کیا مذہبی طبقے نے ٹشو پیپر بننا قبول کر لیا ——– خرم شہزاد

0

مذہب کسی بھی معاشرے میں ایک اہم اکائی کے طور پر ہمیشہ موجود رہا ہے اور مذہبی راہنماوں کو خصوصی درجہ ملتا رہا ہے۔ اسی وجہ سے مذہبی راہنماوں کی ایک بڑی تعداد دنیا داری میں اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ ان کی مذہبی شناخت پر سوال بھی اٹھائے جانے لگے۔

یورپ میں چرچ کے عروج نے معاشرے پر سخت اثرات مرتب کئے اور اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے چرچ اور اس کے وابستگان میں حکومت کی ایسی خواہش جاگی جس پر انہوں نے سب کچھ قربان کرنا بھی مناسب سمجھا۔ بادشاہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے خلاف نہ جا سکے اور چرچ حکومت میں شراکت دار ہوئے لیکن انہوں نے اپنی حکومت میں وہ سب کیا جس کی ان سے توقع نہیں تھی۔ عوام نے دوبارہ سوچا اور پھر ایک طویل جدوجہد کے بعد آخر حکومت کو چرچ کی قید سے آزاد کروا لیا گیا۔ مسلمانوں میں بھی علما ہمیشہ سے ایک ممتاز حیثیت کے حامل رہے ہیں اور ان کے ایک اشارے پر لاکھوں لوگوں کا جمع ہونا ایک عام بات رہی لیکن افسوس کہ امت مسلمہ پر جب بھی کوئی سخت وقت آیا، علما کا کردار اس وقت ان کے اپنے مقام کے شایان شان نہ تھا۔ تاتاری لشکر بغداد کی دیواروں سے ٹکرا رہے تھے اور اندر شہر میں علما براق کے حلال و حرام پر مناظرے کرنے میں مصروف تھے۔ جب خلافت سخت مشکل میں تھی تو خلیفہ اپنے مصاحبین اور علما کے ساتھ لعنت بھیجنے کی محافل میں بیٹھے مٹی سر میں ڈالنے اور وظیفے کرنے میں مصروف تھے۔

برصغیر میں علما ایک واضح حلقہ اثر رکھتے تھے جسے توڑنے کے لیے انگریزوں نے انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ دوسرے طریقے استعمال کئے۔ علما کے لطیفے بنائے گئے اور ہر خاص و عام میں کچھ یوں مقبول کئے گئے کہ پہلے جو لوگ اپنے استاد اور مولوی صاحب کا احترام میں نام تک نہ لے سکتے تھے وہ بھی دبی دبی ہنسی میں مولویوں کے لطیفوں کی سرگوشیاں کرنے لگے۔ اگرچہ اس عوامی تبدیلی پر علما کو بہت محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ وہ ایسا نہ کر سکے۔ مسلمانوں نے آزادی کی تحریک شروع کی تو علما ہند نے اس کی مخالفت شروع کر دی اور ایک بڑی تعداد مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندووں کے ساتھ الحاق کر تی نظر آنے لگی۔ اکہتر کے الیکشن ہارنے پر بھی سیاسی تحریک شروع کی گئی لیکن نتائج حاصل کرنے کے لیے اس تحریک کو نظام مصطفی میں بدل دیا گیا جس کے بعد حالات اس قدر بے قابو ہوئے کہ سقوط ڈھاکہ کا گہرا زخم پاکستان کے وجود کو سہنا پڑا۔ جس کے بعد مزید پچاس سالوں میں بھی علما کا کردار کچھ ایسا شاندار نہ رہا بلکہ بے توقیری ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور خود ساختہ مذہبی راہنماوں کو اس صورت حال کا ذرا بھی ادراک نہیں۔

پاکستانی معاشرے میں بہت سی روشن خیال، اعتدال پسند، لبرل، سیکولر تحریکوں اور باتوں کے باوجود بھی مذہب اپنی ایک الگ اہمیت رکھتا ہے۔ لوگ اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں مذہبی لوگوں کو آگے رکھتے ہیں اور اب بھی مذہبی لوگوں کو باعث برکت اور نیک خیال کرتے ہیں۔ لوگوں کے عام تاثر میں مذہبی لوگوں اور راہنماوں کو نیک، باکردار، مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے والا اور دنیا سے ذرا کنارہ کش ہونا چاہیے لیکن ہمارے مذہبی طبقے اور مذہبی راہنماوں نے اپنی حیثیت اور مقام کو تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لیے بیچ کھایا جس کی وجہ سے آج ایک عام شہری بھی مولویوں کے در چار درجن لطائف بہت آرام سے سنا سکتا ہے اگرچہ اسے چوتھا کلمہ نہ آتا ہو۔ کاروبار اور دکانداری میں سب سے بے بھروسہ شخص وہی ہو گا جس نے پگڑی باندھی ہو گی، شلوار ٹخنے سے اونچی رکھی ہو گی اور بڑا ہی مذہبی روپ اختیار کیا ہو گا۔ اس کا خیال ہوتا ہے کہ لوگ اس کے مذہبی بہروپ کی وجہ سے اس پر اعتبار کریںلیکن اپنے پر اعتبار کرنے والوں سے وہ ایک مکمل دنیا دار دکاندار جیسا سلوک کرتا ہے۔ سو میں ایک شخص بھی جب ایسا کرتا ہے تو باقی ننانوے بھی بے اعتبار ہو جاتے ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں مساجد میں سب سے زیادہ تعداد جمعہ کی نماز میں ہوتی ہے۔ مولوی صاحب گھنٹہ بھر تقریر کرتے ہیں لیکن معاشرے کی عمومی حالت دیکھ لیں کہ کتنے لوگوں کے اوپر سے وہ تقریر گزر جاتی ہے اور کتنے لوگ اس تقریر کے مندرجات کو یاد رکھتے ہیں۔

آج ہمارے معاشرے میں ہزاروں مدارس قائم ہیں جہاں لاکھوں بچے تعلیم حاصل کر کے عملی زندگی کا حصہ بنتے ہیں لیکن جتنے مدارس زیادہ ہوئے، لبرل، روشن خیال اور سیکولر خیالات کے لوگ بھی نہ صرف اتنے زیادہ ہوئے بلکہ مضبوط بھی ہوئے۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا ہمارا مذہبی طبقہ اس نقطہ نظر سے معاشرے کی تبدیلیوں کو دیکھ رہا ہے کہ نہیں؟ کیا ہمارے مذہبی طبقے نے اپنے اندر کسی تبدیلی کا ارادہ کیا ہے یا پھر وہ بھی چل چلاو پر یقین رکھتا ہے؟ اور سب سے اہم سوال کہ کیا ہمارے مذہبی طبقے نے اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کو اپنا حصہ مان کر رسوا ہونے کی ٹھان لی ہے تو یہ رسوائی کس قیمت پر قبول کی ہے؟

مولانا فضل الرحمان ایک بڑے دھرنے کے اعلان کے ساتھ میدان میں آئے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ بیوقوف ہیں، وہ نہیں پوچھیں گے کہ اتنے سال کشمیر کمیٹی کے سربراہ کو کبھی کشمیر کیوں یاد نہ تھا؟ ہر حکومت کا ساتھ دینے والا آج جب اپنے آبائی حلقے سے بھی ہار چکا ہے تو اسے نظام مصطفی بھی یاد آ رہا ہے اور شریعت بھی۔ لوگ تو نظام مصطفی اور شریعت نافذ کرنے کا طریقہ کار بھی نہیں پوچھیں گے کیونکہ مولانا صاحب بتا رہے ہیں کہ وزیر اعظم کے جانے سے ملک میں اسلام نافذ ہو جائے گا۔ مولانا یہ سمجھتے ہیں اور سچ سمجھتے ہیں کہ لوگ مدارس پر قبضوں، حکومتی زمینوں پر قبضوں، مختلف طرح سے لیے گئے ٹھیکوں، ’اپنوں‘ کی سیاسی ترقیوں لوٹ مار اور بھرتیوں کے بارے بھی سوال نہیں کریں گے۔ میں مولانا صاحب سے متفق ہوں کہ کوئی ان سے ایسا کوئی سوال نہیں کرئے گا لیکن جب وہ تقریر کر رہے ہوں گے تو لوگوں کی سرگوشیاں ان کے ایک ایک جملے کے تجزئے کے ساتھ ساتھ ہزار ہزار کہانیاں بیان کریں گی تو اس سے شائد انہیں کوئی فرق نہ پڑے لیکن بہت سے علما، مفتی اکرام اور مولانا حضرات کی مزید بے توقیری کا بندوبست ضرور ہو جائے گا۔

لوگ جانتے ہیں کہ ستر سالوں میں اٹھی ہر اسلامی تحریک، نظام مصطفی، نفاذ شریعت، ختم نبوت، شان رسالت اور قصاص تحریک چند لاکھ یا کروڑ کیش، دو عہدوں اور چار وعدوں کے بعد بے موت مر گئی تھی۔ لوگ جانتے ہیں کہ امریکہ مردہ باد کے نعرے لگاتے امریکہ کے ویزوں کی خواہش کرتے یہی مذہبی راہنما تھے جن کے احتجاجوں کے بعد بہت سے امریکی مقاصد پورے ہوئے۔ جنہوں نے کرپشن سے ڈولتی حکومتوں کو بچانے کے لیے لوگوں اور میڈیا کو اپنی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا اور کرپشن زدہ حکومتوں کو آکسیجن فراہم کی۔ یہ مذہبی طبقہ ہی ہے جو آج کاروباریوں اور سیاست دانوں کی چیخ و پکار کے بعد ان کے فرنٹ مین کے طور پر باہر نکلا ہے کہ کسی طور حکومت کو دباو میں لا کر شکنجے میں آئے لوگوں کو سانس بحال کرنے کا موقع دے، لیکن ایک سوال تو سب سے اہم ہے کہ ستر سالوں سے اسلام کے نام پر دوسروں کے مفادات کے لیے کام کرنے والے مذہبی راہنماوں نے کیا ہمیشہ کے لیے دوسروں کے ٹشو پیپر بننے کا ارادہ کر لیا ہے؟ ہر بار یہ استعمال کر کے پھینک دئیے جاتے تھے لیکن اگلی بار پھر مفادات انہیں اسلام اور شریعت کی یاد دلا دیتے ہیں اور پھر الیکشن کی ہار کو جیت میں بدلنے کے لیے نظام مصطفی کی تحریک چلانی پڑتی ہے لیکن دوسرے کے مقاصد پورے ہوتے ہیں تو منظر نامے میں کہیں دور تک اسلام نظر نہیں آتاہے۔ کوئی ڈاکٹر طاہر القادری اپنا کفن لہراتے ہوئے قصاص لینے کی بات کرتا ہے لیکن پھر جانے کیوں خاموشی سے نکل جاتا ہے۔ پھر کوئی خادم حسین رضوی اسلام نافذ کرنے نکلتا ہے اور ایک دن ڈیل کے بعد غائب ہو جاتا ہے۔ پھر کوئی فضل الرحمان اپنے آبائی حلقوں سے ہارنے، کشمیر کمیٹی اور بنگلہ نمبر ۲۲ ہاتھ سے جانے کے بعد فراغت کے دنوں میں شغل میلے کے لیے دھرنا دینے آنکلتا ہے اور ایک دن یہ بھی اسلام کے نام پر سب کو سلام کہہ کر نکل جائے گا لیکن مذہبی طبقہ ہمیشہ کی طرح اپنے مذہبی راہنماوں سمیت ٹشو پیپر کی طرح میدان میں پڑا رہ جائے گا۔

نوٹ: ادارے کا مصنف کی رائے سے اتفاق لازم نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: