تھے لیكن اس تحریك پر سخت وقت آیا تو سب سے بلند آواز احتجاج انہیں نے كیا۔ اسی طرح میرے استاد سلیم احمد ایك زمانے میں مشیرِ اطلاعات و نشریات مقرر كیے گئے۔ اسی زمانے میں جوش ملیح آبادی پر پابندی لگائی گئی تو انہوں نے بڑا پرغضب اختلاف كیا جس پر انہیں مستعفی ہونا پڑا۔ ویسے یہ بات شاید آج ادب كے قارئین نہ جانتے ہوں كہ سلیم احمد، یوں كہہ لیں كہ مولانا سلیم احمد نے جوش ملیح آبادی پر پانچ چھ مضامین كی ایك سیریز بھی لكھی تھی۔ ضیاء الحق صاحب كی صدارت میں ہونے والی ایك بڑی كانفرنس میں بھی انہوں نے دوٹوك الفاظ میں ان لوگوں كی حمایت كی جن كے وہ ضیاء الحق ہی كی طرح شدید مخالف تھے۔

سلیم احمد ہی كا ایك دلچسپ واقعہ سناتا ہوں۔ حمایت علی شاعر بڑے جذباتی ترقی پسند تھے۔ انہوں نے سلیم احمد كے خلاف دو تین قسطوں میں بہت سخت مضمون لكھا۔ یہ مضمون آپ جانتے ہیں كہاں لكھا گیا؟ سلیم بھائی كے گھر میں۔ وہ حیدر آباد سے آ كر سلیم بھائی كے مہمان رہے اور وہاں یہ كاروائی كرتے رہے اور روز كی روداد انہیں سناتے بھی رہے۔ سلیم احمد كا ردِ عمل قہقہے سے زیادہ كچھ نہ ہوتا تھا۔ احمد ہمدانی بھی كٹر ماركسسٹ تھے اور ساتھ ہی سلیم احمد كے بہترین دوست اور عسكری صاحب كے مستعد خادم تھے۔ ایك احمد صاحب ہوا كرتے تھے۔ میں نے سچی بات ہے كہ ماركسزم پر ان جیسا علمی تسلط اور كہیں نہیں دیكھا۔ بس اس سے اندازہ كر لیں كہ سبطِ حسن، حسن ناصر اور ڈاكٹر اعزاز نظیر ایسے جنات ان كا احترام كرتے تھے۔ یہ الگ بات كہ عمر كے آخری حصے میں وہ بالكل روایتی مسلمان ہو گئے تھے، جیسے كہ احمد ہمدانی ہو گئے تھے۔ تو خیر، وہ احمد صاحب سلیم بھائی كی طرف كثرت سے آیا جایا كرتے تھے۔ میں دیكھتا تھا كہ ان كی آمد پر سلیم احمد كی آنكھیں جیسے جنت كے آسمان پر چمكنے والے دو ستارے بن جاتی تھیں۔ ہمارے سلیم بھائی عجیب آدمی تھے، مجھ ایسے نالائق اور جاہل شاگردوں اور برخورداروں كو بھی اختلاف پر ابھارا كرتے تھے اور نہ كریں تو ناراض ہو جاتے تھے۔ غرض میں نے اپنی آنكھوں سے باہمی احترام و محبت كے اتنے واقعات دیكھے ہیں كہ بتانے بیٹھوں تو صبح سے شام ہو جائے۔ ہماری تہذیب میں یہ چلن پرانا ہے۔ ڈاكٹر اشرف، ایك مشہور ماركسسٹ، دانشور اور انقلابی تھے۔ وہ مولانا حسین احمد مدنی كے قریبی دوست تھے اور شیخ الہند مولانا محمود حسن ان پر بہت اعتماد كیا كرتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے دیوبند آتے رہتے تھے اور وہاں كئی كئی دن مولانا مدنی كے مہمان رہا كرتے تھے۔ اسی طرح كون نہیں جانتا كہ حبیب جالب عطا اللہ شاہ بخاری كے كتنے منہ چڑھتے تھے۔ ڈاكٹر اعزاز نظیر انڈر گراؤنڈ كمیونسٹ پارٹی كے اہم ترین لیڈروں میں سے تھے اور مفتی محمد شفیع اور مولانا یوسف بنوری كے عاشق تھے۔ میں نے اتنا درویش آدمی كم دیكھا ہے۔

ممتاز حسین ٹھیٹھ ترقی پسند نقاد تھے اور ادیبوں میں ان كے برابر ماركسسٹ تھیوری كو جاننے والے جنوبی ایشیا میں دو چار ہی ہوں گے۔ اردو كالج میں میرے استاد تھے۔ بولنے میں اچھے نہ تھے لہذا طلبہ میں مقبول نہ تھے۔ سلیم احمد كی چاند ماری زیادہ تر انہیں پر ہوا كرتی تھی۔ انہیں جب معلوم ہوا كہ میں سلیم احمد كے حلقے كا ہوں تو ان كے التفات میں كئی گنا اضافہ ہو گیا۔ ایك مرتبہ میں نے اپنی جہالت اور بدتمیزی كی وجہ سے ان كامذاق اڑایا تو سلیم بھائی آگ بگولہ ہو گئے اور ایسی جھاڑ پلائی كے یاد ہی تو رہے گی۔ افسوس یہ فضا ادیبوں میں بھی غارت ہو گئی ہے۔ رائٹ لیفٹ كے علاوہ اسلام كے رائٹ لیفٹ یعنی سنی شیعہ میں جو معاشرتی ہم آہنگی تھی وہ بھی قصۂ ماضی ہوئی۔ بے تكلفی سے كہوں تو میں شیعیت كو دیومالا، Anthropomorphism اور جانے كیا كیا سمجھتا ہوں اور اس پر واضح اور دو ٹوك موقف ركھتا ہوں مگر میرے محسنوں اور دوستوں میں كتنے ہی شیعہ شامل ہیں جو خود تسنن كے جی بھی كے مخالف ہیں اور اپنے مذہب پر میرے اعتراضات سے بھى بخوبی واقف ہیں۔ اسی طرح ماركسزم اور اكثر ماركسسٹوں کی كٹھ ملائی پر میری تند و تلخ باتیں سنتے رہتے كے باوجود بہت سے ہارڈ كور ماركسسٹ میرے حلقۂ احباب میں رہے ہیں۔ آج بیشتر لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں كہ انسانی وحدت اختلاف بلكہ نظریاتی اختلاف سے كمزور نہیں محكم ہوتی ہے۔

سوال: پاكستا ن كے معروف اشتراكی دانشور اقبال احمد، جن كی ایك عالمی شہرت ہے، ان كے حوالے سے آپ كی كیا رائے ہے؟

انہیں اشتراكی كہنا شاید درست نہ ہو۔ وہ ایسے ہی اشتراكی تھے جیسے عبید اللہ سندھی تھے، مولانا حسرت موہانی تھے۔ اقبال احمد بلا شبہ ایك بین الاقوامی شخصیت تھے۔ جیسے ڈاكٹر فضل الرحمن تھے۔ بین الاقوامیت كو ایك آئیڈیا فرض كیا جائے تو وہ آئیڈیا ان كی ذات، ان كی فكر اور ان كے طرزِ احساس میں مجسم ہو گیا تھا۔ اپنے ہیومنزم كی وجہ سے لیفٹ كی طرف جھكاؤ ضرور ركھتے تھے مگر لیفٹسٹ نہیں تھے۔ سارتر، فرانز فینن وغیرہ كی طرح وہ ماركس كے ورلڈ ویو اور غیر طبقاتی عالمی سماج كے آئیڈیل كی طرف مائل یقیناً تھے لیكن پرولتاریا راج اور سماج كا تصور نہیں ركھتے تھے اور نہ ہی كمیونزم سے كوئی خاص دلچسپی تھی۔ وہ ایسے انسان دوست تھے جو انسان كو تقسیم كرنے والے نظریات اور پالیسیوں كو نفرت كے جذبے سے لیكن ایك ایسی تاریخی، تہذیبی اور سیاسی بصیرت كے ساتھ رد كرتے تھے جو ہمارے خطے کے لیفٹسٹ یا رائیٹسٹ دونوں طرح كے دانشوروں میں كم ہی نظر آتی ہے۔ كپیٹلزم كو جتنا وہ سمجھتے تھے، اتنا شاید ہی كوئی سمجھتا ہو۔ وہ ظلم سے عملاً بھی لڑے اور ایسی ایسی قربانیاں پورے وقار اور انكسار كے ساتھ دیں جنھیں سوچ كر بھی اچھے اچھے انقلابیوں كی گھگھی بندھ جائے۔ استعمار اور سامراج سے جتنی نفرت وہ كرتے تھے اور ان كی چالوں كو جتنا وہ سمجھتے تھے، اتنی نفرت تو شاید ہمارے كچھ انقلابیوں اور مجاہدوں میں پائی جاتی ہو مگر وہ فراست اور بصیرت كم از كم تیسری دنیا میں كہیں دكھائی نہیں دیتی۔ وہ صوفیانہ تعبیر كے ساتھ اسلام سے متعلق رہے اور اكثر لیفٹسٹوں كی طرح مذہب كا مذاق اڑانے كے جاہلانہ خبط میں مبتلا نہ تھے۔ امریكی اسٹیبلشمنٹ خاص طور پر ان سے ڈرتی تھے جس طرح ذوالفقار علی بھٹو سے ڈرتی تھی۔ یہ ڈر كسی خود كش جیكٹ كا نہیں تھا، ان كے براق ذہن اور سفاك قلم كا تھا۔ سیاست، معیشت، خارجہ امور وغیرہ كے علاوہ وہ جدید فلسفے اور لٹریری اور لسانیاتی تھیوری وغیرہ میں بھی خاصا درك ركھتے تھے۔ بر صغیر كی مسلم تہذیب كا جو رچاؤ ان كی شخصیت میں تھا، وہ بھی دیكھنے كی چیز تھا۔ اگر خلدونیہ یونیورسٹی بننے دی جاتی تو اس كے ثمرات علی گڑھ یونیورسٹی سے كہیں زیادہ مثبت، گہرے، دور رس اور كثیر الجہات ہوتے۔

مجھے اس میں كوئی شبہ نہیں كہ پوسٹ كولونیل تیسری دنیا میں سرمایہ دارانہ نو استعماریت كے سامنے كھڑی ہونے والی سب سے بڑی دو چار شخصیتوں میں ایك اقبال احمد تھے۔ آخر كوئی وجہ تو ہو گی كہ نوم چومسكی اور ایڈورڈ سعید ایسے لوگ ان كے مداح تھے اور بعض باتوں میں ان سے متاثر بھی تھے۔ اقبال احمد ایسی انگریزی نثر ہم دیسیوں میں كتنوں نے لكھی ہے، ڈاكٹر فضل الرحمن كو چھوڑ كر شاید كسی ایك نے بھی نہیں۔ ہماری صحافت كی تاریخ میں انگریزی كالم نگاری میں مولانا محمد علی جوہر كو چھوڑ دیں تو كوئی ان كا پاسنگ بھی نہیں ہے۔ بس مجھے ان كی ایك بات عجیب لگی كہ اقبال پر فیض كو ترجیح دیتے تھے۔ ارے ہاں، یہ كہنا تو بھول ہی گیا كہ فوكو اور فینن كی طرح وہ تھوڑے سے اناركسٹ بھی تھے۔ اڈورنو كو بہت پسند كرتے تھے۔ اور یہ اچھا تھا كیونكہ مغربی سرمایہ دارانہ امپیریلزم كا مقابلہ كرنے كے لیے بہت سا ماركسزم اور تھوڑا سا اناركزم ضروری ہے۔

سوال: اقبال احمد پر یہ باتیں سن كر ایك ذرا ذاتی سا سوال ذہن میں آرہا ہے۔ آپ كو كیسے لوگ اچھے لگتے ہیں؟ اور آج كل ادیبوں میں آپ كی پسندیدہ شخصیت كون سی ہے؟

جواب: آسانی كے لیے تین كیٹیگریز بنا لیتے ہیں۔ دلچسپ لوگ، پسندیدہ لوگ اور محبوب لوگ۔ مجھے ان لوگوں میں دلچسپی محسوس ہوتی ہے، میرا مطلب تجسس نہیں بس دلچسپی ہے جس كی كیفیت تفریحی اور نشاطیہ ہوتی ہے، تو مجھے ایسے لوگ دلچسپ لگتے ہیں جو ذرا سے كھسكے ہوئے ہوں۔ ایك زمانے میں پاگلوں میں بیٹھ كر انہیں احساسِ كمتری كے ساتھ دیكھا كرتا تھا۔ ان كی باتیں اتنے ہی غور سے سنا كرتا تھا جتنا دماغ پر زور دے كر آج كل ایڈمنڈ ہسرل كو پڑھ رہا ہوں۔ میرا خیال تھا اور تھوڑا بہت اب بھی ہے كہ دیوانگی شعور كی مجذوبی ہے، بلكہ زیادہ ٹھیك سے كہوں تو عارفانہ مجذوبی ہے۔ اس میں بس معلوم رہ جاتا ہے ادراك اور اظہار كی مروجہ صورتوں سے ماورائی كی حالت میں، علم اور سبجیكٹ یعنی عالم کی ملاوٹ زائل ہو جاتی ہے۔ نوجوانی میں سنجیدگی سے چاہتا تھا كہ دیوانگی كا كوئی تجربہ راں بو كی طرح مجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے كر كچھ دن بعد آزاد كر دے۔ میرا اندازہ ہے كہ نوجوانی كی اس خواہش نے خاصا ذہنی اور اخلاقی فائدہ پہنچایا۔ آنكھ بند كرنا دیكھنے كی صلاحیت میں اضافہ كرنے لگا اور تنہائی جیسے خود سے بھی خالی لگنے لگی۔ لیكن جناب، یہ سب نفسی احوال تھے، ان كا روحانیت سے دور كا تعلق بھی نہ تھا۔ دیوانوں كے علاوہ مجھے ان لوگوں میں ایك ذرا مختلف سی دلچسپی محسوس ہوتی ہے جو خود كو وہ پوز كرتے ہیں جو ہوتے نہیں ہیں۔ پھر اپنے بارے میں اپنی بساط سے بڑھ كر بڑے بڑے دعوے كرنے والے لوگ بھی مجھے دلچسپ لگتے ہیں۔ جیسے ایك سینیر دوست تھے جو فلسفے میں پی ایچ ڈی تھے مگر فلسفہ بس واجبی سا جانتے تھے۔ وہ ایك كتاب لكھنا چاہتے تھے جس میں طالیس اور فیثاغورث سے لے كر دریدا تك كو منہ دكھانے كے لائق بھی نہ چھوڑا جاتا۔ وہ مجھے اپنا واحد مرتبہ شناس سمجھتے تھے۔ جو لكھنا چاہتے پہلے مجھے سناتے تھے۔ میں جب تك انہیں یہ یقین نہ دلا دیتا كہ آپ نے افلاطون كے پرزے اڑا دیے، ہیوم كو دو ٹكے كا بنا دیا، كانٹ كی ایسی تیسی كر دی، ان كی تسلی نہ ہوتی۔

دوسری كیٹیگری كو لیں تو مجھے دوستی كے روایتی بلكہ داستانی تصور پر چلنے والے لوگ بہت پسند ہیں۔ جذباتی لوگ بھی پسند ہیں بشرطیكہ وہ خود پسند نہ ہوں اور انصاف پسندی كا مزاج ركھتے ہوں۔ بھولے لوگ تو بہت ہی زیادہ اچھے لگتے ہیں۔ انہیں دیكھ كر اپنی كمتری كا شدید احساس ہوتا ہے۔ ان كے علاوہ ایثار کیش، منكسر المزاج، اپنی خوبی چھپانے والے، نرم دل لوگ بھی دل سے پسند ہیں۔ وہ لوگ بھی اچھے لگتے ہیں جو ہوتے تو سادہ لوح ہیں مگر زیرك اور چالاك بنتے ہیں۔ اب رہ گئی محبت كی بات، تو مجھے وہ صاحب غیر مشروط طور پر محبوب ہو جاتے ہیں جن كے بارے میں مجھے گمانِ غالب ہو جائے كہ یہ اللہ كے محبوب ہیں، یعنی ان كی شخصیت رسول اكرمﷺ كے مزاجِ اقدس میں ڈھلی ہوئی ہے۔

سوال : مجھے یہ تو معلوم ہے کہ ادیبوں شاعروں میں آپ شخصیت کے اعتبار سے سلیم احمد، محب عارفی اور رئیس فروغ کو دل سے سراہتے ہیں۔ آج کل کے کس ادیب کی شخصیت کو آپ اسی طرح پسند کرتے ہیں؟

جواب : محمد سلیم الرحمٰن اور خورشید رضوی کو۔ سلیم الرحمن صاحب آج کے سب سے بڑے نظم گو ہیں، سب سے بڑے مترجم ہیں اور میرے خیال میں ادیبوں ہی میں نہیں، صوفیوں اور عالموں میں بھی رکھ کر دیکھا جائے تو بھی ان کی شخصیت بہت ہی بڑی ہے۔ خورشید رضوی صاحب بہت عمدہ غزل گو، تخلیقی محقق ہیں، عربی فارسی کے منتہی ہیں، خصوصاً عربی دانی میں۔ اور عربی شاعری اور تہذیب کا جیسا ہمہ جہت فہم اور ذوق یہ رکھتے ہیں، آج کے عربی دانوں میں شاید کوئی صاحب بھی ان کی برابری نہیں کرتے، زباں دانی کا جیسا ملکہ یہ رکھتے ہیں وہ ہمارے زمانے میں بہت ہی کمیاب ہے۔ اور ان علمی اور تخلیقی اوصاف کے ساتھ ان کی شخصیت میں بعض ایسی چیزیں ہیں جو بڑی شخصیتوں کے لیے بھی موجبِ فخر ہوا کرتی ہیں۔ مجھے دنیا سے اور اپنے آپ سے بے نیاز لوگ بہت اچھے بلکہ بہت بڑے لگتے ہیں۔ سلیم صاحب ایسے ہی ہیں۔ انھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ دوسری تیسری صدی کا کوئی راہب ڈھائی ہزار برس کی ریاضت مکمل کر کے ہمارے شہر میں آ بسا ہے۔ میں ان سے دو ایک بار ہی ملا ہوں مگر سچ پوچھیے تو ان سرسری سی ملاقاتوں کا یہ اثر ہوا کہ ان کا خیال بھی آجائے تو محسوس ہوتا ہے کہ میرے اندر ایک بہت ہی بامعنی اٹھان کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ یہ الگ بات کہ اپنی نالائقی کی وجہ سے تھوڑی دیر بعد اس اونچائی سے گر جاتا ہوں۔ غرض آپ شخصیت میں بڑائی کی جو حالتیں ہوتی ہیں، ان کی فہرست بنا کر کچھ دن کے لیے سلیم الرحمن صاحب کی مصاحبت میں رہیں۔ اس فہرست میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہو جائے گا۔

اور خورشید رضوی صاحب بھی ایسے ہی ہیں۔ بے نیاز مگر حد درجہ ذمہ دار، ادراک بھی گہرا اظہار پر بھی قادر، جلوت سے نہ بھاگنے کے باوجود خلوت پسند، شدید بے غرض مگر غرض مندوں کے لیے حاضر، تھوڑی سی قنوطیت کے باوجود لوگوں کی آس بندھانے والے، اور مثالی بیٹے، فرزند ایسے شاگرد، باپ ایسے استاد، استاد ایسے باپ، جتائے بغیر ایثار کرنے والے محبتی شوہر، اور اظہارِ محبت کو غیر ضروری سمجھنے والے دوست۔ مجھے ان کی جس صفت نے ان کی طرف لپکنے پر مجبور کیا وہ یہ ہے کہ اپنے استادوں اور بڑوں پر فدا ہیں اور ان کے ذکر کا موقع مل جائے تو دنیا جہان سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ اپنے بڑوں کے لیے ان کے اندر ایک امیر خسرو چھپا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اپنی والدہ سے ان کی محبت ان کی زندگی میں دیکھنے والوں کو بالکل مجذوبوں سی محسوس ہوتی تھی۔ اور اب ان کی رحلت کے بعد سالکوں سی ہو گئی ہے۔ اللہ دونوں کو صحت و عافیت اور اطمینان و راحت کے ساتھ سلامت با کرامت رکھے۔

سوال : آسمانی اور مذہبی کتابوں کے بعد وہ ایک کتاب کون سی ہے جسے آپ ہمیشہ ساتھ رکھنا چاہیں گے؟
جواب : رومی کا دیوان، یعنی “دیوانِ شمس”۔

سوال: آپ اب بھی شاعری كرتے ہیں؟ اور آپ كی ایك كتاب ‘آندھی كا رجز’ تو شائع بھی ہو چكی ہے۔
جی ہاں ٹوٹی پھوٹی كرتا رہتا ہوں۔ دوسری كتاب جلد آنے والی ہے۔

سوال: آخری سوال، آپ اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو كرتے ہیں، مگر یہاں اس مكالمے كے قارئین كے لیے اختصار كے ساتھ بتانا چاہیں كہ میر یا غالب میں سے كون بڑا شاعر ہے تو میں اس شفقت كے لیے آپ كا شكر گزار رہوں گا۔

جواب : میر۔ غالب لفظ پر ایک پیچیدہ سا تصرف ضرور رکھتے ہیں مگر اس میں زور زبردستی سے بھی کام لیتے ہیں۔ اپنے مطلوبہ معنی اگلوانے کے لیے وہ بعض اوقات اس کا گلا بھی گھونٹ دیتے ہیں۔ اسی لیے افتخار جالب کی اصطلاح میں ان لسانی تشکیلات روایت کا حصہ نہ بن سکیں اور دیوانِ غالب سے باہر نہ نکل سکیں۔ اس کا سبب یہ ہے كہ کہیں کہیں ان کی کھینچا تانی لفظوں کی لسانیت اور معنویت کو اتنا مصنوعی بنا دیتی ہے کہ وہ ایک تو زبان یا کہہ لیں کہ سمجھ آنے والی زبان کے بیسک یونٹس نہیں معلوم ہوتے اور دوسرے یہ کہ حد سے بڑھی ہوئی غرابت انھیں معنی کی تشکیل کے اس عمل میں اجنبی بلکہ بعض جگہوں پر مہمل بنا دیتی ہے جو قاری کے ذہن میں وجود پکڑتا ہے۔ وہ الفاظ کو ناراض بھی کر دیتے تھے۔ ہاں، غالب کا تخیل اتنا بے مثل ہے کہ اس کے مقابلے میں میر کے تخیل کو برتری دینا ممکن نہیں۔ تاہم میر کا تخیل مختلف نوعیت کا ہے۔ وہ غالب کی طرح کا فکری اور ذہنی تخیل نہیں بلکہ احساس کی قبیل سے ہے۔ اسی لیے امیجری میں غالب کا پلہ قدرے بھاری ہے، یعنی وہ مصور اچھے ہیں۔ غالب آنکھ کو میر سے زیادہ شاداب رکھتے ہیں۔

میر اور غالب کے تخیل کا فرق شمس الرحمن فاروقی نے بہت خوبی سے واضح کیا ہے۔ انھوں نے کہیں لکھا ہے، غالباً “شعرِ شور انگیز کے مقدمے میں، کہ غالب کا تخیل آسمانی ہے اور میر کا زمینی۔ لیکن غالب کی اس جزوی برتری کے باوجود مجموعی طور پر میر اس لیے ان سے بڑے بلکہ بہت بڑے شاعر ہیں کہ وہ لفظ کی ساخت اور سماعی اور وضعی معنی میں کوئی توڑ پھوڑ کیے بغیر، لفظ کے ساتھ زور زبردستی کیے بغیر اس کی معنویت میں طرح طرح کے اضافے کر دیتے ہیں۔ اسی طرح وہ خیال سے زیادہ احساس کے شاعر ہیں۔ وہ احساسات میں اتنی تہہ داری پیدا کر دیتے ہیں کہ محسوس کی شعوری حیثیت مفہوم اور معلوم سے بڑھ جاتی ہے، یعنی احساسات اور کیفیات، خیالات اور تصورات سے زیادہ بامعنی وسیع الاطراف ہو جاتے ہیں۔ میر کے تجربے کی cognitive value بھی غالب کے فکری و ذہنی تخیل کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی تفصیل دیکھنی ہو تو میر پر محب عارفی صاحب کی جو کتاب ہے، وہ پڑھنی چاہیے۔ زبان اور احساسات پر میر کو جو قدرت اور رسوخ حاصل ہے وہ اردو تو کیا فارسی کے عظیم شعرا میں بھی کمیاب ہے۔ غالب لفظ کے ساتھ غیریت کا تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان کی امیجری اور مضامین میں ایک پر شکوہ باہری پن زیادہ ہے، جبکہ میر لفظ کے ساتھ عینیت کے نئے نئے زاویے ڈھونڈ نکالتے ہیں، اس لیے ان کی امیجری اور مضامین میں گہرائی اور اندرونی پن غالب ہے۔ اس لیے ان كے یہاں توسیع پذیری کا عنصر غالب سے زیادہ ہے اور تضادات کی تالیف کا نادر وصف بھی میر کے یہاں ایسا ہے کہ اس کی بہت کمتر مثالیں بھی اردو شعری روایت میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اور زبان پر قدرت کے معاملے میں تو غالب میر کے آگے exist ہی نہیں کرتے۔ وہ تو حروفِ جار اور افعال کو اسمائی معنویت دے دیتے ہیں۔

ختم شد

(Visited 1 times, 10 visits today)

About Author

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: