میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں ‎‎——– محمد شافع صابر

0

میرے سامنے ابھی روزنامہ جنگ کے اندرونی صفحے پر چھپی ایک چھوٹی سی خبر ہے، خبر یوں ہے “ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے بس ہوسٹس قتل مقدمے میں گواہوں کے منحرف ہونے پر، قاتل کو بری کر دیا”۔

اس خبر کو پڑھنے کے بعد، تقریباً سال پہلے ہونے والا حادثہ میری یادداشت میں تازہ ہو گیا۔ واقعہ یوں تھا “مقتول بس ہوسٹس (میری یادداشت کے مطابق، اس کا نام مہوش تھا)، کو بس اسٹینڈ کا ایک سیکورٹی گارڈ پسند کرتا تھا (گارڈ کا نام یاد نہیں)، مہوش کے منع کرنے پر، اس نے مشتعل ہو کر، اس پر فائرنگ کر دی۔ جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی، پولیس نے گارڈ کو اسی وقت اپنی حراست میں لے لیا۔

اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی بنی۔ جب یہ واقعہ وقوع پذیر ہوا تو یہ سوشل میڈیا کا ہاٹ ٹاپک تھا۔ ہر سوشل میڈیا یوزر نے اس سی سی ٹی وی فوٹیج کو شئیر کیا، اخبارات نے اس خبر کی سرخیاں لگائیں، میڈیا میں بریکنگ نیوز چلی، جسٹس کے ٹرینڈز چلے۔خواتین کے حقوق کے لیے NGO’S نے بھی کافی احتجاج کیا۔امید تھی اس کے قاتل کو معزز عدالت ضرور سزا دے گی، لیکن سال گزرنے کے بعد، جج صاحب نے ملزم کو باعزت رہائی دے دی۔

اس سارے واقعہ کو قریب سے دیکھا جائے تو جو تلخ حقیقت عیاں ہوتی ہے وہ قابلِ افسوس ہے۔ سب سے پہلی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم تماش بین قوم ہیں۔ ہمیں واقعات اور حادثات کو اچھالنا اچھا لگتا ہے، جیسے ہی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، ہم اس کی اچھی طرح تشہیر کرتے ہیں، انصاف کے لیے ٹرینڈز چلاتے ہیں، ایک دو مہینے خوب میلہ لگاتے ہیں اور پھر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا، بحثیت قوم ہمیں hype create کرنا اچھا لگتا ہے۔ اسی کمزور یادداشت کی وجہ سے ہم اہم سے اہم حادثات کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔

دوسری تلخ حقیقت، ہمارے نظام عدل کی ناکامی ہے۔ جہاں سالہاسال مقدمات چلتے ہیں، لیکن فیصلے ہی نہیں ہوتے۔ عدالتی انصاف کے لیے لوگوں کی نسلیں بوڑھی ہو جاتی ہیں لیکن فیصلہ نہیں آتا۔ اگر بیچ میں گواہ منحرف ہو جائے تو خواہ سی سی ٹی وی فوٹیج واضح بتا رہی ہو لیکن جج صاحب ملزم کو باعزت بری کر دیتے ہیں۔

تیسری تلخ حقیقت، جو سب سے زیادہ افسوناک ہے وہ ہے “عورت کو کام نہ کرنے کی آزادی ” ہے۔ ہم جس معاشرے میں زندہ رہے ہیں، اس میں اکیسویں صدی میں بھی عورت کے کام کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ جب بھی عورت، اپنے خاندان کی کفالت کا بیڑا اٹھاتی ہے، ہم اس کی راہ میں دشواریاں پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اب اس واقعے کو ہی لے لیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ مہوش کے گھر کے حالات کیا تھے۔ اگر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ حالات اتنے اچھے نہیں ہوں گے تو وہ بس ہوسٹس (اس نوکری کو ہمارے معاشرے میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا) جیسے شعبے میں آئی۔ یوں وہ اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کر رہی تھی کہ یہ حادثہ ہو گیا۔

اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ لوگ ان بس ہوسٹسز کو بلاوجہ تنگ کرتے ہیں۔ بار بار بیل بجا کر ان پر حکم چلاتے ہیں، جیسے ہی وہ سیٹوں کے درمیان سے گزرتی ہے تو جان بوجھ کر ہاتھ اور ٹانگیں باہر نکال لیتے ہیں۔ان پر ذومعنی فقرے کستے ہیں، اگر کھانے کی کوئی چیز پسند نہ آئے (جو ٹریول کمپنی دیتی ہے) اس کا غصہ بھی ان پر نکلتا ہے۔ اگر وہ آگے سے جواب دے دے تو ہماری انا مجروح ہوتی ہے اور پھر ہم اس کے رویے کے خلاف شکایت بھی کر دیتے ہیں۔

سب سے زیادہ افسوناک حقیقت یہ ہے کہ ہم آج بھی عورت پر حکمرانی کرنا چاہتے ہیں۔وہ کیا کھائے، کیا پہنے کہاں جائے، کیا کام کرے، ہم ان سب کاموں میں اس پر حکم چلانا چاہتے ہیں۔ ہم اس کو اپنی باندی بنانا چاہتے ہیں. جو ہماری حکم عدولی کا سوچے بھی مت، اگر نہیں مانے گی تو اس کا انجام مہوش جیسا ہو گا۔

ہم انسانوں کے معاشرے میں عورت سے حیوانوں سے بھی بدتر سلوک کر رہے ہیں۔ہمارا بس چلے تو وہ سانس بھی ہم سے پوچھ کر لے۔ ہم اس سے اس کی آزادی سلب کرنے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔

ہمارے لیے عورت کی ہاں /ناں، پسندیدگی/ ناپسندیدگی، محبت/ نفرت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس افسوسناک واقعہ میں باڈی گارڈ مہوش کو پسند کرتا تھا، لیکن وہ اسے پسند نہیں کرتی تھی، اسکے ایک انکار نے باڈی گارڈ کے اندر کا نام نہاد مرد جگا دیا، جس نے سب کے سامنے اسے فائرنگ کر کے قتل کر دیا اور یہ پیغام دیا کہ تم تو عورت ہو، ایک مرد کو انکار کرنے کی تمھاری ہمت کیسے ہوئی۔

ایک سال پہلے جب یہ واقعہ رونما ہوا تھا، تو میں کافی پرامید تھا کہ مہوش کے قاتل کو سزا ضرور ملے گی اور اسے دوسروں کے لیے نشان عبرت بنایا جائے گا تاکہ دوبارہ کسی کو ایسی غلطی کرنے کی ہمت نا ہو۔لیکن میں غلط تھا۔۔اس جعلی نظام انصاف سے وابستہ میری امیدیں غلط تھیں۔ میری یہ سوچ غلط تھی کہ اگر قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہو، تو قاتل کھبی نہیں چھوٹ سکتا۔ مجھے یہ غلطی قبول کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں نے اس نظام عدل سے مہوش کے لیے انصاف کی امید لگائی تھی۔ مجھ جیسے اناڑی کو کہاں معلوم تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ہوتے ہوئے اگر گواہ منحرف ہو جائیں تو قاتل چھوٹ جاتے ہیں۔ ہمارے نظام عدل کی ناکامی کی اس سے بڑی مثال کوئی نہیں ہو سکتی۔

پتہ نہیں اور ایسے کتنے واقعات ہوتے ہوں گے جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہوں گے۔ میری تمام احباب اختیار خصوصاً عدالت عالیہ سے درخواست ہے کہ اس کیس کو دوبارہ سنا جائے، مہوش جیسی اور کتنی عورتوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا کہ انہیں انصاف ملے۔

یہ جو خواتین چھوٹی موٹی نوکریاں کرتی ہیں، یہ زیادہ تر وہ ہوتی ہیں جن کے گھر والے ان پر منحصر ہوتے ہیں، بجائے اس کے ہم ان سے عزت اور احساس سے پیش آئیں، ہم ان سے بدتمیزی کرتے ہیں، انکو ہراس کرتے ہیں۔ہم انکو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم ان سے superior ہیں، کیا کھبی ہم نے غور کیا کہ ہم اپنے اس مغرور رویے سے کتنے لوگوں کے احساسات مجروح کر رہے ہیں؟ ہم انہیں کتنا دکھ پہنچا رہے ہیں۔

ہمیں بحثیت قوم اپنے رویوں میں نظرثانی کرنی ہو گی۔ہمیں عورت کو کام کرنے کی آزادی دینی ہو گی۔عورت کو یہ حق دینا ہو گا کہ وہ اپنے فیصلے خود کرے۔ہمیں مہوش جیسی ورکنگ لیڈیز کو تحفظ دینا ہو گا، بلکل ویسے ہی جیسے ہم اپنی بہنوں، بیٹیوں کو دیتے ہیں۔ اگر ہم انہیں تحفظ نہیں دیں گے، انکے ساتھ عزت اور احسان کے ساتھ پیش نہیں آئیں گے تو ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے۔

مہوش کے قتل کیس کا دوبارہ ٹرائل ہونا چاہئے تاکہ ملزم کو کڑی سزا سنائی جا سکے ورنہ مہوش کی روح ہم سے چیخ چیخ کر یہ سوال کرتی رہے گی اور ہمارے منصفوں اور ضمیروں کو جھنجورتی رہے گی۔۔

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: