دانشِ عصر: احمد جاوید — (منٹو، نظام تعلیم، مذہب پرستی اور عوام) گفتگو: خرم سہیل-حصہ 4

0

گذشتہ سے پیوستہ: اس مکالمہ کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔


سوال: پاکستان میں تھیٹر، ٹیلی وژن اور فلم میں سب سے زیادہ پاکستان کے جس ادیب پر کام ہوا، وہ سعادت حسن منٹو ہیں۔ حال ہی میں انڈیا میں بھی ان پر ایک فلم بنائی گئی۔ میں یہ پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ منٹو پاک و ہند میں بہت مقبول ادیب ہیں، اب تک مقبول ہیں لیکن ان کی مقبولیت کا بڑا حوالہ جنسیات ہےجبکہ خود منٹو اپنے بارے میں کہتے تھے کہ وہ معاشرے کا احوال لکھ رہے ہیں اور باشعور طبقات کا بھی خیال یہی ہے، اس کے باوجود منٹو نے اپنی زندگی میں کئی پابندیاں جھیلیں، مقدمات بھگتے اور مرنے کے بعد بھی ان پر انڈیا سے آنے والی فلم پابندی کا شکار ہوئی، تو آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں؟

جواب: منٹو نے اپنے بارے میں جو کہا وہ ٹھیک ہی ہے مگر جنسیت کی طرف ان کا رجحان معاشرے کی احوال نگاری کے منصوبے یا جذبے سے بہت زیادہ ہم آہنگی اور مطابقت نہیں رکھتا۔ کوئی وجہ تو ہوگی کہ جوائس اور لارنس اور بہت سے پردہ در فکشن رائٹرز کی طرح ان کے ہاں لذت و الم ایک متوازیت کے ساتھ محسوس نہیں ہوتے۔ یعنی جنسی معاملات کا فحش کی حدکو پہنچا ہوا بیان تلذذ کو بھی المیہ کیفیت بنانے سے قاصر کیوں رہ جاتا ہے؟ اصل میں ہم ایک متعفن گھٹن اور سڑاند میں رہنے کے شوقین ہیں۔ جو چیز جتنی زیادہ سڑی ہوئی ہوگی، وہ ہمیں اتنی ہی لذیذ لگے گی۔ منٹو اپنی سوسائٹی کی یہ خاصیت اچھی طرح جانتے تھے اور اسی سے انھوں نے فائدہ اٹھایا اور قبول ِعام پایا۔ یہاں ذرا سا رُک کر اتنی وضاحت کر دوں کہ سڑاند کی بات میں نے محض کسی مذہبی اور خاص طرح کے اخلاقی سیاق و سباق میں نہیں کی یہ بس ایک ادبی اور سماجی بات ہے اور اس کا تناظر جمالیاتی ہے۔

یہ وضاحت بھی ضروری تھی ورنہ بہت سے مہربان صرف میری داڑھی ٹوپی دیکھتے ہیں، انھیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ سنو، آخر بک کیا رہا ہے! مدت پہلے اسی طرح کے ایک عزیز کو پرچانے اور ان کا دل اپنی طرف سے نرم کرنے کے لیے میں نے انھیں ان کے ممدوح غالب کا ایک شعر سنایا: زمن حذر نکنی گر لباس ِ دیں دارم /نہفتہ کافرم وبت دراستیں دارم۔ وہ ٹھہرے بلا کے کائیاں اور غضب کے سخن شناس۔ بولے، ہم بت پرستوں کو تو بالکل ہی اچھا نہیں سمجھتے۔ میں لاجواب ہوگیا اور ان سے معذرت کی اور اللہ سے بھی معافی مانگی۔

تو بھائی بات یہ ہورہی تھی کہ منٹو کی مقبولیت کا سب سے بڑا سبب منٹو کے منصوبے کو نہ سمجھنا ہے۔ لذت پسندی ہمارا عمومی مزاج ہے۔ ہمیں جو چیز مزے دار نظر آتی ہے، اس کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ لذت اور تھرل اور جبلی قسم کی آزادی یا بے قیدی، یہ ہمارے پیٹنٹ خواص ہیں۔ منٹو کے ہاں ان کی تسکین دکھائی دی تو ادھر کو دوڑ پڑے اور اب جون ایلیا پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔ ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ منٹو سوسائٹی کو آئینہ دکھا رہا ہے یا جون ایلیا ایک وجودیاتی زلزلے کو خود میں جذب کر کے اظہار دے رہا ہے۔ ہمیں تو وہ مزے دار انکار اچھا لگتا ہے جو دونوں کے یہاں ابلا پڑ رہا ہے۔ ہمیں اس سے بھی کوئی مطلب نہیں کہ جس انکار وغیرہ کا ہم چسکا لے رہے ہیں، اس کے لیے منٹو نے مقدمات بھگتے اور جون ایلیا نے خون تھوکا۔ ویسے میرے عزیز، منٹو کی اہمیت ماننے کے باوجود میں ان کے پرستاروں میں نہیں شامل۔ ان کی اکثر و بیشتر کہانیاں ہنگامی نوعیت کی ہیں اور معمولی درجے کی ہیں۔ میں ان کے مداحوں کی، جن مین میرے دادا استاد محمد حسن عسکری بھی ہیں، اس بات کو سرے سے ناقابل ِ تسلیم سمجھتا ہوں کہ منٹوکا قلم گویا ایک پختہ کار دروں بیں سرجن کا نشتر تھا جس سے وہ معاشرے کے جسم پر نکلے ہوئے پھوڑوں کی جراحی کرتے تھے۔ مجھے یہ ماننے میں کوئی تکلف، کوئی تامل نہیں کہ منٹو کا قلم نشتر تھا، یقیناً تھا۔ تاہم اس نشتر سے ختنے تو کیے جا سکتے ہیں مگر کوئی بڑی اور پیچیدہ جراحی نہیں۔

سوال: مگر معاشرے میں مذہبی رجحانات بھی تو زور پکڑ رہے ہیں، معاشرہ شدت سے مذہب پرست بھی تو ہوتا جا رہا ہے؟

جواب: حضور، جذبات کی جس گھٹن نے منٹو کو مجاہد بنایا اسی گھٹن نے مذہبی زندگی کے ایک حصے میں تشدد پسندی وغیرہ کو پیدا کیا۔ اور آیت اللہ صادق الخلخالی اور مفتی احسان ایسے مجاہدین ِ ملت کو جنم دیا۔ تشدد پسندی ہی کیا، اس گھٹن نے ایک طرح کا ہیڈنزم بھی پیدا کیا۔ ایک مبلغ صاحب نے حال ہی میں جنت کی حوروں کا جو نقشہ کھینچا ہے، وہ کبھی سنیے گا۔ یوں لگے گا جیسے پنڈت کوکا پرشاد بول رہے ہیں۔ لیکن نہیں، پنڈت کوکا پرشاد اتنے ان گھڑ، بے سلیقہ اور بد تخیل نہیں تھے۔ پنڈت جی اگر حور کی تصویر کھینچتے تو وہ کم وبیش حور ہی رہتی، اس عفیفہ کو پامیلا اینڈرسن نہ بناتے۔ تو خیر، جن جذبات کی بات ہو رہی ہے مذہب کو بھی انھی جذبات کا ایندھن بنا دیا گیا۔ مطلب، خدا کا اقرار اب اتنی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا جتنا انسان کا انکار۔ خدا اور انسان میں جیسے ایک تصادم پیدا کر دیا گیا ہے۔ ایک سوٹڈ بوٹڈ طبقہ انسان کا اثبات کرنے کے لیے خدا کا انکار ضروری سمجھتا ہے اور ایک مقطع چقطع طبقہ جو ہماری شامت ِ اعمال سے مذہبی کہلاتا ہے، وہ خدا کے اقرار کے لیے انسان کا انکار فرض جانتا ہے۔ وہ انسان کی تحقیر کیے بغیر خدا کی تعظیم نہیں کر سکتا۔ تو عجیب طرح کے ادھورے لوگوں کی جنگ ہے جس کا نتیجہ بد قسمتی سے پورا نکل رہا ہے۔ اس لڑائی سے جو غبار اٹھ رہا ہے، ہم آپ اسی میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔ یہ غبار اتنا تیزابی اور زہریلا ہے کہ جسم تو کیا روح کا بھی گلا چھل گیا ہے۔ اور یہ افتاد اصل میں مذہبی لوگوں پر، یعنی حقیقتاً مذہبی لوگوں پر پڑی ہے۔ غیر مذہبی لوگوں کی تو خیر سے روح ہوتی ہی نہیں۔

سوال: یہ جو ادھوری لڑائی ہے، صرف ہمارے ہاں ہی ہے یا مغرب بھی اس سے نبرد آزما ہے؟
جواب: ارے جناب، مغرب تو اس مہا بھارت کا کرشن مہاراج ہے۔ اس رزمیہ کا مصنف اور ہدایتکار وہی تو ہے۔ مغرب نے بڑی کامیابی کے ساتھ خود کو روحِ عصر منوا لیا ہے، یہاں تک کہ اپنے دشمنوں سے بھی۔ وہ نبرد آزما نہیں ہے، نبرد آرا ہے۔

سوال: جس طرح ہمارے ہاں نظام ِ سیاست ہے، ٹوٹتی بنتی حکومتیں ہیں، پھر عوام كی دگرگوں معاشی بدحالی، بے روز گاری، مہنگائی وغیرہ، سب كچھ ہمارے معاشرے میں بدرجۂ اتم موجود ہے تو اس میں عوام بچارے بھی كیا كریں، انھیں جدھر تسكین محسوس ہوتی ہے، وہ وہاں كو ہو لیتے ہیں، آخر كار وہ بھی كیا كریں، انہیں بھی تو كوئی مسیحا نہیں دكھائی دے رہا؟

جواب: ہمارے عوام اتنے بھی بچارے اور بھولے نہیں ہیں کہ جو چاہے انھیں اپنے پیچھے لگا لے۔ مسائل اور مصائب کی جڑ ہم عوام ہی ہیں۔ جس شخص نے متحدہ پنجاب کے ایک الیکشن میں علامہ اقبال کو دھوتی اٹھا کے دکھائی تھی وہ اقبال کی شہرت سے، حیثیت سے، مرتبے سے بے خبر نہیں تھا لیکن چونکہ اقبال اس کی برادری کے ایک اجہل شخص کے مخالف امیدوار تھے لہذا اس نے اپنی دانست میں ان سے بدلہ لے لیا۔ وہی شخص آج بھی ہمارے عوامی کردار کا اصلی نمائندہ ہے۔ یہ مسیحا وغیرہ کا انتظار محض ڈراما ہے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسیحا اگر سچ مچ آبھی گیا تو وہ اور کام بعد میں کرے گا، پہلے ہم سے کہے گا: “قم”! اور اسی طرح معیشت وغیرہ کا طاعون ٹھیک کرنے سے پیشتر وہ ہمارے کوڑھ کا علاج کرے گا۔ اور یہ ہمیں منظور نہیں ہے۔ ہم خود کو بدلے بغیر اپنے حالات کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

ایک واقعہ سناتا ہوں جو کہہ لیں کہ خود میرے ساتھ بیتا۔ میرے تین آسٹرین دوست ہیں، نومسلم ہیں یعنی واقعی مسلمان ہیں۔ ان میں ایک صاحب اسلام قبول کرنے سے پہلے وہاں کے مشہور مصور تھے، محمد ابوبکر میولر، دوسرے فزیشن ہیں، ڈاکٹر محمد یحیی گراسل اور تیسرے صاحب محمد اسماعیل ایجوکیشنسٹ ہیں، ان کے آسٹریا اور فرانس اور شاید جرمنی میں بھی کئی اسلامک اسکول ہیں۔ ان تینوں نے جب اسلام قبول کیا تو ان کا جی چاہا کہ کسی مسلم معاشرے میں جا رہیں۔ ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور یہاں کوئی ڈھائی تین برس رہے مگر پھر تنگ آگئے اور یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ یہاں ہم تو جیسے تیسے رہ لیں گے لیکن ہمارے بچے مسلمان نہیں رہیں گے۔ یہاں ایمان کی نگہ داشت زیادہ مشکل ہے، اگر اور رہ گئے تو یہ بھی بھول جائیں گے کہ ہم انسان ہیں۔ یہ سن نوے بانوے کی بات ہےجو اس وقت تو بہت بری اور دل شکن لگی تھی مگر اب بار بار یاد آتی ہے۔ آپ خود سوچیے کہ وہ قوم کسی مسیحا اور رہنما کی آرزو میں سچی ہو سکتی ہے جو ٹریفک قوانین کی بھی پابندی نہیں کرتی، قطار بندی سے بھی نابلد ہےاور موروثی سیادت و قیادت پر بضد ہے؟ بھلا دودھ میں ہلاکت گھولنے والی قوم کسی مسیحاکا انتظار deserve کرتی ہے؟ ہاں، یہ بات ایک خاص اینگل سے درست ہے کہ نظام چوپٹ ہونے اور معیشت خراب ہونے کی وجہ سے غریبوں میں، عام آدمیوں میں بقولِ غالب اک گونہ بے خودی کی طلب پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ طلب ہمیشہ پستیِ ذوق ہی کیوں پیدا کرتی ہے؟ ہم بعض معاملات میں یقیناً مجبور اور معذور ہیں لیکن ہمیں بالکل سادہ معنی میں اچھا آدمی، بھلا پڑوسی اور مفاد ِ عامہ میں بنائے گئے قوانین کی پابندی کرنے والا شہری بننے سے کس نے روکا ہے؟ ہم بس یہ رٹے جا رہے ہیں کہ جب اچھا لیڈر آئے گا، اچھی حکومت بنے گی تو ہم بھی اچھے ہو جائیں گے۔ یہ کہتے ہوئے ہمیں یقین ہوتا ہے کہ نہ اچھا لیڈر آئے گا نہ ہمیں اچھا بننا پڑے گا۔ ہمیں بالکل معلوم ہے کہ ہم چاہیں تو لیڈروں کے حاضراسٹاک کو بھی اچھا بننے پر مجبور کر سکتے ہیں مگر ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے کیونکہ اس کے لیے پہلے ہمیں خود کو بدلنا پڑے گا۔ ہم اچھائی کی ایک deferred خواہش بھی رکھتے ہیں اور ڈرتے بھی ہیں کہ کہیں پوری ہی نہ ہوجائے۔ ہمارا تو وہ حال ہے کہ مجھ ایسا آدمی یہ دعا تو پورے خشوع وخضوع سے کرتا ہے کہ یا اللہ مجھے چنگیز نہ بننے دینا، مجھے ہلاکو نہ بننے دینا، مجھے مودی نہ بننے دینا لیکن اللہ سے یہ کبھی نہیں مانگتا کہ مجھے کرپشن سے بچانا، ملاوٹ کرنے سے روکنا، خود غرضی سے محفوظ رکھنا، مجھ سے لوگوں کی دل آزاری نہ ہونے دینا وغیرہ۔ اب ظاہر ہے کہ میں انھی گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں جن گناہوں کے ارتکاب کا مجھ سے نہ کوئی امکان ہے اور نہ مجھ میں ان گناہوں کی سکت ہے۔ جو خرابیاں، یا یوں کہہ لیں کہ لذت اور راحت فراہم کرنے والی خرابیاں میرے اندر پائی جاتی ہیں، ان سے پاک ہونے کا خیال بھی میرے لیے ڈراؤنا ہے۔

جیسے ایک شخص یہ رٹی ہوئی دعا کرتا ہے کہ یا رب العالمین! مجھے سب گناہوں سے محفوظ رکھنا، اور اس دوران میں اسے جیسے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ میں کیا مانگ رہا ہوں تو وہ ڈر جاتا ہے کہ کہیں یہ دعا قبول ہی نہ ہو جائے۔ تو جناب، ہمیں اپنے حقیقی مفادات کا بے نفسی اور بے غرضی کے ساتھ شعور ہونا چاہیے اور خیر کے انقلاب میں جو ایثار درکار ہوتا ہے اس کے لیے آمادہ رہنا چاہیے اور مثبت سماجی تبدیلیوں کے واضح تصور کے ساتھ ایک منظم تحریک کا ڈول ڈالنا چاہیے ورنہ ہم اس نجات دہندہ کے انتظار کا ڈھونگ رچاتے رہیں گے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ تو بھائی، جس کا انتظار ہے، کوشش کرو کہ وہ خود بن جاؤ۔ یہی قومی زندگی کے تمام مسائل کا حل ہے۔

فرد كی طرح سوسائٹی كی بھی ایک شخصیت ہوتی ہے۔ ہمارے سماج كی شخصیت بہت چھوٹی ہے۔ اس میں بہت سے شانہ بہ شانہ تضادات ہیں۔ مثلاً ایك تضاد یہ ہے كہ ہم جن عقائد یا نظریات كو مانتے ہیں، جھوٹ موٹ نہیں بلكہ واقعتاً مانتے ہیں، ان سے خوف زدہ رہتے ہیں اور كوشش كرتے ہیں كہ ان كے اور ہمارے بیچ ایك بڑھتا ہوا فاصلہ برقرار رہے۔ اس كوشش میں ہم ہر اس چیز كو لپک كر قبول كر لیتے ہیں جو ہمیں ہمارے نظریات كی ذہنی، اخلاقی، عملی تاثیر كی زد میں نہ آنے دے۔ جدیدیت كے اكثر مظاہر، تہذیبی، سیاسی، معاشی، سب، ہم نے اسی نفسیات كی وجہ سے اختیار كیے ہیں۔ ہماری مذہبی روایت میں تجدد اور minimalism اسی لیے كامیابی كے جھنڈے گاڑتا جا رہا ہے اور یار لوگ اسے حقیقی اسلام، خالص اسلام وغیرہ كا نام دے كر اپنے اندر پیدا ہو سكنے والے احساسِ جرم كا گلا گھونٹ لیتے ہیں۔ جدیدیت نے موجودہ لٹرلسٹ تجدد كو اس مہارت سے تصنیف كیا ہے كہ بہتیرے جذبات و احساسات جو اپنی ساخت میں دینی-تہذیبی ہیں، ہمارے لیے باعثِ شرم اور وجود كے تاریك ماضی كے باقیات بنتے جا رہے ہیں۔ جیسے حمیت، جیسے وفاداری، جیسے حیا وغیرہ وغیرہ۔ شخصیت كے اور تہذیب كے دینی عناصر آج از روے نص غیر ضروری قرار دیے جا رہے ہیں۔ آگے آگے دیكھیے ہوتا ہے كیا۔

تو ہاں، سوسائٹی كی شخصیت كی بات چل رہی تھی۔ عرض یہ كر رہا تھا كہ یہ شخصیت اتنی چھوٹی ہے كہ اچھائیاں بھی پستہ قد ہیں اور برائیاں بھی بونی ہیں۔ مطلب، انسان میں بعض برائیاں بھی ایسی ہوتی ہیں جن پر وہ اكڑ سكتا ہے، لیكن ہم سے یوں لگتا ہے كہ ابلیس بھی خوش نہیں ہے۔ چھوٹی شخصیت ڈھنگ سے egoist بھی نہیں بن پاتی۔ انا شہد كی مكھی میں ہوتی ہے، ہر گھورے پر بھنكنے والی مكھیاں نہ گھمنڈی ہوتی ہیں نہ منكسر المزاج۔ بائی دا وے، انكسار كے لیے انا زیادہ ضروری ہے۔ اس انتہائی غیر انسانی فضا كو بدلنے كے لیے ذہن كے ساتھ ذوق كی تربیت كی بھی ضرورت ہے۔ ورنہ تو ہمیں دیكھنے والا تمسخر یا مایوسی سے یہی كہے گا كہ ”سیاہی از حبشی كے رود كہ خود رنگ است”۔

سوال: اسی تناظر میں ہم پاكستان كے مختلف نظامِ تعلیم كی بات كریں تو وہ كئی قسم كے ہیں، جن میں كیمبرج سسٹم، پاکستانی تعلیمی نظام اور پھر مدرسوں كا نظامِ تعلیم اور دیگر شامل ہیں۔ تو كیا یہ بٹا ہوا نظامِ تعلیم معاشرے كو اچھے اذہان فراہم كر سكے گا؟

جواب: ہمارے یہاں تعلیم كے نظام نصاب وغیرہ كا موضوع بس ہوا میں تیر چلانے كی دعوت دیتا ہے۔ اظہارِ خیال كرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں كہ ہونا ہوانا كچھ نہیں، بس اپنی اپنی اپج اور مفكرانہ صلاحیتوں كا مظاہرہ كر دو، ہماری ذمہ داری پوری ہو جائے گی۔ نہ پڑھنے والے تعلیم كا كوئی تصور ركھتے ہیں نہ پڑھانے والے اور نہ ہی تعلیمی نظام بنانے والے۔ اگر ٹوٹا پھوٹا تصور ركھتے بھی ہیں تو اس كے لیے حساس نہیں ہیں۔ ہم لوگ ہر مسئلے پر اور ہر بحران سے نكلنے كے لیے بس فرمائشوں كی ایك فہرست تیار كركے اسے عریضہ بنا كر نیٹی جیٹی كے پل پر كھڑے ہو كر گدلے سمندر میں گرا آتے ہیں اور فارغ ہو جاتے ہیں۔ ہمیں خود یقین ہوتا ہے كہ یہ سب قابلِ عمل نہیں ہے كیونكہ عمل كروانے والا ہی غائب ہے۔ اور صرف عمل كروانے والا ہی غَیبت میں نہیں ہے بلكہ فرمائش كرنے والے بھی بس دكھاوا ہی كر رہے ہیں۔

میرا خیال ہے كہ آئیڈیلزم اور پروفیسری بگھارنے كو سرِ دست ایك طرف ركھ كر ہمیں پہلے یہ طے كرنا ہو گا كہ تعلیم كسے كہتے ہیں؟ اس كے مقاصد كیا ہیں؟ ان جنرل مقاصد میں ہماری صورتِ حال اور ضروریات سے مطابقت ركھنے والے مقاصد كون سے ہیں؟ ان مقاصد كے حصول میں جن وسائل كی ضرورت ہے ان میں كتنے ہمارے پاس ہیں اور كتنے ہمیں منصوبہ بنا كر حاصل یا پیدا كرنے ہیں؟ ہم جو علوم اپنے لوگوں كو پڑھائیں گے ان كی بالعموم دنیا كے لیے اور بالخصوص ہمارے لیے افادیت كیا ہے، اور ان كی ماركیٹ ویلیو كیا ہے یا كیا بنائی جا سكتی ہے؟ اور سب سے بڑی بات یہ كہ استاد كہاں سے آئیں گے اور كیسے تیار ہوں گے؟ یہ بنیادیں تیار ہو جائیں تو اب خصوصی تعلیم یعنی specialized education كے مختلف اسٹركچر كھڑے كیے جا سكتے ہیں۔ مدرسے، یونیورسٹی، خانقاہیں، اصحابِ علم و فن كی بیٹھكیں وغیرہ۔ اور سب سے ضروری بات یہ ہے كہ تعلیم كا نظام، نصاب، نتیجہ وغیرہ كسی بھی پہلو سے ہمارے تصورِ علم سے متصادم نہ ہو۔ مطلب، اس تصورِ علم سے جو ہم نے بنایا نہیں ہے، ایك متواتر یقین كے ساتھ مانا ہے۔ یہ بات اعتماد اور اصرار سے كہنی چاہیے كہ ہمارا پرنسپل تناظر ایمانی ہے اور ہماری ہر علمی ذہنی اخلاقی سرگرمی اسی تناظر میں ہو گی۔

ہماری روایت یہ ہے كہ علم یعنی دنیا كا علم، انسان كا پیدا كردہ علم بھلے سے غلط ہو مگر خدا كی معرفت اور اس كی كیفیت میں اضافہ كرتا ہے۔ یعنی علمِ صورت میں غلطی بھی علمِ حقیقت كا كوئی نہ كوئی روزن كھول دیتی ہے۔ اب اس كے بعد نصابِ تعلیم ایك ہو یا دس، كوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس تعلیمی نظام كو طبقاتی نہیں ہونا چاہیے۔ یعنی یہ نہیں ہونا چائیے كہ امیر كے لیے ایك نظام اور غریب كےلیے دوسرا۔

تو واضح ہے ناں كہ تعلیم كا سارا نظام پیدا ہوتا ہے اپنی ضرورتِ علم سے، اپنے تصورِ علم سے، اپنے مقصودِ علم سے اور اپنے پرسپیكٹو سے۔ ورنہ تو علم اپنا اپنا گمان ہے، اناركی ہے، ‘توہم كا كارخانہ’ ہے۔ یہ قیدیں نہ لگائی جایں تو ہر علم صحیح ہے اور ہر علم غلط ہے۔ تو بھائی، علم پوزیشننگ ہے ورنہ تو تعلیم كا وہی حال ہو گا جو ہمارے جدید تعلیمی اداروں پر مسلط ہے، جہاں سے بس ناچ گانا ہی سیكھا جا سكتا ہے، اور وہ بھی بے ڈھنگے پن كے ساتھ۔ ان بچاروں كو تو سلیقے سے محبت نامہ ہی نہیں لكھنا آتا۔ اب آپ ہی بتائیں جو محبت نامہ نہیں لكھ سكتا، اس كی تعلیم كیا آدمیت بھی نا قابلِ اعتبار ہے یا نہیں۔

سوال: تو اس كا مطلب یہ ہوا كہ ہم پروڈیوسر تو تھے ہی نہیں لیكن ریسیور تو ہیں؟
جواب: نہیں، ہم ڈھنگ کے ریسیور بھی نہیں ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بس میز كرسیاں ہیں، استادغائب ہے اور طالبِ علم بھی۔

سوال: اس تناظر میں تو مغرب پھر بہت بہتر ہوا، وہ كم از كم لكھتے پڑھتے اور تحقیق و تخلیق تو كرتے ہیں؟
جواب: مغرب ظاہر ہے اپنے تابعِ مہمل سے تو بہتر ہی ہوگا۔ ویسے تعلیمی تنزل وہاں بھی ہے لیكن وہاں استاد موجود اور سرمایہ كاری مضبوط ہے اور ہر علم كی ایك بڑی ماركیٹ بھی دستیاب ہے۔ وہ علم بھی پیدا كرتے جا رہے ہیں اور اس كی ماركیٹ بھی۔ كرتا ان كا بھی shrink ہوا ہے مگر فرق یہ ہے كہ ان كا قد لمبا ہے اور ہم جو ان كے شامل باجا ہیں، پیدائشی ٹھگنے ہیں۔ ان كا كرتا چھوٹا ہو كر بھی ہم مغرب پرستوں كی كرتی سے بہت بڑا ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

(Visited 1 times, 19 visits today)

About Author

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: