دانشِ عصر: احمد جاوید — (میڈیا، نئی نسل اور زندگی کے حقائق) گفتگو: خرم سہیل – حصہ 3

0

گذشتہ سے پیوستہ۔ اس مکالمہ کا حصہ دوم اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔


سوال: کہا جاتا ہے کہ ہمارا میڈیا اور ہماری فلمیں اور ڈرامے نوجوان نسل كو زندگی كے حقائق سے دور لے جا رہے ہیں اور لا شعوری طور پر انہیں غیر حقیقی آدرشوں كا اسیر بنا كر آخرِ كار مایوسیوں كے اندھیروں میں دھكیل رہے ہیں۔ اس كا علاج كیا ہو؟

اس سوال كا جواب دینے سے پہلے اجازت ہو تو كچھ تمہیدی باتیں كرنی ہیں۔ ہمارے میڈیا یعنی سوشل میڈیا، الیكٹرانک میڈیا اور فلموں ڈراموں وغیرہ كا وہی حال ہے جو شراب اور جوئے كا ہے۔ اس كا ضرر اس كے فائدے سے كہیں زیادہ ہے۔ كبھی میڈیا فلاسفی پر پچیس تیس برس سے مغرب میں جو لكھا جا رہا ہے، وہ پڑھیں تو اس مہلك ضرر كی تفصیل پتا چل جائے گی جس كی طرف میں اشارہ كر رہا ہوں۔ لیكن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو یوں محسوس ہوتا ہے كہ میڈیا فلاسفی اور كمیونیكیشن تھیوری اور كیا كہتے ہیں Mediality كے بارے میں سرسری معلومات كابھی فقدان ہے۔ آپ تو ماشاءاللہ اس میدان كے آدمی ہیں، آپ خود دیكھ لیں كہ ہمارے ماہرینِ سماجیات میں، ماہرینِ ابلاغیات میں، میڈیا كے پر جوش وكلا میں كتنے ہیں جو مثال كے طور پرایلفرڈ ہچكاک كے Untrue Shadow of Life سے سطحی طور پر بھی واقف ہوں اور Luhmann كی سسٹمز تھیوری كو پڑھنے اور سمجھنے كی مبتدیانہ اہلیت بھی ركھتے ہوں۔ اور یہ نوبت اس وجہ سے آئی ہے كہ ہر سنجیدہ بات تو ہمارے دانشوروں تك كو مشكل، بلكہ مہمل لگتی ہے۔ كسی پیچیدہ تصور، میرا مطلب ہے اپنی ساخت ہی میں پیچیدہ تصور سے ہمارے ذہن كو سرے سے كوئی مناسبت نہیں خواہ اسے اخباری زبان ہی میں كیوں نہ بیان كیا جائے۔ ایك صاحب تو اس ناچیز كے بعض لیكچرز محض اس لیے سننے آتے ہیں كہ سوال جواب كے سیشن میں یا پھر رخصتی مصافحہ كرتے وقت اس مسكین پر ایك ناوك فگن مسكراہٹ كے ساتھ طنز كر سكیں كہ تم لفاظی اچھی كرتے ہو، تمہاری بات دل پر تو اثر كرتی ہے مگر دماغ تک نہیں پہنچتی، وغیرہ وغیرہ۔ میں مروت اور شرم كے مارے ان سے یہ نہیں كہہ پاتا كہ میاں ڈھنگ كی تحریریں پڑھا كرو تا كہ تمھاری ذہنی گراوٹ اور بے مایگی كا اتنا تو ازالہ ہو جائے كہ جن باتوں كو تم لفاظی كہتے ہو، وہ باتیں تمھارے اندر كم از اكم اتنا احساس تو پیدا كر سكیں كہ ابھی تمہیں بہت كچھ جاننے كے ضرورت ہے۔ اس طرح كے لوگ ہیں، مظلوم لوگ، جنھیں دیكھیں تو میڈیا كے مظالم میں سے ایك ظلم كا گویا مشاہدہ ہو جاتا ہے۔ وہ ظلم ہے مفلسوں كو متكبر بنانا اور جن كے پلے میں كچھ ہے، ان بچاروں كو اس guilt میں مبتلا كر دینا كہ ہم نے ساری عمر جو سكے جمع كرنے میں لگا دی، وہ تو آج كی ماركیٹ میں چلتے ہی نہیں۔

كسی بھی علم كی بنیادی اصطلاحات دیكھ لیں، ان سے واضح ہو جائے گا كہ علم میں جب بلوغت كا مرحلہ آتا ہے تو اس كے مباحث پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں اور اظہار كا اسلوب بھی كچھ ثقیل اور مغلق سا ہو جاتا ہے۔ لیكن ہمارا حال یہ ہے كہ كوئی قسمت كا مارا ہم سے ہمدردی كرتے ہوئے، ہماری ذہنی پسماندگی كا لحاظ كرتے ہوئے خیال كی پیچیدگی كو ذرا آرائشی زبان میں حسنِ اظہار كے ساتھ بیان كرنے كی كوشش كرتا ہے تو بڑے تحكم سے كہہ دیا جاتا ہے كہ آپ كی بات محض تاثراتی ہے، ذہن كو اپیل نہیں كرتی۔ اور اگر یہ شكایت دور كرنے كے لیے اسی خیال كو معیاری علمی زبان میں كہا جائے تو پھر مشكل وشكل كا شور مچ جاتا ہے۔ میں نے كئی بڑے دماغوں كو اس فكر میں گھل كھل كر ضائع ہوتے دیكھا ہے ”كروں گا كیا جو محبت میں ہو گیا ناكام: مجھے تو اور كوئی كام بھی نہیں آتا”۔

میڈیا باقاعدہ ایک كارپوریشن ہے اور كیپیٹلزم كے ایجنڈا كو تیزی سے عمل میں لانے كا شاید سب سے طاقتور ٹول ہے۔ اس كی یہ حیثیت پہچانے بغیر ہم اسی طرح اس كی غلامی كرتے رہیں گے اور اس غلامی كو طرح طرح كے خوش نما نام دے كر میڈیا كے احسانات گنواتے رہیں گے۔ كوئی بچارا اس پر تنقیدی نظر ڈالنے كی جسارت كر لے تو اس كے جواب میں تمدنی ارتقا، اصولِ تغیر، سماج كی گلوبلائیزیشن وغیرہ كا رٹا ہوا بھاشن سنا دیا جاتا ہے ایك ایمانی جذبے كے ساتھ۔ میڈیا كے سلسلے میں ان پر جوش اور پر شور احسان مندوں كی یلغار اتنی كثیر الاطراف ہے كہ بڑے موضوعات پر غور كرنے والے اور ذرا گہرائی كے ساتھ سوچنے والے ڈیفیٹزم كا شكار ہو جاتے ہیں۔ صورتِ حال ایسی ہے كہ ہر كانا بھینگا سیاہ چشم بنا كہتا پھر رہا ہے كہ:
بے نیازانہ ز اربابِ كرم می گزرم
چون سیہ چشم كہ بر سرمہ فروشاں گزرد

فحاشی اور بے حیائی وغیرہ پر دبی زبان میں بھی اعتراض كرو تو بنیاد پرستی اور انتہا پسندی كے طعنے ملتے ہیں۔ ارے بھائی، ہم مسلمان ہیں تو ظاہر ہے كہ سب چیزوں كو اسلامی پرسپیكٹو ہی سے دیكھیں گے۔ اس میں حیرت اور شكایت كی كیا بات ہے، اور اس كے جواب میں انسانی حقوق كی فہرست منہ پر مارنے كی كیا ضرورت ہے! ہم اس میں غلطیاں بھی كرتے ہیں، اور ان غلطیوں میں بعض یقیناً بہت بھیانك ہیں لیكن بہرحال ان غلطیوں كی تصحیح بھی اسلام ہی سے ہو گی۔ انہیں ٹھیك كرنے كے لیے ہم كہیں اور سے ہدایت نیہں لیں گے۔ ہاں فطریات میں، ہر طرح كے غیر مذہبی علم میں، سماجی مینیجمنٹ میں، غرض ایسے تمام علمی عملی امور میں دوسری روایتوں سے ممنونیت كے ساتھ استفادہ كریں گے جن میں غلطی پر كوئی مواخذہ نہ ہو گا۔ یہ بالكل سیدھی سی بات ہے، مسلمان كسی بھی صورتِ حال میں اپنے پرنسپل پرسپیكٹو سے دست برداری كا متحمل نہیں ہو سكتا۔ ہر تہذیب ایك ورلڈ ویو ركھتی ہے اور اسی مین رہتے ہوئے چیزوں كو رد و قبول كرتی ہے۔ این گناہیست كہ در شہرِ شما نیز كنند۔ البتہ ہماری كوتاہی یہ ہے كہ قانونِ تغیر سے effectively ہم آہنگ اور ہم قدم رہنے والے علوم و فنون صدیوں سے ہماری دسترس سے بالكل باہر ہیں۔ تاریخ سے لاتعلق ایك كند ذہن اور سوئی سوئی سی قدامت پسندی دنیا كو ہم پر ہنسنے كا موقع فراہم كر رہی ہے۔ اور چیزوں كے علاوہ اس كمزوری كو بھی میڈیا خوب ایكسپلائٹ كر رہا ہے اور ایك بیڈروم ماڈرنٹی كو تہذیبی گھٹن كے واحد علاج كے طور پر پھیلا رہا ہے۔

اب آپ کے سوال پر کچھ عرض کرتا ہوں۔

ہماری فلمیں اور ڈرامے کم از کم دو بڑی خرابیاں نوجوانوں میں پیدا کر رہے ہیں۔ ایک ترسنے کی کیفیت اور دوسرے بد ذوقی اور گھٹیا پن۔ اس لیے انھیں اخلاقی اور جمالیاتی اقدار کی تباہی کا ایک بڑا سبب قرار دینا غلط نہیں ہے۔ جب آدمی ترسنے کی مستقل کیفیت میں رہنے لگتا ہے تو اس میں جنسی پرورژن، دہشت گردی کی طرف میلان اور لوٹ مار کا جذبہ پیدا ہو جانا تو سامنے کی بات ہے۔ بنیادی خرابی وہ کابوس یعنی incubus ہے جو clinical schizophrenia سے زیادہ خطرناک ہے اور سوسائٹی کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔ ترقی، دولت، طاقت وغیرہ مختلف شہوتیں بدروحیں بن کر اس طرح مسلط ہو جاتی ہیں کہ آدمی خود اپنے لیے ناقابلِ شناخت ہوتا چلا جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ اپنے ذہن سے محو ہو کر بس جبلتوں کے آتش فشاں کا لاوا بن کر رہ جاتا ہے۔ جن لوگوں خصوصاً نوجوانوں کو یہ لت لگ جاتی ہے ان کا تخیل اور احساسات حقیقی زندگی سے کوئی نتیجہ خیز تعلق پیدا کرنے کے قابل نہیں رہ جاتے۔ وہ تاریخی اور عملی دنیا سے ہجرت کر کے ایک ایسی خیالی جنت کی شہریت لے لیتے ہیں جو حشیشئین كے بھی کسی بدذوق ڈرافٹسمین کے نقشے پر بنی ہے۔ اور ہمارے ڈرامے اور فلمیں تو خیر سے بڑے سے بڑے خیال اور جذبے کو ولگرائز کر دکھاتی ہیں۔ یہ آئڈیلسٹ وغیرہ نہیں بناتیں، یہ بس ذہن اور طبیعت کو گندگی میں لتھڑے رہنا سکھاتی ہیں۔ ایسی گندگی میں جس پر مذہبی آدمی ہی نہیں بلکہ بادلئیر کے ہم مشرب بھی حتیٰ کہ cult of ugliness والے بھی تھو تھو ہی کریں گے۔ آدمی بھلے سے گناہ گار ہو مگر گناہ کا بھی ایک لیول ضروری ہے ورنہ آدمی ہونا مشکوک ہو گا۔ کسی شخص کو جانچنا ہو تو یہ بعد میں دیکھنا چاہیے اس میں کمالات کیا کیا ہیں، پہلے یہ دیکھا کریں کہ اس کی کمزوریوں میں گراوٹ اور بدصورتی تو نہیں ہے؟ افسوس نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد اس پرکھ پر پوری نہیں اترتی۔ اور اس کی ذمہ داری ہمارے میڈیا پر بھی جاتی ہے جو آزادی کا جو تصور رکھتا ہے اور اس کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے وہ انسانی نہیں ہے، نرا حیوانی ہے۔ اس کے منہ پر معاشرے کے مطالبے اور مفاد میں تھوبڑا نہ کسا گیا تو یہ سب کچھ چٹ کر جائے گا اور آدمیت کی رہی سہی کھیتی بھی اجاڑ دے گا۔ اور ان فلموں اور ڈراموں نے اخلاقی بحران کے علاوہ جو جو جمالیاتی فساد پیدا کیا ہے، اس پر تو یقین ہے کہ وہ لوگ بھی کراہت بلکہ آج کی زبان میں کراہیت محسوس کریں گے جن کی ذوقی تربیت سعادت اللہ خان رنگین اور نواب مرزا شوق نے کی ہے۔
اور افسوس یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے اور روز بروز زور پکڑتا جا رہا ہے جسے ریاستِ مدینہ کی طرز پر بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ بر عکس نھند نامِ زنگی کافور۔

اس دنائت پر میں تو خود کو دینی موقف اختیار کرنے کا سر سے پاؤں تک پابند محسوس کرتا ہوں اور اس موقف کے اظہار کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری بلکہ فخر جانتا ہوں لیکن چونکہ پاکستانی مسلمانوں نے خود پر دین ہی کو بے اثر بنا رکھا ہے تو بچارا دینی موقف کیا کر لے گا۔ اس لیے میں اپنے ایک دوست کی بات کوٹ کرتا ہوں جو پیدائشی مارکسسٹ ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ٹی وی ڈراموں میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ مفتیانِ دین کے فتوے میں ناجائز ہے لیکن اگر مجھے قاضی لگا دیا جائے تو میڈیا اور پیمرا دونوں کو قتلِ عام کے جرم میں لٹکانے کا حکم دے دوں۔ میں بہرحال ان کے اس حکم پر خوش ہونے کے باوجود اس سے اختلاف کروں گا۔ اب تو ٹھیک ہے ناں!

تو جناب میڈیا جدید دنیا کی شاید سب سے مؤثر قوت ہے۔ یہ انسان کی فطرت تک کو تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ ہیومن پرسپشن پر اثر انداز ہو چکا ہے۔ فلموں، ڈراموں وغیرہ میں احساسِ ذمہ داری اور تخلیقیت پیدا ہوئے بغیر آپ نے جس سنگین مسئلے کی نشاندہی فرمائی ہے وہ حل نہیں ہو سکتا۔ اور میڈیا میں ذمہ داری کا شعور اور تخلیقی جوہر ریاست کی مداخلت اور سوسائٹی کی حساسیت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اور یہ سب کچھ موجودہ ریاستی اور معاشرتی در و بست میں پہلا صور پھونکے جانے تک تو ممکن نہیں ہے۔ اب یا تو قومی خیر خواہی کے جذبے سے کوئی بہت ہی بنیادی سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی کثیر الجہات انقلاب لائیے ورنہ اسی طرح پریشان اور فکر مند ہونے کی اداکاری کرتے رہیے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے بھی فی الحال تو اس شاعر کی طرح مایوس اور کسی قدر بے پروا کر رکھا ہے جس نے یہ شعر کہا تھا۔
شورے شد و از خوابِ عدم چشم کشودیم
دیدیم کہ باقی است شبِ فتنہ، غنودیم

طاقت کے بغیر گداگری ہی ہو سکتی ہے اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ طاقت جو نظریے پر یقین و استقامت اور علم سے پیدا ہوتی ہے اور انصاف کے آئڈیل کو عمل میں لاتی ہے۔ اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ علم اگر نظریاتی نہ ہو تو اس کے اخلاقی نتائج نہیں نکلتے جو اجتماعی وجود کی تعمیر، تشکیل اور حفاظت لیے لازماً درکار ہیں۔ اسی لیے میں تو ایک تکیہ کلام کی طرح دہراتا رہتا ہوں کہ مذہبی علوم اور کردار میں انسان دوستی کا عنصر کم ہو گیا ہے، اس کمی کو ایک بھیانک دینی نقص سمجھ کر اس کا ازالہ نہ کیا گیا تو اسلام پر انسان دشمنی کا بہتان دنیا کے لیے قابلِ قبول ہوتا جائے گا۔ یہاں میں انسان دوستی کو ایک سادہ لفظ کے طور پر استعمال کر رہا ہوں، یہ ہیومن ازم کا ترجمہ نہیں ہے۔ اور ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ طاقت اپنے فزیکل مفہوم میں بھی دیوار گرانے کے لیے نہیں، دیوار بنانے کے لیے ہوتی ہے۔ فلاحی ریاست اور خود احتساب معاشرہ بنا کر ہی شریعت کا نفاذ ہو سکتا ہے ورنہ تو قوانین اور عملی سماجی اقدار اسی طرح مغائرت اور تصادم میں رہیں گی۔

اس مکالمہ کا اگلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

(Visited 1 times, 16 visits today)

About Author

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: