دانشِ عصر: احمد جاوید — (فلم، سوشل میڈیا، ٹکنالوجی اور گلوبل ولیج) گفتگو: خرم سہیل، حصہ 2

0

گذشتہ سے پیوستہ۔ اس مکالمہ کا حصہ اول اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔


سوال: سینما میرا موضوع ہے اور میں اس پر سنجیدہ تحقیق و تصنیف میں مشغول رہتا ہوں، اسی روشنی میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ مغرب میں ناول پڑھنے والے قارئین کو سینما کی اسکرین مہیا کر دی گئی، وہاں ہر اچھے ناول پر فلم بن جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مغرب میں اب بھی کتاب بہت فروخت ہوتی ہے تو کیا قاری کو ناظر بنا دینا مفید ہے؟ اور بذاتِ خود یہ عمل کتنا کارآمد ہے؟

جواب: اچھا، میں نہیں جانتا تھا کہ آپ کا خاص موضوع سینما ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ بڑے قیمتی آدمی ہیں۔ ہمیں دانشور مصنفوں سے زیادہ دانشمند فلم سازوں کی ضرورت ہے۔ تو خیر، ‘نظر’ کے دو معنی ہیں حالانکہ عزیز میاں قوال نے تو چار بتائے ہیں مگر میری رسائی سرِدست دو تک ہی ہے: نگاہ اور فکر۔ یعنی نظر آنکھ ہی کا فعل نہیں ہے، دل اور دماغ کی پراپرٹی بھی ہے۔ اس لیے ناولوں پر فلمیں بنانے کی روایت بہت کار آمد ہے بشرطیکہ ناول پڑھنے کا چلن کمزور نہ پڑے۔ تخیل بھی دید ہی ہے۔ اگر دید کے اس حال میں آنکھوں کی شمولیت کا بھی راستا نکل آئے تو کیا کہنے! میں ایبسرڈ تھیٹر کو پسند کرتا ہوں بلکہ یوں کہہ لیں کہ حسب ِ عادت مبالغے کےساتھ پسند کرتا ہوں۔ بیکٹ اور آئنسکو کو تو بار بار پڑھتا رہتا تھا۔ Waiting for Godot اور The Chairs پر تو دوستوں کے ساتھ جنھیں شاگرد کہتے ہوئے جھجک محسوس ہو رہی ہے، کئی نشستیں بھی کر رکھی ہیں۔ جس زمانے میں ہم لوگ The Chairs پڑھ رہے تھے، ایک صاحب نے اس پر بنایا گیا اسٹیج ڈرامہ دکھایا۔ اس فلم نے کم از کم مجھے تو کئی بہت ضروری چیزیں سجھا دیں جو صرف پڑھنے سے سمجھ میں نہ آتیں۔ تو بہرحال، اصول کی بات یہ ہے کہ ذہن میں جو کچھ ہے وہ چیزوں کی re-presentation ہی تو ہے۔ یہ فہم بھی ہے اور دید بھی۔ تو ناول پر بنی فلمیں دیکھنا اپنی جگہ مفید ہے کیونکہ اس سے ناول زیادہ historicize ہو جاتا ہے، لیکن ناول پڑھنا بہت زیادہ ضروری ہےورنہ تو وہی بات ہوگی کہ میں نے سمجھنا چھوڑ کر دیکھنے پر قناعت کر لی۔ فلم بینی اگر ناول خوانی کا بدل بن گئی تو یہ صورتحال زوال ہی کی صورتحال ہوگی۔

سوال: آپ فلمیں دیکھتے ہیں؟
جواب: جی نہیں، میں فلمیں نہیں دیکھتا اور اس کوتاہی پر معافی کا خواستگار ہوں۔

سوال: لیکن ہمارے ہاں تو یہ تنزلی مزید تیزی سے آئی، کتاب سے رغبت ختم ہوئی، سمجھنے کی بجائے دیکھنا شروع کر دیا، سوشل میڈیا اور موبائل کی صورت حال آپ کے سامنے ہے، ہم بھی تو اب پھر حالت زوال ہی میں ہیں؟

جواب: جی ہاں، مگر یہ تنزل گلوبل ہے۔ تاہم ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں حالتِ کمال تو آئی ہی نہیں تھی، بس زوال کے مظاہر ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ مغرب بھی اس پہلو سے زوال پذیر ہے لیکن ان کے پاس اس زوال کو ایک حد میں رکھنے کی قوت بھی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ موجودہ دور میں، مطلب ٹیکنالوجی کے دور میں، آدمیت نے جہاں بعض پہلؤوں سے ترقی کی ہے وہیں اسے ایک جوہری انحطاط اور بحران سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے۔ ٹیکنالوجی ہمیں اپنے اندر جھانکنے سے روک دیتی ہےاور انفرادیت کی باطنی بنیادوں کو کمزور کرتے کرتے بالآخر ڈھا دیتی ہے۔ فرد کو اپنا ہونا بے جواز لگنے لگتا ہے۔ چیزوں سے تعلق کی احساس انگیز حالتیں اور دھیرے دھیرے تھوڑا تھوڑا کر کے منکشف ہونے والی کہیں دھندلی اور کہیں روشن نسبتیں، اور گہرے سانس کی طرح سینے کو بھر دینے والا ان کا ورجن لمس، یہ سب جیسے سامری جادوگر کی چھڑی کے اشارے سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیکنالوجی نے آدمی کے موسوی جوہر کو لگتا ہے کہ مار دیا ہے اور مصر کے تائب جادوگروں کی توبہ تڑوا دی ہے۔ اب تو جناب، کلیم اللہی رجعت پسندی ہے، پس ماندگی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت موقع نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی تاثیر یعنی dehumanization پر تفصیل سے گفتگو کی جائے، مختصراً یہی کہا جاسکتا ہے کہ ٹیکنالوجی انسان کے تعریفی حدود کو توڑ رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ میرے لیے یہ احساس بہت با معنی، اطمینان بخش، اعتماد افزا اور تسلی دینے والا، ڈھارس بندھانے والا تھا کہ ‘میں ہوں’۔ وجود و عدم کی کشاکش میں ثابت قدم یا متزلزل ‘میں’! حالات کی ہر اونچ نیچ مجھے میرے ہونے کی نئی گواہی اور نئی حالت فراہم کرتی رہتی تھی۔ ٹیکنالوجی اس احساس کو کند کر رہی ہے۔ اب ‘میں’ بس ایک شناخت ہے، کنڈیشن اور مستقل حال نہیں۔ مجھ کو خود مجھے محسوس کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ اور ستم یہ ہے کہ اگر میں اس رکاوٹ سے لڑتے ہوئے اپنے احساس و ادراک میں رہنے کی کوشش کرتا ہوں تو میری شخصیت ماحول کی تائید نہ ہونے کی وجہ سے عجیب طرح کی تڑی مڑی اور introvert قسم کی شخصیت بن کر رہ جاتی ہے۔ کیونکہ اب وہ ‘تُو’ ہی ہونے کی ایک دوسری روایت میں چلا گیا ہے جو مجھے ‘میں’ ہونے کا تجربہ فراہم کرتا رہتا تھا۔غرض اب ‘میں’ بھی ایک نہیں رہ گیا ہوں، میرا موبائل مجھ سے زیادہ ‘میں’ ہے اور میرا لیپ ٹاپ ہر ‘تم’ اور ہر ‘وہ’ سے زیادہ ‘تم’ اور ‘وہ’ ہے۔ تو بھائی، میں یہ ‘میں’ نہیں ہوں بلکہ میں یہ موبائل ہوں، میں یہ ID ہوں، میں یہ DP ہوں وغیرہ۔ ‘میں’ کا یہ بٹوارا ہی اب میری متاع ِ ہست و نیست ہے۔ مجھے تو ڈرلگتا ہے کہ کہیں ایک دن یہ موبائل فون بول اٹھے اور میری طرف اشارہ کرکے لوگوں کو بتائے کہ دیکھو دیکھو یہ ‘میں’ ہوں! معاف کیجیے گا یہ شاعرانہ باتیں ہیں مگر میرے خیال میں بہت منطقی اور حقیقی ہیں۔ حالانکہ منطقی اور حقیقی میں تضاد کی نسبت ہے لیکن بہرحال۔ ویسے بھی روبوٹ کی ‘عقلمندی’ کا مقابلہ شاعر ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ آپ بھی دیکھ ہی رہے ہیں کہ آدمی خودحالی سے محروم ہوتا جا رہا ہے، غم اور خوشی وغیرہ سب مشینی سے بنتے جا رہے ہیں، احساسات میں گہرائی اور پیچ داری ایک سپاٹ اور بے جان سی سطحیت کی لپیٹ میں ہے، جذبات میں رفعت و پاکیزگی وغیرہ تو اگلوں کے چونچلے تھے، المیہ یہ ہے کہ جذبات میں حیوانیت کا زور بھی رفتہ رفتہ مدھم پڑتا جارہا ہےاور وہ دن ایک آدھ صدی سے زیادہ فاصلے پر نہیں رہ گیا جب غصہ بھی کوئی chip ڈال کر آیا کرے گا۔ غضب خدا کا! رونا چھوٹ گیا، بے بس کر دینے والی ہنسی بچوں میں بھی نظرنہیں آتی۔ غم ِ حسینؓ ہمارا قومی غم ہے، میلاد ِ رسولﷺ ہماری ملی خوشی۔ اس غم اور اس خوشی کو بھی جگانے، ابھارنے بلکہ یاد کروانے کے لیے بھی ہمیں رلانے اور ہنسانے میں مشاق پرفارمرز کی محتاجی ہے۔ اب دیکھیے ٹھنڈی راکھ دھونکنے کا یہ عمل بھی کب تک کار آمد رہتا ہے۔ یہ جعلی عصا کب تک نقلی سلیمان کے لاشے کی تھام بنا رہے گا۔ دیکھتے ہیں کب تک!

‘ ہم دیکھیں گے، ہاں دیکھیں گے’۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ‘کیا تم بھی دیکھو گے کیا وہ بھی دیکھیں گے’؟

تو خیر، ٹیکنالوجی کی برکت سے سبجکٹ غائب ہوتا جا رہا ہے، بس چیزیں رہ گئی ہیں اور آنکھیں۔۔۔ مغلوب آنکھیں، مجذوب آنکھیں، خالی پن سے بھری آنکھیں، ندیدی آنکھیں۔ یہ آنکھیں صرف اور صرف لذت کی جویا ہیں اور ہر منظر کو خوشگوار یا نا خوشگوار میں سے کسی ایک تاثر میں تبدیل کرتی رہتی ہیں۔ تو بھائی، یہ خود ایک گراوٹ ہےجو آنکھوں پر بھی مسلط ہے۔ دیکھنے ہی کی بات کر لیں، کیا یہ ‘اہلِ نظر’ پینٹنگز دیکھنا پسند کرتے ہیں، اسی سے پتا چلتا ہے کہ آج کی آنکھیں دل اور ذہن سے، یعنی واقعی دل اور ذہن سے، اُن کی شرط پر تعلق رکھنے سے گریزاں ہیں اور ان سے لاتعلقی پر مصر ہیں۔ سامنے کی بات ہے کہ انسان سماجی وجود ہے، اس کا ہر عروج و زوال اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا کہ اس کا جذبۂ تعلق کس حالت میں ہے اور کس سطح کا ہے! ٹیکنالوجی کے نئے مظاہر نے نظام ِ تعلق پر ایسی ضرب لگائی ہےکہ جیسا کہ ابھی عرض کیا تھا کہ اب خود سے بھی بھرا پھرا تعلق رکھنا دشوار سے دشوار تر ہو چلا ہے۔ اس صورت ِ حال کی حقیقی تصویر کشی کوئی دو صدی پہلے اجڑی ہوئی دلی میں رہنے والا ایک شاعرکر گزرا ہے اور اس سے نکلنے کا راستا بھی وہی بتا گیا ہے:
خدا ساز تھا آزر ِ بت تراش
ہم اپنے تئیں آدمی تو بنائیں

وقت تنگ ہے ورنہ اس شعر کو کھولتے اور آزرِبت تراش کی خدا سازی کا موجودہ پروجیکٹ اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرتے۔

سوال: لیکن کہا تو یہ جا رہا ہے، اب دنیا گلو بل ولیج بن گئی ہے، مگر ایسا لگتا ہے نزدیک بیٹھا انسان دور اور دور بیٹھا انسان قریب ہوگیا ہے، بس اتنا ہوا ہے، چاہے آپ کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو، لیکن اس سے مخلص ہونا یقینی ہوا کرتا تھا، اب تو پوری دنیا بشمول پاکستان انحطاط پذیر ہے، آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟

جواب: یہ گلوبل ولیج سے زیادہ گلوبل جیل ہے اور طاقتور اقوام یعنی مغرب اس کا داروغہ ہے۔ قیدیوں میں پائی جانے والی ظاہری اور نفسیاتی یکسانی کو وحدت کا عنوان دیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک جبری وحدت ہے جسے آدمیت کو خیرباد کہے بغیر اور روبوٹ بنے بغیر قبول ہی نہیں کیا جا سکتا۔ امتیازات کی سمائی نہ رکھتی ہو اور ہمیں فرد سے لے کر تہذیب تک کی سطح پر ممتاز رہنے پر نہ اکساتی ہو تو کہاں کی وحدت۔ ایسی وحدت تو پتھروں میں بھی نہیں ہے۔ آپ نے اچھا کہا کہ ٹیکنالوجی نے دور کے آدمی کو قریب اور قریب والے کو دور کر دیا ہے! واہ، ماشاءاللہ۔ ایسا ہی ہوا ہےجس کی وجہ سے طرح طرح کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ دوری نزدیکی تجریدی سی ہوچکی ہے اور محض مفروضہ بن کر رہ گئی ہے۔ باہمی قرب و بعد سے جو احساسات متعلق تھے وہ غیر ضروری اور نامطلوب ہوچکے ہیں۔ ایک عجیب سا مزاج عالم گیر ہوتا جا رہا ہے اور انسان کے متروک ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپنے اندر باہر سے آدمیت کا انخلا ٹیکنالوجی سے فیض یاب ہونے کی اٹل شرط بھی ہے اور لازمی نتیجہ بھی۔ ہم تو ظاہر ہے نیتّے بچے ہیں جو سامنے آئے گا چٹ کر جائیں گے بس دسترخوان بچھا رہے اور بھرا رہے۔ آدمی نا آدمی کی بحث میں کیا رکھا ہے! اچھے بھلےلوگ ٹیکنالوجی پر تنقید سن کر بھڑک اٹھتے ہیں اور اس کے وہ فائدے گنوانے لگتے ہیں جن کا مجھے بھی اقرارہے۔ تو بہر کیف، مغرب ہی سے کچھ امید ہے۔ اسی نے یہ خطرہ پیدا کیا اور وہی دنیا کو اس خطرے سے نکال سکتا ہے۔ دیکھیے مغرب کب بت تراشی سے بت شکنی کی طرف آتا ہے اور ہمیں اپنے تئیں آدمی بننے کا ساز و سامان عنایت فرماتا ہے۔ dehumanization کا عمل مغرب میں تو بہت ہی شدت اختیار کر چکا ہے۔ وہاں اس آفت اور بحران کا ادراک ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ کہنے کو تو کہہ دیا لیکن بعض حلقوں کے شر سے بچنے کے لیے یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مغرب کی حیثیت ایک کلی پرسپیکٹو کی سی ہےجس کی پوری تردید کیے بغیر اسلامی اور صحیح معنی میں انسانی پرسپیکٹو کے احیا کا، تجدید کا کوئی امکان نہیں ہے۔ میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں۔

اس مکالمہ کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 15 visits today)

About Author

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: