افسانہ: طاقی والے خط —- لالہ صحرائی

0

میاں جی گورایہ صاحب گاؤں کے نمبردار تھے اور ہجرت سے پہلے کے دو جماعت پاس اور قرآن شریف پڑھے ہوئے تھے۔

گاؤں کی مسجد میں آنے والے دو چار نمازیوں کی امامت بھی وہ خود ہی کراتے اور بچوں کو قرآنی تعلیم بھی وہی دیتے تھے، اسلئے گاؤں والے ادباً انہیں میاں جی کہتے تھے۔

حسن دین گِل صاحب ننھیال کے لاڈلے تھے اسلئے اپنے مامے کے پاس ملتان میں رہ کر کچھ پڑھنا لکھنا سیکھ گئے تھے اور اب گاؤں کے چوپال میں اپنے ابا جی کے ساتھ “کریانے کی ہَٹی” چلا رہے تھے۔

گاؤں کا چوپال یہاں کا ثقافتی مرکز تھا، اس کے ایک کونے پر مسجد اور اس کے سامنے تکیہ تھا، پیپل کے درخت کے نیچے دن بھر چارپائیاں بچھی رہتیں جہاں میاں جی اور آنے جانے والے لوگ اٹھتے بیٹھتے تھے۔

دوسرے کونے پر “ٹنڈاں والا کُھوہ” اور اس کے سامنے “خراس” تھا جہاں لوگ بیل جوت کر اپنی اپنی ضرورت کے حساب سے کوئی پانی بھرنے اور کوئی گندم پیسنے آتا تھا، خراس کے پہلو میں حسن دین کی ہٹی اور چوپال کے عین وسط میں پکا تالاب تھا جہاں اپنے ڈھور ڈنگروں کو عوام پانی پلانے آتی تھی۔

گاؤں میں ہر طبقے کے لوگ رہتے تھے مگر اکثریت زمینداروں کی تھی، جن لوگوں کے پاس زمین نہ تھی وہ زمینداروں کے پاس مزدوری کرتے اور باقی بھیڑ بکریوں کے “اِجڑ” پالتے اور انہیں بیچ باٹ کر اپنا گزارا کر لیتے تھے، گاؤں میں لوہار، ترکھان، نائی اور جولاہے جیسا خدمتگار طبقہ بھی رہتا تھا، ہر کسی کا گزارہ کسی نہ کسی طرح سے ہو جاتا تھا بس اگر کوئی کمی تھی تو صرف اسکول اور ڈسپینسری کی تھی۔

یہ سارا حُسنِ انتظام میاں جی کا تھا، وہ ایک راست باز اور فلاحی ذہن کے انسان تھے انہوں نے ہمیشہ گاؤں کی بہتری کا سوچا اور اپنے جانشیں لالا نجیب گورایہ کو بھی یہی تعلیم دی، وہ اپنے گاؤں کو ہر طرح سے اپ۔ٹو۔ڈیٹ رکھنے کی کوشش کرتے تھے جیسے مسجد کے ساتھ والی حویلی انہوں نے اسکول اور ڈسپینسری کے لئے مختص کر رکھی تھی، یہ حویلی میاں جی کے بھائی کی تھی جو اپنی زمینوں پر ہی جا کر آباد ہو گئے تھے۔

ایک بار میاں جی نے ریڈیو پر یہ اعلان سنا کہ حکومت گاؤں گاؤں اسکول اور ڈسپینسریاں قائم کرے گی تو میاں جی نے یہ گھر خرید کر تحصیل میں درخواست بھی لگوا دی کہ ہمارے پاس جگہ اور عمارت موجود ہے لہذا یہاں فی الفور اسکول اور ڈسپنسری شروع کی جائے، ایک تو گاؤں میں پڑھا لکھا کوئی نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ علاج معالجے کے لئے مینڈر پار (چھوٹی نہر) کے ایک گاؤں میں حکیم صاحب کے پاس جانا پڑتا تھا مگر سرکاری نخروں کے باعث ابھی تک کچھ کامیابی نہیں ہو پائی تھی۔

گُروواں والی کا باہر کی دنیا کے ساتھ بھی ہمہ جہت واسطہ تھا، شائقین کا ہاڑی ساؤنی کے میلے پر جانا، ارد گرد کے دیہاتوں کے ساتھ کبڈی کھیلنا، آڑھتیوں تک جانا وغیرہ، اس کے علاوہ ایک خاص واسطہ خط پَتر کا بھی تھا۔

جو لڑکیاں گاؤں میں بیاہ کر آئیں یا جو یہاں سے شادی کے بعد پیا گھر سدھار گئیں اور دور دراز کے رشتہ دار سب ایک دوسرے کے ساتھ خط پَتر کے سہارے ہی منسلک تھے، ہر کسی کو کسی نہ کسی کا خط آنے کی آس رہتی تھی۔

گاؤں میں خط کا وسیلہ صرف حسن دین گِل جی کے دم سے قائم تھا وہ ہفتے دس دن میں ایک بار بوہڑ والے اڈے پر دکان کا سودا سلف لینے ضرور جاتے جو سات میل دور ہارون آباد جانے والی واحد پکی سڑک پر واقع تھا، وہاں کپڑے لتے، جوتے، برتن، کریانے اور دیگر ضرورتوں سے متعلق دو دو چار چار دکانوں کے علاوہ علاقے کا تھانہ، ڈاکخانہ، برف خانہ اور ایک ہائی اسکول بھی واقع تھا جہاں قرب و جوار کے بچے کلرک بابو لگنے کی آس میں میٹرک کرنے آتے تھے۔

حسن دین گِل اپنی دکان کے باہر لگے ہوئے لال ڈبے سے خطوط نکال کے ساتھ لے جاتے اور وہاں سے گاؤں کی ڈاک اور اپنا سودا سلف لے کے واپس آجاتے، عملے کی کمی کی بنا پر محکمہ ڈاک نے دور دراز کے دیہاتوں کے ساتھ اسی طرح سے ڈاک پہنچانے کا انتظام کر رکھا تھا۔

حسن دین گل جی اپنے ننھیال کو نہیں بھولتے تھے وہ عید شبرات سے ذرا پہلے شہرِ ملتان چلے جاتے اور واپسی پر منفرد اشیاء کا ایک ٹرنک بھر کے لاتے جو موقع کی مناسبت سے گاؤں کے لڑکے لڑکیوں کو بہت پسند آتیں اس دوران ڈاک اور دکان کا انتظام تو بڑے گل صاحب سنبھال لیتے مگر خط لکھنے اور پڑھ کر سنانے والا کوئی نہ ہوتا تھا۔

میاں جی گورایہ صاحب بھی خط پڑھ لیتے تھے مگر ان کیساتھ وہ سہولت اور مزا نہ تھا جو حسن دین گل صاحب کے ساتھ تھا۔

میاں صاحب سے جھجھکتے ہوئے دوباره خط پڑھ کر سنانے کا مطالبہ کوئی نہ کرتا اور نہ ہی خط لکھواتے وقت بار بار یہ پوچھ پاتا کہ فلاں فلاں بات تو ٹھیک طرح سے لکھ دی ہے کہ نہیں، جبکہ گل صاحب یہ کام عوام کی عین مرضی کے مطابق کیا کرتے تھے۔

اگر کسی کی بیٹی کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی خبر آتی تو مکتوب الیہ کا خاندان بار بار یہ بات پوچھتا “حسن جی دوبارہ سے دیکھو یہ بتایا ہے کہ نہیں ہمارا “دوہترا” کس پر گیا ہے، پہلے والا تو ہو بہو اپنی چھوٹی خالہ پر گیا تھا، کاکا زیادہ روتا تو نہیں ہے، اس کے ختنے کب کرانے ہیں، یہ لکھا ہے کہ نہیں، وہ لکھا ہے کہ نہیں وغیرہ وغیرہ۔

یا پھر کسی کی شادی کا دعوت نامہ آ جاتا تو مکتوب الیہ اپنا سر پیٹ لیتا کہ خط میں شادی کی تاریخ تو اسوج کی بارہ لکھی ہے اور آج اسوج کی بیس تاریخ ہے، جاتے تو کیسے جاتے جب خط ہی وقت سر نہیں ملا، ایک بار پھر سے پڑھو اور دھیان سے دیکھو یہ اسوج کی بارہ ہے یا اگلے مہینے کی بارہ ہے، پھر ان کا گلہ یہ ہوتا “دیکھو حسن جی تم تو خود سیانے ہو، اب خط ہی لیٹ ملے تو ہم کیا کریں مگر اب شریکہ ہمیں جینے نہیں دے گا کہ سلامی دینے، راہ کھیہڑے اور خرچے پٹھے سے ڈرتے شادی پر ہی نہیں آئے، اب تم ہی بتاو غلطی ان کی ہے ناں، جب شادی کی “تریکھ” چھ مہینے پہلے رکھ لی تھی تو خط بھی ایک مہینہ پہلے لکھ دیتے، اب کیا کریں جب خط ہی لیٹ ملا ہے۔

ایسی خاندانی ناراضگی کسی کے متھے اس وقت بھی لگ جاتی تھی جب خط میں کسی کے مرنے کی اطلاع ہوتی اور خط بد قسمتی سے چہلم کے بعد ہی ملتا تھا۔

عام طور پر جس کسی کو مزے لے لے کے خط سننا اور سن کر بار بار تفصیلات پوچھنی ہوتیں وہ تو حسن دین گِل سے ہی خط پڑھواتا مگر جسے ایک آدھ بار سن کر صبر آ جاتا یا کوئی بھڑاس نہ نکالنی ہوتی تو وہ میاں جی سے بھی خط پڑھوا لیا کرتا تھا۔

جن دنوں حسن جی موجود نہ ہوتے تو خط پڑھوانے کیلئے گاؤں والوں کی نظریں عموماً چِھیکنے ذیلدار پر ہی جا کر رکتی تھیں۔

شفیق سنگھیڑا اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا اور اپنے مرحوم باپ کی چھ “پَیلیوں” کا واحد مالک تھا، بچپن سے لاڈ پیار میں اسے شفیق سے چِھیکو اور پھر چِھیکو سے چِھیکنا کہنے لگے تھے جو اس کی پہچان ہی بن گیا تھا۔

چِھیکنے کی طبیعت میں انوکھے لاڈلے اور شوخے پن کا عنصر بہت نمایاں تھا، اس کیلئے اپنے چھ کھیتوں کی زمینداری کوئی اتنا بڑا کام بھی نہیں تھا اسلئے وہ کام کاج سے جلدی ہی “ویلا” ہو جاتا اور پھر باقی کا سارا وقت ہاتھ میں ریڈیو اٹھا کر کبھی چوپال میں تو کبھی گل صاحب کی دکان پر، کبھی شریف نائی کے تھڑے پر تو کبھی جانو جولاہے کی کھڈی پر، اس اعتبار سے اسے گاؤں کا واحد سوشل آدمی بھی قرار دیا جا سکتا تھا۔

ایک بار پٹواری صاحب گردواری کرنے، مالیہ اور آبیانے کی پرچیاں بانٹنے آئے تو چھیکنے نے ان کی بہت معاونت کی، پٹواری صاحب اس سے بہت متاثر تھے، دو دن بعد واپس جاتے ہوئے وہ چھیکنے کو بھی اپنے ساتھ ہی لے گئے۔

پٹواری صاحب نے بتایا کہ جو نئے ذیلدار صاحب آئے ہیں انہیں ایک ملازم کی ضرورت ہے، تمہاری ان کے ساتھ بڑی اچھی نبھے گی، ہمارے ذیلدار صاحب شہری بابو ہیں پینٹ بوشرٹ بھی پہنتے ہیں اور “چگا سُتھن” بھی (شلوار قمیض)، میں تمھیں ان سے پینٹ بوشرٹ اور “چگا سُتھن” لے کے دوں گا تو تم بھی بابو بن جاؤ گے بابو، پھر یہ “دھوتیاں شوتیاں” پہننا بھی بھول جاؤ گے، وہاں مزے سے کوٹھی پر رہنا، تحصیل میں گھومنا، ٹاکی سینما بھی ہے وہاں، فلمیں شلمیں دیکھا کرنا، پٹواریوں، افسروں، تھانے کچہری کے اہلکاروں سے تمہاری سلام دعا بھی بنے گی اور ملازمت کی تنخواہ بھی ملے گی۔

یہ سن کے چھیکنے کو گاؤں کی دکان، تھڑے، کھڈی اور چوپال سب کچھ ہیچ نظر آنے لگا، اپنے چھ کھیت چچا کو ٹھیکے پر دے کر اپنی ماں سے مہینے میں ایک دو بار ملنے کا وعدہ کر کے وہ پٹواری صاحب کے ساتھ ہی ہو لیا۔

چھیکنا کبھی نئے سوٹ میں گاؤں آتا تو کبھی پینٹ شرٹ میں، کبھی نیا کُھسہ تو کبھی سینڈل، باقی سب کچھ تو ایک طرف اب وہ کالی عینک اور گلاب کا عطر بھی لگاتا، اس کے ہاتھ میں کبھی نیلا رومال ہوتا تو کبھی سرخ رنگ کا، شوخا تو وہ پہلے بھی بہت تھا مگر اب تو گاؤں میں اس کا “ٹوؤر ٹپا” ہی الگ تھا، وہ گاؤں والوں کو چوپال میں فلمی کہانیاں بھی سناتا اور تحصیل کے رنگ برنگے قصے بھی۔

ذیلدار صاحب نے اپنی سہولت کیلئے اسے فائلوں کے عنوانات اور عبارتیں پڑھنا بھی سکھا دیا تھا، حروفِ تہجی اور ہجے کر کے پڑهنے کے جو بنیادی اصول اسے ذیلدار صاحب نے سکھائے تھے ان کے تحت وہ جوڑ توڑ کر کے چٹھیاں لکھنے پڑھنے کے قابل بھی ہو گیا تھا، تاہم ڈھیٹ اردو کے الفاظ اس کے پلے نہیں پڑتے تھے۔

تین سال بہت اچھے سے گذرے تھے کہ ایک دن ذیلدار صاحب کا تبادلہ تحصیل خانیوال میں ہو گیا، ذیلدار صاحب تو اسے اپنے ساتھ ہی لے جانا چاہ رہے تھے مگر وہ ماں سے زیادہ دور نہیں جانا چاہتا تھا اور چند دن بعد یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ نئے ذیلدار صاحب کوئی بہت ہی کمینے سے انسان ہیں، ان کے ساتھ چھیکنے کا گزارا نہیں ہو سکتا لہٰذا واپس جا کر دوبارہ سے اس نے کھیتی باڑی شروع کر دی۔

تحصیل میں اس کی بہت سے لوگوں سے یاری دوستی بن گئی تھی جن کے خطوط اسے برابر آتے رہتے تھے اور وہ بھی انہیں جوابی خطوط لکھتا رہتا تھا، اسے ذیلدار صاحب کا خط بھی آتا تھا جو اس کی خدمات کو بہت سراہتے اور یاد رکھتے تھے، وہ کبھی کبھی اسے لکھتے کہ اگر تم آسکو تو خانیوال آجاؤ، اپنی اماں کو بھی ساتھ ہی لے آؤ، یہاں بہت جگہ ہے دونوں ماں پتر یہاں رہنا مگر اماں شہر جانے کو راضی نہ ہوتی تھی۔

جب تک کوئی نیا خط نہ آتا تب تک فارغ اوقات میں چھیکنا صاحب اپنے گھر کے سامنے چارپائی ڈال کے اور ریڈیو سرہانے رکھ کے پرانے خطوط ہی پڑھ پڑھ کے خوش ہوتا رہتا تھا، یہ خطوط اکثر گاؤں والوں نے بھی سن رکھے تھے، جب کبھی ذیلدار صاحب کا خط آتا تو وہ میاں جی سمیت بہت سارے لوگوں کو ضرور سناتا تھا۔

ذیلدار صاحب کے ساتھ خاص تعلقات کی بنیاد پر لوگوں نے اسے بھی چھیکنا ذیلدار ہی کہنا شروع کر دیا تھا، وہ لوگ اس کے خط لکھنے پڑھنے کے ہنر سے بھی مرعوب تھے اور تو اور میاں جی بھی اس سے بہت خوش تھے کہ اس نے اچھا کام کر کے ذیلدار صاحب کا دل موہ لیا ہے اور پڑھنا لکھنا بھی سیکھ گیا ہے، گویا جیسے اس نے گاؤں کا نام روشن کیا ہو۔

ایک دن سُکھیا ترکھان کے چچا کی ناگہانی مَوت کا خط آیا جو حسبِ دستور لیٹ ہی ملا تو سُکھیا نے رو رو کے برا حال کر لیا تھا، میاں جی اسے حوصلہ دینے کے ساتھ ساتھ کسی گہری سوچ میں بھی گم تھے، انہوں نے خط پر لگی ڈاک خانے کی مہر سے اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ خط کئی دنوں سے بوہڑ والے اڈے پر پڑا ہوا تھا مگر وقت سِر لانے والا کوئی نہیں تھا۔

میاں جی نے سب سے مخاطب ہو کے کہا کہ میں نے اپنے گاؤں والوں کو ہمیشہ اپنے بال بچے ہی سمجھا ہے، ان کی تکلیفیں دور کرنا میرا فرض ہے اسلئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈاک کا نظام گل صاحب سے لے کر چھیکنے ذیلدار کو دے دیا جائے، اور پھر چھیکنے سے پوچھا، کیا تم یہ ذمہ داری اٹھا لو گے کہ ہفتے میں دو بار ڈاک لے آیا کرو؟ سرکار اس کام کا ماہانہ اسی روپے معاوضہ دیتی ہے۔

اسی روپے ماہوار سن کر چھیکنے کی باچھیں کھل گئیں، اس نے اٹھ کے کہا، میاں جی یہاں سے بوہڑ والے اڈے تک راستے میں تین گاؤں اور بھی ہیں، اگر ان کا کام بھی مجھے دلوا دیں تو میں ہفتے میں تین دن بھی اڈے پر جانے کے لئے تیار ہوں، میرے پاس سہراب کا نیا سائیکل بھی ہے۔

ذیلدار صاحب چھیکنے کو پورا مہینہ وہاں رہنے کے دو سو روپے تنخواہ دیتے تھے اور اب چار گاؤں کی ڈاک لانے لیجانے پر اسے تین سو بیس روپے ملتے تھے، لوگوں کے خطوط لکھنے کیلئے پرچے، قلم اور سیاہی کی دوات اس کے بستے میں رہتی تھی، غریبوں کو چھوڑ کر باقیوں سے وہ پرچے کی قیمت اور لکھائی کے چار آٹھ آنے بھی مانجھ لیا کرتا تھا، چاروں گاؤں میں آؤ بھگت علیحدہ سے ہوتی تھی، کوئی بھی اسے لسی پانی پئے بغیر جانے نہیں دیتا اور بعض کھاتے پیتے لوگ تو اسے تھندے میٹھے (شکر میں دیسی گھی) کے ساتھ روٹی بھی کھلاتے تھے تاکہ وہ ان کی ڈاک دھیان سے لا دیا کرے۔

سُکھیا ترکھان نے اسے لکڑی کی طاقچی بنا کر دے دی تھی جو اس نے اپنی بیٹھک کے اندر اسی دیوار کے ساتھ ٹھوک رکھی تھی جس کے باہر ڈاک والا لال ڈبہ لٹکا ہوا تھا، ڈاک کی مہریں، لفافے، ٹکٹیں، پرچے، قلم دوات، ڈاک والا بستہ اور اپنے تمام ذاتی خطوط بھی تہہ کر کے وہ اسی طاقچی کے مخصوص خانوں میں رکھتا تھا۔

وہ جن لوگوں کو ان کے خطوط پڑھ کر سناتا انہیں ہدایت بھی کرتا کہ سارا کچھ سوچ کر رکھنا جو کچھ جواب میں لکھنا ہے، میں دو دن بعد آؤں گا تو جواب بھی لکھ دوں گا، کچھ ہی عرصے میں وہ خط لکھنے اور پڑھنے میں کافی ماہر ہو گیا تھا لیکن بعض اوقات اسے کسی ایسے خط سے بھی واسطہ پڑ جاتا جو مزین الفاظ یا مرصع اردو میں لکھا ہوتا تھا، ایسے خطوط عموماً شہری علاقوں سے ہی آتے تھے، ان خطوط میں لکھے ہوئے ایسے جملے یا الفاظ جن کا صحیح ترجمہ یا مفہوم بیان نہ کر سکتا اسے زہر لگتے تھے، پھر وہ اپنی جھینپ چھپانے کو ایسا جملہ پڑھ کر فوراً کہتا، “لؤ جی ….یہ کیا بات ہوئی، کم سے کم بنده خط تو ایسا لکھے جو کسی کی سمجھ میں بھی آئے، میں جو آپ لوگوں کو خطوں کے جواب لکھ کے دیتا ہوں، ایمان سے بتاؤ کبھی شکایت آئی ہے کہ میرا لکھا ہوا خط کسی کی سمجھ میں نہ آیا ہو، خط ایسے ہی لکھنے چاہئیں جیسے میں لکھ کے دیتا ہوں یا وہ طاقی والے خط جیسے میرے دوست مجھے لکھتے ہیں۔

ایسا ہی مزین و مرصع انداز خط ایک دن ساتھ والے گاؤں کے ایک زمیندار محبوب عالم باجوہ صاحب کے تازہ تازہ داماد نے بھی لکھ بھیجا۔

محترم المقام قبلہ و کعبہ جناب والد صاحب گرامی قدر، بعد از قدم بوسئ ہزار سلام مسنون عرض ہے و گزارش احوال یہ ہے کہ…………………………. اور آخر میں عرض پرداز ہوں کہ آپ کی نورِ نظر، لختِ جگر شائستہ پروین میرے خانۂ انصرام میں دن رات، صبح و شام، ہر پل شادمانی اور فرحتِ جاودانی کے ساتھ رہ رہی ہیں اور بروزِ رخصت ہم شہرِ لاہور کے مقاماتِ چیدہ و پسندیدہ میں ہر قدم بطرزِ گام الفت اٹھاتے ہوئے سیر بین رہتے ہیں، بس آپ چنداں فکر مند نہ ہوا کریں….. والسلام۔

“کون سے خانے میں کس کس کے ساتھ رہتی ہے، اور کہاں گھومتی ہے” … سمجھ نہیں لگی ذیلدار جی …. اس بات کا کیا “مطبل” ہے بھلا؟

جب کسی کے پلے آخری بات نہ پڑی تو باجوہ صاحب نے چھیکنے ذیلدار سے اس بات کی تشریح طلب کر لی اور چھیکنے کی جان پہ بن آئی لیکن اپنی علمی عزت بچانے کیلئے بات کو گھمانے پھرانے کا ہنر اسے بہت اچھی طرح سے آگیا تھا چنانچہ اس نے اپنے حواس پر قابو پا کے کہا:

“باجوہ صاحب اب میں کیا کہوں، ان لوگوں کو پتا نہیں خط لکھنا کب آئے گا، نہ کوئی سمجھ نہ بُوجھ، نہ علم نہ شعور، میں تو ہمیشہ سے کہتا ہوں “خط وہی ہیں جو طاقی میں پڑے ہوئے ہیں، ایمان سے پڑھنے کا مزا آجاتا ہے”۔

پھر چھیکنے ذیلدار نے نتھنے پھلا کر ایک لمبی سانس کھینچی اور اپنا پورا علم اپنے چہرے پر جمع کر کے سمجھانے کیلئے مدبرانہ انداز میں گویا ہوا:

دیکھیں باجوہ جی ….. باقی کا اندازہ آپ خود ہی لگا لینا میں صرف اتنا ہی بتا سکتا ہوں کہ ….. شادمانی، فرحت اور جاودانی یہ سب لڑکیوں والے ہی نام ہیں، اور معاف کرنا وہ بندہ ہے تو آپ کا داماد مگر وہ کمینہ انسان ہماری بہن جی سے گامِ الفت بھی اٹھواتا رہتا ہے، پتا نہیں کتنی بھاری چیز ہو اور اس میں جوگی والی بِین کا بھی کچھ لکھا ہوا ہے … کُل ملا کر میرے حساب سے تو معاملہ بہت ہی گڑبڑ لگتا ہے ….. آگے اللہ دیاں اللہ جانے۔

یہ سن کر جہاں باجوہ صاحب کا چہرہ پژمردہ سا ہو گیا وہاں رانی بی بی تو رونے ہی لگ پڑیں کیوں کہ داماد جی کے خاندان میں ان ناموں کی کوئی خواتین نہیں تھیں، پھر وہ چِلا اٹھیں، ہائے میری بیٹی تین تین “سوکنوں” کے ساتھ کیسے رہ رہی ہو گی، باجوہ جی دیکھ لیا ناں من مانیوں کا انجام، ہائے میں دہائی دیتی رہ گئی کہ اچھی طرح سے پتہ سُر لگا لو، دور دراز کا معاملہ ہے مگر کسی نے میری ایک نہ سنی۔

ہائے میری پھولوں جیسی بیٹی کہاں رُل گئی، میری دھی نے تو کبھی سر سے چُنری نہیں اترنے دی تھی، نہ کبھی گھر سے باہر پاؤں دھرا تھا اور وہ “کھسماں نوں کھانا” پتا نہیں اسے کہاں کہاں لئے پھرتا ہے، میں نے کبھی اپنی بچی کو کُھوہ سے پانی کا مٹکا بھرنے تک نہیں بھیجا اور وہ نکھٹو اس سے پتا نہیں کیا کیا اٹھوائے پھرتا ہے، میں تو کہتی ہوں باجوہ جی جا کے پتا کر لو میری بچی کس حال میں ہے، نئیں تے میں نئیں جے بچنا، اور پتا کرو لڑکا بینک میں کام کرتا بھی ہے کہ نہیں، اس موئے جوگی والی بین نے تو میرا جی ہی جلا دیا ہے۔

رات کانٹوں پر گزار کے اگلی صبح باجوہ صاحب حقیقتِ حال کا پتا سُر لگانے شہرِ لاہور کو روانہ ہو گئے، خاندان میں صفِ ماتم تو پچھلی شام سے ہی بچھ گئی تھی، باجوہ صاحب کا بڑا بیٹا روزانہ بندوق کی نالی میں مشین کا تیل لگا کر پُھلترو گھماتا رہتا اور چھوٹے والا صاحبزادہ جب کاربین ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گیا تو کلہاڑی اور گراری والے چاقو کی دھار چمکانے میں لگ گیا، ہمدردی کیلئے آنے جانے والے جب صبر کی تلقین کرتے تو وہ دونوں بھائی ایک ہی جملہ دھراتے “بس چاچا ابے ہوراں دے آن دی ڈیر اے، جے کوئی ایسی ویسی گل نکل آئی تے اساں جا کے جیجا وڈ دینا”۔

ان دونوں بھائیوں کو پتا نہیں تھا کہ باجوہ صاحب داماد جی کے ساتھ حساب چُکتا کرنے کیلئے اپنی بارہ بور کی کاربین (کاربائین پسٹل) اور چھ کارتوس اپنے جَھولے میں ڈال کے ساتھ ہی لیکر گئے ہوئے ہیں۔

باجوہ صاحب کے داماد ایک پڑھے لکھے انسان تھے اور ان کی بیٹی نے خدمت اور محبت سے اسے اپنا دیوانہ بنا رکھا تھا، باجوہ صاحب نے بیٹی کو ایک طرف لے جا کر جب حال احوال پوچھا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور خط باجوہ صاحب کے ہاتھ سے لے کر اپنے میاں سے کہنے لگی ….. اجی دیکھا ناں … آپ سے کہا تھا … ایسا خط پڑھنے والا وہاں کوئی نہیں ہے … اب جیسے اس کا “مطبل” مجھے سمجھایا تھا ایسے ہی ابا جی کو بھی سمجھا دیں۔

باجوہ صاحب بھی ان لوگوں میں سے ایک تھے جو بیٹی کے گھر کا پانی بھی نہیں پیتے مگر داماد جی نے کہا ابا جی جناب یوں سمجھ لیجئے کہ آپ نے بیٹی دے کر بیٹا لے لیا ہے، اب آپ بیٹی کے نہیں تو میرے گھر ہی رک جائیں، دو چار دن سے پہلے میں آپ کو ہر گز واپس نہیں جانے دوں گا بلکہ میں اپنی گاڑی میں چھوڑ کر آؤں گا تاکہ بیٹی کو خوش دیکھ کر بےبے جی کو بھی اطمینان ہو جائے۔

بیٹی کو اپنے گھر میں خوش و خرم اور داماد جی کا بینک میں “ٹؤور ٹہکا” سن کے سب کے چہرے سے وحشت دور ہو گئی، دلوں میں لگی آگ بھی بجھ گئی مگر چار دن کی بھوک پیاس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ خفت بھی ستانے لگ گئی کہ بات تو کچھ بھی نہیں تھی پھر ایویں ہی خوامخواہ سارے علاقے میں ہالاءلالا ہو گئی جس کا سبب صرف چھیکنا ذیلدار تھا۔

بات صرف گاؤں تک رہتی تو اور بات تھی مگر چالیس چک چدھڑاں والا اور انتیس چک پنڈالاں والی سے دو جھگڑالُو ٹولے برچھیاں، کلہاڑیاں، ٹکووے اور بندوقیں لے کر ڈیرے پر آئے بیٹھے تھے، صبح شام روٹی پانی کھا پیٹ کر، کبھی رضوان اور کبھی سلیمان باجوہ سے، ان کا ایک ہی تقاضا ہوتا تھا “پراء جی، ساہنوں جیجے دے پنڈ دا پتا دس دیو بس، اسیں جا کے انی پا دیاں گے” اب یہ سیلابِ بلا کہیں تو جانا تھا چنانچہ گُروواں والی کی طرف چل دیا۔

میاں جی کے صاحبزادے لالے نجیب نے ڈنڈے سوٹے اور بندوقیں لئے، منہ لپیٹے گھوڑ سواروں کا جتھا اپنے گاؤں کی طرف آتا ہوا دیکھا تو اپنے بندوں کو ہانک لگا کر اپنی کاربین لوڈ کرنے لگ گئے، جو لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے وہ سب نیزے بھالے، برچھیاں، کلہاڑیاں اور کاربینیں لے کر آن کی آن میں ڈیرے کے ارد گرد پوزیشنیں سنبھال کے کھڑے ہو گئے اور چھوٹے گورایہ صاحب گاؤں والوں کو خبردار کرنے اور دونالی بندوق اٹھانے گاؤں کی طرف سر پٹ بھاگ نکلے۔

جیسے ہی یہ لوگ ڈیرے کے قریب پہنچے تو لالے نجیب نے انہیں روکا اور پہچان بھی لیا۔

؎اوے مترو … خیر تے ہے … اج اے واچھڑ ساڈے پنڈ ول کدھروں آگئی اے، کیہ ہویا جے، کیہنوں وڈن ٹر پئے او؟

باجوہ صاحب کے لڑکے نے کہا:
“نمبر دار جی! کوئی گل نئیں، خیر ای اے، ساہنوں جرا ذیلدار نال کم سی”

لالہ نجیب نے سوچا کہ ذیلدار شوخا تو ہے ہی، کہیں ان کے گاؤں میں کسی لڑکی کو نہ چھیڑ آیا ہو، ایسا نہ ہو کہ انہیں آگے جانے دیا تو کوئی معاملہ بگڑ جائے، چنانچہ لالے نے پکا اسٹیڈ لے لیا:

“تسی اگے نئیں جا سکدے پراؤ، پہلے میرے کول بیٹھو، وچلی گل دسو، جے اوہدے کولوں کوئی غلطی ہوئی اے تے میں اوہنوں سمجھا لواں گا، نالے اوہنوں سمجھاؤناں کوئی وڈی اوکھی گل وی نئیں، تسی میرے کول بیہہ جاؤ تے لسی پانی پیئو”

باجووں کی بات سن کر گورایہ صاحب ہنس پڑے اور انہیں سمجھایا بجھایا کہ چار گاؤں کی ڈاک کا نظام اس کے کندھوں پر ہے، اب روزانہ یہاں خط آتے جاتے ہیں، بلاوجہ کوئی ایسا کام نہ کرو کہ یہ نظام خراب ہو جائے، میں اسے ابھی بلا لیتا ہوں، پیار محبت سے سمجھا دیتے ہیں کہ آئیندہ سے صرف اتنی بات کیا کرے جتنی کا پکا پتا ہو، فالتو کی یاویاں مت مارا کرے۔

منظور عرف جُھؤرا چدھڑ صاحب کچھ زیادہ ہی اتھرے انسان تھے انہوں نے اٹھ کر کہا گورایہ صاحب ڈاک گئی انی دے کسے تھاں، اساں اج سوچ کے آئے ہاں ذیلدار نوں بس نئیں چھڈنا۔

لالہ صاحب بھی کھڑے ہو گئے:
“اوے بیکار بچیا ایویں تینگڑ کے نہ دکھا، اساں کوئی چوڑیاں نئیں پائیاں ہوئیاں، پہلے گل سمجھ لے تے فیر جیویں تیری صلاح ہوئی اوویں ای کراں گے۔

لالہ صاحب کے ارد گرد دور تک پوزیشنیں لے کر کھڑے لوگ اور ان کے تیور دیکھ کر سب نے اندازہ لگا لیا تھا کہ اگر جنگ شروع ہو گئی تو بہت لاشیں گر جائیں گی۔

یہی سوچ کر باجوہ صاحب کے بیٹے نے کہا:
“مترو کوئی کچھ نہیں کرے گا، لالہ ہمارا بڑا بھائی ہے، پہلے ان کا انصاف دیکھ لیں پھر کچھ کریں گے”

لالے جیبے نے ماحول کا جائیزہ لے کر دوبارہ بات شروع کی:

میرا اور تمھارا دادا ایک ہی ہے، تم پنڈال ہو، چیمے، چٹھے اور باجوے ہو اور ہم گورائے ہیں، گِل ہیں، گُھمن ہیں اور جسے تم مارنے آئے ہو وه سنگھیڑا ہے مگر دادا سب کا ایک ہی ہے، اپنے اپنے باپوں کے نام پہ قبیلے علیحدہ ہو گئے ہیں تو کیا ہوا قبلہ تو ہم سب کا ایک ہی ہے۔

میرے باپ نے ہمیں انصاف کرنا سکھایا ہے، جو انصاف ہے وہ میں خود کروں گا، یہ ڈاک کا نظام میرے باپ نے قائم کیا ہے، وہ اسکول اور ڈسپینسری کیلئے بھی لڑ رہا ہے، اپنا گھر بھی دے رکھا ہے پھر بھی کام نہیں ہو رہا، آج یہ ڈاک کا نظام بھی جاتا رہے یہ میں ہونے نہیں دوں گا، باجوہ صاحب کے لڑکوں سے یاری دوستی نبھانے کا یہ کونسا طریقہ ہے کہ تم سب مینڈر کے اس پار رہنے والے دونوں ٹولے ادھر کا نظام تباہ کرنے چلے آئے ہو، جہاں تم رہتے نہیں وہاں کی تمھیں کیا قدر کہ اس پار ہماری ضرورتیں کیا ہیں۔

ہمیں لڑنا آتا ہے مگر بے مقصد لڑنا نہیں آتا اور اگر پھر بھی تمھیں لڑنا ہے تو جاؤ محبوب عالم باجوہ صاحب کو لے کے آؤ میرا باپ بھی آتا ہی ہوگا، اگر یہ دونوں بڑے کہہ دیں گے کہ اس بات پر لڑنا بنتا ہے تو قسم ہے اس دادا کی جس کی اولادوں میں سے ہم تم ہیں، آج گورایوں، گھمنوں، گِلوں اور سنگھیڑوں کے جیتے جی نہ تو کوئی آگے جا سکے گا اور نہ ہی کوئی پیچھے جا سکے گا، بس ایک بندہ جاؤ اور باجوہ صاحب کو لے کر آؤ…………..

معاشرے میں اپنی جہالت کی خفت بھگتنے کے بعد چھیکنے ذیلدار کو ہر اس خط سے نفرت سی ہو گئی تھی جو اس کے علمی وقار کیلئے خطرہ ثابت ہوتا لیکن بدقسمتی سے آگے بڑھتے ہوئے سماج میں ایسے خطوط کی تعداد بھی دن بدن بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی جن کے اسلوب کا پیچ و خم اس کی آؤبھگت والے مرتبے کو دیمک کی طرح کھاتا جا رہا تھا۔

چنانچہ جب بھی اسے کسی ایسے خط کی تشریح کرنے کو کہا جاتا جو مروجہ ڈگر سے ہٹ کر لکھا گیا ہوتا تو اس کے نتھنے پھول جاتے، چہرہ سپاٹ ہو جاتا اور کبر و نخوت کے ساتھ وہ اپنا منہ تھوڑا سا دوسری طرف موڑ کے کہتا:

پتا نہیں کون جاہل ہیں جو تمھیں ایسے خط لکھ کر بھیج دیتے ہیں، یہ کوئی خط ہیں، اصلی خط تو وہ ہیں جو میں لکھ کے دیتا ہوں یا میرے دوست احباب مجھے لکھتے ہیں، وہ طاقی والے خط ہی اصلی خط ہیں جنہیں پڑھ کر سرُور سا آجاتا ہے۔

لالے جِیبے کے ڈیرے پر تو کوئی جنگ نہ ہوئی، چھیکنے کی سرزنش کے بعد ایک دادا کی اولادوں نے اپنی مشکلات کا احساس کرکے ایکدوسرے کو گلے سے لگا لیا تھا مگر میرے معاشرے میں ایسے معاملات پر جنگ ہوئے بغیر نہیں رکتی۔

یہ جنگ بھی سماج کے نام آنے والے خطوط اور ان کی تشریحات سے ہی شروع ہوتی ہے جو دائیں بائیں کے رنگ برنگے “اہلِ علم” اکثر و بیشتر لکھتے رہتے ہیں، ان میں خیر کی بجائے “پھڑ لؤو، پھڑ لؤو” زیادہ لکھی ہوتی ہے، کوئی خوشی کی خبر گر کہیں لکھی ہوئی بھی ہو تو اس کا تعلق کسی گئے گزرے سمے سے ہوتا ہے، کبھی کوئی خط یہاں ایسا نہیں کھلتا جو کسی مادی یا روحانی خوشی کا ضامن، بر وقت اور حسبِ حال ہو، نہ ہی لالے نمبردار جیسا کوئی نجیب ملتا ہے جو ایک دادے، ایک قبلے، ایک قبیلے، مشکلات اور انصاف کی طرف توجہ دلا کر باغی دِلوں اور دماغوں کو ٹھنڈا کر دے۔

حالات کچھ ایسے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ دائیں کا خط بائیں کو چُبھتا ہے اور بائیں کا خط دائیں کیلئے سوہانِ روح بن جاتا ہے، ان حالات میں سماج کے نام اگر کہیں سے کوئی ایسا خط سامنے آجائے جو مروجہ ڈگر سے ہٹ کر لکھا گیا ہو، جو باہمی خوشی کا ضامن، بروقت اور حسب حال ہو اور اس میں “پھڑ لؤو، پھڑ لؤو” بھی نہ ہو تو دونوں طرف کے “علمی ذیلدار” اپنا وقار گھٹنے کا خدشہ دیکھ کے یہی کہتے ہوئے نظر آتے ہیں:

پتا نہیں کون جاہل ہیں جو تمھیں ایسے خط لکھ کر بھیج دیتے ہیں، یہ کوئی خط ہیں، اصلی خط تو وہی ہیں جو ہم لکھتے ہیں یا ہمارے دوست احباب لکھتے ہیں، وہ طاقی والے خط ہی اصل میں خط ہیں جنہیں پڑھ کر سرُور سا آجاتا ہے۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: