ترکی شام میں کردوں سے کیوں لڑ رہا ہے؟ Megan Specia/مراد علوی

0

زیرِ نظر مضمون Megan Specia نے “دی نیو یارک ٹائم” پر Why Is Turkey Fighting the Kurds in Syria کے عنوان سے تحریر کیا ہے، جس کو مراد علوی نے قارئین کے لیے اردو کے قالب میں منتقل کیا ہے۔


ترکی شام میں کردوں سے کیوں لڑ رہا ہے؟
بدھ کے روزمشرقی شام میں ترک افواج نے طویل انتظار کے بعد کرد کی زیر قیادت جمہوریہ شام کے ملیشا پر سرحد پار حملہ کیا۔ ترکی اور کرد کے مابین تنازع کی گہری جڑیں طاقت کی مقامی حرکیات میں پیوست ہیں جس نے مفادات کے الجھے ہوئے تار عنکبوت کو وجود بخشا ہے۔ امریکہ کا ترکی اور ایس ڈی ایف (Syrian Democratic Forces) دونوں کا حلیف ہے جس نے صورتِ حال کو مزید گھمبیر بنادیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ چڑھائی کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنا اور جنوبی سرحد پر امن کا قیام ہے۔ “ایس ڈی ایف “کے سربرہان کا کہنا ہے کہ حملوں سے عام شہریوں کو خطرہ لاحق ہے، مزید برآں انھوں نے انسانیت سوز بحران سے بھی متنبہ کیا ہے۔ حملے کے مقام پر موجود گردوں نے متاثر علاقے سے اٹھتے ہوئے دھواں اور لوگوں کا دیہاتوں سے فرار ہونے کی تصاویر بھی مشتہر کی ہیں۔ موجودہ تنازع کو سمجھنے کے لیے ترکی اور کرد کے تنازع کا پس منظر جاننا از حد ضروری ہے مزید برآں ان حالات میں امریکا کردار کیا ہے۔

کرد کون ہیں؟
کرد مشرق وسطی کا چوتھا بڑا نسلی گروہ ہے۔ ایک بڑی آبادی کے باوجود یہ گروہ بے وطن ہونے کے ساتھ ہی ساتھ اکثریت پسماندہ ہے۔ کرد وں کا آبائی وطن ترکی، عراق، شام، ایران اور آرمینیا میں پھیلا ہوا ہے۔ پہلی جنگ عظیم اور سلطنتِ عثمانیہ کے سقوط کے بعد کردوں نے اپنی آزاد ریاست کے لیے آواز اٹھائی، ان سے ابتدائی معاہدوں میں کردستان کی تشکیل کے وعدے کے گئے۔ لیکن جب بالآخر خطے کی بندر بانٹ کی گئ تو ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ بعد ازاں کرد کے وطن کی تشکیل کے متعدد کوششوں کو بڑے پیمانے پر مسترد کردیا گیا۔

ترکی کردوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟
ترک قوم اور بے وطن کرد کے مابین تعلقات ایک عرصےسے ناخوش گوار ہیں۔ ترکی اپنی جنوبی سرحد پر کرد افواج کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ایک خطرہ سمجھ رہا ہے اور اردوغان کئ برس سے شمالی شام کے دروں خطہ میں فوجی مداخلت کی گھنٹی بجا تے آرہے ہیں۔درحقیقت اس تنازعہ کی جڑیں بہت گہری ہیں اور وہ ترکی کے اندرونِ خانہ تنازع میں پیوست ہیں۔ ترکی کردستان ورکر پارٹی، جس کو پی کے کے کے نام سے جانا جاتا ہے، کے ساتھ بر سر پیکار ہے، مذکورہ پارٹی نے ملک کے اندر اسّی کی دہائی کے اوائل میں علیحدگی کی مسلح تحریک چلائی، جس کی وجہ سے ترکی اور امریکہ دونوں اسے دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔ شامی سرحد کے اس پار ملیشا کی ایک شاخ، تحفظ یونٹ برائے کرد عوام، 2004ء سے سرگرم عمل ہے۔ ملیشا، جسے “وائی پی جے” کے نام سے جانا جاتا ہے، کردوں کے لیے ایک خود مختار ریاست کی تشکیل کی خواہاں ہے۔ “وائی پی جے” اور اس سے منسلک خواتین جنگو ملیشا کے لیے اہل مغرب ان کے مخالف اسلام موقف کی وجہ سے تالیاں پٹتے ہیں۔ اس روش نے بہت سے امریکیوں اور پوروپی رضاکروں کو ان کے صفوں میں داعش کے خلاف لڑنے پر آمادہ کیا۔ لیکن ملیشا سے منسلک لوگ ” پی کے کے”، کرد گروہ جس کو ترکی دہشت گرد تنظیم تصور کرتا ہے، سے گہرے روابط ہیں، اگر چہ اس کے سربراہ نے اب ان روابط میں تخفیف لائی ہے۔ شام میں خانہ جنگی کے اوائل میں ملک کے شمال میں ملیشا کو آغاز میں دروں خطہ ـــ جس کو وہ روجاوا کہتے ہیں ـــ میں امن قائم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ملیشا کے منسلک لوگ بالآخر دیگر مقامی گروہوں کے ساتھ مل کر “ایس ڈی ایف” میں شامل ہوگئے، جو شام میں داعش کے قبضے میں ایک بڑے خطے کو چھڑانے میں کامیاب ہوا اور اسی سال کے آغاز میں داعش کوشام میں اپنی آخری پناہ گاہ سے بے دخل کردیا۔ جب “ایس ڈی ایف” نے شمال مشرقی شام میں شہروں اور قصبوں سے داعش کوبے دخل ککر ے اپنا ر تسلط قائم کیا، کرد طاقت میں اضافہ ہوا۔ جیسے یہ عمل شروع ہوا تو اردغان نے بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار شروع کیا۔

اس تنازع میں امریکا کا کردار کیا ہے؟
شام میں کردوں کے خلاف ترکی آپریشن نے امریکہ کو اپنے دو اتحادیوں نے مخمصے میں ڈالا ہے۔ رواں ہفتہ صدر ٹرمپ کے فوجی انخلا کے فیصلہ نے ترکی کو شام میں اپنے فوجی بھیجنے کی سبز بتی دکھائی۔ اردوغان شام سے امریکی انخلا پر کافی عرصے سے زور دیتے آرہے ہیں، انھوں نے اسی ہفتے ٹرمپ کو ٹیلیفون پر آگاہ کیا کہ وہ “ایس ڈی ایف” کی حمایت سے دست کش ہوجائے۔

امریکا اور ترکی، جو نیٹو کے ممبر ہیں، کافی عرصے سے گہرے روابط رکھتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف امریکا اور کردوں کے باہمی تعاون کی بھی طویل تاریخ ہے۔ امریکا نے “ایس ڈی ایف” کے ساتھ اتحاد کیا اور اس کے ساتھ 2015ء میں کام کا آغاز کیا۔ کہا جاتا ہے کہ کردوں کی زیرِ قیادت گروہ داعش کے جنگوؤں کو پیچھے دھکیلنے میں بہت موثر ثابت ہوا ہے، جنھوں نے شام اور عراق میں بڑے وسیع خطے پر قبضہ کر رکھا تھا۔ یہ سچ ثابت ہوا۔

ٹرمپ کے متضاد بیانات نے امریکا کے موقف کو مزید پریشان خیالی میں اس وقت ڈالا جب اس نے پہلے اردوغان کی حمایت کی لیکن جب اپنے حلیفوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تب اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے۔

ٹرمپ نے ٹویٹر پر پیغام جاری کیا: “ہم شام چھوڑ رہے ہیں لیکن کسی بھی طرح کردوں کو، جو اہمیت کے حامل اور بہت عمدہ جنگجو ہیں، نہیں چھوڑ سکتے”۔ اس کے بعد کے پیغام میں کہتے ہیں کہ امریکا کردوں کی مالی معاونت کررہا ہے اور ترکی کو طاقت کے غیر ضروری استعمال پر متنبہ کیا۔

کیا یہ سب داعش کے لیے مفید ہوسکتا ہے؟
ممکنہ طو ر پر “ایس ڈی ایف” داعش کے عسکریت پسندوں کے زیر تسط علاقوں کو چھڑانے میں ایک موثر طاقت ثابت ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ اس نے داعش کے ہزاروں جنگوؤں اور ان کے خاندانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ لوگ اب اس علاقے میں عارضی قید خانوں میں بند ہیں جس علاقے کو ترکی نے نشانہ بنایا ہے، اگر چہ ٹر مپ ترکی کو قیدیوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے لیکن فی الحال ان کو دوسرے مقام پر منتقل کرنے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔

اگر داعش کے خود ساختہ خلافت کے زیرِ تسلط خطہ زمین چھڑالیا گیا لیکن شام ابھی بھی سکیورٹی صورتِ ابھی بھی پریشان کن ہے۔ بعض لوگوں کو یہ بھی خدشہ ہے کہ شمال مشرقی شام کے استحکام کو کمزور کرنے سے طاقت کا وہی خلا پیدا ہوجائے جو داعش کی طاقت ابھرنے سے قبل موجود تھا، جس سے اس گروہ کو دوبارہ اٹھنے کی راہ ہم وار ہوگی۔Center for Strategic and International Studies میں Cooperative Defense Project کے ڈائرکٹر ملیسا ڈالٹن کا کہنا ہے کہ داعش کے علاقی تسلط ختم ہوجانے کے باوجود بھی شام میں عسکریت پسند موجود ہیں۔ وہ مزید کہتی ہے کہ ترکی کے حالیہ حملے سے “ایس ڈی ایف” کا اپنے پرانے حریفوں سے توجہ ہٹانے کا امکان موجود ہے۔ مزید کہتی ہے کہ ایس ڈی ایف امریکا اور ان کے اتحادیوں کا ترکی پر توجہ دینے سے داعش کو فائدہ ہوگا جو بہت خطرناک ہے۔ ڈالٹن نے مزید کہا ہے کہ اسے جیل توڑنے اور قیدیوں کے اندر انتشار بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔ ڈالٹن نے یہ بھی کہاکہ یہ اصل میں تباہی کا نسخہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی کا کرد مخمصہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمیر فاروق
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: