آئی ڈراپ؟ ‎‎‎——– ڈاکٹر فرحان کامرانی

0

”دیکھیں بہزاد صاحب۔ بہتر ہو گا کہ آپ کا بیٹا آ جائے۔ ۔ ۔ “

”میرے پاس کتنا وقت ہے؟“

”آپ کا بیٹا آ جائے تو میں اس سے ہی۔ ۔ آپ“

”میں اپنے آخری پل گھر میں گزارنا چاہتا ہوں“ بہزاد صاحب نے مضبوط لہجے میں کہا۔ ڈاکٹر نے انہیں بیزاری سے دیکھا۔ شاید اس طرح اسے اسپتال کا بزنس ہاتھ سے نکلتا ہوا معلوم ہو رہا تھا۔ مگر بہزاد صاحب عزم کے پکے آدمی واقع ہوئے تھے، وہ جو بات سوچ لیتے، کر گزرتے۔ ایک گھنٹے بعد وہ اپنی مرسڈیز میں اپنے باتھ آئی لینڈ کے بنگلے کی طرف رواں دواں تھے۔ گاڑی ان کا ڈرائیور چلا رہا تھا۔ سوائے نوکروں کے گھر میں ان کی راہ دیکھنے والا کوئی نہ تھا۔ خانسامہ، ڈرائیور، چوکیدار اور گھر کی صفائی کرنے والی نوکرانی، سب ہی مالک کے اسپتال سے لوٹنے پر کچھ زیادہ خوش نہ ہوئے کیونکہ ان کی غیر موجودگی میں گھر میں ان سب کی بادشاہت ہوجاتی۔ بہزاد صاحب ہیپاٹائٹس سی سے مر رہے تھے۔ ان کے دونوں بیٹے امریکا میں رہتے تھے جن کو باپ کی خبر لینے کا کوئی خاص شوق تھا نہ وقت۔ انکی بیگم دو سال قبل عارضہ قلب میں اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں۔ انکا کاروبار مینیجر چلا رہا تھا۔ جو انکا سگا بھانجا تھا اور خوب دل کھول کر پیسے بنا رہا تھا۔ مگر اب ان کی حالت ایسی کب تھی کہ خود دفتر جا سکیں۔ وہ ہر دم مر رہے تھے۔ اب تو تھوڑا سا چلنے سے ہی ان کا سانس پھول جاتا۔

”صاحب کھانا لگا دوں؟“ خانسامہ نے بڑے ادب سے دریافت کیا۔
”نہیں“

ہیپا ٹائٹس میں انسان جو چیز سب سے پہلے کھوتا ہے وہ بھوک ہے۔ بہزاد صاحب نے ٹی وی چلایا، وہی خبریں تھیں۔ وہی قتل و خون کی وارداتیں، وہی زنا بالجبر کی خبریں، وہی احتجاج، وہی جلسے جلوس۔ وہ ایک چینل سے دوسرا چینل بدلتے رہے۔ ایک چینل پر بھارتی گانوں نے ان کو متوجہ کر لیا۔ انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور صوفے پر ٹیک لگا لی۔

”سر آپ سے ملنے یہ صاحب آئے ہیں“ نوکر کی آواز پر بہزاد نے آنکھیں کھولیں تو سامنے نوکر ہاتھ میں ایک ملاقاتی کا کارڈ لئے کھڑا تھا۔ انہوں نے وہ کارڈ اس سے لے کر پڑھا۔

”مساوات ٹرسٹ، ڈاکٹر شمیم ایاز، پی ایچ ڈی نفسیات“ کونے پر مور کا نشان بنا ہوا تھا۔

”یہ کون ہے؟ بہزاد نے ذہن پر زور ڈالا، ان کو اچانک یاد اایا کہ یہ شخص آج سے کوئی 40 سال قبل ان کا ہم جماعت تھا جب انہوں نے بی اے آنرز کے سال دوئم میں ہی تعلیم کو خیر باد کہہ کر اپنے حالات سے مجبور ہو کر بیمہ پالیسی بیچنے کی نوکری کر لی تھی۔ تب وہ اپنے اس دوست کو حسرت سے دیکھا کرتے تھے کہ وہ تعلیم جیسی عیاشی کو حاصل کرنے کی استطاعت رکھتا تھا اور ان کو اس رنگین دنیا کو خیر باد کہہ کر عملی زندگی میں قدم رکھنا پڑا تھا۔ بعد میں ان کو اپنے اس ہم جماعت کے بارے میں خبر ملی تھی کہ اسے برین ٹیومر ہو گیا ہے۔

”ان کو ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ، میں آتا ہوں۔“

بہزاد صاحب جب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو ان کا پرانا ہم جماعت اپنی بائیں آنکھ میں کوئی آئی ڈراپ ڈال رہا تھا۔

”کیسے ہو بہزاد؟“ اس نے جذبات سے عاری بڑی حد تک میکانکی طور سے دریافت کیا۔ اس کا چہرہ بھی ساکت تھا۔ بہزاد کو مصافحہ کرتے ہوئے غور کرنے پر محسوس ہوا کہ شمیم ایاز کی بائیں آنکھ پتھر کی ہے۔ ”شائد اسی لئے اس میں آئی ڈراپ ڈالنا پڑتا ہو گا۔“ا نہوں نے سوچا۔

”میں بہت بیمار ہوں، ڈاکٹر چاہتا تھا کہ میں اسپتال میں مروں مگر میں نے سوچا کہ یہ خوشی اسے نہ دوں۔ تم کیسے ہو، ہم 20 سال بعد مل رہے ہیں، آخری بات تم 1998 میں ملے تھے، طارق روڈ پر۔“

”ہاں۔ بالکل وہیں پر، 4 جون 1998۔ مجھے تاریخ یاد ہے اس لئے کہ وہ میری سالگرہ کا دن تھا، تم کو پتہ ہے مجھے برین ٹیومر ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا مگر میں بغیر ان کی مدد کے ہی بالکل ٹھیک ہو گیا۔“

بہزا صاحب نے مہمان کو شک بھری حیرت سے دیکھا۔ اسی پل نوکر چائے اور ناشتے کی ٹرے لے کر حاضر ہوا جو مہمان کے سامنے میز پر رکھ کر تیزی سے چلا گیا۔

”میرا علاج جس ہستی نے کیا ہے تم ان سے ایک مرتبہ مل لو، انہوں نے برے بڑے امراض کا علاج کیا ہے۔“

”دیکھو شمیم، میں نے بڑے بڑے ڈاکٹر دیکھ لئے۔ حکمت، ہومیو پیتھی وغیرہ، اتنے ہلکے علاج ہیں کہ میرے پاس اب اتنا وقت بچا نہیں اور روحانی علاج پر میں یقین نہیں رکھتا۔“

”تم ان سے ایک مرتبہ مل لو بس۔ ویسے وہ ابھی کراچی میں ہیں بھی نہیں۔ وہ عراقی کردستان میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ یہ ہے ان کا کارڈ۔ تم ان کو ای میل کر دو اپنا مسئلہ۔ بس پھر دیکھنا۔“ ساری ہی گفتگو شمیم ایاز نے بے حد میکانکی طور سے کی۔ ایسا لگا جیسے وہ کوئی روبوٹ ہو۔ یہ وہ شمیم نہیں تھا جو 1974 میں بہزاد کے ساتھ جامعہ میں پڑھا کرتا تھا۔ یہ وہ شمیم بھی نہیں تھا جو ایک آدھ مرتبہ انہیں اس کے بعد ملا تھا۔ جو کارڈ شمیم نے بہزاد صاحب کو دیا یہ سفید رنگ کا تھا، اس پر بھی مور کا نشان بنا ہوا تھا، کسی شخص کا نام درج تھا اور نیچے ”کنسلٹنٹ“ لکھا ہوا تھا، ایک فون نمبر اور ایک e-mail ایڈریس درج تھا۔

”ملک طاؤس؟“ یہ صاحب کنسلٹنٹ ہیں؟“

”یہ سب کچھ ہیں۔ یہ تم کو بالکل صحت مند کر سکتے ہیں۔ تم ان سے مل لو۔“ شمیم کی بات کا متن اس کے لہجے کی مردنی سے بالکل میل نہ کھا رہا تھا، اس دوران اس نے چائے ختم کی اور اٹھ کھڑا ہوا۔

”میں چلتا ہوں۔ یہاں ڈیفنس میں ایک کالج میں MBA کے اسٹوڈنٹس کو Human Behavior کا کورس پڑھا رہا ہوں، مجھ سے شفیع جامعی نے کہا تھا کہ تم یہاں باتھ آئی لینڈ میں رہتے ہو۔ تم صرف نیت کرو ملک طاؤس سے ملنے کی، وہ تمہارے سامنے خود آ جائیں گے“ یہ کہہ کر شمیم چلا گیا۔

بہزاد صاحب کو شمیم کے آخری الفاظ بڑے عجیب معلوم ہوئے۔ خیر ان کی اپنی نشست سے اٹھ کر ڈرائنگ روم سے واپس بیڈ روم جانے کے لئے اٹھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ ایسے میں ان کی نظر دیوار پر فریم میں لگی اپنے جامعہ کے سال دوئم کے گروپ فوٹو پر پڑی۔ بلیک اینڈ وائٹ تصویر میں مسکراتے ہوئے لڑکے اور لڑکیاں بڑی ترتیب سے کھڑے تھے۔ شمیم کیونکہ پستہ قد تھا، اس لئے اس کا سر بہزاد صاحب کے کاندھے تک آ رہا تھا۔ اس وقت بھی اسے چشمہ لگا ہوا تھا اور اس نے اپنے گھنگریالے بال تب کسی ہپی کی طرح خوب بڑھائے ہوئے تھے۔ ساتھ بہزاد صاحب کھڑے تھے۔ ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ بال بڑے تھے اور بیل باٹم پینٹ پہن رکھی تھی۔

”کتنا بدل گیا ہے یہ شخص؟‘ بہزاد صاحب نے سوچا۔ جب وہ شمیم کو رشک سے دیکھا کرتے تھے۔ تب وہ ان کو خود سے ہر لحاظ سے برتر معلوم ہوا کرتا تھا، گو کہوہ اس سے بدرجہا خوش شکل تھے مگر وہ پڑھائی میں تیز تھا (اس نے پی ایچ ڈی تک پڑھا) اور اس کے حالات بھی تب ان سے بہت بہتر تھے مگر پھر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ بہزاد صاحب کروڑ پتی بن گئے اور وہ ایک معمولی لکچرار ہی رہ گیا۔ مگر وہ جب بھی ملا تھا کبھی بھی ایک روبوٹ نہ معلوم ہوا تھا۔ لیکن اب وہ ایک روبوٹ بن چکا تھا۔

”تم صرف نیت کرو ملک طاؤس سے ملنے کی وہ تمہارے سامنے خود آ جائیں گے“ یہ جملہ بہزاد صاحب کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ انہوں نے نوکر کو آواز دی اور اس سے لیپ ٹاپ منگوایا۔ ایک ای میل تیار کی اور ملک طاؤس کو بھیج دی۔ اس کے بعد آپ اپنے Inbox کو دیکھنے لگے۔ ابھی چار یا پانچ منٹ بھی نہ گزرے ہوں گے کہ ملک طاؤس کی طرف سے جواب موصول ہو گیا، جس میں درج تھا کہ ملک صاحب 4 دن بعد کراچی تشریف لانے والے ہیں اور ان سے ملاقات کے لئے بہزاد صاحب کو دن کے دو بجے صدر کی راجا غضنفر علی روڈ پر واقع پینوراما سینٹر نمبر 2 (نزد ایٹریم مال) کے دفتر نمبر 666 آنا ہو گا۔

اتنی جلدی اپنی ای میل کا جواب موصول ہونے پر بہزاد صاحب کو کافی حیرت ہوئی، انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ملک طاؤس سے ضرور ملیں گے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پینوراما سینٹر کے سامنے اتر کر اچانک بہزاد صاحب کو یاد آیا کہ آج سے کوئی 35 یا 40سال قبل وہ اسی عمارت میں ایک دفتر میں بیمہ پالیسی بیچنے گئے تھے۔ وہاں ایک بڑا پروقار بوڑھا بیٹھا تھا جس پر نوجوان بہزاد نے سر توڑ محنت کی تھی مگر اسے پالیسی نہ بیچ سکے تھے۔ وہ اپنی ابتدائی نوکری کے ان دنوں کو سوچ کر مسکرائے۔ اس عمارت میں داخل ہوتے ہوئے انہیں احساس ہوا کہ یہ ماضی کی جدید عمارت اب بوسیدگی اور ویرانی کا شاہکار بن چکی تھی۔ وہ لفٹ میں داخل ہوئے اور دفتر نمبر 666 بتایا۔ لفٹ آپریٹر جو خود بھی ایک بوڑھا شخص تھا، اس نے یہ نمبر سن کر حیرت سے بہزاد صاحب کو دیکھا اور ایسا لگا کہ کچھ کہنا چاہتا ہو مگر رک گیا۔ خیر تھوڑی دیر بعد بہزاد صاحب ایک شیشے کے دروازے والے دفتر کے سامنے کھڑے تھے، انہوں نے جب اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو دروازہ اندر سے بند تھا۔ سامنے استقبالیہ پر بیٹھے لڑکے نے انہیں غور سے دیکھا اور کوئی بٹن دبایا جس سے دروازہ کھل گیا۔ یہ ایک بڑا دفتر تھا، کافی وسیع مگر پورا ہی خالی معلوم ہو رہا تھا۔ کسی وقت میں یہ بڑا شاندار دفتر رہا ہو گا مگر اب بڑا بوسیدہ معلوم ہو رہا تھا، دفتر کی دیواروں پر لکڑی کا تاثر دینے والا وال پیپر چڑھا ہوا تھا، بہزاد صاحب کو لگا کہ وہ شائد اسی دفتر میں آج سے تیس پینتیس سال قبل بیمہ پالیسی فروخت کرنے آئے تھے۔ ریسیپشن پر بیٹھا لڑکا مشکل سے 20سال کا ہو گا۔ وہ کانوں میں ہیڈ فون لگا کر گانا سن رہا تھا جس کی آواز تھوڑی تھوڑی بہزاد صاحب بھی سن سکتے تھے۔ سامنے اسکرین پر تاش کی سولیٹائر کی ونڈو کھلی تھی، اس لڑکے نے کان سے ہیڈ فون نکال کر بہزاد صاحب کو بیزاری سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”آپ کو کس سے ملنا ہے ”اینکل“

بہزاد صاحب اس کے لہجے اور نقوش سے پہچان گئے کہ یہ لڑکا ہنزائی ہے، ان کا سانس اس دفتر تک پہنچنے میں پھول چکا تھا۔ اس لئے وہ فوراً سامنے لگے ریگزین چڑھے سیاہ صوفے پر بیٹھ گئے اور پھولی ہوئی سانس کے ساتھ اس سے کہا۔

”ملک طاؤس کنسلٹنٹ صاحب سے۔ یہ کارڈ دے دیں ان کو“ انہوں نے اپنا وزٹنگ کارڈ لڑکے کو دیا۔

اس نے کارڈ لے کر پڑھا اور پھر اپنے سامنے لگی ایک گھنٹی بجائی۔ گھنٹی بجانے پر لابی کے ساتھ بنے بہت سے کیبنز میں سے ایک سے ایک اور گلگتی نمودار ہوا جو پچاس پچپن سال کا معلوم ہو رہا تھا اور نیلے رنگ کا سفاری سوٹ پہنے ہوئے تھا (جو آفس بوائے کا یونیفارم تھا) اور ریسپشنسٹ لڑکے کے پاس آیا اور دونوں میں بروشسکی زبان میں کچھ تکرار سی شروع ہو گئی۔ ”یہ کیسے غیر پیشہ ورانہ قسم کے لوگ ہیں“ بہزاد صاحب نے سوچا۔ خیر اس تکرار کے بعد وہ سفاری سوٹ والا بہزاد صاحب کا کارڈ لے کر کہیں اس دفتر کی بھول بھلیوں میں کھو گیا۔ وہ ایک منٹ بعد ہی آ گیا اور پھر تیز لہجے میں بروشسکی میں ہی ریسپشنسٹ پر چڑھ دوڑا۔ جواباً لڑکا بھی اپنی زنانہ سی آواز میں اس سے بحث کرنے لگا۔ خیر پیون کو اچانک خیال آیا اور بہزاد صاحب کی طرف مڑا۔ ”چلو سر آپ کا بلا رہے ہیں طاؤس صاحب“ اور وہ انہیں اندر ایک بڑے سے دفتر میں لے گیا۔ سامنے دیوار پر ایک مور کی پینٹنگ لگی تھی اور گھومنے والی کرسی پر ملک طاؤس براجمان تھا۔

یہ ایک 70-75 سال کا شخص معلوم ہوتا تھا جس کا قد 6 فٹ سے نکلتا ہوا تھا اور یہ شخص کافی چوڑا بھی تھا مگر موٹا ہر گز نہیں تھا، یہ سیاہ رنگ کا سوٹ پہنے ہوئے تھا اور سفید شرٹ پر نیلی ٹائی لگا رکھی تھی، اس شخص کو برص تھا مگر پورے چہرے پر پھیل چکا تھا اس لئے یہ انگریز معلوم ہوتا تھا، اس کی چھوٹی سی دارھی تھی جو سنہرے رنگ کی تھی۔ بڑی بڑی آنکھیں تھیں جن پر سنہرا چشمہ لگا تھا۔ یہ شخص بے حد قیمتی گھڑی پہنے ہوئے تھا اور اس کے سوٹ پر سینے کے مقام پر دائیں طرف ایک مور کڑھا ہوا تھا۔ جب بہزاد صاحب کمرے میں داخل ہوئے تو ملک طاؤس اپنی نشست پر کھڑا ہو گیا اور بڑے پرجوش انداز میں ان سے ہاتھ ملایا۔ دبیز قالین پر رکھی بھاری میز کے سامنے بہزاد صاحب ایک نشست پر براجمان ہو گئے اور طاؤس دوباہ اپنی گھومنے والی کرسی پر بیٹھ گیا، یہ شخص تاش کے پتوں پر بنا بادشاہ معلوم ہو رہا تھا۔

”ملک طاؤس“
”بہزاد احمد“
”آپ کو ہیپاٹائٹس سی ہے اور ڈاکٹر آپ کو جواب دے چکے ہیں“ ملک طاؤس نے ایک دراز کھولتے اور اس میں کچھ تلاش کرتے ہوئے کہا۔

”جی ہاں! یہ آپ کو شمیم ایاز نے بتایا؟“ بہزاد صاحب نے حیرت سے کہا۔
”نہیں، آپ نے خود، شائد آپ بھول چکے ہیں کہ آپ نے خود مجھے ای میل لکھی تھی“ ملک طاؤس نے بالآخر دراز میں آئی ڈراپ ملنے پر اسے کھول کر اپنی بائیں آنکھ میں ٹپکاتے ہوئے کہا۔

”جی جی۔ ۔ ۔ ہاں بالکل۔ ۔ ۔ سر ایک بات۔ ۔ کیا اس دفترمیں میں آپ کے پاس میں پینتیس چالیس سال قبل آیا تھا، بیمہ پالیسی بیچنے؟“ بہزاد صاحب سوال پوچھتے ہوئے خود ہی گڑبڑا گئے۔ ان کو احساس ہوا کہ وہ کتنی مزاحیہ بات پوچھ رہے ہیں کیونکہ 35یا 40 سال قبل وہ اس پینوراما سینٹر میں جس شخص کو پالیسی بیچنے کے لئے آئے تھے وہ تو تب بھی 70 یا 75 سال کا رہا ہو گا۔

آپ یہ سوال مجھ سے پوچھ رہے ہیں یا خود سے؟“ ملک طاؤس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”خیر چھوڑیے، آپ اپنی بیماری کے بارے میں کچھ بتا رہے تھے؟“

”جی مجھے ہیپا ٹائٹس سی ہے“

”یہ تو آپ مجھے دو مرتبہ بتا ہی چکے ہیں، ایک مرتبہ ای میل پر اور ایک مرتبہ ابھی۔ خیر آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے“۔

”جی لیکن علاج کیسے ہو گا۔ ۔ مطلب روحانی یا میڈیکل“ بہزاد صاحب کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے اپنا ما فی الضمیر بیان کریں کہ وہ بے حد عجیب محسوس کر رہے تھے کہ ایک بے حد عجیب جگہ پر ایک بے حد سرمایہ دار یا سیاست دان نما شخص سے وہ اپنی بیماری کے علاج کی بات کر رہے تھے اور بیماری بھی ایسی جو ان کے لیے ڈیتھ وارنٹ بن چکی تھی۔ پھر ان کو یہ بھی ڈر لگ رہا تھا کہ کسی فراڈ کا شکار تو نہیں ہو رہے ہیں۔

”میں جانتا ہوں کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں۔ نہ آپ کا روحانی علاج ہو گا اور نہ ہی میڈیکل علاج اور آپ ٹھیک ہو جائیں گے اور آپ کو صرف اسی سے مطلب ہونا چاہئے کہ آپ ٹھیک ہو جائیں۔“

”جی سر۔ اور۔ وہ آپ کی فیس؟“

”جی بالکل۔ آپ کاروباری آدمی ہیں اس لئے فوراً نکتے پر آ گئے۔“ یہ کہہ کر ملک طاؤس نے دوبارہ دراز کھولا اور ایک دستاویز برآمد کی۔ یہ ایک اسٹامپ پیپر پر لکھا ہوا کانٹریکٹ تھا۔ ”اسے پڑھ لیں۔“ بہزاد کے چہرے پر شدید حیرت کا تاثر نمودار ہوا اور انہوں نے قانونی معاہدے کی دستاویز کو غور سے پڑھنا شروع کیا۔ اس میں قانونی زبان میں لکھا تھا کہ طاؤس فاؤنڈیشن کے سربراہ اور عدی بن مسافر ٹرسٹ کے ٹرسٹی ملک طاؤس صاحب اس بات کی ذمہ داری لیتے ہیں کہ وہ بہزاد احمد کو بالکل صحت یاب کر دیں گے اور اس کے بدلے میں اپنی بقایا حیات بہزاد احمد کو طاؤس فاؤنڈیشن کے مشن کو آگے بڑھانے میں صرف کرنا ہو گی۔ ان کو اپنا وقت بلامعاوضہ طاؤس فاؤنڈیشن اور عدی بن مسافر ٹرسٹ کے لیے صرف کرنا ہو گا اور ان کی زندگی کا مقصد دنیا میں عدم مساوات کا خاتمہ اور میرٹ کا فروغ ہو گا۔ جب بھی ان کو طاؤس فاؤنڈیشن کسی تربیت پر بھیجے تو ان کو جانا ہو گا۔

یہ پڑھ کر بہزاد صاحب نے حیرت اوربے یقینی سے ملک طاؤس کو دیکھا۔ ان کو یقین ہی نہ تھا کہ یہ شخص ملک طاؤس ان کو صحت یاب کر سکتا ہے اور بدلے میں جو کچھ مانگا گیا تھا اسے بہزاد نے توجہ سے پڑھا ہی نہیں اس لئے کہ صحت یاب ہوجانا ہی بہزاد کو صریحاً ناممکن معلوم ہوتا تھا مگر وہ ایک پرانے کاروباری تھے اور وہ جانتے تھے کہ اس معاہدے کی صورت میں اگر ایک فیصد بھی صحت یابی کا امکان تھا وہ وہ اس پر تیار تھے۔ انہوں نے قلم نکالا اور دستخط کرنے والے تھے کہ ملک طاؤس بولا۔

”ایک مرتبہ سوچ لیں، اس کے بعد آپ ہمارے ادارے، ہماری تنظیم کا حصہ ہوں گے اور آپ اس سے کسی بھی صورت میں استعفیٰ نہیں دے سکتے“

ایک لمحے کو بہزاد صاحب رک گئے، کچھ سوچتے رہے پھر بولے ”یہ جو میرٹ والی بات لکھی ہے۔ ۔ یہ کیا ہے؟ مطلب کیا ہے اس کا؟“

”مجھے اندازہ تھا آپ یہی پوچھیں گے۔ میں اپنی نوجوانی میں ایک کمپنی میں نوکری کیا کرتا تھا۔ وہاں میں نے بہت ترقی کی اور وہاں کا ڈائریکٹر بن گیا۔ کمپنی کے مالک یزدان صاحب مجھ سے بہت بہت محبت کرتے تھے۔ میں نے محنت اور اپنی اہلیت سے ایک مقام حاصل کیا تھا مگر پھر نجانے یزدان کہاں سے ایک انٹرن کو لے آئے اور سمجھ لیں اس کو سارا ادارہ ہی دے دیا۔ مجھ سے بھی کہا کہ اسے رپورٹ کروں۔ اس کے احکام کی بجاآوری کروں۔ اس کو ”سر“ کہوں۔ میں نے جب یزدان صاحب کو کہا کہ وہ غلط کر رہے ہیں تو انہوں نے مجھے کمپنی سے نکال دیا۔ خیر بعد میں میری ہی رائے صحیح ثابت ہوئی۔ اس لڑکے نے ان کا دل توڑ دیا۔ انہوں نے اسے بھی اپنی کمپنی سے نکال دیا۔ میں نے اپنی کمپنی کھولی۔ کروڑوں کا کاروبار جما لیا۔ مگر میں تو ابھی تک یزدان صاحب کو Regard کرتا ہوں کہ بزنس کرنا تو انہوں نے ہی مجھے سکھایا۔ خیر میں ساری دنیا میں مساوات اور صرف اہلیت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہوں۔ اگر آپ کو میرا مشن سمجھ میں آتا ہے تو دستخط کر دیں۔“

”مبارک ہو، اب آپ طاؤس فاؤنڈیشن اور عدی بن مسافر ٹرسٹ کے رکن ہیں۔ یہ ہے آپ کا پہلا ٹریننگ مینوئل اور یہ ہے آپ کا بیج۔“ یہ کہہ کر اس نے ایک کتابچہ بہزاد صاحب کے حوالے کیا اور ایک پیتل کا بنا ہوا مور کا نشان ان کے کرتے کی دائیں جیب کی طرف لگا دیا۔

”آپ ہماری تنظیم کے درجہ اول پر initiate ہو گئے ہیں۔ ہماری تنظیم میں سات درجات ہیں۔ اب آپ اپنے گھر چلے جائیں، جب بھی آپ صحت یاب ہو گئے اس دن آپ کو اس کتابچے میں دیے گئے پتے پر ہمارے عدی بن مسافر ٹرسٹ کے آفس پر آنا ہے۔“

دونوں نے ہاتھ ملایا اور بہزاد وہاں سے باہر آ گئے، وہ بری طرح تھک چکے تھے۔ اتنی شدید بیماری میں اتنی شدید تھکاوٹ ان کو بہت کھل رہی تھی۔ ان کو لگا کہ یہ شخص یقینی طور پر پاگل ہے اور یہ سب جھوٹ ہے۔ انہیں غصہ آ رہا تھا کہ انہوں نے خود کو کیوں اس بیزار کن محنت میں ڈالا۔ وہ آئے اور سو گئے۔ خواب میں ان کو نظر آیا کہ وہ جوان ہیں اور ان کے سامنے ملک طاؤس بیٹھا ہے۔ وہ اسے اپنی انشورنس کمپنی کی پالیسی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہیں کہ اچانک ملک طاؤس ان سے کہتا ہے کہ میں تمہاری پالیسی خرید لوں گا، پہلے تم اس پر دستخط کرو اور یہ کہہ کر اس کے سامنے وہی معاہدہ رکھ دیتا ہے۔ صبح جب بہزاد صاحب کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ بڑا ہی عجیب محسوس کرتے ہیں۔ ان کو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ان کا جگر، جس میں پانی بھر رہا تھا بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔ وہ اٹھتے ہیں تو سر پر یا وجود پر کوئی تھکن، مردنی یا تکلیف بھی محسوس نہیں ہوئی۔ وہ شدید حیرت کا شکار ہوگئے۔ عام حالات میں ان کے لئے چار قدم چلنا بھی مشکل ہوتا تھا اور تھوڑی دیر کھڑے رہنے میں ہی ان کی جیسے جان نکل جاتی تھی مگر اب ان کو بالکل بھی ایسا کچھ محسوس نہ ہو رہا تھا۔ وہ بالکل ویسا محسوس کر رہے تھے کہ جیسا وہ آج سے 2 سال قبل محسوس کیا کرتے تھے۔ وہ اپنا دور کی نظر کا چشمہ لگاتے ہیں تو آنکھ پر بے حد زور پڑتا ہے۔ اب ان کو احساس ہوتا ہے کہ ان کی بینائی بھی ٹھیک ہو گئی ہے۔ وہ اٹھ کر باتھ روم گئے اور آئینے میں خود کو دیکھ کر بالکل ڈرگئے۔ ان کی آنکھوں اور جسم کی پیلاہٹ بھی دور ہو چکی تھی۔ وہ دوڑ کر کمرے میں آئے اور بستر پر بیٹھ گئے۔ وہ تھر تھر کانپنے لگے، ایسے میں ان کی نظر سائیڈ ٹیبل پر پڑے کتابچے پر پڑی۔ انہوں نے وہ اٹھایا۔ ان کو یاد اآیا کہ ان کو بتایا گیا تھا کہ ٹھیک ہوتے ہی ان کو عدی بن مسافر ٹرسٹ کے دفتر جانا ہے۔ وہ نوکر کو بلانے کے لئے گھنٹی بجانے والے تھے کہ اس سے پہلے ہی خود ایک نوکر کمرے میں آ گیا اور بولا کہ ایک گلگتی لڑکا ان سے ملنے آیا ہے اور اس نے یہ کارڈ بھجوایا ہے۔ بہزاد صاحب اس سے کارڈ لیا۔ کارڈ پر کوئی نام یا پتہ درج نہ تھا۔ کارڈ سیاہ تھا اور اس پر ایک سنہرا مور کا نشان بنا تھا اور دوسری جانب ABM ٹرسٹ تحریر تھا۔

”ان کو اندر بٹھاؤ۔ “

بہزاد صاحب جب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو ایک چائنیز نقوش والا ایک گلگتی لڑکا ”فیڈڈ جینز“ اور سرخ رنگ کی ٹی شرٹ میں ملبوس بڑی بے تکلفی سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھا تھا اور بڑی تیزی سے ببل چبا رہا تھا۔ بہزاد صاحب کے ڈرائنگ روم میں داخل ہونے پر بھی اس پر کوئی فرق نہ پڑا اور یہ بڑی بے باکی سے انہیں گھورتا رہا۔ جب وہ بیٹھ گئے تو لڑکا بولا۔

”سلام انکل، میرا نام سنابر ہے۔ میں آپ کا انسٹرکٹر ہوں۔ یہ رہا آپ کا کارڈ“ اس نے ایک آئی ڈی کارڈ بہزاد صاحب کے ہاتھ میں دیا جس پر وہی مور کا نشان بنا تھا اور ABM Trust لکھا تھا اور نیچے بہزاد صاحب کی تفصیلات درج تھیں، ایسی تفصیلات بھی جو شمیم ایاز کو بھی معلوم نہیں ہو سکتی تھیں جیسا کہ ان کا بلڈ گروپ یا ولدیت اور تو اور ان کا شناختی کارڈ نمبر اور پاسپورٹ نمبر بھی درج تھا اور سب سے حیرت انگیز بات یہ کہ ان کے شناختی کارڈ والی ہی تصویر اس پر چھپی ہوئی تھی۔

”آج سے آپ کی ٹریننگ شروع ہوتی ہے، آپ چلو وین ویٹ کر رہی ہے باہر۔“
”مگر میں نے ناشتہ۔ ۔ کپڑے بدل لوں۔ ۔ مطلب“
”بس کپڑے بدل لو جلدی سے انکل۔ ناشتہ وہاں ہی ہو جائے گا۔ ہاں اپنا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی لے آؤ۔“

بہزاد صاحب نے حیرت سے اس لڑکے کو دیکھا۔ اس کی بے باکی۔ اس کا اعتماد، اس کا تحکمانہ انداز دیکھا مگر اچانک یوں صحت یاب ہو کر ان کو اتنا بڑا دھچکا لگا تھا کہ وہ کسی بھی شے پر اعتراض کرنے یا انکار کرنے کی اہلیت کھو چکے تھے۔ وہ لڑکے کے احکام کی تعمیل کر کے باہر آئے تو ایک نئی کوسٹر کھڑی تھی جس میں ان ہی کی عمر کے چار لوگ اور اس گلگتی کی ہی عمر اور ہم وضع 4 لڑکے بیٹھے تھے۔ کوسٹر پر کسی میڈیا چینل کی وین کی ہی طرح ہر طرف ABM ٹرسٹ کا نشان اور نام چپکا ہوا تھا۔ وہ خاموشی سے وین میں سوار ہو گئے اور وین چل پڑی، تھوڑی ہی دیر میں یہ لوگ Forum میں واقع شاندار آفس میں تھے۔ یہاں پر ان سب کو ڈائنگ روم لے جا کر ناشتہ کرایا گیا جو بے حد عالیشان تھا۔ اس کے بعد ایک کانفرنس روم میں لا کر اے بی ایم ٹرسٹ اور طاؤس فاؤنڈیشن کی تعارفی وڈیوز دکھائی گئیں۔ دنیا میں کہاں کہاں کیا کیا فلاحی پروجیکٹ جاری ہیں، کس طرح افریقہ میں بھوک اور افلاس مٹانے سے لے کر لاطینی امریکا میں اسکولوں کے قیام تک کے منصوبے جاری ہیں اور ادارے کے کارکنوں کو کس طرح دوسرے کارکنوں سے رابطہ کرنا چاہئے۔ وڈیو کے بعد چاروں اسٹرکٹر اپنے اپنے زیر تربیت ”انکلز“ کو ایک ایک علیحدہ دفتر میں لے گئے اور بڑی تیزی سے سوالات کی بوچھاڑ کرنے لگے کہ انہوں ے وڈیو میں کیا کیا باتیں سمجھیں۔ تھوڑی دیر بعد چاروں کو ہی ایک بہت عالیشان دفتر میں لایا گیا جہاں پر ملک طاؤس براجمان تھا۔ چاروں انسٹرکٹر اس کے سامنے بالکل اس طرح رکوع میں گئے جیسے جاپانی سلام کرتے ہیں اور الٹے قدم دفتر سے نکل گئے۔ ملک طاؤس نے سب کو غور سے ایک نظر دیکھا اور مسکرایا اور اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی بائیں آنکھ میں آئی ڈراپ سے کچھ قطرے ٹپکائے۔

”صحت مبارک ہو! اینڈ ویلکم۔ یہ رہے آپ لوگوں کے پاسپورٹ۔ اس نے درازسے نکال کر اپنے سامنے چار پاسپورٹ رکھے۔ ہر پاسپورٹ میں ایک کاغذ بھی تہہ کر کے رکھا تھا۔ سب نے بڑھ بڑھ کر اپنے پاسپورٹ اٹھا لئے۔ سب نے اپنے پاسپورٹ کھولے تو ان پر عراق کے ویزے لگے تھے اور تہہ ہوا کاغذ دراصل بغداد کا ٹکٹ تھا اور سفر آج دوپہر 1 بجے سے ہی شروع ہونا تھا۔

”بغداد جانا پڑے گا، ورنہ پہلے تو ہم اربل کے ٹکٹ لیا کرتے تھے مگر کردستان کی آزادی کا ریفرنڈم ہوا تو اب کردستان ڈائریکٹ فلائٹ نہیں جاتی۔ آپ لوگ ابھی اپنے انسٹرکٹروں کے ساتھ گھر جا کر پیکنگ کر لیں۔ یہ اب آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔ ان کا اتباع آپ پر لازم ہے، کردستان میں آپ کی ٹریننگ فیصلہ کرے گی کہ میں آپ کو درجہ اول سے کس درجے تک ترقی دوں۔ یاد رکھیں طاؤس فاؤنڈیشن آپ کو وہ دے سکتی ہے جو کائنات میں آپ کو کوئی نہیں دے سکتا۔ الوداع۔“

چاروں ہی ساکت و جامد کھڑے رہے پھر نہ جانے کیسے کسی مشین کی طرح چاروں نے اسی طرح جھک کر طاؤس کو سلام کیا جیسے ابھی تھوڑی دیر قبل انسٹرکٹرز نے کیا تھااور چاروں الٹے قدم دفتر سے باہر نکل گئے۔

چند گھنٹوں بعد یہ لوگ جہاز میں عراق کی طرف محو سفر تھے۔

۔ ۔ ۔ ۔

بغداد ایئرپورٹ کے باہر ویسی ہی ایک کوسٹر کھڑی ہے جس پر طاؤس فاؤنڈیشن لکھا ہے۔ ساتھ ہی ایک عراقی فوجی کھڑا تھا۔ اس نے چاروں گلگتیوں کو دیکھ کر ہاتھ ملائے۔ کوسٹر کے ساتھ ایک کرد ڈرائیور اور طاؤس فاؤنڈیشن عراق کا نمائندہ، ارجن سوئمز کھڑے تھے۔

“Welcome to Iraq, I am Arjen Sonmez but you can call me Mashallah. We will directly lead towards Duhuk, to the Taoos Academy. Captan Maheeb of Iraq Army and His men will provide us security till the borders of Kurdish regional Govt. and then “Peshmarge” forces will take our security duty”

سفر شروع ہوا۔ سب لوگ خاموش تھے، کوئی کسی سے بات نہ کرتا تھا، ایک عراقی فوجی کوسٹر میں بیٹھا تھا جب کہ عراقی فوج کی جیپ آگے آگے چلتی تھی۔ باہر تباہ حال شہر تھا، شہر سے باہر جگہ جگہ ملبہ بنی عمارات جلے ہوئے ٹینک اور اس نوع کی چیزیں نظر آتی تھیں۔ درمیان میں ایک مقام پر عراقی فوجی وین سے اتر گیا اور ایک کرد پیش مرگہ سپاہی آ کر بیٹھ گیا اور سامنے موجود جیپ کی جگہ بھی ایک ڈبل کیبن نے لی۔ اب ارد گرد کے مناظر بھی بڑی حد تک بدل گئے۔ تباہی کے مظاہر اب نسبتاً کم نظر آتے تھے، سارے ہی وقت بہزاد صاحب کا ذہن الجھا رہا۔ وہ کیسے ٹھیک ہو گئے؟ اتنی جلدی ویزا کیسے لگ گیا۔ کارڈ پر ان کی اتنی تفصیل کیسے آ گئی، وہ کہاں جا رہے ہیں؟ یہ سب کیا ہے؟ کیوں ہے، یہ سارے ہی سوالات ان کے سر میں درد کر رہے تھے۔ ایسے میں شام ڈھل گئی۔ تھوڑی دیر بعد یہ لوگ ایک وسیع و عریض احاطے میں داخل ہوئے۔ یہ دہوک میں واقع طاؤس اکیڈمی تھی۔ یہ بڑی حد تک ایک بہت جدید جامعہ معلوم ہوتی تھی۔ اندر داخل ہونے سے قبل ان کی گاڑی اکیڈمی کے دروازے پر روکی گئی۔ سب کے کارڈ چیک ہوئے۔ اینٹری ہوئی اور گاڑی داخل ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد سب لوگ ایک میس میں موجود تھے۔ سامنے کھانے کا بوفے لگا تھا۔ چاروں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جب کہ چاروں انسٹرکٹر ایک طرف بیٹھے آپس میں ”شنا“ زبان میں باتیں کر رہے تھے۔ ایسے میں ارجن سوئمز عرف ماشاء اللہ کھڑا ہوا اور گویا ہوا۔

”ویل کم ٹو طاؤس اکیڈمی، میرے کو اردو تھوڑا آتا ہے، آپ ابھی کھانا کھا کر سو جاؤ گے، کل ٹریننگ ہو گا، آپ کھانا کھاؤ، پھر آپ کا کمرہ آپ کو دکھاتے۔ “

اس کے بعد کھانا کھایا گیا اور پھر سب کو ان کے کمروں کی طرف بھیجا جانے لگا، ایسے میں ارجن سوئمنز بولا۔ ”ایک بات اور۔ ۔ اس جگہ آپ گھومنا لیکن آپ اکیڈمی سے باہر نہیں جا سکتے اور اکیڈمی کے بیچ میں جو عمارت ہے، بالکل بیچ میں، وہ ”ہفت سر“ ہے وہاں آپ غلطی سے بھی۔ ۔ غلطی سے بھی مت جانا، غلطی بھی نہیں۔ “ یہ بولتے ہوئے ارجن سوئمز جیسے خود بھی خوف سے کانپ گیا۔ ”ٹھیک ہے، ابھی کمرے میں آرام کرو۔ “

بہزاد صاحب کو جو کمرہ ملا یہ بالکل کسی 5 ستارہ ہوٹل کے کمرے کی طرح تھا۔ اس میں دیوار پر LED ٹی وی لگا تھا۔ زمین پر بہترین قالین بچھا تھا۔ فرج تھا، انہوں نے جب فرج کھولا تو اس میں شراب کی دو بوتلیں (اسکوچ اور وڈکا) اور کئی بیئر کے کین اور بہت ساری کولڈ ڈرنگ کی بوتلیں بھری تھیں۔

ٹی وی پر عربی چینل، ہندوستانی چینل، پاکستانی چینل، سب کچھ ہی آ رہا تھا۔ انہوں نے فرج سے وڈکا نکالی اور ایک پیگ بنایا۔ وہ ان کے حلق کو جیسے کاٹتی ہوئی اندر گئی۔ انہوں نے بہت دن بعد پی تھی۔ وہ بہت تھک گئے تھے، جلد ہی سو گئے۔ صبح 7 بجے ان کے دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر انسٹرکٹر کھڑا تھا، اس نے ان کو جلدی سے تیار ہو کر کانفرنس روم میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ یہ وہاں پہنچے تو ان کو معلوم ہوا کہ بس یہ چار ہی نہیں وہاں تو کوئی 100 سے زیادہ لوگ موجود ہیں جو الگ الگ ملکوں کے رہنے والے، الگ الگ رنگ و نسل کے لوگ ہیں، صبح سویرے سے لیکچر شروع ہوئے جن میں جدید فلسفہ، نفسیات، سیکیولرازم، جمہوریت اور اسی نوع کے موضوعات چلتے رہے، پھر ناشتے کا بریک ہوا، پھر لیکچر چلتے رہے۔ پھر کھانے کا بریک ہوا اور یوں رات تک یہ سلسلہ چلا۔ رات کے کھانے کے دوران انسٹرکٹر اپنے اپنے طلبہ پر چپک جاتے اور خوب سوال پوچھتے کہ آج کے لیکچر میں انہوں نے کیا کیا سیکھا اور اس کے بعد کمروں میں بھیج دیا جاتا۔ یوں سات دن گزر گئے۔ اب بہزاد صاحب کے حواس تھوڑے بحال ہونا شروع ہوئے۔ انہوں نے سوچا کہ وہ آخر کس چکر میں پھنس گئے ہیں؟ یہ سب کیا ہے بھلا؟ ان کا بڑی شدت سے دل چاہا کہ وہ واپس اپنے گھر چلے جائیں مگر ایک تجسس ان کی جان لئے جا رہا تھا کہ اکیڈمی کے درمیان میں جو عمارت بنی ہے(جس کا نام ”ہفت سر“ ہے) وہ کیا ہے؟ انہوں نے فیصلہ کیا کہ آج رات وہ وہاں ضرور جائیں گے۔ چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو۔ وہ رات کے تین بجنے کا انتظار کرتے رہے۔ انہوں نے بہت پہلے اپنے گھر کے چوکیداروں کا مشاہدہ کر کے یہ اندازہ لگایا تھا کہ رات کے تین بجے تمام ہی چوکیدار سو جاتے ہیں۔ وہ جاگتے رہے اور ایک بڑا پیگ وڈکا پی تا کہ ہمت بڑھے۔

رات کے تین بجے وہ دبے پاؤں اپنے کمرے سے باہر نکلے اور چلتے ہوئے کوریڈور میں پہنچے۔ واقعی یہاں پر ریسیپشن پر بیٹھا کرد لڑکا سو رہا تھا۔ وہ تیزی سے چلتے ہوئے اکیڈمی کے مرکز میں بنی عمارت ”ہفت سر“ پہنچے، عمارت کے دروازے شیشے کے تھے جن میں لاک لگے تھے، انہوں نے عمارت کا چکر کاٹا تو اس کے عقب میں ان کو نظر آیا کہ ایک گاڑڈ بینچ پر لیٹا سو رہا ہے، اس کی بیلٹ میں چابیوں کا ایک گچھا نظر آیا۔ بہزاد صاحب نے بڑی احتیاط سے چابیاں اٹھا لیں اور دوبارہ دروازے پر آئے۔ چابیاں ایک کے بعد ایک دروازے میں لگائیں اور ایک چابی سے دروازہ کھل ہی گیا۔ وہ تیزی سے اندر داخل ہوئے۔

یہ عمارت بہ مشکل 400 گز کی تھی۔ دراصل یہ ایک میوزیم تھا۔ ہر طرف دور قدیم کی اشیاء شیشے کی الماریوں میں رکھی تھیں۔ عمارت ہشت پہلوی (Hexagonal) تھی اور اس کے بالکل وسط میں ایک تکون پلیٹ فارم تھا جس پر ایک منبر بنا تھا جس کی سب سے اوپر والی سیڑھی پر ایک موٹی سی سیاہ کتاب رکھی تھی۔ بہزاد صاحب کو لگا کہ بس یہی وہ کتاب ہے جو دراصل اس عمارت کے مرکز میں ہے تو یہ ہی یقینی طور پر سب سے اہم چیز ہے۔ وہ تیزی سے اس پلیٹ فارم پر بنے منبر تک گئے۔ یہ ایک فٹ لمبی اور دو فٹ چوڑی کتاب تھی جس پر سنہری الفاظ میں مصحف ریش The Black Book لکھا تھا۔ بہزاد نے کتاب کھولی۔ اس کے ہر پنے پر دو تین تصاویر چھپی تھیں اور ہر تصویر کے نیچے تفصیل کرد زبان اور انگریزی میں درج تھی۔ اس کتاب کی ورق کردانی سے بہزاد پر القا ہوا کہ ملک طاؤس ہی مصر کے خداؤں میں ”او سائرس“ اور ہند میں ”مرگن“ تھا، اس کی ہی پوجا آسمان جاویدان کے ماننے والے ٹینگری مذہب والے بھی کرتے تھے، وہی نمرود کے کان میں کہہ گیا تھا کہ ”تم خدا ہو“ اور اس سے قبل اس نے ہی آدم کی اولادوں کو قتل کرنا سکھایا تھا۔ اس نے سمیری تہذیب والوں کو ”زغارت“ بنانا سکھایا تھا ار مصر کے اہرام بھی اسی نے بنوائے تھے، ملکہ صبا کا تخت طاؤس بھی اسی کا ملکہ کو تحفہ تھا اور شاہ جہاں کا تخت طاؤس بھی اسی کی اختراع تھی۔ اسی نے جنگ صفین میں قرآن کو نیزوں پر اٹھا کر میدان میں لانے کا مشورہ دیا تھا اور اس سے قبل ہندہ کے دل میں حضرت حمزہؓ کی عداوت ڈالی تھی اور وحشی کے ہاتھ میں برچھا تھمایا تھا۔ وہی تھا جس نے ماچو پیچو اور دیگر قدیم تہذیبوں میں انسانوں کے زبیحے کو عام کروایا۔ وہ مہا بھارت میں بھی لڑا تھا اور اس نے ”بنی خریزا“ کو بغاوت پر اکسایا تھا۔ اسی کی وجہ سے سلمان علیہ السلام کے بیٹوں نے آپس میں جنگیں کیں اور اسی کی وجہ سے صلاح الدین ایوبی کے بیٹے ایک دوسرے سے لڑ پڑے۔ ریاست اسرائیل کا خیال دینے والا بھی وہی ہے، اسی نے اتاترک کو بغاوت پر اکسایا تھا اسی نے راسپوتین کا بھیس بدل کر روس کے دربار پر اپنی طاقت قائم کی۔ اسی نے ”مگنا کارٹا“ لکھا، کارنیولیس کو وہی ہند لایا اور اسی نے بتایا کہ کس طرح ٹیپو کو شکست دے، وہی ہے کہ جس نے ہر گوبند سنگھ کے ہاتھ میں تلوار دی۔ ۔ وہی فری میسن کی ہر مرکزی کانگریس سے خطاب کرتا ہے، یزید کا رفیق خاص دراصل یہی تھا اور مروان بن حکم نے اپنے سکے پر جو تصویر بنوائی تھی وہ بھی دراصل ملک طاؤس کی ہی تھی، حضرت عثمانؓ کو شہید کرنے جو باغی ان کے گھر میں کودے تھے ان میں ایک نقاب پوش ملک طاؤس بھی تھا اور ان کی مہر بھی اسی نے چوری کی تھی، ایوان گروزنی کے برابر میں تخت پر بھی وہی براجمان ہے، کیتھرین اعظم کا مشیر بھی وہی تھا، وہ جوزف اسٹال، ہٹلر، چرچل تینوں کے ساتھ ایک ہی تاریخ کی کھینچی تصویروں میں مسکراتا، سگار پیتا نظر آتا ہے شاہ ایران کے برابر میں وہ جس پل متفکر چہرہ بنا کر کھڑا ہے اسی لمحے میں خمینی زندہ باد کے نعرے لگاتے طلبہ کے جلوس میں سب سے آگے بینر اٹھایا ہوا نظر آتا ہے، وہ صدام کے ساتھ بھی کھڑا ہے اور بش کے ساتھ بھی، وہی چی گوارا کو بولیویا لے گیا اور اسی نے یحییٰ خان کو آپریشن سرچ لائٹ کا مشورہ دیا، وہ پرنس کریم کا ہاتھ چومتا ہے، سیدنا برہان الدین کے آگے سر جھکا کے بیٹھا ہے، محمد بن سلمان کے کان میں کچھ بول رہا ہے، وہ اندرا گاندھی کو آپریشن بلو اسٹار پر اکساتا ہے اور جرنیل سنگھ کو ڈٹے رہنے پر۔

یہ سب دیکھ کر، جان کر بہزاد کی آنکھیں حیرت اور ہیبت سے کھل گئیں، وہ پسینے سے تربتر ہو گئے، ایسے میں ان بائیں کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا۔ انہوں نے ڈرتے ہوئے اپنے پیچھے دیکھا تو ملک طاؤس کھڑا تھا اور اپنا چہرہ اوپر کر کے اپنی بائیں آنکھ میں آئی ڈراپ ٹپکا رہا تھا۔

”تم کو معلوم ہے بہزاد میں نے تم سے 35 سال قبل وہ بیمہ پالیسی کیوں نہیں خرید تھی؟ اس لئے کہ میں حیات کے سرچشمے پر بیٹھا ہوں، پاک ہے وہ رب جس نے مجھے پیدا کیا، تم یہ کتاب کبھی بھی پوری نہیں پڑھ سکتے، دس صفحات میں ہی تم تھک گئے ہو، چلو۔“

”کہاں؟‘‘ بہزاد نے شدید خوف سے کانپتے ہوئے کہا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہمارے اس ادارے کی تقریب افتتاح میں آپ لوگوں کی شرکت میرے لئے باعث افتخار ہے“ مقرر نے جذبات سے عاری صریح میکانکی طور سے کہا۔ ”یہ ٹرسٹ ملک میں مساوات اور انسانی حقوق کے لیے کام کرے گا، ہمارا مقصد ملک میں میرٹ کا فروغ ہے، ابتدائی طور پر۔۔“ تقریر جاری رہی، تھوڑی دیر بعد ایک سینیٹر صاحب نے خطاب کیا، پھر ریفریشمنٹ کھلیں اور صحافی اور مہمان ان پر ٹوٹ پڑے۔

اپنی پلیٹ میں سموسے ڈالتی ہوئی جامعہ کراچی کی ایک طالبہ نے اپنی سہیلی سے کہا ”دیکھو ابھی یہ اکیلے ہیں ابھی بات کر لیتے ہیں ناں انٹرن شپ کی۔ یار ان کے ٹرسٹ میں ہی کر لیتے ہیں ناں انٹرن شپ۔“

”ہاں ٹھیک ہے، لیکن بات تم کرنا سمجھی۔“
”چل ٹھیک ہے۔ “
دونوں ٹرسٹ کے مالک کے پاس گئیں جو اس وقت اپنی بائیں آنکھ میں آئی ڈراپ ٹپکا رہے تھے۔
”سر ہم آپ کے ٹرسٹ میں انٹرن شپ کرنا چاہتے ہیں“

ٹرسٹی نے دونوں لڑکیوں پر نظر ڈالی اور بڑے میکانکی طور سے کہا۔ ”مجھے بہت خوشی ہے کہ نوجوان اتنا اچھا ریسپانس دے رہے ہیں، آپ کو ڈاکٹر شمیم ایاز نے بھیجا ہے؟“

”جی سر“
”ٹھیک ہے آپ انٹرن شپ فارم رہبر سے لے لیں“
”رہبر فارم کون ہن“ انہوں نے کسی رہبر سے ”شنا“ میں کلام کیا۔
”الا رہبر“
”جی سر۔ ۔ یہ رہا سر“

دونوں لڑکیوں نے فارم لئے اور دوبارہ ریفریشمنٹ کی ٹیبل کی طرف جانے لگیں کہ اچانک ایک بولی۔

”ارے ان انکل سے ان کا کارڈ تو لے لو۔“
”ہاں چلو“

دونوں دوبارہ ٹرسٹی صاحب کے پاس آئیں اور ان کا کارڈ مانگا۔
”ہاں کیوں نہیں“ ٹرسٹی نے مردہ آواز میں کہا اور اپنا ملاقاتی کارڈ ان کو دے دیا، کارڈ پر لکھا تھا۔
”بہزاد ٹرسٹ۔ ۔ بہزاد احمد، کنسلٹنٹ“ اور ساتھ وہی مور کا نشان بنا تھا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مارچ 2018۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20