لوگ مجھ سے ایسے کیوں پیش آتے ہیں؟ فرحان کامرانی

0

2010ء کی بات ہے، مجھے میری ایک ساتھی پی ایچ ڈی نفسیات کی طالبہ نے کچھ واقعات سنائے اور مجھ سے رائے طلب کی کہ لوگ ان سے اس طرح کیوں پیش آتے ہیں؟ واقعات حوالے کے طور پر درج ہیں۔

پہلا واقعہ:
مذکورہ خاتون (جن کو آسانی کے لئے ہم خدیجہ کہہ لیتے ہیں) نے اپنی انٹرن شپ سپروائزر اور ان کے شوہر کے لئے ایک دعوت کا اپنے گھر پر اہتمام کیا، سپروائزر صاحبہ کے شوہر بھی ہمارے استاد تھے اور ان کی اور سپروائزر صاحبہ کی شادی حال میں ہی ہوئی تھی۔ یہ دعوت خدیجہ اور سپروائزر صاحبہ کے ایک ساتھ ملائیشیا ایک کانفرنس میں جانے کی خوشی میں تھی، بہرحال جب دعوت اختتام پذیر ہوئی تو خدیجہ کی والدہ مہمان جوڑے کے پاس آئیں اور بہت تہذہب سے دریافت کیا کہ ”کیسا لگا کھانا“ تو سپروائزر صاحبہ کے شوہر اچک کر بولے ”کھانا جون سا ہے، اچھا تھا مگر ہم سمجھے تھے اور چیزیں بھی ہوں گی“ ان کی اس بات پر خدیجہ کے بقول والدہ صاحبہ بہت شرمندہ ہو گئیں اور سٹپٹا گئیں اور کہنے لگیں ”ارے میں تو بنا رہی تھی بیٹا مگر وہ خدیجہ نے ہی کہا کہ مطلب۔ مطلب۔۔۔“ بہرحال بڑی عجیب صورت حال پیدا ہو گئی۔

دوسرا واقعہ:
ہمارے ہی ساتھ ایک گلگتی لڑکا بھی پی ایچ ڈی کر رہا تھا (محترم کو ہم آسانی کے لئے ساجد کہہ لیتے ہیں) ساجد کی بہن کی شادی طے ہوئی تو اس نے شرکت کے لئے گلگت جانے کا ارادہ کیا۔ بہن سے پوچھا کہ کچھ کراچی سے چاہیے تو بہن نے فرمائش کی کہ کوئی زیور لے آئے۔ اب ساجد کو نہ زیورات کی الف بے معلوم تھی نہ ہی کراچی کے بازاروں کی ہی ٹھیک سے خبر تھی، تو وہ مدد کے لئے خدیجہ صاحبہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ وہ ساجد کی بہن کے لئے زیور کی خریداری میں مدد کریں۔ خدیجہ نے حامی بھر لی اور ساجد سے کہا کہ وہ اپنی رینج اور پسند بتا دیں اور پیسے دے دیں اور خدیجہ اور اس کی والدہ زیور خرید کر لے آئیں گے۔ ساجد نے پیسے دے دیے اور دو دن بعد زیور آگیا، خدیجہ نے ساجد کو کہا کہ وہ ان کے گھر سے زیور لے لیں۔ ساجد جب خدیجہ کے گھر آیا تو اس کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا گیا، چائے پیش کی گئی اور زیور دیا گیا۔ ساجد نے زیور بہت پسند کیا اور مدد پر خدیجہ اور ان کی والدہ کا شکریہ ادا کیا، خدیجہ کی والدہ نے کہا کہ ”ہمیں یقین تھا بیٹا کہ تم کو یہ پسند آئے گا“ ساجد نے کہا کہ ”ہاں آنٹی، آپ نے بہت محنت کی اور یہ خرید کے لائیں، یہ آپ کے چائے پانی کے لئے۔۔۔“ یہ کہہ کر اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور 50 روپے نکال کر خدیجہ کی والدہ کی طرف بڑھائے۔ ماں بیٹی یہ دیکھ کر ششدر رہ گئیں، والدہ نے بڑی تہذیب سے کہا ”ارے نہیں بیٹا، تم میرے بیٹے کی طرح ہو، اگر میں اپنے بیٹے کے لئے کچھ لاتی تو کیا اس سے پیسے لیتی؟“

تیسرا واقعہ:
خدیجہ ایک ڈرگ ری ہیبلی ٹیشن سینٹر میں کچھ عرصہ کے لئے ملازم ہوئیں، وہاں ایک معروف نفسیات دان کا چھوٹا بھائی ٹرینی کے طور پر رکھ چھوڑا گیا تھا، صرف اس لئے کہ ان نفسیات دان صاحب کی بات رکھنی مجبوری تھی۔ اس لڑکے کا تعلق ہنزہ سے تھا اور یہ بامشکل اردو سیکھ پایا تھا، ہم اس کو آسانی کے لیے سلمان کہہ لیتے ہیں، بہرحال اس لڑکے کو مسلسل خدیجہ صاحبہ کے سر پر مسلط کر دیا گیا کہ یہ بالکل اس طرح کونسلنگ سیکھ جائے جیسے نائی کی دکان میں چھوٹے کام سیکھتے ہیں۔ بہرحال ایک روز یہ لڑکا اور خدیجہ دفتر میں بیٹھے تھے، اس نے کہا ”آپ نے یہ سینڈل کہاں سے خریدی؟“ خدیجہ نے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ وہ اس کو شوخ نہ کرنا چاہتی تھی۔ وہ پھر بولا ”میرے خیال میں میڈم آپ نے یہ سینڈل کباڑے سے لیاہو گا؟“ خدیجہ کو شدید غصہ آیا مگر وہ خاموش رہی۔ اب سلمان نے حتمی جملہ کسا ”آپ کے سینڈل سے بدبو آرہا ہے“ بس یہاں پر خدیجہ کا پیمانہ لبریز ہوا اور انہوں نے سلمان کو ڈانٹا اور اس کی شکایت دفتر میں افسران بالا سے بھی کر دی۔

ان تینوں واقعات کو سنانے کے بعدخدیجہ نے اپنا سوال دہرایا کہ ’’لوگ ان سے اس طرح کیوں پیش آتے ہیں؟‘‘ تب میں نے محترمہ کو یہ جواب دیا تھا کہ سارے مذکورہ افراد احمق اور بدتہذیب ہیں، اس لئے اس طور سے پیش آئے ہیں مگر اب 8 سال بعد جب میں ان واقعات پر غور کرتا ہوں تو ان واقعات کی مختلف تعبیر میرے ذہن میں مرتب ہوتی ہے اور ان سے چند ایسی باتیں اخذ ہوتی ہیں کہ جو عمومی انسانی رویوں کے تناظر میں بہت اہم ہیں۔ اس لئے میں ان کو ضبط تحریر میں لانا بہت ضروری سمجھتا ہوں۔

دراصل انسان ایک بہت ہی پیچیدہ مخلوق ہے۔ گو کہ علم نفسیات نے بھی دیگر جدید علوم کی طرح یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ پیش گوئی کی اہلیت رکھتا ہے اور بہت سے تجربات سے انسانی رویوں کی درست پیش گوئی کر کے بھی دکھائی ہے مگر وہ سادہ اور بنیادی قسم کے رویے ہیں جب کہ ان کے برخلاف زندگی کسی تجربہ گاہ کی طرح کنٹرولڈ ماحول میں نہیں بلکہ ہزار قسم کے محرکات کی بارش میں گزاری جاتی ہے۔

دراصل لوگ ہم کو دیکھ کر اپنے افعال ہمارے حساب سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یعنی وہ ہمارے بارے میں ایک تاثر رکھتے ہیں اور ہم سے پیش آتے وقت اس تاثر کو مدنظر رکھتے ہیں۔ ایک ہی شخص پیسے والے سے الگ طور سے پیش آتا ہے اور غریب سے دوسرے طور سے۔ جب تک ایک شخص Boss کی کرسی پربراجمان ہوتا ہے اس کے ساتھ رویہ مختلف ہوتا ہے اور جوں ہی وہی شخص رٹائر ہوتا ہے رویہ بدل جاتا ہے۔ جتنے انسان ہیں اتنی ہی طرح کے انسان ہیں مگر ظاہر ہے کہ انسانوں میں کچھ باتیں یکساں بھی ہیں اور یہی باتیں انسانوں میں ابلاغ کی راہ کھولتی ہیں۔

پہلے واقعے پر غور کیجئے، خدیجہ اپنی سپروائزر صاحبہ کی دعوت کرتی ہے اور جب ان کی والدہ کھانے کے بابت رسماً پوچھتی ہیں تو سپروائزر کے شوہر صاحب فرماتے ہیں کہ ان کا خیال تھا کہ اور چیزیں بھی ہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ یہ کہیں ثقافتوں کے فرق کا معاملہ تو نہیں؟ کیونکہ ثقافتی معاملات میں بھی ابلاغ کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ محترم صرف Frank رہنے کی کوشش کر رہے ہوں مگر ایک بنیادی محرک یہ ہو سکتا ہے کہ خدیجہ دراصل کمزور پوزیشن میں تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ ایک طالبہ تھیں اور سپروائزر صاحبہ کی خوشنودی ان کے لئے ادارے میں رہنے کے لئے اہم تھی۔ طاقت کی پوزیشن سے بات کرتے ہوئے بعض افراد کا رویہ بھارتی فلم ”لجا“ کے باراتیوں جیسا ہو ہی جاتا ہے۔ یعنی سپروائزر صاحب کے شوہر کا رویہ دراصل Individually tailored تھا۔ وہ اپنی بیوی کی طالبہ کے گھر میں یوں بول سکتے تھے مگر اپنے افسر کے گھر کی دعوت میں وہ یقینی طور پر یہ جرأت نہ کر سکتے ہونگے۔

دوسرے واقعے میں ساجد نے جو جیب سے 50 روپے نکال کر خدیجہ کی والدہ کی طرف بڑھائے یہ بھی دراصل اس تصور کی وجہ سے ہوا جو اس نے خدیجہ اور ان کی والدہ کا اپنے دماغ میں بنایا۔ یہ دراصل ”بخشش“ دینے کی سعی تھی۔ بخشش اپنے سے کم رتبہ افراد کو دی جاتی ہے کہ جب وہ کوئی کام اچھا کریں تا کہ ان کی حوصلہ افزائی ہو مگر اس کو آخر یہ تاثر کیوں کر ملا کہ خدیجہ اور اس کی والدہ اس سے کم رتبہ ہیں؟ اس بات کا جواب اگلے واقعے کے تجزیے کے آخر میں آئے گا۔

تیسرے واقعے میں اپنے سے کئی سال بڑی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خدیجہ سے سلمان کی فری ہونے کی کوشش اور پھر ان کی تحقیر کی کوشش بھی دراصل اس تصورکی پیداوار ہے جو وہ خدیجہ کا رکھتا تھا۔ کسی وجہ سے اس کو یہ لگ رہا تھا کہ وہ خدیجہ سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ مگر کیسے بھلا؟ وہ تو یہاں پر اس کی سپروائزر تھی؟ شائد اس لئے کہ خدیجہ بے حد تہذیب یافتہ تھی۔ اعلیٰ اخلاقیات اور اعلیٰ تہذیب کی وجہ سے ان کی اور ان کی والدہ محترمہ سے بے حد شرافت کا تاثر پہلی نظر میں ہی مل جاتا تھا اور پہلے، دوسرے اور تیسرے واقعات میں، یعنی ہر واقعے میں دراصل شرافت کو کمزوری کے ہم معنی سمجھا گیا۔ ہمارے معاشرے میں دراصل شرافت ہے ہی کمزوری۔ جو بھی آنکھ نکال کر بات نہیں کرتا، اپنی بھڑکیں نہیں مارتا، کبھی چلاتا نہیں ہے، کبھی گالی نہیں بکتا، کبھی غصے میں نہیں آتا،وہ سب کو لگتا ہی ایسا ہے کہ لوگ اس پر اس نوع کے حملے کرنا اپنا عین حق سمجھتے ہیں۔

مثل مشہور ہے کہ شریف کا منہ کتا چاٹے، ایک ہندی کی مثل ہے کہ ”نملے کی جورو سب کی بھوجائی“ یعنی شریف کی بیوی سب کی بھابھی۔ آپ سماجی زندگی میں اگر دوسروں کو بہت جگہ دیتے ہیں تو لوگ فوراً اس پر قبضہ جما کر پلازہ کھڑا کر لیتے ہیں اور آپ سے مزید جگہہ کا تقاضہ آنکھیں دکھا کر کرتے ہیں۔ یہ معاشرہ تیزی سے انحطاط کا شکار ہے اور اس کی واحد قدر اب صرف قوت ہے۔ یہاں پر ہر شخص صرف طاقت کی ہی بولی سمجھتا ہے اور طاقت کی ہی بولی بولتا ہے۔ پہلے اور دوسرے واقعے میں ایک اور سبق بھی موجود ہے کہ ہر قسم کے رنگ برنگے لوگوں کو اپنے گھر بلا لینا یا ان کی مدارات کرنا کس قدر احمقانہ عمل ہے۔ ہر انسان آپ کے گھر میں داخل ہونے کے لائق نہیں ہوتا نہ ہی ہر انسان اس لائق ہوتا ہے کہ اس کی ایک پیسے کی بھی مدد کی جائے یا اس سے ایک لفظ بھی گفتگو کی جائے۔ لوگوں کی سخت اسکروٹنی کے بعد ہی ان کو اپنے حلقے میں شامل کیا جانا چاہیے ورنہ وہ یوں ہی اپنی اصلیت دکھاتے ہیں اور آپ حیران ہو کر اپنے آپ سے اور دوسروں سے سوال کرتے ہیں کہ ”آخر لوگ مجھ سے ایسے کیوں پیش آتے ہیں؟“

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20