خواتین کارڈ اور سوشل میڈیا ‎‎‎——– محمد شافع صابر

0

’’دو مہینے قبل سوشل میڈیا پہ دو خبروں کا نہایت چرچہ رھا، دونوں خبریں جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی گئیں، دونوں واقعات میں جانبداری کی شرح موجود تھی سو لوگوں نے قدرے دلیلوں اور وضاحتوں سے اپنا موقف بھی بیان کیا، کچھ نے بس جلتی میں تیلی کا کام کیا، پہلی خبر یہ تھی کہ اداکار اور سنگر محسن عباس حیدر نے اپنی بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا، زدوکوب کیا ہے اور پھر عوام کے سامنے جھوٹی قسموں اور دلیلوں سے یہ واضح کیا ہے کہ وہ عورت ذات کی ہتکِ عزت کا سوچ تک نہیں سکتے۔ دوسری خبر کے مطابق مشہور کرکٹر امام الحق نے کچھ لڑکیوں کو نازیبا پیغامات بھیجے ہیں انکو ہراس کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان دونوں خبروں پر ٹوئیٹر پر ٹرینڈز چلے اور لاتعداد میمز بنے جو خالصتا عوامی ردعمل تھا جو کہ ہر سوشل میڈیا ایپ پر کئ دنوں تک وائرل رہے۔ ان دونوں خبروں کا بعد میں کیا ہوا، کوئی کچھ نہیں جانتا خدا جانے اک گردوغبار کا طوفان اٹھا اور کہاں چلا گیا۔ سوشل میڈیا بھی اس بارے میں اب کافی حد تک خاموش ہے”

پچھلے چند سالوں سے سوشل میڈیا ہماری زندگیوں کا ایک اہم جزو بن چکا ہے۔ ہماری خوشی غمی کا اعلان اب سوشل میڈیا پر ہوتا ہے۔ لڑائیوں نے بھی سوشل میڈیا تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ جب تک ہم اپنی روزمرہ زندگی کا اعلان اس سوشل میڈیا پہ نہیں کرتے، ہمیں سکون نہیں ملتا۔ سوشل میڈیا کے جہاں بےشمار فائدے ہیں تو اس کے نقصان بھی کچھ کم نہیں۔ مثال کے طور پر، آپ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے کسی پر بھی الزام لگا سکتے ہیں، کسی کی عزت اچھال سکتے ہیں، اور اس انسان کی عزت اتروانا اتنا آسان ہے جتنا کہ پانی سے گلا تر کرنا، کسی بھی انسان کو ان بدنامیوں کی رسوائیوں میں دھکیلا جا سکتا ہے، جس سے واپسی ناممکن ہوتی ہے اور آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا اسکو آزادئ رائے میں گردانا جائے گا، کیونکہ آپ ایک آزاد ملک کے ایک آزاد شہری ہیں ہمیں چاہے پورے حقوق نا ملتے ہوں، چاہے ہمیں سیاسی اور سماجی شعور نا ہو مگر ہم سرجھاڑ، منہ پھاڑ دوسروں کی عزت اتارنے میں پیش پیش ہوتے ہیں

وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں بھی کافی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ ماضی کی نسبت اب زندگی کے ہر شعبے میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں اور تو اور کچھ شعبوں میں مردوں سے کافی آگے نکل چکی ہیں جو کہ ایک نہایت خوش آئند بات ہے۔

ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ایک چیز ہمارے معاشرے میں پنپ چکی ہے وہ ہے “خواتین کارڈ”۔ پہلے ہم سنتے تھے کہ یہ مردوں کا معاشرہ ہے مگر اب یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ہم خواتین کے معاشرے میں جی رہے ہیں، جہاں عورت کو اک نہاہت معطر اور پاکیزہ شے کا درجہ حاصل ہے۔ بلاشبہ معاشرے میں عورت جنس کا استحصال ہوتا ہے مگر ہم انکی نام کی مالا جپنے میں اسقدر مشغول ہو جاتے ہیں کہ ہمیں باقی اصناف پہ ہونے والی زیادتیاں اور ستم بھول جاتے ہیں۔

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں خواتین کو ایک خاص قسم کا ’’privilege‘‘حاصل ہے۔ جس کے مطابق عورت کی عزت کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر اکثر مرد اپنی جگہ خواتین کو اسی ’’privilege‘‘ کی وجہ سے دیتے ہیں، کسی لائن میں کھڑی ہوں، بل جمع کرانا ہو یا کوئی ایسے حکومتی امور ہو، ان سب خواتین کو مردوں پہ فوقیت دہ جاتی ہے۔ اس privilege یاخصوصی حقوق کی اور بھی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود مظلوم عورت ہی ہے۔ اگر عورت اور مرد کے درمیان کوئی مسئلہ ہو جائے تو ہم بنا کچھ سوچے سمجھے یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ عورت صیح ہے اور مرد غلط۔ اکثر ہی ہم لوگ سطح سمندر دیکھ کر اسکی گہرائی کا اندازہ لگاتے جبکہ معاملے کی درست جانچ کے لئے اسکے نہاں خانوں میں جھانکنا پڑتا ہے۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو ملتے ہیں اور یوں دوستی ہوتی ہے۔ نمبرز کا تبادلہ ہوتا ہے۔ باتیں ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ ایک دوسرے سے رابطہ ہوتا ہے۔ اکھٹے کھانے کھائے جاتے ہیں۔ لیکن جب بریک اپ ہوتا ہے اصل کھیل تب شروع ہوتا ہے۔ وہ جو لڑکا لڑکی کی پہلے دوستی ہوتی تھی اب وہ “harassment” کہلاتی ہے۔ ایک دوسرے کے تمام کانفیڈنشیلز نظروں کے سامنے پست ہو جاتے ہیں اور کسی کوڑے دان کہ نہیں تو سوشل میڈیا پہ انکی نمود کی جاتی ہے۔ ان دونوں فریقین کی جو پہلے frankness ہوتی تھی اب وہ physical abuse کہلاتی ہے۔ جب تک لڑکا اور لڑکی راضی تھے تو سب کچھ پرفیکٹ تھا، اب اگر دونوں میں سے کسی ایک کا دل بڑھ گیا تو لڑکا ولن ہو گیا۔ مطلب یہ کہ جب تک لڑکی کو پسند تھا سب ٹھیک تھا، اب اسے نہیں پسند تو یہ’’harassment‘‘ہو گئی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ پھر جو کچھ کیا ہوتا ہے، پرانی باتوں کے کچھے چھٹے کھولے جاتے ہیں۔ وٹس ایپ/مسنیجر کی چیٹس کے سکرین شاٹس سوشل میڈیا پر شائع کیے جاتے ہیں۔ ساتھ لڑکی کے آنسو شامل ہو جائیں تو سونے پہ سہاگا۔ اب سارا سوشل میڈیا اس لڑکے کے خلاف، چاہے وہ بی قصور ہو۔

اب شروع میں دی گئی دو خبروں کو ہی لے لیجئے۔ ان لڑکیوں نے امام الحق پر ’’harassment‘‘ کا الزام لگایا۔ انکی وٹس ایپ چیٹس کہ سکرین شاٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے۔ لیکن یہ harassment تب کہاں تھی جب دونوں کے مابین تعلقات شروع ہوئے تھے؟ یعنی جب لڑکی رضامند تھی تو سب کچھ نارمل تھا لیکن جیسے ہی امام نے شادی سے منع کیا وہ harassment بن گئی۔ دوسری خبر کو لیں، جس کے مطابق گلوکار حیدر عباس نے اپنی بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک لمحے کے لئے اس بات کو سچ مان لیتے ہیں۔ مگر اسی بیوی کے بقول حیدر عباس انکو ایک سال سے تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا تو ایک سال خاموشی کیوں؟ جو پریس کانفرنس اب کی وہ سال پہلے نہیں ہو سکتی تھی؟ بات تو ایک سال پرانی تھی تو الزام اب ایک سال بعد کیوں؟ یہ بات اب کہاں تک پہنچی؟ گلوکار عمران نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ کہا کہ کاش کوئی NGO مردوں کے حقوق کے لئے بھی ہوتی۔

ان خبروں میں دوسری رائے کی ضرورت پیش ہی نہیں آئی کیونکہ مظلومیت کا نوبل ایوراڈ خاتون کے پاس ہے اس میں سراسر مرد قصوروار ہے۔ پہلے پہل عورت پہ ظلم کرتا ہے پھر خود اپنے ناپاک ارادوں سے اسکو مظلوم کہلواتا ہے۔ عورت کی اب فطرت بن چکی ہے کہ وہ ایڈوانٹیج لیتی ہے اسکا۔ انگریزی میں اک ٹرم ہے ’’ playing the victim Card‘‘ جو عورتیں کھیلنے میں خاصی طاق ہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لڑکا / لڑکی، مرد/عورت کی لڑائی میں ہمیشہ قصوروار لڑکے کو ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے؟ کیا لڑکی قصوروار نہیں ہو سکتی؟ کیا لڑکی ہر غلطی سے مبرا ہے؟ ہم میں سے دودھ کا دھلا کون ہے۔ یہاں کون غلطی اور گناہ سے بیگانہ ہے؟ عورت کو یہ حق کس قانون نے دیا ہے کہ وہ جب چاہے کسی بھی لڑکے پر الزام لگا دے اور خواتین کارڈ استعمال کر کے سوشل میڈیا کو اپنا ہمنوا بنا لے؟

ہمارے ملک میں اس وقت خواتین کے حقوق کے لئے بےشمار NGO’S کام کر رہی ہیں۔ کیا کوئی NGO مردوں کے حقوق کے لئے کبھی کام کرے گی؟ یہی خواتين کے حقوق کے کام کرنے والی NGO’s ایسے مسائل پر جلتی پہ تیل ڈال کے تصویر کا ایسا رخ دکھاتی ہیں جو دکھنے میں تسلی بخش مگر اندر سے آپکی جڑیں سکھا دینے والا ہوتا ہے۔

میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ مرد کی غلطی نہیں ہو سکتی۔ کچھ جگہ پر مرد بھی قصوروار ہوتے ہوں گے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ہر جگہ مرد ہی قصوروار ہو اور عورت ہر غلطی سے مبرا ہو۔ تالی بےشک دو ہاتھوں سے بچتی ہے پھر ایک ہی ہاتھ پر سارا الزام دھر دینا کہاں کا انصاف ہے؟

اب اس مسئلے کا حل کیسے نکالا جائے۔ یہ مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں۔ سب سے پہلے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنا ہو گا، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جب بھی کسی کا دل چاہا، منہ اٹھا کر سوشل میڈیا کے زریعے دوسرے پر الزام لگا دیا۔ سوشل میڈیا ان سکرین شاٹس اور میمز پر پابندی لگائےجو کہ خاص کسی انسان کہ نفس کشی کرتی ہوں۔ سوشل میڈیا اپنا رپورٹنگ سسٹم درست کرے تاکہ بروقت اس پہ عمل ہو سکے۔

ہمیں لڑکے اور لڑکی کے درمیان frankness اور harassment کے درمیان فرق کرنا ہو گا۔ یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر وقت مرد قصوار نہیں ہوتا کبھی غلطی عورت کی بھی ہو سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پہ ہونے والے واقعات کا عدالتیں ازخود نوٹس لیں۔ سائبر کرائم ونگ ایسے کالے کرتوتوں کو چن چن کے لوگوں کے سامنے لائے تاکہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو اور وہ کسی کو سکرین شاٹ کے ساتھ کھلونا نہ بنائیں۔ نا ہی خواتین کو اسکی اجازت دی جائے کہ وہ عورت کارڈ کو استعمال کر کے دوسرے کی عزت اچھال دے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف عورت ہی قابل عزت ہے تو یہ سراسر غلط ہے۔ ہمیں مرد کی عزت کا بھی خیال کرنا ہو گا۔ اللہ نے ہمیں برابر کے حقوق کے ساتھ پیدا کیا ہے کیوں نا ہم اس کے فیصلے کی تابعداری کر کے دکھائیں۔

مرد کی ذات بھی اتنی ہی قابل عزت ہے جتنا کہ عورت کی۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا آپ جب چاہیں اسے بے عزت کر دیں۔ ہمیں اس خطرناک ٹرینڈ کی بھی حوصلہ شکنی کرنی ہو گی۔ جہاں پر عورت غلط ہے ہمیں اسے غلط کہنا ہو گا۔ اگر وہ قصوروار ہے تو اسے قصوروار قرار دینا ہو گا۔ معاشرے میں بڑھتے ہوئے خواتین کارڈ کو کم کرنا ہو گا۔

عورت اور مرد ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ہمیشہ ایک ہی پہیہ کی خرابی ہو. کبھی کبھار دوسرا پہیہ بھی خراب ہو سکتا ہے۔

رشتے وہی ہی کامیاب ہوتے ہیں جو باہمی عزت پر مبنی ہوں۔ رشتے نا تو جھوٹ کی بنیاد پر کھڑے رہ سکتے ہیں اور نا ہی بنا باہمی عزت کے پنپ سکتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ’’give respect & take respect‘‘۔ اگر آپ عزت نہیں دیں گے تو آپکی عزت کوئی نہیں کرے گا۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ یا تو اپنے عمل سے اپنی عزت میں اضافہ کر سکتے ہیں یا جھوٹا الزام لگا کر کسی دوسرے کی عزت اچھال سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حقوق نسواں کی بھیانک تصویر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید مظفر الحق
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: