قرآن، پردہ اور غامدی صاحب ——– مجید گوندل

0

فیس بک پر بتاریخ ٢٣ ستمبر ٢٠١٩ جناب غامدی صاحب کی ایک پوسٹ جاری ہوئی ہے۔ اس تحریر کے سر آغاز میں لکھا ہے:

’’سورہ احزاب‘‘ میں منقول پردے کے حکم سے متعلق جاوید احمد صاحب غامدی کی رائے ’’میرا علم خام ہے۔ لیکن چونکہ پردے کے بارے میں جناب غامدی صاحب کی رائے پہلے سے معلوم ہے اس لیے یہ کہنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ مندرجہ بالا جملے میں لفظ ‘منقول لکھنا درست نہیں لگا۔ اس کے بجائے لفظ ‘مبینہ کی معنویت جناب غامدی صاحب کے مؤقف کی صحیح ترجمان ہوتی۔

جناب غامدی صاحب نے سورہ احزاب کی ٥٨-٦١ چار آیات کا نظم قرآن کے اصول پر ترجمہ فرمایا ہے۔ اس کے بعد وہ فرماتے ہیں کہ ان آیتوں میں ’ان یعرفن فلا یوذین‘ کے جو الفاظ آئے ہیں ’’ان کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ یہ کوئی پردے کا حکم نہ تھا بلکہ مسلمان عورتوں کے لیے الگ شناخت قائم کر دینے کی ایک وقتی تدبیر تھی جو اوباشوں اور تہمت تراشنے والوں کے شر سے مسلمان عورتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی۔‘‘

جناب غامدی صاحب نے ’’سیاق و سباق‘‘ کی اصطلاح یہاں محض برائے وزن استعمال کی ہے۔ دراصل آیت کا مفہوم انہوں نے پہلے سے طےکردہ نتائج کے مطابق ہی وضع اور استوار کیا ہے۔ فرماتے ہیں۔ ‘یہ کوئی پردے کا حکم نہ تھا۔ یہ، ایک وقتی تدبیر تھی۔ جناب غامدی صاحب اس ’’سیاق و سباق‘‘ کے سہارے پردے کے حکم کا انکار اور ادنائے جلباب کوایک وقتی تدبیر قرار دے رہے ہیں۔

قرآن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ الله تعالی اپنے پیغمبر کے ذریعے مسلمانوں کو اپنے احکام اور ہدایات دیتا ہے۔ وہ ان پرعمل کرنے کے مکلف ہوتے ہیں۔ الله تعالی تدبیریں کبھی نہیں بتاتا۔ تدبیر و سعی کرنا انسان کا کام ہے۔ تعمیل حکم میں بعض اوقات، مثال کے طور پر حالت جنگ میں سخت مشکلات پیش آئیں اور نادیدنی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن الله تعالی کی طرف سے کوئی تدبیر نہیں بتائی گئی۔ پیغمبر نے خود یا مشاورت سے اس کا حل نکالا۔ الله تعالی بعض مواقع پر اپنی غیبی مدد سے تو ضرور نواز دیتے ہیں۔ قرآن مسلمان خواتین کو جلباب کے استعمال کا حکم دے رہا ہے۔ کیونکہ حکم الله تعالی کا ہے۔ اگر اس مسئلے کا یہ حل نبی صلی الله علیہ وسلم آپ یا مشورے سے تجویز فرماتے تو اسے تدبیر کہہ سکتے تھے۔ قرآن کی آیت کا یہ کیسا ’’سیاق و سباق‘‘ ہے، جو الوہی شان اورانسانی حیثیت کا فرق واضح نہ کر سکا۔ اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ ادنائے جلباب کی آیت قرآن مجید میں موجود و محفوظ ہے لیکن اس میں بیان کیا گیا حکم سلب ہو چکا ہے۔ یہاں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں:

کیا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے؟
یہ آیت محکمات قسم کی ہے یا اس کی حیثیت متشابہات کی ہے ؟

جناب غامدی صاحب بہتر طور پر جانتے ہیں کہ سورہ احزاب کی آیات : ٣٢-٣٣– ٥٣-٥٥ اور زیر بحث آیت نمبر ٥٩۔ ان سب آیات کے نزول کا زمانہ ایک اور شان نزول بھی ایک جیسی ہے اور جملہ پس پردہ اسباب و مسائل کے سد باب کے لیے گھر کے اندر سے لے کر گھر سے باہر تک کے لیے پردے کے احکام اور ان سے منسلک دوسرے ذیلی احکام تفصیل سےالله تعالی نے ان آیات میں بیان فرمائے ہیں۔ جناب غامدی صاحب ان احکام کو آج بھی مؤثر بعمل تسلیم کرتے ہیں لیکن انہی احکام میں سے ایک اہم حکم کا ’’جو آیت ٥٩ میں گھر سے باہر کے پردے سے متعلق ہے‘‘ انکار کرتے ہیں۔

اس حکم کے آخر میں ’’ان یعرفن فلا یوذین‘‘ کے الفاظ میں اللہ تعالی نے اس حکم کی علت بیان کی ہے کہ مسلمان خواتین کو بد قماش اذیت دیتے اور ہراساں کرتے ہیں۔ اس سے بچاؤ کا طریقہ ادنائے جلباب ہے۔ اس خاص پردے سے وہ پہچانی جائیں گی تو اشرار کو انہیں تنگ کرنے کی جرات نہیں ہو گی۔

ان الفاظ کا سیاق و سباق یعنی ما قبل تو یہ صریح حکم ہے کہ:

(ترجمہ) ’’اے نبی صلی الله علیہ وسلم، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تا کہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔‘‘

یہ حکم ایک ہی مسلسل عبارت پر مشتمل ہے۔ واضح اور بالصراحت حکم جس کے ساتھ علت و معلول بھی بیان کر دی گئی ہیں۔ اس حکم میں شروع سے آخر تک وہ کون سا لفظ یا زیر زبر ایسی موجود ہے جس سے یہ کلام الٰہی حکم کی تعریف میں نہیں آتا۔

جناب غامدی صاحب ایک تو یہ فرماتے ہیں کہ الله تعالی نے قرآن میں مسلمان خواتین پر پردہ واجب نہیں کیا، رہ گئی ادنائے جلباب کی بات تو اس کے بارے میں ان کا ارشاد ہے کہ یہ ایک وقتی تدبیر تھی۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ تو پھر سورہ احزاب کی آیات : ٣٢۔ ٣٣ اور ٥٣۔ ۔ ٥٥ میں بیان کیے گئے احکام کو حرف بحرف اور ابدی وہ کیوں مانتے ہیں۔ جب کہ یہ احکام بھی انہی اور ویسے ہی ہنگامی حالات و مسائل کی وجہ سے قرآن نے صادر فرمائے ہیں جن کی بنا پر قرآن نے اسی سورہ کی آیت نمبر ٥٩ میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمانوں کی خواتین کو ادنائے جلباب کا حکم دیا ہے۔

سورہ احزاب کے علاوہ سورہ نور کی آیت نمبر ٣١ میں مسلمان خواتین کو گھریلو ماحول میں غیر محرم لوگوں سے پردہ کرنے کے احکام دیے گئے۔ لیکن جناب غامدی صاحب انہیں آداب معاشرت کی حیثیت دیتے ہیں۔ کیونکہ لفظ حکم کہنے سے تو اس پر عمل کی بجا آوری لازمی قرار پاتی ہے۔ جب کہ حکم کے بجائے اگر اسے آداب سے موسوم کر دیا جائے تو آدمی کوآزاد منشی کا آپشن استعمال کرنے کی سہولت ہر وقت میسر رہتی ہے۔ جناب غامدی صاحب نے اسی حکمت کے تحت قرآنی حکم کو لفظ آداب سے بدلا ہے۔

ان میں مسلمان خواتین کو ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہدایات دی گئی ہیں:

’’اے پیغمبر اور ماننے والی عورتوں کو ہدایت کرو کہ اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں، سوائے ان کے جو ان میں کھلی ہوتی ہیں اور اس کے لیے اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت کی چیزیں نہ کھولیں مگر اپنے شوہروں کے سامنے۔۔۔۔۔‘‘

یہاں چادر اوڑھنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا منشا اجنبیوں سے زینت چھپانا ہی ہے۔ جناب غامدی صاحب سورہ نور کے اس حکم کو مانتے ہیں۔ اور مستقل حکم سمجھتے ہیں اور سوسائٹی کو اخلاقی مفاسد سے محفوظ رکھنے کے لیے ان ہدایات پر سختی سے عمل کرنے اور ان کی پابندی کو ناگزیر خیال کرتے ہیں۔

لیکن سورہ احزاب کے حکم کو حکم نہیں مانتے اور ادنائے جلباب کو وقتی تدبیر قرار دیتے ہیں۔ چہ بوالعجبی است۔ ایک حکم مستقل دوسرا حکم محض ہنگامی ضرورت اور وقتی حل۔ ان دونوں احکام کے محرکات میں جوہری فرق کی نشاندہی کے بغیر یہ رائے محض سخن سازی ہے۔

وہ کہنا یہ چاہ رہے ہیں کہ بس راہ چلتے اچانک پاؤں میں موچ آ گئی۔ لہٰذا بطور علاج فوری طور پر پاؤں کے اوپر کس کے پٹی باندھ دی۔ وقتی تکلیف’ وقتی مداوا۔ لله الله خیر صلا۔

غامدی صاحب کی عادت حسنہ ہے کہ پہلے وہ خود ہی بنائے استدلال قائم کرتے اور پھر اسے بنیاد بنا کر دلائل فراہم کرنے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

اس مسئلے کو وہ ہنگامی صورت حال سے تعبیر کر رہے ہیں۔ تا کہ اس طرح وہ اس آیت سے اپنی پسند کا مضمون پیدا کر سکیں۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن احکامات و ہدایات، حالات و واقعات کے پیش آنے پر نازل کرتا ہے۔ جبھی احکام و ہدایات کی حقیقی قدر و قیمت واضح ہوتی ہے۔ لہٰذا ہر حکم کے پیچھے کوئی محرک ہوتا ہے اور قرآنی حکم یا ہدایت کے پیچھے موجود محرک کو وقتی یا ہنگامی حالات کہہ کر اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

زیر بحث معاملے میں ’’سیاق و سباق‘‘ کے نام پر من مرضی کا مفہوم آیت کے منہ میں ڈال دیا ہے اور صورت حال کو بالکل الٹا دیا گیا ہے۔ جلباب کے استعمال کی ہدایت بھی پیش آمدہ اقتضائے حال کے تحت دی گئی تھی۔ اگر یہ وقتی تدبیر تھی تو کیا اس پردے کو قرآن نے بعد میں کبھی کالعدم قرار دیا یا مسلمان خواتین نے اسے وقتی ‘ تدبیر ‘ سمجھ کر کسی وقت ترک کیا جبکہ اس پردے کا استعمال بلا تعطل امت میں آج تک چلا آ رہا ہے۔

پردے سے مراد کیا ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ پردے کے حکم کی روح اور اس کی غرض و غایت کیا ہے اس بارے میں بھی سب کا اتفاق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان خواتین پردے کے نفاذ کے وقت سے آج تک اس کا برابر اہتمام کرتی آ رہی ہیں۔ امت مسلمہ میں پردے کا استعمال عملی تواتر کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔

جناب غامدی صاحب دینی امور میں صحت سند کے لیے تواتر کی فوقیت کے قائل ہیں۔ مگر پردے کے استعمال کے عملی تواتر سے انکار کرتے بلکہ اس کے وجوب کے ہی سرے سے منکر ہیں۔

جناب غامدی صاحب انکار حدیث کے الزام کے دفاع میں نظری گفتگو پر انحصار کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ ان کی وضاحت کی حقیقت بس اتنی ہے کہ حدیث کے ترک واختیار کا معیار ان کی نظر میں یہ ہے۔ جو حدیث مفید مطلب ہے وہ صحیح ہے اور جو مفید نہیں وہ حدیث غیر مستند ہے۔ چاہے وہ حدیث متفق علیہ ہو۔

سورہ نور میں مذکور واقعہ افک کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا نے اس کی تفصیلات بیان کی ہیں جس سے پوری صورت حال واضح ہو جاتی ہے۔ یہ تفصیلات حدیث کی کتابوں میں محفوظ ہیں۔ یہاں اس واقعہ کا وہ حصہ درج کیا جاتا ہے جو موضوع زیر بحث سے متعلق ہے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں۔ میں جب ہار لے کر پلٹی تو وہاں کوئی نہ تھا۔ آخر اپنی چادر اوڑھ کر وہیں لیٹ گئی اور دل میں سوچ لیا کہ آگےجا کر جب یہ لوگ (جنگی قافلہ صحابہ) مجھے نہ پائیں گے تو خود ہی ڈھونڈتے ہوئے آ جائیں گے۔ اسی حالت میں مجھ کو نیند آ گئی۔ صبح کے وقت صفوان بن معطل سلمی اس جگہ سے گزرے جہاں میں سو رہی تھی اور مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے’ کیونکہ پردے کا حکم آنے سے پہلے وہ مجھے بار ہا دیکھ چکے تھے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا کے اصل الفاظ، جن میں ’’لفظ الحجاب‘‘ استعمال ہوا ہے، نیچے درج کیے جاتے ہیں:

’’فعرفنی حین راٰنی و کان قد راٰنی قبل الحجاب فاستیقظت باستر جاععہ حین عرفنی فخمرت وجھی بجلبابی‘‘

ترجمہ: وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان گیا کیونکہ حجاب کے حکم سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکا تھا۔ مجھے پہچان کر جب اس نے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا تواس کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنی چادر سے منہ ڈھانک لیا۔

لیکن جناب غامدی صاحب بڑی قطعیت سے فرماتے ہیں کہ حجاب صرف اس کپڑے یا ٹاٹ کو کہا جاتا جو دروازے پر بطور پردہ لٹکایا جائے۔ موصوف اہل زبان کو سند نہیں مان رہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔

جناب غامدی صاحب سورہ احزاب کی آیت ٥٩ کی تفہیم کے وقت اگر اس کے مفہوم میں تصرف کے بجائے، حدیث کہہ لیں ’’روایت سمجھ لیں‘‘ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زبان پر اعتبار کر لیتے تو انہیں سیاق و سباق کے چکر میں پڑے بغیر آیت مذکور بلا کسی رکاوٹ کے سمجھ میں آ جاتی۔ جو واضح طور پردے کا حکم اور اس کی ابدیت کا اعلان کر رہی ہے۔

اسلام نے عورت کو کسی خاص ضرورت کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی ہے۔ ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر بڑی چادر لے لے اور اس کا گھونگھٹ چہرے پر لٹکا لے۔ اس اہتمام کے ساتھ وہ شاپنگ کر سکتی ہے۔ علاج کے لیے ہسپتال جا سکتی ہے۔ ملازمت وغیرہ کر سکتی ہے۔ اجنبی اور غیر محرم مردوں سے بقدر ضرورت بات کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن ایسے مواقع پر الله تعالی نے مسلمان عورتوں کو ان باتوں کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ کہ ایسے مواقع پر ’’دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔‘‘

یہاں واقعی لفظ ’’پردہ‘‘ استعمال نہیں ہوا ہے۔ یہ لفظ فارسی الاصل ہے۔ اسی لیے جناب غامدی صاحب بجا طور پر بڑی قطعیت سے اور دو ٹوک لہجے میں بیان کرتے ہیں کہ لفظ ’’پردہ‘‘ قرآن و حدیث کے لیے بالکل اجنبی ہے۔

سورہ نور میں مذکور پردے سے متعلق حکم پر جاوید احمد غامدی صاحب کی رائے۔

اس عنوان کے تحت جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی تحریر میں موضوع سے متعلقہ سورہ نور کی آیات کا ترجمہ اور شرح بیان کی ہے۔ ان تفصیلی ہدایات کو انہوں نے لفظ ’’آداب‘‘ سے معنون کیا ہے۔ حالانکہ یہ لفظ ان زیر بحث آیات میں استعمال ہوا نہ ہی قرآن میں کہیں آیا ہے۔

اسی طرح قرآن نے عورتوں کو اشرارکے شر سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے یہ حکم دیا ہے کہ اپنی چادروں میں سے کوئی بڑی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کرو۔ اس ترکیب کو عرف عام کے ایک لفظ پردہ کے سوا اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ جب کہ لفظ پردہ کی معنویت اور جناب غامدی صاحب کی مجوزہ اصطلاح ’’ترکیب‘‘ کے مقصد اور کام میں ذرہ برابر کوئی فرق بھی نہیں تو اسے پردہ کہنے میں کیا حرج ہے۔

اردو لغت میں پردہ کے معانی حجاب ’’گھونگھٹ‘‘ نقاب اور برقع کے ہیں۔ مقصد کے اعتبار سے لفظ پردہ جلباب کا بدل ہے۔ بلکہ دیکھا جائے تو تمدن کی ترقی سے جلباب نے ہی برقع کی شکل اختیار کر لی ہے۔ تعلیمی اداروں کی طالبات کے لیے پردے کے لیے دیسی یا ترکی برقع کے بجائے عبایا متعارف کرایا گیا ہے۔ جو مقبول ہوا۔ لیکن ہمارے ملک کے قلمکار جن کی سرکار دربار میں بھی بڑی پذیرائی ہے۔ آج کل وہ عبایا پر تکبیر پڑھ رہے ہیں۔

ان کے استاد مولانا امین احسن اصلاحی رحمتہ الله علیہ نے سورہ احزاب کی آیت ٥٩ زیر بحث کے تحت لکھا تھا کہ

’’اس سے بعض ذہین لوگوں نے یہ نتیجہ نکالنےکی کوشش کی ہے کہ یہ حکم ہنگامی حالات کے لیے تھا‘‘۔

حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ ان کا اپنا شاگرد بھی آخر انہی ’’بعض ذہین لوگوں‘‘ میں جا شامل ہوا جو کبھی (سال ١٩٤٨ میں) ان کی تنقید کا ہدف بنے تھے۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ دوسری طرف انقلابات زمانہ نے ایک اور عبرتناک منظر بھی دکھایا۔ جس کا اجمال کچھ یوں ہے کہ در فیض سے فیض اٹھاتے ہوے ١٥برس گزر چکے تھے کہ شاگرد نے اپنے رسالہ ’’اشراق‘‘ کے شمارہ مارچ ١٩٨٨ میں اپنے استاد کا مضمون ’’قرآن اور پردہ: امام امین احسن اصلاحی کی ایک اہم تحریر‘‘ شائع کیا تھا۔ یہاں یہ امر واضح رہے کہ اس تحریر سے جو بہت ہی بنیادی قسم کے اختلافات آج کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت نہیں کیے گئے تھے۔ قاعدے کی رو سے مضمون کی اشاعت کے وقت فٹ نوٹ میں اپنی اختلافی رائے، اگر تھی تو ظاہر کر دینی چاہیے تھی۔ علمی دنیا کا یہ ایک مسلمہ اور معروف طریقہ ہے۔ لیکن اس وقت ایسا کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ سب کچھ بعد کی پیداوار ہے۔

پھر جناب غامدی صاحب کا اس وقت قرآن سے مبتدیانہ تعلق بھی نہ تھا۔ ان کا اپنا بیان ہے کہ کالج سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے پورے پانچ سال قرآن کا دقت نظر سے مطالعہ کیا تھا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے بعد وہ مولانا فراہی رحمتہ الله علیہ کے محبوب ترین شاگرد خاص اور صاحب تدبر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی رحمتہ الله علیہ سے بھی کم و بیش دو دہائیاں تک قرآن کی تعلیم حاصل کرتے رہے تھے۔ اپنے استاد کے مضمون کو اس وقت انہوں نے یقینا اپنے علم کی روشنی میں صحیح سمجھ کر ہی اپنے رسالہ کی زینت بنایا ہو گا۔ پھر آج اپنے استاد کے علم و فضل اور خود اپنے وقیع علم و رائے کو اپنے ہاتھوں بلڈوز کرنے والے اختلاف کا ماخذ و مصدر آخر انہیں کہاں سے حاصل ہوا ہے؟

مولانا حمید الدین فراہی رحمتہ الله علیہ جناب غامدی صاحب کے دادا استاد ہیں۔ ان کا ہی یہ کارنامہ ہے کہ انہوں نے تفسیر قرآن کے لیے نظم قرآن کے اصول کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کے شاگرد خاص مولانا امین احسن اصلاحی رحمتہ الله علیہ نے نظم قرآن کے اصول کی روشنی میں قرآن مجید کی نو جلدوں میں ’’تدبر قرآن‘‘ کے نام سے تفسیر مکمل کی ہے۔ مناسب ہے کہ پردے کے بارے میں مولانا حمید الدین فراہی رحمتہ الله علیہ کی رائے بھی یہاں پیش کر دی جائے۔

’’حجاب کے مسئلہ میں تفاسیر اور فقہ میں پوری توضیح موجود ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہاتھ اور چہرہ کھلا رکھنا جائز ہے۔ میری رائے میں نظم قرآن پر توجہ نہ کرنے سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔ ایسی قدیم غلطیوں کا کیا علاج کیا جائے۔ کون سنتا ہے کہانی میری اورپھر وہ بھی زبانی میری۔ فقہا اور مفسرین کا گروہ ہمزبان ہے۔ مگر صحابہ اور تابعین زیادہ واقف تھے انہوں نے ٹھیک سمجھا ہے مگر متاخرین حضرات نے ان کا کلام بھی نہیں سمجھا ہے۔ بہرحال الحق احق بان یتپع۔ میں اس مسئلہ پر مطمئن ہوں اور میرے نزدیک اجنبی سے پورا پردہ کرنا واجب ہے اور قرآن نے بھی حجاب واجب کیا ہے۔ جو شرفا میں مروج ہے بلکہ اس سے زائد‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: شرعی پردہ اور غامدی صاحب : مجید گوندل
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: