تصوف، ذکر اور رفعت ذکر ——– عمران شبیر تاجی

0

تصوف صرف خدا کی طرف متوجہ ہونے کا نام ہے، کتابوں میں آپ کو تصوف سے متعلق کئی تعریفات ملیں گی۔ کسی نے کہا کہ تصوف اھل صفا سے نکلا ہے، کس نے کہا کہ صوفی کپڑا پہننے والے کو صوفی کہتے ہیں۔

تصوف کوئی نئی چیز نہیں ہے، خالق کائنات کی طرف متوجہ ہونا ایک قدیمی انسانی روش ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اللّہ تبارک وتعالی کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کرنا ایک مشہور واقعہ ہے۔ اسی طرح ہر عام انسان کی زندگی میں کبھی نہ کبھی، کوئی نہ کوئی ایک ایسا لمحہ رنج وتکلیف یا خوشی میں ضرور آتا ہے جب وہ اس خالق کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اس کی نظر میں اس سارے عالم پیدا کرنے والا ہے۔

میری نظر میں ہر آدمی صوفی ہے چاہے اسے اس بات کا ادراک ہو نہ ہو، آپ ضرور حیران ھونگے کہ ہر آدمی صوفی کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی آدمی جب بھی اپنی زندگی میں اس ذات برتر پر ایک لمحہ بھی صرف کرتاہے پس وہ ایک لمحہ میری نظر میں اس کے لئے معرفت خالق کائنات کا لمحہ ہے۔

اس کی مثال آپ اس طرح سے سمجھیں کہ زندگی میں میں ہر آدمی کو سادہ حساب یعنی دو جمع دو ضرور کرنا آتا ہے اس لئے ھم اسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ حساب کرنا جانتا ہے۔

کسی کا دو جمع دو کرنا کسی بھی دوسرےانسان سے جس نے میٹرک، انٹر، بی اے، بی ایسسی یا پی ایچ ڈی کیا ہوں اس کے علم سے متوازی نہیں ہو سکتا لیکن آپ اسے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ حساب نہیں جانتا۔ اسی طرح کوئی انسان جس نےکسی بھی فیلڈ میں بی اے، ایف ایس سی، بی ایس سی، پی ایچ ڈی کیا ہو وہ صاحب ان صاحب کے برابر نہیں ہو سکتے جو حساب میں پی ایچ ڈی کر چکے ہوں یا سی اے کر چکے ہوں۔

انسان کا کسی ایک صنف علم سے واقف ہونا اور اس کے اس علم کے تناسب یا مقدار کا کسی دوسرے آدمی کے اسی صنف علم کے تناسب یا مقدار کا الگ الگ ہونا ان دونوں انسانوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کرتے ہیں، اسی طرح اس آدمی کو بھی قیاس کریں جو اس صنف علم سےواقف ہی نہیں ہے۔ یہی علم و تجربے کا فرق انسانوں میں ایک دوسرے کو ممتاز کرتا ہے۔ صرف دو جمع دو کرنے والے انسان کا علم حساب اور سی اے کرنے والے کے علم حساب کے برابر نہیں ہو سکتا۔

تفکر اور علم کے اسی زاویہ کو آپ خدا کی طرف متوجہ ہونے کی طرف لاگو کر کے دیکھیں۔ زندگی میں ایک بار اللہ کی طرف توجہ ہونا اور ذات باری تعالیٰ کےمتعلق با قاعدہ علم حاصل کرنا الگ الگ بات ہے۔

نماز پڑھتے ہوئے ہمیں حکم یہ ہے کہ نماز چھوڑ کے گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو ایسا گمان کرو کہ اللہ تم کو دیکھ رہا ہے۔

قرآن کریم میں جگہ جگہ زمین و آسمان، چرند و پرند چاند ستارے ہر شے پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور ان مخلوقات کے توسط سے خالق کی طرف متوجہ ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

قرآن میں میں ارشاد ہے اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ کا ذکر کرو۔

دوسری جگہ ارشاد ہوا کہ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا۔ یہی اللہ کے ذکر کی ارتقائی کیفیت ہے کہ آدمی اللہ کا ذکر اس طرح کرتا ہے کہ وہ خود مذکور ہو جاتا ہے یہی اس کا ذکر کی رفعت و قبولیت ہے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: