امیدوں کا چراغ‎ ——– سلمان نسیم شاد

0

سردیوں کی یخ بستہ رات ہے گھڑی کی سوئیوں میں 12 بج رہے ہیں۔ وہ اپنی موٹر سائیکل پر سوار فیڈرل بی ایریا سے نکلتا ہوا واٹر پمپ اور پھر کریم آباد کا پل عبور کرتا ہوا کسی بے نام منزل پر روانہ ہے۔ ہلکی بارش کے بعد موسم اور بھی سرد ہو چکا تھا اور پورا شہر بارش کے بعد تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ رات گئے تک کھلنے والی دوکانیں و بازار بھی بند ہو چکے تھے یا کچھ دوکاندار موم بتی کی روشنی میں اپنا سامان سمیٹ کر دوکان بند کر رہے تھے۔ راستے میں کہیں کہیں مونگ پھلی کے ٹھیلے والے بھی واپسی کے سفر پر روانہ تھے۔ بارش کی وجہ سے آج کڑاکے کی سردی تھی۔ مگر وہ ان سب سے بے نیاز جینز کی پینٹ اور ایک معمولی ٹی شرٹ میں ملبوس چلا جا رہا تھا۔

مگر سردی اور بھوک کے احساس سے بہرہ مند وہ کسی بے نام منزل پر چلا جا رہا تھا۔ تین ہٹی کے قریب اس نے اپنی موٹر سائیکل روک کر اپنی پتلون کی جیبیں ٹٹولنی شروع کی۔ شاید وہ اپنی سگریٹ کی ڈبیہ تلاش کر رہا تھا۔ مگر پھر اسے اچانک یاد آیا کہ گھر سے نکلتے وقت اس کے پیکٹ میں وہ آخری سگریٹ تھی جسے وہ گلی کے چوکیدار کے طلب کرنے پر اس کو دے آیا تھا۔ اس نے آس پاس نظر دوڑائی مگر پان کا کوئی کیبین نظر نہیں آیا۔ کچھ لمحے سوچنے کے بعد اس نے اپنی موٹر سائیکل دوبارہ اسٹارٹ کری اب کی بار اس کا راستہ تین ہٹی سے سیدھا ٹاور کی طرف تھا۔

سخت سردی میں نا سر پر گرم ٹوپی سوئیٹر اور نا ہاتھوں میں دستانے۔ اس ہی دوران بارش پھر شروع ہوگئی اور اب اس کی شدت پہلے سے تیز تھی۔ مگر وہ اب بھی اس سے بے پرواہ اپنے سفر پر گامزن تھا۔ ٹاور پہنچنے کے بعد اس کا رخ کلفٹن کے ساحل سمندر کی طرف تھا۔ اور وہ کلفٹن سے ہوتا ہوا سی ویو تک پہنچ گیا۔ جہاں نا آدم تھا نا آدم کی ذات، ایک بھرپور سناٹا۔ قریب سے اس کو ایک بچہ نظر آیا جو اپنا پتھارا سمیٹے شاید اپنے گھر کو روانہ ہورہا تھا۔ اس نے ایک دم موٹر سائیکل کو بریک لگائے اور اس کو روک کر اس سے سگریٹ کی ڈبیہ خریدی۔ اب وہ کسی مناسب پوائنٹ کی تلاش میں تھا جہاں وہ بیٹھ کر کچھ وقت گزار سکے۔

اس ہی طرح چلتے چلتے وہ کنارہ ریسٹورنٹ کی طرف پہنچ گیا۔ وہاں بھی مکمل تاریکی تھی۔ اس نے اپنی موٹر سائیکل کھڑی کی۔ اور آس پاس نظر دوڑائی جہاں اس کو اپنے سوا کوئی نظر نا آیا۔ اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ شاید وہ ایسے ہی ماحول کی تلاش میں تھا جہاں اس کی ذات کے علاوہ کوئی دوسرا نا ہو۔ وہ ٹہلتے ہوئے اس پوائنٹ پر پہنچ گیا جس کو سمندر کاٹ کر بنایا گیا تھا۔ وہ ایک بڑی سے چٹان پر بیٹھ جاتا ہے۔ ٹھاٹیں مارتا سمندر اس کے سامنے تھا۔ دور بہت دور کسی بحری جہاز کی مدہم سے روشنی اس کو دور سے نظر آرہی تھی۔ سمندر کی تیز جوش مارتی ہوئی لہریں بھرپور شور پیدا کررہی تھیں۔ مگر وہ ان سب سے بے نیاز ان لہروں کو دیکھتا جارہا تھا۔ اس نے اپنی جیب سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی اور سگریٹ سلگھاتے ہوئے ہی اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ ۔

اب وہ ماضی کے دریچے کھولتے ہوئے اپنے بچپن میں پہنچ گیا۔ جب وہ بچہ تھا تو ماں بتاتی تھی کہ چار بیٹیوں کے بعد تیری پیدائش کے لئے ہم دونوں نے کتنی منتیں مانگیں تھیں۔ اور جب تمھاری پیدائش ہوئی تو تمھارے بابا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ انھوں نے اپنی ماہانہ تنخواہ سے ایڈوانس لیکر پورے محلے اور رشتے داروں کے لئے پلاو اور زردہ کی دیگییں بنوائیں مٹھائیاں تقسیم کی۔ پھر اس کو اپنے محنت کش باپ کی یادوں نے گھیر لیا جو ایک سرکاری ادارے میں چپراسی تھا۔ اور دفتر سے واپسی پر ماں کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے سموسے فروخت کرتا تھا۔ مگر اس ناداری کے باوجود اس کے باپ نے تمام بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ عید تہوار پر اس کا باپ تمام بہن بھائیوں کو نئے کپڑے جوتے دلاتا مگر اپنے لئے کبھی ایک بنیان خریدتے ہوئے اس نے اپنے باپ کو نہیں دیکھا۔

گلی کے نکڑ پر رحمت چاچا کی دوکان تھی جہاں سے ہمارے گھر ادھار کا راشن آیا کرتا تھا۔ ہمیں دو ہفتے میں گوشت ملا کرتا تھا ورنہ زیادہ تر دال و سبزی پر گزارا ہوتا تھا۔ ماں کے ہاتھ کی ارہر کی دال چاول ہم سب بہن بھائی بہت شوق سے کھایا کرتے تھے۔ پرانی فلم اس کے دماغ کے اسکرین پر چل رہی تھی۔ اور ایک ایک کرکے وہ سب یاد کیے جارہا تھا۔ اس کے گریجویشن مکمل کرنے سے پہلے ہی اس کا محنت کش باپ ایک حادثہ میں اپنی دونوں ٹانگوں سے معذور ہوکر اپنی نوکری سے بھی محروم ہوگیا۔ گھر میں چار جوان کنواری بہنیں ایک مفلوج باپ اور بوڑھی ماں۔ گھر میں فاقوں کی نوبت آنے لگی۔ کریانے والے چاچا رحمت جو دنیا سے رخصت ہوچکے تھے ان کے بعد ان کے بچوں نے ادھار دینا بھی بند کردیا۔ ان حالات میں اس کا پڑھائی جاری رکھنا بھی ممکن نا رہا۔ گھر کی حالت دیکھتے ہوئے ماں کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے سموسے وہ ٹوکری میں ڈال کر فروخت کرنے لگا۔ جس سے صرف دو وقت کی روٹی مل جایا کرتی تھی۔

اسے سموسے بیچتا دیکھ کر اس کے ماں باپ کی آنکھوں کی بے بسی اور آنسو صاف نظر آتے تھے جو اسے لکھا پڑھاکر بڑا آدمی بنانا چاہتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان کو اپنے بیٹے سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں کہ لکھ پڑھ کر یہ ان کا نام روشن کرے گا۔ اپنی بہنوں کی اعلی خاندان میں شادیاں کرائے گا۔ مگر ان کی امیدیں مایوسی میں تبدیل ہوگئیں۔

مستقبل کے اندیشوں میں گھرا اس کا باپ اپنی زندگی کی جنگ ہار گیا۔ اس سے اپنے امیر رشتے داروں کے روائیتی وعدے بھی یاد آئے جو انھوں نے باپ کے انتقال والے دن، بھرے محلے میں اس کی ماں سے کیئے تھے۔ مگر تین دن بعد ان رشتے داروں عزیز و اقارب نے اپنے راستے ہی تبدیل کرلیے۔ بچپن سے لیکر جوانی تک کی ایک ایک فلم اس کی آنکھوں کے پردے پر چل رہی تھی۔ اس دوران اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور ایک اور سگریٹ سلگائی اور سگریٹ کے دھوئیں میں پھر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اسے اپنی ماں کی آنکھوں کے آنسو۔ جوان بہنوں کی بے بسی ان کی ڈھلتی عمریں سب یاد آرہی تھیں۔ وہ روز صبح اٹھ کر دستگیر سے 5C کی بس میں سوار ہوکر نوکری کی تلاش میں نکلتا تھا۔ مگر ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ایک دو بار سرکاری نوکری کے لئے بھی اس نے درخواست دی مگر اس کے لئے بھی اس سے پچاس ہزار روپے رشوت طلب کی گئی جو اس کے بس میں نہیں تھی۔

پھر اس کی ماں بھی ڈپریشن کی وجہ سے دل کی مریضہ بن گئی۔ سرکاری ہسپتال میں اس کا علاج ہوتا رہا۔ مگر اب وہ بہت کمزور ہوچکی تھی اور بستر مرگ پر آگئی۔ ماں کی جگہ اب اس کی بہنیں اس کو سموسے تیار کرکے دیتیں جو وہ فروخت کرتا تھا۔ ۔ بیٹیوں کی ڈھلتی عمر اور مستقبل کے اندیشوںسے اس کی ماں کی طبیعت دن بہ دن مزید بگڑتی جارہی تھی۔ وہ یہ سب دیکھ رہا تھا۔ محسوس کرتا تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کے خاندان میں اس کی بہنوں کی عمر کی لڑکیوں کی نہ صرف شادیاں ہوچکیں تھیں بلکہ وہ مائیں بھی بن چکی تھیں۔ وہ یہ بھی دیکھتا تھا اس کی بہنوں کی عمر کی لڑکیاں پہننے اوڑھنے، بننے سنورنے کے کتنے شوق رکھتی ہیں۔ مگر اس کی بہنیں اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ وہ یہ سب سوچ سوچ کر تھک چکا تھا۔ شائد اس ہی لئے آنکھیں موندے وہ اس بھنور سے نکلنے کا راستہ تلاش کرر ہا تھا۔

ایک دم اس کو بیرون ملک مقیم اپنے ایک بچپن کے دوست کا خیال آیا اس نے جیب سے اپنا بوسیدہ موبائل فون نکالا اور اس کو فون ملایا۔ اور اس سے ماں کے علاج کی غرض سے کچھ پیسوں کا تقاضہ کیا۔ جو اس نے قبول کرتے ہوئے ایک ہفتے کا وقت مانگا۔ اس کی آنکھوں میں ایک دم چمک سی آگئی۔ وہ تیزی سے اٹھا اور موٹر سائیکل اسٹارٹ کری اور تیزی سے وہاں سے روانہ ہوگیا۔ اب کی بار اس کا رخ اپنے گھر کی جانب تھا۔ وہ شاہراہ فیصل ہی پہچا تھا کہ مساجد سے فجر کی اذانوں کی آوازیں آنے لگیں۔ اس نے نرسری لال کوٹھی کے سامنے موٹر سائیکل روکی اور مسجد میں داخل ہوگیا۔ وہاں اس نے فجر کی نماز ادا کری اور ہاتھ اٹھاکر رو رو کر اللہ سے دعا کری۔

وہ مسلسل استغفار پڑھتا جارہا تھا۔ مسجد سے سیدھا وہ اپنے گھر پہنچا تو دیکھا بیمار ماں چارپائی پر بیٹھی نماز پڑھ رہی ہے اور اس کی چھوٹی بہن کچن میں کل کی باسی چائے کی پتی سے چائے بنا رہی ہے۔ نماز سے فارغ ہوکر ماں نے اسے آواز دی اس سے رات بھر گھر سے غائب رہنے کی وجہ دریافت کری، نا چاہتے ہوئے بھی اس کو ماں سے جھوٹ بولنا پڑا اور کوئی بہانہ بناکر ماں کی تسلی کرادی۔ اگلے ہی ہفتے اس کے دوست کی فون کال اسے موصول ہوئی اور اس نے پیسے ٹرانسفر کرنے کے لئے اس کا اکاؤنٹ نمبر معلوم کیا۔ مگر اس نے تو آج تک بنک کی صرف باہر سے شکل دیکھی تھی بنک اکاؤنٹ تو دور کی بات تھی۔ اس نے اپنے دوست کو حقیقت بتادی۔ اس نے اس کو تسلی دی اور کہا کوئی بات نہیں میں کسی اور طریقے سے تم کو پیسے بھیجتا ہوں۔ اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور فون بند ہوگیا۔ نیند سے اس کی آنکھیں بوجھل ہورہی تھیں تکیے سے ٹیک لگائے وہ نیند کے آغوش میں چلاگیا۔ آنکھ کھلی تو چھوٹی بہن چائے اور پاپے لیکر کھڑی تھی۔ اس نے چائے کی گھونٹ اندر اتارتے ہوئے بہن کو کہا جلدی سے سموسے تیار کرلو مجھے سموسے فروخت کرکے آج کسی ضروری کام سے بھی جانا ہے۔

ابھی وہ بہن کو یہ کہہ کر ہی فارغ ہوا تھا کہ اس کے فون کی بیل بجی کوئی نسوانی آواز تھی جو اس کو بیمہ زندگی کی پروموشن دے رہی تھی۔ اور اس کے فوائد سے آگاہ کررہی تھی۔ کہ اگر آپ ہماری مطلوبہ پالیسی لیتے ہیں تو خدانخواستہ کسی بھی حادثہ کی صورت میں ہماری کمپنی آپکے اہل خانہ کو فوری پچاس لاکھ کا چیک مہیا کردے گی۔

اور اس کے لئے آپ ہماری کمپنی کی یہ بیمہ پالیسی حاصل کریں۔ اس نے بہت بیزاری سے اس خاتون کی بات سنی اور بولا محترمہ میرے پاس کھانے کو پیسے نہیں ہیں۔ اور آپ مجھے یہ پالیسی فروخت کررہی ہیں۔ یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا اور چھوٹی بہن کو آواز دی۔ وہ فوراً سموسوں کا ٹوکرا لیکر تیزی سے بھائی کی طرف آئی اور اس کو ٹوکرا تھماتے ہوئے کہا سموسے تیار ہیں۔ منہ پر پانی مارکر وہ ٹوکرا اٹھائے گھر سے چل پڑا۔

آج اس کا پڑاؤ صدر کا ریگل چوک تھا۔ چار بجے تک اس کے سارے سموسے فروخت ہو چکے تھے۔ وہ بہت تھک چکا تھا گھر پہنچا تو بیمار ماں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔ اس نے آج کی ساری آمدنی ماں کے ہاتھوں میں رکھتے ہوئے کہا۔ آپ پریشان نا ہوا کریں۔ بہت جلد آپکی ساری پریشانیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور بہنیں بھی اپنے گھر کی ہو جائیں گی۔ بس آپ ٹینشن نا لیا کریں۔

ماں نے کمزور ہاتھوں سے اس کے ہاتھ تھام لئے اور ان کو کافی دیر تک چومتی رہی۔ اسی اثناء میں اس کی بہن نے بتایا بھیا کوئی صاحب آئے تھے اور آپ کے لئے یہ لفافہ دے کر گئے ہیں۔ اس نے بہن کے ہاتھ سے لفافہ لیکر اپنی قمیض کی جیب میں رکھ لیا۔ اپنے کمرے میں جا کر اس نے ایک ایک سگریٹ سلگائی اور تکیے سے ٹیک لگائے آنکھیں موند کر لیٹ گیا۔ اچانک اس کو اس لفافے کا خیال آیا جو اس کی بہن نے اس کو دیا تھا۔ اس نے لفافہ چاک کیا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا لفافے میں پانچ لاکھ روپے کا بنک ڈرافٹ تھا۔ جو اس کے دوست نے کسی کے زریعے اس کو بھیجوایا تھا اور ساتھ ایک مختصر نوٹ لکھا تھا کہ پہلی فرصت میں ماں کا علاج کراؤ۔

خوشی اور جذبات کی ملی جلی کیفیت میں اس نے اپنی ماں کو آواز دینا چاہی مگر یہ سوچ کر رک گیا کہیں اچانک اتنی بڑی خبر سے ماں کی طبیعت نا بگڑ جائے۔ کیونکہ پانچ لاکھ روپے ہم نے زندگی میں نہیں دیکھے تھے۔ وہ بہت خوش تھا اور خوشی سے اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہے جا رہے تھے۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور گہری سوچ میں وہ مستقبل کے سپنے بننے لگا کے اب میری بوڑھی ماں کا علاج بھی ممکن ہو جائے گا۔ چاروں بہنوں کی دھوم دھام سے شادی کراوں گا۔ بابا کی قبر پکی کرا لوں گا۔ کریانے والے رحمت چاچا کا برسوں کا ادھار چکا دوں گا۔ ماں کو چشمہ بنا کر دوں گا کیونکہ اب ان کو دور سے صحیح نظر نہیں آتا ہے۔ پھر اس نے سوچا ان سب کے بعد پیسے بچے تو ایک سیکینڈ ہینڈ گاڑی خریدوں گا۔ جس پر اپنی ماں اور بہنوں کو بیٹھاوں گا۔ اس کو وہ منظر یاد آنے لگے جب وہ خاندان کی کسی شادی کی تقریب میں جاتے تھے تھے تو اس کے چچا تایا کی فیملیز اپنی چمکتی ہوئی بڑی بڑی گاڑیوں میں جاتے تھے۔ اور ہم بہن بھائی سخت سردی میں بس اسٹاپ پر کھڑے بس کا انتظار کرتے تھے۔ اور ہمارے رئیس رشتے دار ہمیں دیکھتے ہوئے سامنے سے تیزی سے گزر جایا کرتے تھے۔ اس ہی سوچ میں اس نے گھبرا کر ایک دم اپنی آنکھیں کھول دیں اور سوچا کہ پانچ لاکھ روپے کی خطیر رقم میں کیا میں اپنے یہ خواب پورے کرسکتا ہوں۔ نہیں۔ ۔ ۔ ۔

اتنے پیسوں میں تو ماں کا علاج بھی شاید ممکن نا ہو پائے اس نے سگریٹ سلگائی اور کسی گہری سوچ میں چلا گیا۔ ۔ ناجانے اس نے کیا سوچا اور دوست کے نام ایک خط تحریر کیا کیونکہ اس کے گھر میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں تھی خط تحریر کرنے کے بعد اس کو اپنی ڈائری میں حفاظت سے رکھ دیا۔

وقت گزرتا رہا اور اس ہی طرح چھ مہینے گزر گئے۔ ۔ اس دن منگل کا دن تھا۔ صبح فجر کی آزان سے پہلے ہی وہ نیند سے بیدار ہو گیا۔ غسل اور وضو کرنے کے بعد اس نے جانماز بچھائی اور فجر کی نماز ادا کری نماز کے بعد دیر تک وہ اذکار کرتا۔ اور اللہ سے رو رو کر ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا رہا۔ اشراق تک وہ بیٹھا استغفار و درود پاک پڑھتا رہا۔ پھر اس نے جا نماز اٹھائی اور تہہ کر کے رکھ ہی رہا تھا کہ اس کی بہن ہاتھ میں ٹرے تھامے اندر داخل ہوئی جس میں چائے اور پاپے تھے۔ اس نے بڑھ کر بہن کا ہاتھ تھاما اور ٹرے اس سے لیکر ایک طرف رکھ دی۔ اور بہن کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس نے محسوس کیا اس کی بہن ایک خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوئی۔

اس نے چائے کا کپ اٹھایا اور ایک پاپا اس میں ڈبو کر کھانے کے بعد ٹرے بہن کو واپس کر دی۔ اور چائے کا کپ تھامے صحن میں پہنچ گیا جہاں اس کی بیمار بوڑھی ماں تخت پر بیٹھی قران پاک پڑھ کر ابھی ہی فارغ ہوئی تھی۔ بیٹے کو دیکھ کر اس نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔ اس نے بہن کو آواز دی جو باورچی خانے میں سموسوں کی تیاری کے لئے آلو ابالنے کے لئے رکھ ہی رہی تھی۔ بھائی کے آواز دینے پر وہ تیزی سے باورچی خانے سے نکل کر صحن تک آئی جہاں وہ اپنی ماں کےقریب تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے بہن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آج تمھاری چھٹی ہے۔ کیونکہ میں آج آرام کرنا چاہتا ہوں۔ اور سارا دن آج میں گھر پر ہی رہوں گا۔ تم ایسا کرنا دوپہر میں آج ارہر کی دال اور چاول بنا لینا۔ اور ہو سکے تو سل بٹے پر چٹنی بھی پیس لینا آج دوپہر کا کھانا ہم سب ساتھ بیٹھ کر کھائیں گے۔

اس کی اس فرمائش پر سب سے پہلے اس کی ماں اور پھر ساتھ بیٹھی ہوئی چاروں بہنوں کو حیرت ہوئی۔ کیونکہ اس سے پہلے آج تک اس نے اپنی کسی خواہش کا اظہار ان کے سامنے نہیں کیا تھا۔ وہ یہ بول کر اپنے کمرے میں چلاگیا۔ اور دراز سے پرانی تصاویر کا البم نکال کر انھیں دیکھتا رہا۔ اچانک اس کی نظر اپنے بچپن کی اس تصویر پر پڑی جو عید کے دن کھینچی گئی تھی۔ اس تصویر میں وہ سارے بہن بھائی نئے کپڑے پہنے بابا کے ساتھ کھڑے تھے۔ اور بابا پھٹے ہوئے جوتے اور استر لگے کپڑے پہنے اس کی چھوٹی بہن کو گود میں اٹھائے کھڑے تھے۔ ان کی آنکھیں نم سی ہوگئیں۔ اور پھر اس کو ماضی میں لے گئیں۔ اسے یاد آیا کہ بابا آخری دنوں میں کتنے بیمار تھے مگر وہ اپنی بیماری ہم سب سے چھپاتے تھے اور نا اپنا علاج کراتے تھے کہ ڈاکٹر کو پیسے دینے سے اچھا وہ پیسے وہ ہم بہن بھائی پر لگادیں یہ سب سوچتے سوچتے وقت کا پتا ہی نہیں چلا کہ بہن نے آکر آواز لگائی بھیا کھانا دستر خواں پر لگادیا ہے اور چٹنی بھی پیس لی ہے آپ جلدی آجائیں۔ اس نے گھبرا کر اپنی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو صاف کیئے اور تصویروں کا البم واپس دراز میں رکھا اور ہاتھ دھوکر دستر خواں پر بیٹھ گیا۔ اور کھانے سے فارغ ہوکر وہیں تخت پر سب کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اور اپنی لاڈلی چھوٹی بہن کو اس نے کہا مجھے ایک کپ قہوہ چائے بناکر جلدی سے دے دو مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔ ۔ بہن کے چائے لانے تک وہ اپنی ماں سے باتیں کرتا رہا اور ان سے کہا بہت جلد آپ کی ساری پریشانیاں ختم ہوجائیں گی۔ اور آپکی بیماری کی وجہ ہی یہ پریشانیاں ہیں اتنے میں اس کی بہن چائے کا کپ لیکر اندر داخل ہوئی۔ وہ جلدی سے اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیکر دو چار چسکیاں ہی لے پایا اور پیالی تخت پر رکھ دی۔ اور اندر کمرے میں چلا گیا۔ پھر اس اپنے دراز سے ڈائری نکالی اور اس میں اپنے دوست کے نام لکھا ہوا خط نکال کر اپنی شرٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ اور تیزی سے واپس صحن میں آکر ماں کو کسی ضروری کام کا کہہ کر وہ گھر سے نکل گیا۔

نکلنے سے پہلے بس ایک نظر اپنی ماں اور بہنوں پر ڈالی۔ پھر اس کی نظریں سامنے دیوار پر لٹکی ہوئی بابا کی تصویر پر پڑی۔ اس سے پہلے اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے وہ یہ سوچ کر تیزی سے اپنی موٹر سائکل پر سوار گھر سے نکل گیا۔ وہ تیزی سے راستہ عبور کرتا ہوا نصیر آباد پہنچا۔ وہاں ایک کوریئر سروس کے پاس اپنی موٹر سائیکل پارک کری اور اندر داخل ہوا۔ اپنی جیب سے وہ خط نکال کر اس کو لفافے میں بند کر کے کوریئر سروس والوں کے حوالے کرا ہے جو اس نے اپنے دوست کو پہلے سے لکھا ہوا تھا۔ خط پوسٹ کر کے وہ قریبی پارک میں سستانے کے لئے کچھ دیر کے لئے بیٹھ گیا۔ اور پھر کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ۔ ۔ ابھی وہ سوچ میں ہی تھا ہے کہ مساجد سے عصر کی اذان کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔ وہ تیزی سے اٹھا اور قریبی مسجد میں جاکر نماز ادا کی۔ اور نماز کے بعد آج پھر وہ گڑ گڑا رو رو کر اپنے رب سے اپنے گناہوں اور اپنے اہل خانہ کی خوشیوں لئے دعائیں مانگتا رہا۔

اب وہ تیزی سے اٹھا اور دوبارہ اپنی موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اب وہ پوری تیز رفتاری سے ایک انجانے سفر پر گامزن تھا۔ اس کی آنکھوں سے بدستور آنسو رواں تھے۔ اور زباں پر درود پاک۔ مگر اس کی آنکھیں کسی موقع کی تلاش میں تھیں۔ وہ دائیں بائیں دیکھتا تو اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اٹھی۔ اُس نے مذید رفتار تیز کر دی۔ اور آخری بار آسمان کی طرف دیکھتا ہوا اپنی تیز رفتار موٹر سائیکل پل کی ریلینگ سے ٹکرا دی۔ وہ ریلینگ توڑتا ہو پل کے نیچے چلتے ہوئے برق رفتار روڈ پر گرا اور سامنے سے ایک ٹرک نے اس کو کچل دیا۔

لوگوں کا جم غفیر لگ گیا۔ کچھ لمحے پہلے برق رفتاری سے چلتا ہوا ٹریفک رک گیا۔ اور اس کے ارد گرد جمع ہوئے لوگ اپنے موبائل فون سے اس کی ویڈیو بنانے میں مصروف ہو گئے۔ اور اس کی لاش خون میں لت پت ایک طرف پڑی تھی۔ قریب کھڑی ہوئی ایدھی کی ایمبولینس اس کی لاش اٹھاکر مقامی ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئی۔

اس ہی لمحے اس کی جیب میں رکھے فون کی بیل بجتی ہے تو ایدھی کا رضاکار لاش کی جیب سے اس کا فون اٹھا کر کانوں سے لگاتا ہے تو آواز آتی ہے “بھیا کافی دیر ہو گئی آپ گھر نہیں آئے اور ہاں آتے وقت کل کے سموسوں کے لئے آلو لیتے آیئے گا۔

جواب میں دوسری طرف سے ایدھی کا رضاکار بولتا ہے بی بی یہ آپکے بھائی ہیں؟ ان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور بہت سیریس کنڈیشن ہے آپ فوراً عباسی شہید پہنچیں۔ ایدھی کا رضا کار شائد اس کو اس کی موت کی اچانک خبر نہیں دینا چاہ رہا تھا۔ ۔ دوسری طرف سے اس کی بہن کی زوردار چیخ بلند ہوتی ہے۔ اور لائن منقطع ہو جاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایدھی ایمبولینس عباسی اس کی لاش کو ہسپتال پہنچاتی ہے۔ اور ڈاکٹرز موت کی تصدیق کر کے اس کو مردہ خانے رکھوا دیتے ہیں۔

کچھ ہی دیر میں اس کی بوڑھی ماں اور بہنیں سخت پریشانی کے عالم میں ہسپتال پہنچتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ تو ان کو اس کی موت کی خبر ملتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بوڑھی بیمار ماں وہاں ہی گر کر بے ہوش ہو جاتی ہے۔ اور بہنیں زار و قطار ایک دوسرے سے لپٹ کر بری طرح رو رہی ہوتی ہیں۔ اور بے ہوش ماں کے منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر اس کو ہوش میں لاتی ہیں ہوش میں آتے ہی اس کی زباں پر اپنے اکلوتے بیٹے کا نام آتا ہے اور وہ چیخ چیخ کر اس کو پکار رہی ہوتی ہے۔ ہسپتال میں آئے ہوئے کچھ لوگ ان کی مدد کرتے ہیں۔ اور ایمبولینس کے ذریعے میت کو ان کے گھر کے لئے روانہ کرتے ہیں۔ خاندان کے وہ لوگ بھی رسمیں نبھانے ان کے گھر پہنچ جاتے ہیں جنھوں نے کبھی ان کی طرف مڑ کے نہیں دیکھا ہوتا۔ اور آکر اپنی بڑائی دکھانے کے لئے تدفین کے سارے انتظامات سنبھال لیتے ہیں۔ اور اس کو آہوں اور سسکیوں میں یسین آباد قبرستان میں دفنا دیا جاتا ہے

وقت گزرتا گیا۔ اب اس کی دو بہنوں نے قریبی اسکول میں سموسے کی فروخت کا کام شروع کر دیا تھا۔ مناسب علاج نا ہونے کی وجہ ماں کی حالت مزید خراب ہوتی جا رہی تھی جوان بیٹے کی موت کو دو ماہ ہو چکے تھے۔ بوڑھی ماں تخت پر بیٹھی اپنی بیٹیوں کی واپسی کی راہ تک رہی تھی جو سموسے فروخت کر کے ابھی تک واپس نہیں آئیں۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی بوڑھی ماں نے اپنی کھانسی روکتے ہوئے منجھلی بیٹی کو آواز دی کہ دروازے پر دیکھو تمھاری بہنیں آئی ہوں گی۔ وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ کھولا تو دیکھا اس کے مرحوم بھائی کا دوست ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ اور اندر آنے کی اجازت طلب کر رہا تھا۔

دعا سلام کے بعد لڑکی نے اس کی ماں کو اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا ہے کہ میں مقامی بیمہ کمپنی کی مینجر ہوں۔ اور کچھ عرصے پہلے آپ کے مرحوم بیٹے نے ہماری کمپنی سے آپ کے نام کی پالیسی لی تھی۔ اور میں آپکو پچاس لاکھ روپے کا چیک دینے آئی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بوڑھی ماں نے حیرت سے اس کو دیکھا اور کہا: “بیٹا آپ کو شائد کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میرا بیٹا ایک مزدور تھا جو سموسے بیچ کر ہماری کفالت کرتا تھا۔ آپ کو یقیناً کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔” درمیان میں کھڑا اس کے مرحوم بیٹے کا دوست ایک دم کھڑا ہوا اور بوڑھی ماں کو تمام تفصیل سے آگاہ کیا کہ اس نے مرنے سے پہلے آپ کے نام کی بیمہ پالیسی لی تھی۔ جس کا اس نے مجھے بتایا تھا اور وعدہ لیا تھا کے میری زندگی میں میری فیملی کے کسی بھی فرد کو اس پالیسی کا نہیں بتانا۔

یہ سنتے ہی اس کی ماں سب سمجھ جاتی ہے۔ اور اپنے بیٹے کی زندگی کے آخری ایام کی ایک ایک بات اب سمجھ آتی ہے۔۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں ۔

بیمہ کمپنی کی لڑکی کاغذی کاروائی کر کے اس کو چیک کا لفافہ دیکر روانہ ہو جاتی ہے تو اس کے بیٹے کا دوست اپنی جیب سے ایک لفافہ نکال کر اس کی بہن کے ہاتھ میں دیتا ہے اور کہتا یہ تمھارے بھائی کی طرف سے مجھے دیا گیا تھا اور اس نے کہا تھا میری موت کے بعد میرے اہل خانہ کو دے دینا وہ خط پکڑا کر تیزی سے نکل جاتا ہے۔

ماں کانپتے ہاتھوں سے خط کھولتی ہے۔

پیاری ماں۔

مجھے معاف کر دینا میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ بہت سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ آپ جانتی ہیں آپ کے بیٹے نے نوکری کے لئے کتنی کوششیں کریں۔ مگر ناکام رہا۔ میرے وسائل بہت کم تھے اور ذمہ داریاں بہت زیادہ تھیں۔ جانتا ہوں میری موت آپ کو بہت تکلیف دے گی۔

مگر ساتھ ان پریشانیوں سے نجات مل جائے گی جو تمھاری بیماری کی وجہ ہے۔ اب میری بہنیں بھی اپنے گھر کی ہو جائیں گی اور آپ کا علاج بھی ممکن ہو جائے گا۔ اور ساتھ ہمارے وہ رشتے دار بھی ہمارے در پر لوٹ آئیں گے جنھوں نے ہماری مفلسی و غریبی کے دنوں میں اہنا راستہ تبدیل کر لیا تھا۔ ماں کریانے والے رحمت چاچا کا بل ضرور ادا کر دینا تجھے یاد ہے نہ ماں جب چائے کی پتی ختم ہو گئی تھی اور تو نے منی کو رحمت چاچا کی دوکان پر بھیجا تھا تو کس حقارت سے ان کے بیٹے نے ہماری منی کو خالی ہاتھ گھر کو بھیج دیا تھا۔ گھر آکر منی کتنا روئی تھی۔ ماں جانتا ہوں خودکشی حرام ہے۔ اور بہت بڑا گناہ ہے مگر تیرے بیٹے نے اللہ پاک سے رو رو کر اپنے اس گناہ کی پیشگی معافی مانگی ہے۔ ہو سکے تو آپ بھی مجھے معاف کر دیجئے گا۔

آپ کا پیارا بیٹا۔


سلمان نسیم شاد ایک علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں فری لانس جرنلسٹ، کالمسٹ بلاگر اور کہانی نویس ہیں۔ شہر قائد کراچی سے تعلق ہے۔
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: