ترقی پسند یا مذہب پسند: فکر اقبال کا وارث کون؟ —– لالہ صحرائی

0

علوم کا معاملہ ریلے ریس کی طرح ہوتا ہے جس میں ایک شخص ایک خاص مقام تک بھاگتا ہے، اس کے وہاں پہنچتے ہی اس مقام پر منتظر کھڑا تازہ دم بندہ ریس کا اگلا مرحلہ شروع کرتا ہے۔

عصری اور مذہبی فکر کی دوڑ میں فرق یہ ہے کہ عصری عالم اپنا کام مزید بہتری کیلئے آگے دے کر جاتا ہے اور مذہبی عالم اپنے تازہ دم نمائندے کو پرانا مال اس ہدایت کیساتھ تھما جاتا ہے کہ اس میں کوئی تغیر نہ آنے پائے، اس طرح پہلے کا نمائندہ تحقیق کار اور دوسرے کا وارث محض مجاور بن کے رہ جاتا ہے۔

مسلمانوں کی مذہبی شناخت، فطرت اور ثقافت کو نقصان پہنچانے والے عناصر میں پہلی ذمہ داری ان حکمرانوں کی ہے جنہوں نے علوم کی سرپرستی سے منہ موڑ لیا تھا اور ثانوی ذمہ داری اس مذہبی فکر کی ہے جس کی رجعت پسندی نے آگے بڑھنے کی حسیات کو مجروح کیا۔

حالانکہ مذہبی تعلیمات میں صرف ایمانیات کا دائرہ مستقل ہے باقی ہر دائرے کو عصری حالات سے ہم آہنگی کیلئے کھلا رکھا گیا ہے، پانچ مختلف فقہات میں ایمانیات پر مستقل اتفاق اور معاملات میں اختلاف کا رجحان اسی بات کا آئینہ دار ہے لیکن اس باہمی اختلاف کی گنجائش رکھنے کے باوجود یہ کبھی اپنے اپنے دائرے کے اندر اختلاف کا رجحان پیدا نہیں کر پائے جس کی وجہ اوپر بیان ہو چکی ہے۔

علامہ اقبال کے پیش نظر یہی دو باتیں تھیں کہ ایک طرف سرپرست مسلم اسٹیٹ ہو اور دوسری طرف قوم اپنے ایمانیات کے دائرے کو محکم اور سماجیات کے دائرے کو کھلا رکھ کے ہر علم میں مہارت حاصل کرے تاکہ ہر لمحہ جہان تازہ کیساتھ سینکرونائزڈ اور کمپیٹیٹیوو رہ سکیں۔

فکر اقبال کو آپ بلاشبہ چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں جس میں سرفہرست ایمانیات ہیں، لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کے بغیر فکر اقبال کچھ بھی نہیں، پھر عبادات میں خلوص اور خدا کیساتھ ریاکاری سے مبراء تعلق رکھنے کا پیغام، علوم دنیا میں امتیازی حیثیت اختیار کرنے کی کوشش، اور عمل میں ہر لحظہ متحرک زندگی کا پیغام۔

فکر اقبال کے موخرالذکر دونوں پیغامات میں تجدد پسندی کا عنصر نہایت نمایاں بلکہ اپنے عروج پر ہے جو انسانی غور و فکر کو تسخیر کائنات کی طرف بہ اصرار متوجہ کرتا ہے۔

علامہ اقبال کی جدت پسندی کے حوالے سے ایک ترقی پسند صاحب نے اپنے طبقے کو دعوت دی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ علامہ اقبال بذات خود ایک ترقی پسند شخصیت ہیں لہذا فکرِ اقبال سے دوبدو ہونے کی بجائے ترقی پسندوں کیلئے بہتر یہ ہے کہ فکر اقبال کو اپنا کے اسے اپنا رہنما بنا لیا جائے۔

یہ ترقی پسند صاحب اگر پیغامِ اقبال کے روحانی و مادی سمیت پورے دائرے پر ایمان رکھتے ہیں تو ان کی دعوت انتہائی قابل تحسین ہے اور اس صورت میں ان کے مضمون کی پوری عبارت بھی جسٹیفائی ہو جاتی ہے جس میں انہوں نے یہ دعوت بھی دی ہے کہ ترقی پسندوں کو علامہ اقبال کے مقالات، تشکیلِ جدید الہیات، کو اپنا منشور بنانا چاہئے۔

تشکیلِ جدید کے سات مقالات میں اسلام کے مادی و روحانی تصورات کو فلاسفہ کے آئین اور سائنسی قوانین کے ساتھ بکثرت قرآنی آیات کی رُو سے پیش کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کی فکر نو کو ایسا ہونا چاہئے اور مسلم قوم کو یہ رخ اختیار کرنا چاہئے جو ترقی پسندی کیساتھ عین عبادت کے بھی مترادف ہے۔

پھر عوام کی حوصلہ افزائی کیلئے پہلے مقالے میں وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ ہر چیز تمہارے سامنے تسخیر ہونے کیلئے سرافگندہ کھڑی ہے، اگر کوئی کمی ہے تو وہ تمہاری جستجو کی ہے جو جدید علوم کے بغیر ممکن نہیں۔

فکر اقبال کا مرکزی پیغام جدت پسندی تو ہے لیکن یہ یہ لادینی جدت کی بجائے مذہبی جدت پسندی پر مبنی ہے، پھر بھی ہم یہ نہیں کہتے کہ فکر اقبال کی جزوی تعلیمات اپنانے سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا یا کوئی جزوی طور پر ان سے عقیدت نہیں رکھ سکتا ہے، نہ یہ کہتے ہیں کہ لادین اور غیر مذہبی طبقات کو اقبال پسندی اختیار کرنے کا حق حاصل نہیں۔

ہمارا یہ برملا کہنا ہے کہ علامہ اقبال اور فکر اقبال ہر اس بندے کیلئے ہے جسے پسند ہو، لیکن ساتھ ہی اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ جو فکرِ اقبال کے پورے دائرے سے متفق نہ ہو اسے تمامتر اقبال پسندی کے باوجود ہم فکرِ اقبال کا نمائیندہ نہیں ٹھہرا سکتے۔

بصورت دیگر جیسا کہ موصوف کے اپنے مضمون میں کہا گیا ہے کہ ترقی پسندوں نے اقبالیات کا میدان کھلا چھوڑ کے اسے مولوی کی اجارہ داری کے حوالے کر دیا ہے اور مولوی نے اسے شدت پسند تحریکوں کا امام بنا لیا ہے لہذا فکر اقبال کو ان سے چھین لینا چاہئے۔

اسی طرح یہ خدشہ بھی محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ایمانیات کے بغیر فکر اقبال کو اپنی رہبر بنانیوالے ترقی پسند بھی کل کو اسے الحاد کا امام بنا دیں گے لہذا کل کو ان سے بھی چھیننا ہی پڑے گی۔

ہمارے حساب سے فکر اقبال نہ تو مولویوں کی میراث ہے نہ ہی ایک مخصوص بیانیئے کے حامل ترقی پسندوں کی جس میں دہریئے اور مذہب بیزار لوگ بطور خاص شامل ہیں۔

کیونکہ فکر اقبال ترقی پسندی پر مبنی ضرور ہے لیکن اس کا مخاطب صرف مسلمان ہے، خواہ وہ پہلے سے مسلمان ہو یا ابھی ہو جائے، خواہ وہ شعوری مسلمان ہو یا لاابالی، خواہ وہ باعمل ہو یا بے عمل، خواہ وہ ترقی پسند ہو یا رجعت پسند۔

علامہ اقبال مسلمانوں سے مخاطب ضرور ہیں لیکن فکر اقبال صرف اس مسلمان کی میراث ہے جو ترقی پسند ہو یا ترقی پسندی اختیار کرنے پر مائل ہو سکے کیونکہ اس مکمل تعلیم کو نہ تو رجعت پسند دِین دار ہضم کر سکتا ہے اور نہ ہی مذہب بیزار ترقی پسند ہضم کر سکتا ہے البتہ اس کے دو حصے کرکے دونوں ہی فریق اپنے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر سکتے ہیں جو نہ صرف معیوب ہوگا بلکہ فکر اقبال میں خیانت اور علامہ اقبال کیساتھ دست درازی کے مترادف بھی سمجھا جائے گا۔

مذکورہ مضمون پر جن مذہب بیزار ترقی پسندوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ فکرِ اقبال کے بغیر بھی ہم پانسہ پلٹ دیں گے اور آنے والا وقت ہمارے بیانیئے کا امین ہوگا، ان سے گزارش ہے کہ اس دعوے سے مراد اگر لادینیت یا مذہب بیزاری کی فتح ہے تو یہ کبھی نہ ہو پائے گا البتہ کُشتی کا میدان ضرور کھلا رہے گا، میدان ہوتے ہی کھیلنے کیلئے ہیں، یہ پہلے بھی تھے اور آئیندہ بھی رہیں گے۔

مذہبی بیانیہ فنا ہونا ہوتا تو اس پر سقوط بغداد اور سقوط خلافت سے زیادہ کڑا وقت کیا آئے گا، یہ بیانیہ ان سانحات کے بعد بھی نہ صرف زندہ رہا بلکہ ہندوستان میں ہزار سال تک اپنا دیا جلا کے ثابت کر چکا ہے کہ یہ کوئی کم ہمت چیز نہیں ہے، اس بیانیئے کو “اِن الباطل کان ذھوقا” کی حمایت حاصل ہے لہذا یہ بھاری پتھر ابن سباء سے لیکر مغل اعظم تک اور تاتاریوں سے لیکر برٹش ایمپائر تک نہ کسی سے اٹھایا جا سکا ہے نہ آئندہ اٹھایا جا سکے گا۔

مذکورہ مضمون پر کچھ ترقی پسندوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اقبال کو ریاست نے اغوا کر رکھا ہے اسلئے اقبال سے جتنا دور رہو اتنا ہی اچھا ہے۔

بھیا گزارش ہے کہ ریاست کے اغوا کو ایک طرف رکھ کے بتائیں کہ اس شعر کا آپ کیا ترجمہ کر سکتے ہیں جو لادین ترقی پسندی کو جچتا ہو۔

خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الااللہ

یہ آپ کے بس کا کام ہے ہی نہیں، اگر ہے تو آپ اقبال اکیڈمی سے مختلف ترجمہ کرکے دکھا دیں تو ریاست کے حبس بیجا سے اقبال کو ہم خود چھڑا لائیں گے، یہ ہمارا وعدہ ہے۔

میری ان نگارشات کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہم اقبال کو محدود کر رہے ہیں بلکہ ہم بہ خوشی یہ کہتے ہیں کہ ہماری سوسائٹی کے مسلم و غیر مسلم مذہب پسند دونوں حصے ہمارے قومی وجود کا حصہ ہونے کی بنا پر فکراقبال اپنانے کا پورا اور آزادانہ حق رکھتے ہیں لیکن اس مضمون کے آخر میں جن دو لوگوں کے تاثرات بیان کئے گئے ہیں بیک وقت ان کیساتھ نظریاتی شراکتداری رکھتے ہوئے آپ پیغامِ اقبال کے حصے بخرے کرکے ایک نیا انتشار تو پیدا کرسکتے ہیں، وارث اقبال بننے کیلئے کوالیفائی نہیں کر سکتے، نہ ہی وارثانِ اقبال نے اس ملمع سازی کو قبول کرنا ہے خواہ وہ ریاست ہو، اقبال اکیڈمی ہو یا اقبال کے دیگر فالوورز ہوں۔

یہ بھی پڑھیئے: رات کا اقبال، دن کا اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر غلام شبیر

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

لالہ صحرائی: ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ "افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت"۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: