اقبال کے نظام فکر میں سائنس کا مقام — ڈاکٹر رضی الدین صدیقی

0
ہم خیالوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کے ایک سادہ سے بیان کی بساط پر فکرِ اقبال کو فلسفے اور سائنسی آدرش سے عاری قرار دے دینا قدرے آسان کام ہے لیکن کلامِ اقبال اور مقالاتِ اقبال پر محیط مطالعہ رکھنے والا کوئی بھی فرد جو فلسفے اور سائینس کی مبادیات سے بھی واقف ہو وہ اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا کہ علامہ اقبال فلسفے، سائینس اور مذہب کا بسیط علم رکھنے والے ترقی پسند مفکر تھے۔
علامہ اقبال نے تشکیلِ جدید الہیات کے سات مقالات میں اسلام کے مادی و روحانی تصورات کو فلاسفہ کے آئین اور سائنسی قوانین کے آئینے میں جس حساب سے بیان کیا ہے اس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تسخیر کائینات کے معاملے میں سائنس ایک زاد راہ ہے اور قرآنی آیات راستے کی رہنما ہیں۔
علامہ اقبال مقالات کی ابتداء میں کہتے ہیں:
قرآن کہتا ہے کہ تمہاری تخلیق اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھایا جانا ایک نفس واحد کی تخلیق و بعثت کی طرح ہے۔
حیاتیاتی وحدت کا زندہ تجربہ جو اس آیت میں بیان ہوا ہے آج ایسے منہاج کا تقاضا کرتا ہے جو موجودہ دور کے ٹھوس ذہن کے لیے عضویاتی طور پر کم شدت رکھتا ہو مگر نفسیاتی لحاظ سے زیادہ موزوں ہو، اس طرح کے منہاج کی عدم موجودگی میں مذہبی علم کی سائنسی صورت کا مطالبہ ایک قدرتی امر ہے۔
کلاسیکی فزکس نے اب اپنی ہی بنیادوں پر تنقید شروع کر دی ہے، اس تنقید کے نتیجے میں اس قسم کی مادیت جسے ابتدا میں اس نے ضروری سمجھا تھا تیزی سے غائب ہو رہی ہے، اب وہ دن دور نہیں جب مذہب اور سائنس اپنے درمیان ایسی ہم آہنگیوں کو ڈھونڈ لیں گے جن کا ابھی تک وہم و گمان بھی نہیں۔
تاہم یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ فلسفیانہ فکر میں قطعی اور حتمی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، جوں جوں علم آگے بڑھتا ہے اور فکر کے نئے اُفق کھلتے چلے جاتے ہیں اس امر کا امکان ہے کہ شاید کتنے ہی دوسرے نظریات، ان خطبات میں پیش کئے گئے خیالات سے بھی زیادہ محکم ہوں جو آئندہ ہمارے سامنے آتے رہیں گے، ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم فکر انسانی کے ارتقا پر بڑی احتیاط سے نگاہ رکھیں اور اس کی جانب ایک بے لاگ تنقیدی رویہ اپنائے رکھیں۔
زیر نظر مضمون میں ڈاکٹر رضی الدین صدیقی انہی حقائق کو کچھ جامع انداز میں پیش کر رہے ہیں جو تفہیم اقبال میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایڈیٹر دانش

علامہ اقبال کی پیدائش کے صد سالہ جشن کے سلسلے میں جب پاکستان سائنس فائونڈیشن کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ ’’اقبال اور سائنس‘‘ کے موضوع پر مذاکرہ ہو گا تو ایک بزرگ سائنس دان نے مجھ سے استفسار کیا کہ اقبال سے سائنس کا کیا تعلق تھا؟ میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ پر علامہ کے خطبات کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔

اس ضمن میں مجھے تیس چالیس سال قبل کا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب بعض نقاد کہا کرتے تھے کہ اقبال کی حقیقی شاعری ’’بانگ درا‘‘ کی نظموں تک محدود ہے اور اس کے بعد کا کلام یا تو منظوم فلسفہ ہے یا مذہبی تبلیغ۔ ان میں سے بعض ناقدین کے ساتھ میں نے تفصیلی گفتگو کی تھی اور انہیں بعد کے کلام کا کچھ حصہ پڑھ کر سنایا تھا جس کی بنا پر ان میں سے چند ایک نے کشادہ دلی کے ساتھ اعتراف کیا تھا کہ دراصل انہوں نے بانگ درا کے علاوہ اقبال کا دوسرا کلام پڑھا ہی نہیں تھا۔

یہی حال سائنس کے معاملہ میں ہے کہ جن لوگوں نے علامہ کی نثری تحریروں اور بالخصوص ’’خطبات‘‘ کا بغور مطالعہ نہیں کیا ہے۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ جدید سائنس کے بنیادی اصول پر اقبال کی نظر اور معلومات کس قدر وسیع تھیں۔

اس حقیقت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ علامہ اقبال محض شاعر ہی نہیں بلکہ فلسفی اور مفکر بھی تھے اور بعض وقت تو وہ ان لوگوں سے سخت بیزاری کا اظہار بھی کرتے تھے جو انہیں شاعر سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ایک موقع پر کہتے ہیں:

’’نہ بینی خیر ازاں مرد فرو دست۔ کہ برمن تہمت شعر و سخن بست‘‘

اس طرح ایک اور موقع پر بارگاہ رسالتؐ میں فریاد کرتے ہیں:

من اے میر اسمؐ داد از تو خواہم
مرا یاراں غزل خوانے شمر داد

ابتدائی زمانے میں ایسا بھی ہوا کہ بعض لوگوں نے ان کے اشعار پر زبان یا محاورہ کے لحاظ سے کوئی اعتراض کیا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھیں:

او حدیث دلبری خواہد زمن
رنگ و آب شاعری خواہد زمن
کم نظر بے تابی جانم نہ دید
آشکارم دید و پنہانم نہ دید

یہ کیفیت کبھی کبھی طاری ہوتی تھی تو وہ شعر و سخن ہی سے دست بردار ہو جانا چاہتے تھے جیسا کہ سر شیخ عبد القادر نے ’’بانگ درا‘‘ پر مقدمہ میں بتایا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہیں اپنی شاعری پر ناز بھی تھا جیسا کہ ایک مقام پر کہا ہے:

نغمہ ام از زخمہ بے پروا ستم
من نوائے شاعر فردا ستم

اسی طرح اپنی شاعری کو وہ ایک الہامی پیغام سمجھتے تھے جس سے عام انسانوں اور خصوصاً امت مسلمہ کو بیدار کرنے کا کام لیا جا سکتا ہے:

کہہ گئے ہیں شاعری جزویست پیغمبری
ہاں سنا دے محفل ملت کو پیغام سروش

پھر بفحوائے ’’ان من الشعر لحکمۃ و ان من البیان لسحرا‘‘ انہوں نے بڑی خوبی سے شاعری اور فلسفہ کو باہم دگر یہ کہہ کر مربوط کیا ہے کہ دونوں حقیقت سے بحث کرتے ہیں۔ اگر اظہار حقیقت سوز سے خالی ہو تو یہ بیان فلسفہ بن جاتا ہے اور اگر اس اظہار کے ساتھ سوز دل بھی شامل ہو جائے تو پھر وہی حقیقت شعر کا قالب اختیار کر لیتی ہے۔

حق اگر سوزے ندارد حکمست است
شعر می گردد چو سوز از دل گرفت

فلسفہ کی بنیاد انفس و آفاق میں خالق کائنات کی نشانیوں پر ہے اور فلسفہ کے مسائل علوم فطرت کے مشاہدات اور نظریات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انہی نشانیوں کی تلاش اور جستجو کا نام سائنس ہے اور سائنس میں انہی مشاہدات اور نظریات سے بحث ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے فلسفہ اور سائنس کا باضابطہ مطالعہ شروع ہوا اکابر فلسفہ کی معتدبہ تعداد، ریاضی اور سائنسی علوم کے ماہرین پر مشتمل رہی ہے۔ افلاطون نے تو اپنی اکاڈیمی کے دروازہ پر یہ عبارت کندہ کروائی تھی کہ:

’’جو شخص علم ہندسہ سے واقف نہ ہو اسے اس اکاڈیمی میں داخل نہ ہونا چاہیے۔‘‘

یہ حیثیت فلسفی اور مفکر علامہ اقبال کے لیے بھی سائنس کے جدید انکشافات اور نظریات سے واقفیت نہایت ضروری تھی اور ان کے خطبات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے طبیعی، حیاتی، نفسیاتی اور عمرانی علوم کے اصول کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا تھا اور ان کے اصولوں کو اپنے خطبات میں جابجا نہایت موزوں اور مدلل طور پر استعمال کرتے اور ان علوم کے مسئلوں اور نتائج کو بلا تکلف اپنی تحریروں میں استعمال کرتے تھے جیسا کہ میں نے چند سابقہ مضمونوں یعنی ’’اقبال کا تصور زمان و مکان‘‘ ’’اقبال اور مسئلۂ جبر و قدر‘‘ اور ’’مذہب اور سائنس اقبال کی نظر میں‘‘ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

مثال کے طور پر نظریۂ اضافیت کو لیجیے جو کوانٹم نظریہ کے ساتھ طبیعی سائنس میں بیسویں صدی کا سب سے بڑا علمی کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ علامہ اقبال کو اس نظریہ کی اہمیت کا پورا احساس تھا اور جس طرح انہوں نے ہر مذہب و ملت اور قوم و ملک کے اکابرین علما کو نہایت فراخ دلی کے ساتھ ہدیۂ تحسین پیش کیا ہے اسی طرح پروفیسر آئن سٹائن کی عظمت کے بھی قائل ہیں اور پیام مشرق میں ایک پوری نظم ان کی مدح و توصیف میں رقم فرمائی ہے جس کے اشعار میں خود اس نظریہ کا اصل نکتہ بھی بیان کر دیا گیا ہے:

جلوۂ می خواست مانند کلیم ناصبور
تا ضمیر مستنیر او کشود اسرار نور
بے تغیر در طلسم چون و چند و بیش وکم
برتر از بالا و پست و دیر و زود و نزد و دور
من چہ گویم از مقام آں حکیم نکتہ سنج
کردہ زر دشتے ز نسل موسیٰؑ و ہارونؑ ظہور

یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ علامہ اقبال نے ایسے زمانے میں نظریۂ اضافیت اور کوانٹم نظریہ کے نتائج اور استدلال کو اپنے خطبوں میں استعمال کیا ہے جبکہ خود مغربی ممالک میں بہت کم دانشور ان نظریوں سے واقف تھے یا ان کو کما حقہ سمجھ سکتے تھے۔ راقم الحروف کو اسی زمانے میں یورپ کی مختلف جامعات میں ان نظریوں کے موجد اور سربرآوردہ علما سے استفادہ کا موقع ملا تھا اس لیے یہ بات اپنی ذاتی معلومات کی بنا پر کہی جا رہی ہے۔

نظریۂ اضافیت کا ایک مسئلہ ہے کہ اگر دو مشاہد ایک دوسرے کے لحاظ سے اضافی حرکت کر رہے ہوں تو کسی شے کا طول یا اس کی کمیت ان دونوں کے لیے مختلف ہو گی اور دو واقعات کے درمیان واقفہ بھی ان دونوں کو مختلف معلوم ہو گا۔ اس مسئلہ کو علامہ اقبال نے خطبات میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’جس جسم کا مشاہدہ کیا جاتا ہے وہ متغیر ہے اور مشاہدہ کرنے والے شخص کے لحاظ سے اضافی ہے۔ مشاہد کے مقام اور اس کی رفتار کے ساتھ جسم کی کمیت، شکل اور جسامت بدلتی رہتی ہیں۔ حرکت اور سکون بھی مشاہد کے لحاظ سے اضافی ہیں۔‘‘ (خطبات: صفحہ ۳۷)

اس موقع پر ایک واقعہ کا بیان شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو۔ آزادی سے قبل جب میں جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن میں پروفیسر تھا ان دنوں حضرت جگر مراد آبادی حیدر آباد آتے تو کبھی میرے ہاں بھی قیام فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ یونیورسٹی نے نظریۂ اضافیت پر میرے ایک پبلک توسیعی لیکچر کا انتظام کیا تھا اور حضرت جگر جو اس زمانے میں میرے ہاں قیام پذیر تھے، میرے ساتھ ہی ٹائون ہال گئے تھے۔ تقریر کے دوران نظریۂ اضافیت کی تشریح کرتے ہوئے میں نے علامہ اقبال کا یہ شعر سنایا تھا:

احوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھ
ہر لحظہ ہے سالک کا زماں و مکاں اور

تقریر کے بعد جب ہم گھر واپس ہوئے اور کھانے کی میز پر بیٹھے تو حضرت جگر نے فرمایا:

ڈاکٹر صاحب! تقریر میں علامہ کا جو شعر آپ نے سنایا بڑا اچھا ہے۔ اسی موضوع پر ایک شعر میرا بھی ہے:
میری جانب نگراں ہے کوئی
اب زماں ہے نہ مکاں ہے کوئی

میں نے کہا، حضرت! علامہ اقبال کا وہ شعر فلسفیانہ ہے اور آپ کا یہ شعر Lyrical ہے لیکن اب ایک الہامی شعر بھی سن لیجیے:

خرد ہوئی ہے زماں و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ

اقبال نظریۂ اضافیت کے اس نتیجہ سے بھی واقف تھے کہ کسی مادی شے کی موجودگی سے زماں و مکاں کی حالت پر اثر انداز پڑتا ہے اور طبیعی کائنات غیر محدود لیکن متناہی ہے۔ چنانچہ خطبات میں نظریۂ اضافیت کے فلسفیانہ پہلو پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس نظریہ کی رو سے فضا مادے پر منحصر ہے۔ آئن سٹائن کے خیال کے بموجب کائنات کسی لا محدود خلا میں ایک جزیرہ نہیں ہے بلکہ وہ متناہی لیکن غیر محدود ہے جس کے آگے کوئی فضا نہیں۔‘‘ (خطبات: صفحہ ۳۸)

نظریۂ اضافیت اور کوانٹم نظریہ نے ثابت کر دیا ہے کہ کائنات کی ہر شے میں دوئی پائی جاتی ہے۔ ایک ہی شے کبھی ذرے کے خواص کا اظہار کرتی ہے اور کبھی موج کے خواص کا۔ مادہ اور توانائی (انرجی) میں کوئی اصلی بنیادی اختلاف نہیں ہے۔ اس جدید انکشاف نے مادیت کا خاتمہ کر دیا ہے اور مادہ پرستوں کا خدا کی ہستی کے خلاف یہ استدلال کہ ایک غیر مادی خالق مادی اشیاء کو کس طرح پیدا کر سکتا ہے، اب باقی نہیں رہا کیونکہ اب مادہ اور توانائی میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے بلکہ وہ ایک ہی شے کے دو مختلف بہروپ ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: ’’اللہ نور السمٰوات و الارض‘‘ یعنی اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ علامہ اقبال نظریہ اضافیت کے اس فلسفیانہ پہلو کی قدر و قیمت خوب جانتے تھے۔ چنانچہ خطبات میں فرماتے ہیں:

’’اس طرح ہمیں معلوم ہو گیا کہ قدیم طبیعات کی مادیت کا سرے سے وجود ہی نہیں۔ نظریہ اضافیت نیچر کی واقعیت کو معدوم نہیں کرتا بلکہ مادہ کے متعلق اس تصور کا خاتمہ کرتا ہے کہ مادہ نیچر میں خود بخود پھیلا پڑا ہے۔ اسی تصور نے قدیم طبیعیات کو مادیت کی غار میں دھکیلا تھا۔ جدید اضافیتی طبیعیات میں مادہ کوئی پائدار شے نہیں ہے جس کی خاصیتیں بدلتی جائیں بلکہ یہ محض ایک باہمی تعلق رکھنے والے واقعات کے نظام کا نام ہے۔‘‘ (خطبات: ۳۴)

یہاں میں نے صرف طبیعیاتی سائنس سے متعلق دو تین مثالیں پیش کی ہیں لیکن سائنس کے دوسرے شعبوں سے متعلق بھی اسی قسم کی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

اس منزل پر ایک غلط فہمی کو رفع کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے جس کی وجہ سے علامہ اقبال کے افکار اور ان کی اور تعلیمات کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔ تھوڑی بہت جدید تعلیم حاصل کرنے کے بعد مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب ہو کر گمراہی اور مادہ پرستی میں مبتلا ہونے اور اپنے شعار ملی سے غفلت یا انکار کرنے والوں کی اصلاح و تربیت کے لیے علامہ اقبال نے ابتدائی مراحل پر ضروری سمجھا کہ عقل محض کی خامیوں کو اور اس کے ذریعے حاصل ہونے والے علم کے محدود ہونے کو واضح کیا جائے تا کہ افراد ملت کے سامنے ایک متوازن نقطۂ نظر موجود رہے۔ اس سے قبل جرمن فلسفی کانٹ اور دوسرے علماء نے بھی عقل محض کی کوتاہ دامنی کا پردہ چاک کیا تھا۔ لیکن اس سے اقبال کا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ عقل و فکر کی تنقیص کی جائے۔ ان کے کلام میں اور خصوصاً خطبات میں بے شمار مقامات ایسے ہیں جہاں انہوں نے عقل و خرد اور اس پر مبنی علم و حکمت کی اہمیت جتائی ہے اور ملت اسلامیہ کو تاکید کی ہے کہ وہ تسخیر فطرت کی خاطر علم و فن میں کمال حاصل کریں اور اس طرح ملت کو وسیع اور مستحکم بنائیں۔ چنانچہ خطبات میں فرماتے ہیں:

’’قرآن کریم نے غور و فکر کے ساتھ فطرت کے مشاہدے کی تلقین کی تو اس لیے کہ ہم اس حقیقت کا شعور پیدا کریں جس کی ایک نشانی عالم فطرت ہے۔ یہاں توجہ طلب امر قرآن کی وہ حقیقت پسندانہ روش ہے جس سے مسلمانوں کے اندر عالم واقعیت کا احترام پیدا ہوا اور جس کی بنا پر آگے چل کر انہوں نے جدید سائنس کی بنیاد ڈالی۔ پھر یہ بات کہ تجربے اور مشاہدے کی اس روح کو اس زمانے میں بیدار کیا گیا جو خالق کائنات کی جستجو میں عالم محسوسات کو بے حقیقت سمجھ کر نظر انداز کر چکا تھا، کوئی معمولی واقعہ نہیں۔‘‘ (خطبات: صفحہ ۱۴)

خطبات کے علاوہ اپنے فارسی کلام میں متعدد مقامات پر اور تقریباً ہر مجموعہ میں علامہ اقبال نہایت وثوق کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ سائنسی علم انسانوں کے لیے اور خصوصاً امت مسلمہ کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے چنانچہ فرماتے ہیں:

گفت حکمت راہ خدا خیر کثیر
ہر کجا ایں خیر را بینی بگیر
علم اشیا الاسیا ستے
ہم عصا و ہم ید بیضا ستے
علم را بر اوج افلاک است رہ
تا ز چشم مہر بر کندد نگہ
نسخۂ او نسخۂ تفسیرِ کل
بستۂ تقدیر او تقدیر کل
دشت را گوید جابے دہ دہد
بہر را گوید سرابے دہ دہد
چشم او بر واردات کائنات
تا بہ بندد محکمات کائنات

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں انسانی شرف و عظمت کی بنا حقائق اشیاء کے علم کو قرار دیا گیا ہے چنانچہ ’’و علم آدم الاسماء کلہا‘‘ کی آیۂ کریمہ میں اسی جانب اشارہ ہے۔ انسان اپنے علم کی قوت سے آسمانوں کے سنہ میں شگاف کرتا ہے اور عالم رنگ و بو کو اپنے تصرف میں لاتا ہے۔ وہ فطرت کی کمی اور کوتاہی کو اپنے منشا کے مطابق رفع کر سکتا اور اس کی زیادتی کو کم کر سکتا ہے۔ اس علم کی بدولت وہ ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں ساری کائنات اس کے زیر نگیں آ جاتی ہے اور عناصر پر اس کی حکمرانی ہوتی ہے:

خنک روزے کہ گیری ایں جہاں را
شگافی سینۂ نۂ آسماں را
بہ کف بردن جہان چار سو را
مقام نور و صوت و رنگ و بو را
فزونش کم، کمِ او بیش کردن
دگرگوں برمرادِ خویش کردن
شکوہِ خسروی این است این است
ہمیں ملک امت کو توام بدین است

صرف علم و حکمت کے ذریعے انسانی ذہن عالم محسوس کے پرے جا سکتا ہے اور اس پر تصرف حاصل کر سکتا ہے اور اس طرح حفظ حیات اور استحکام خودی کی ضمانت حاصل ہوتی ہے۔

علم از سامان حفظ زندگی است
علم از اسباب تقویم خودی است
دست رنگین کن ز خون کوہ سار
جوئے آب گوہر از دریا بر آر
صد جہاں در یک فضا پوشیدہ اند
مہر ہا در ذرہ ہا پوشیدہ اند
از شعاعش دیدہ کن نادیدہ را
وا نما اسرار نا فہمیدہ را
تابش از خورشید عالم تاب گیر
برق طاق افروز از سیلاب گیر
جستجو را محکم از تدبیر کن
انفس و آفاق را تسخیر کن

جماعتیں اسی وقت عزت اور آزادی کی زندگی بسر کر سکتی ہیں جب وہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ساتھ خارجی دنیا اور اس کی پوشیدہ قوتوں پر تصرف حاصل کریں۔ قوائے عالم کی تسخیر، استحکام خودی اور حیات ملمیہ کی توسیع کے لیے نہایت ضروری ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک عالم فطرت کو مسخر کرنے اور نیابت الٰہی کے حق دار ہونے کے لیے علم و حکمت میں مہارت تامہ حاصل کرنا لازمی شرط ہے:

ما سوا از بہر تسخیر است و بس
سینۂ او عرضۂ تیر است و بس
ہرکہ محسوسات را تسخیر کرد
عالمے از ذرۂ تعمیر کرد
تا ز تسخیر قوائے ایں نظام
ذو فنو نیہائے تو گردد تمام
نائب حق در جہاں آدم شود
بر عناصر حکم او محکم شود

اس سلسلے میں خطبات کے علاوہ منظوم کلام میں بھی علامہ اقبال نے ایک نہایت اہم نکتہ یہ بھی پیش کیا ہے کہ اسلام کی تعلیم کا ایک لازمی نتیجہ یہ تھا کہ مشاہدہ اور غور و فکر کے امتزاج سے جدید سائنس کی بنیاد مسلم علماء ہی نے رکھی ہے چنانچہ فرماتے ہیں:

حکمت اشیاء فرنگی زاد نیست
اصل او جز لذت ایجاد نیست
نیک اگر بینی مسلماں زادہ است
ایں گہر از دست ما افتادہ است
چون عرب اندر اروپا پر کشاد
علم و حکمت را بنا دیگر نہاد
دانہ آں صحرا نشیناں کاشند
حاصلش افرنگیاں برداشتند
ایں پری از شیشۂ اسلاف ماست
باز صیدش کن کہ او از قاف ماست
(مثنوی مسافر: صفحہ ۴۰)

علامہ اقبال نے قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق انفس و آفاق کو تسخیر کرنے کی جو تاکید کی ہے اس کے سلسلے میں یہاں تک آفاق کی تسخیر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب ہم انفس کی تسخیر کے معاملے پر بحث کرتے ہیں۔

اقبال سائنس میں بھی ایک قسم کی روحانیت پاتے ہیں اور کائنات کے متعلق تحقیق و تجسس کو بھی عبادت کی ایک شکل قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں:

’’غرض کہ جو تشریح ہم نے اوپر دی ہے وہ طبیعی سائنس کو ایک قسم کی روحانیت عطا کرتی ہے۔ نیچر کا علم خدا کی خدائی کا علم ہے۔ جب ہم نیچر کا مشاہدہ کرتے ہیں تو گویا انائے مطلق سے قریب تر ہوتے ہیں اور یہ بھی ایک قسم کی عبادت ہے۔‘‘ (خطبات: صفحہ ۵۷)

اس وجہ سے بھی اقبال ضروری سمجھتے تھے کہ جدید سائنس کے اصولوں کا کماحقہ مطالعہ کیا جائے اور ان کی روشنی میں فلسفہ کے بنیادی مسئلوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ زمان و مکان اور علیت کے مسئلے اقبال کی نظر میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں چنانچہ لکھتے ہیں:

’’قرونِ وسطیٰ سے، جبکہ اسلامی الہیات کے مختلف مکاتیب فکر تکمیل پا چکے تھے، انسانی تخیل اور تجربے نے بے انتہا ترقی کی ہے۔ عالم فطرت پر انسانی تسلط اور اقتدار کے بڑھ جانے سے اس میں ایک نیا ایقان اور اپنے ماحول کے مقابلے میں احساس برتری پیدا ہو گیا ہے۔ نئے نقاط نظر پیش ہوئے ہیں، پرانے مسائل تجربے کی روشنی میں نئے انداز سے بیان کیے گئے ہیں اور نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسانی ذہن اپنے بنیادی ایمان یعنی زمان، مکان اور علیت کے بارے میں بہت آگے نکل گیا ہے۔ سائنس کی جدید ترقیوں نے ہماری ذہنی صلاحیتوں میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے کائنات کے ایک جدید تخیل کو ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے اور ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ ہم فلسفہ اور مذہب کے مشترکہ مسئلوں کو نئے زاویوں سے ملا حظہ کریں۔‘‘ (خطبات: صفحہ ۷:۸)

علامہ اقبال نے اپنے خطبات کے دیباچے میں وضاحت کر دی ہے کہ اس دور کا انسان جس نے کائنات کی ہر شے کے متعلق سوچنے سمجھنے کی عادت ڈال لی ہے اور جس کو خود اسلام نے اس قسم کے غور و فکر کی تعلیم دی ہے، مذہب کے متعلق وہ داخلی کیفیت پیدا نہیں کر سکتا جس پر دراصل دین کا دار و مدار ہوتا ہے۔ صوفیائے کرام یہ صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں لیکن عام انسانوں میں یہ صلاحیت بہت کم ہوتی ہے۔ اس لیے اس قسم کا ذہن رکھنے والوں کا یہ مطالبہ کہ مذہب کے متعلق معلومات کو سائنٹفک شکل میں پیش کیا جائے بالکل قدرتی ہے اور اقبال کہتے ہیں کہ اسی مطالبہ کی تکمیل کے لیے انہوں نے یہ خطبات تحریر کیے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ طبیعی سائنس کی بنیادوں میں تبدیلی ہو رہی ہے اور اس تبدیلی کے باعث وہ مادیت، جو سائنس کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی، معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ اب وہ دن دور نہیں کہ مذہب اور سائنس ایک دوسرے میں ایسی ہم آہنگی محسوس کریں جس کا اس سے قبل خیال بھی نہیں آسکتا تھا۔

’’چونکہ مذہب اور سائنس کے مابین ہم آہنگی پائی جاتی ہے، اس لیے اقبال صریحی طور پر بتاتے ہیں کہ مذہب کے متعلق معلومات کو معقول سائنٹفک شکل میں پیش کرنا ضروری ہے۔ وہ کہتے کہ اگر چہ مذہب کی روح عقیدہ اور ایمان ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایمان محض احساسات اور جذبات سے کچھ زیادہ ہوتا ہے اور اس میں غور و فکر کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔‘‘ (خطبات: صفحہ ۱)

اس کے علاوہ مذہب چونکہ ان عام صداقتوں پر مشتمل ہوتا ہے جو انسانی سیرت کی تعمیر کرتی ہیں اور چوں کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل اور رہنمائی مذہب کا مقصود اور منتہا ہے اس لیے علامہ اقبال کی رائے میں مذہب کی ان صداقتوں کو غیر معین نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کوئی فرد بشر اس کے لیے تیار نہیں ہو سکتا کہ اپنے عمل کی بنیاد مشتبہ اصولوں پر رکھے اور یہی وجہ ہے کہ مذہب کے لیے سائنس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ اس کی معلومات کو معقول پیرایہ میں پیش کیا جائے۔

اقبال کہتے ہیں کہ وجدان اور فکر کو ایک دوسرے کے متقابل اور متضاد سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ دونوں ایک ہی سر چشمہ سے نمودار ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ دونوں کو اپنی نشو و نما کے لیے ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ وہ برگساں کی اس رائے سے متفق ہیں کہ ’’وجدان کی حیثیت ایک اعلیٰ درجہ کی عقل کی ہے۔‘‘ (خطبات: صفحہ ۳)

اس سے بھی آگے بڑھ کر علامہ اقبال بتاتے ہیں کہ مذہب کو معقول بنیادوں پر استوار کرنے کا کام خود پیغمبر اسلامؐ نے شروع فرمایا تھا جن کی مستقل دعا یہ تھی کہ ’’اے خدا مجھے حقیقت اشیاء کا علم عطا فرما۔‘‘ پانچویں خطبے میں اسلامی ثقافت کی روح کی تشریح کرتے ہوئے اقبال تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ:

’’بنی نوع انسان کی سغر سنی میں ایسا بھی ہوا کہ اس کی نفسی توانائی کی نشو و نما شعور کی وہ صورت اختیار کرے جسے شعور نبوت سے تعبیر کیا گیا ہے اور جس کا مطلب یہ ہے کہ اس شعور کی موجودگی میں افراد کو نہ تو خود کسی امر پر حکم لگانا پڑے نہ ان کے سامنے یہ سوال ہو کہ ان کی پسند اور ناپسند کیا ہے۔ انہیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت نہ ہو گی کہ وہ کیا راہ عمل اختیار کریں۔

یہ سب باتیں پہلے ہی سے طے شدہ ہوں گی۔ لیکن جہاں عقل نے آنکھ کھولی اور قوت تنقید بیدار ہوئی تو پھر زندگی کا مفاد اسی میں ہے کہ ارتقائے انسانی کے اولین مراحل میں نفسی توانائی کا اظہار جن ماورائے عقل طریقوں سے ہوا تھا ان کا ظہور اور نشو و نما رک جائے۔ انسان جذبات کا بندہ ہے اور جبلتوں سے مغلوب رہتا ہے۔ لیکن عقل استقرائی اس کے اپنے حاصل کرنے کی چیز ہے جسے ایک دفعہ حاصل کر لیا جائے تو پھر ضروری ہے کہ حصول علم کے اور جتنے بھی طریقے ہیں ان پر ہر پہلو سے بندشیں عائد کر دی جائیں تا کہ عقل استقرائی کو مستحکم کیا جا سکے۔

’’اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ پیغمبر اسلامؐ کی ذات گرامی دنیائے قدیم اور جدید کے مابین ایک واسطہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اپنے سر چشمۂ وحی کے اعتبار سے آپ کا تعلق دنیائے قدیم سے ہے لیکن بہ اعتبار اس کی روح کے آپؐ جدید دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ آپ ہی کا وجود گرامی ہے کہ زندگی پر علم و حکمت کے وہ سرچشمے منکشف ہوئے جو اس کے آئندہ رخ کے عین مطابق تھے۔ لہٰذا اسلام کا ظہور عقل استقرائی کا ظہور ہے۔ اسلام میں نبوت اپنے معراج کمال کو پہنچ گئی اور ختم نبوت کے ضروری ہونے کو تسلیم کر لیا گیا۔ اسلام نے خوب سمجھ لیا تھا کہ انسان ہمیشہ خارجی سہاروں پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ اس کے شعور ذات کی تکمیل اسی طرح ہو سکتی ہے کہ وہ خود اپنے وسائل سے کام لینا سیکھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے مذہبی پیشوائی کو ختم کیا، موروثی بادشاہت کو جائز نہیں رکھا، بار بار عقل اور تجربے پر زور دیا۔ فطرت اور عالم تاریخ کو علم انسانی کا سرچشمہ ٹھہرایا کیونکہ ان سب کے اندر یہی نکتہ مضمر ہے کہ یہ تصور ختم نبوت کے مختلف پہلو ہیں۔‘‘ (خطبات: صفحہ ۱۲۵، ۱۲۶)

اس مختصر بحث کے بعد یہ معلوم کرنا مشکل ہی نہیں رہتا کہ علامہ اقبال کی نظر میں عقل و خرد اور اس پر مبنی علم و حکمت کی کس قدر اہمیت ہے۔ ان کے سارے منظوم کلام، نثری تحریروں اور خطبات کے بالاستیعاب مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نظام فکر کے اقالیم ثلاثہ ایمان، علم اور عمل صالح ہیں اور اس طرح سائنس کی حیثیت ان تین اقالیم میں سے ایک کی ہے کیونکہ علم کی اصطلاح انفس و آفاق دونوں کے علم پر حاوی اور محیط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترقی پسند یا مذہب پسند: فکر اقبال کا وارث کون؟ —– لالہ صحرائی

تعارف ڈاکٹر رضی الدین صدیقی:
ڈاکٹر صاحب برصغیر پاک و ہند کے بلند پایہ ماہر طبیعیات اور ریاضی دان تھے۔وہ حیدر آباد دکن میں 1905 میں پیدا ہوئے۔ عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد دکن سے گریجوایشن کیا۔ پھر ان کو کیمبرج یونی ورسٹی میں سکالر شپ مل گیا وہ داخلے کے امتحان میں اول آئے تھے۔ کیمبرج میں وہ نوبل انعام یافتہ سائنس دان پال ڈیراک کے شاگرد رہے۔ وہ نامور سائنس دان ایڈنگٹن کے بھی شاگرد رہے۔ آئن سٹائن کے لیکچرز میں بھی شرکت کرتے رہے۔ 1930 میں
Theory of Non Linear Differential Equations
کے موضوع پر جرمنی سے پی ایچ ڈی کی۔ پھر پیرس چلے گئے۔ وہاں کے سائنسی جرائد میں ان کے بہت سے مقالات شائع ہوئے جن پر مبنی ایک کتاب بھی شائع کرائی جسے ہائزن برگ کے نام منسوب کیا۔ اس کتاب کو آئن سٹائن ، ہائزن برگ اور ڈیراک نے بہت سراہا۔ ڈیراک نے تو باقاعدہ تعریفی خط بھی لکھا۔ کتاب نظریہ اضافیت علامہ اقبال کی فرمائش پہ لکھی۔ ” اقبال کا تصور زمان و مکاں ” ان کی بہت اہم کتاب ہے۔ ان کی خدمات پہ انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی نے گولڈ میڈل دیا جو نہرو نے انھیں پہنایا۔ (اعجاز الحق اعجاز)

(Visited 1 times, 5 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: