بڑا بھائی : کچھ دکھ اس کے بھی ہیں —- اظہر عزمی

0

بڑا بھائی۔۔۔ کچھ دُکھ اس کے بھی ہیں
دیکھیں کہیں یہ آپ ہی تو نہیں

(ایک اشتہاری کی باتیں)

پہلے کم کم ملتا تھا۔ اب بار بار ملنے لگا ہے۔ کبھی دوستوں میں کھڑا باتیں کر رہا ہوتا ہے۔ مجھے دور سے آتا دیکھتا ہے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ کوشش کرتا ہے کہ میں اسے نہ دیکھوں۔ یہ اس کا حق ہے دوستوں سے ملے، ہنسی مذاق کرے۔ میں جانتا ہوں وہ ڈرتا ہے کہیں اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو میں اس کے والد سے کہہ دوں۔ اصل میں اس کے والد نے مجھ سے کہہ رکھا ہے کہ میں اس پر نظر رکھوں۔اب اسے یہ کون بتائے کہ میں اس پر پولیس والی تفتیشی نظر تھوڑی رکھتا ہوں۔ کبھی گھر کا سودا سلف لارہا ہوتا ہے تو نظروں ہی نظروں میں مودبانہ سلام کرتا ہے۔

ایک دن صبح آفس جاتے ہوئے بس اسٹاپ پر مل گیا۔ اسکول یونیفارم پہنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ مجھے بڑا غصہ آیا کہ اس نے آج اسکول کی چھٹی کر لی۔ دل چاھا ایک تھپڑ رسید کردوں۔ میں نے پوچھا تو بولا “دیر سے آنکھ کھلی۔ ساری بسیں بھری ہوئی آرہی تھیں۔ گیٹ پر لٹکنے کی بھی جگہ نہ تھی۔میں غصہ میں تھا،بولا:

جب دیر سے اٹھو گے تو یہی ہوگا؟

کہنے لگا : رات چھوٹے بھائی کو بخار تھا۔ میں بھی جاگتا رہا۔یہ کہہ کر وہ گھر کی جانب چل دیا۔

میں چاھتا ہوں کہ وہ مجھے نظر نہ آئے۔ کبھی غصہ آتا ہے تو کبھی بہت جھنجھلاہٹ ہوتی ہے۔ اس کی سنے بغیر خوب ہی سناتا ہوں۔ سوچتا ہوں ہر وقت کی ڈانٹ پھٹکار اچھی بات نہیں۔ کسی دن اس نے جواب دے دیا تو کیا عزت رہ جائے گی؟ مگر نہ جانے کیوں مجھے یقین ہے کہ وہ بدتمیزی نہیں کرے گا۔

گذری عید میں بھی دیر سے مسجد پہنچا۔ وہ مجھے مسجد کے باہر کھڑا نظر آگیا۔ اندر نمازِ عید ہو رہی تھی۔ مجھ سے نہ رہا گیا:
شرم کرو، عید کی نماز پڑھنے میں بھی جان جا رہی ہے کیا؟
کچھ دیر نظریں جھکائے خاموش کھڑا رہاپھر بولا: پاپا کو مت بتا دیجئے گا۔غصہ ہوں گے۔

میں نے کہاکہ ہاں تم عید کی نمازنہ پڑھو اور وہ کچھ بھی نہ کہیں۔ بتانے لگا کہ وہ میرا کرتا چھوٹا تھا۔ صبح پہنا تو پتہ چلا۔ میں بھی تلا بیٹھا تھا “تمہاری کاہلی کی عادت جائے گی نہیں؟”۔ ایک دن امتحان کے دنوں میں ملا، گھبرایا لگا، بولا کہ کل انگلش کا پیپر ہے، پڑھا دیں گے۔ اب جو میں لے کر بیٹھا تو اسے تو Tenses تک نہ آتے تھے۔ Essay اور Active Passive تو بہت دور کی بات ہے۔جب میں نے اس کی کلاس لی تو بولا “اتنا تو کردیں کہ پاس ہو جائوں”۔ وہ اوسط درجے کا ذہین ہے مگر گھبرایا گھبرایا رہتا ہے۔ احساسَ کمتری کا شکار لگتا ہے۔دیکھنے میں بھی ذرا عجیب سا ہے۔ قد لمبا ہے اوراس پر دُبلا بھی ہے۔بولتا بھی تیز تیز ہے۔لوگ شارٹ ہینڈ میں لکھتے ہیں۔یہ شارٹ ہینڈ میں بولتا ہے۔

ایک دن اس کی والدہ کے پاس گیا تو بولیں:
ذرا اسے سمجھائو۔ ہر وقت گھر میں چھوٹے بھائیوں سے ہنسی مذاق کرتا رہتا ہے۔ بڑا بھائی ہے، باپ کی جگہ ہے۔
میں اُن کی بات سن کر تو آگیا مگر سوچنے لگا کیا سمجھائوں اس کو۔ ابھی تو وہ خود اتنا چھوٹا ہے۔ باپ کی جگہ والی بات کہوں گا تو کہے گاـ:
کیا ہو گیا آپ کو۔۔۔ابھی سے میں پاپا کے برابر کہاں سے ہوگیا؟

اب میں اسے کیا بتائوں کہ ہمارے معاشرے میں پہلا بیٹا پیدا ہی باپ جتنا ہوتا ہے اور پھر ساری زندگی اسی میں گذار دیتا ہے۔بچپن میں ہی بزرگی کی چادر پہنا کر بچپن چھین لیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس کے لئے اس نے کوئی محنت نہیں کی ہوتی ہے۔پیدا ہوتے ہی یہ اعزاز اس کی گردن میں ڈال دیا جاتا ہے جو وہ چاھے بھی تو نہیں اتار سکتا۔ باپ کی یہ وراثت مرتے دم تک اس سے کوئی نہیں چھین سکتا اور نہ ہی کوئی اس کا دعویٰ دار سامنے آتا ہے۔ہر قربانی کے جواب میں صرف ایک جملہ سنائی دیتا ہے”تو کیا ہوا۔بڑا بھائی ہے۔ باپ کی جگہ ہے، کوئی احسان تھوڑی کیا ہے؟”۔ بچپن میں بھی اس کی اپنی کوئی چیز نہیں ہوتی ہے۔ چھوٹوں کا حق اس کی ہر چیز پر ہوتا ہے۔جب اسے دنیا سے اپنا حق لینے کی تربیت دینی چاہیئے۔ ہم اسے قربانی کے نام پر پیچھے ہٹنے کا عظیم درس دے رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس کچے ذہن سے بنیادی طور پر آگے بڑھنے کی طلب بھی تو چھین رہے ہیں۔ ہم اسے اپنی خواہشات میں ڈھال کرچھوٹوں کے لئے سیکیورٹی چاھتے ہیں لیکن دوسری جانب ہم ایک انسان کو قربان گاہ میں لے آتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کام آنا تو ہر ایک کی ذمہ داری ہے لیکن کسی ایک کو اس پوسٹ پر “ملازمت” دے دینا کہاں کا انصاف ہے؟

ایک دن وہ مجھے کرکٹ کھیلتے بچوں سے الگ تھلگ بیٹھا ملا، اداس تھا۔ میں خود ہی اس کے پاس چلا گیا۔ مجھے دیکھ کر وہ احترام میں اٹھ جایا کرتا تھا لیکن آج ایسا نہیں ہوا۔ میں نے بھی برا نہیں مانا اور خود ہی بات شروع کردی “امتحان ہونے والے ہیں۔ تیاری نہیں کی ہوگی؟”۔ بولا “اس میں میرا کیا قصور؟”۔ میں نے کہا “سارا قصور تمہارا ہے”۔ اس نے پہلی بار مجھے غصہ سے دیکھا “آپ کو بھی ناں، بس میں ہی نظر آتا ہوں۔ اس میں میری کیا غلطی ہے۔ مجھ سے پوچھتے تو صاف صاف منع کر دیتا”۔ مجھ سے بھی رہا نہ گیا، کہہ دیا”پڑھو گئے نہیں تو بڑے آدمی کیسے بنو گے؟”۔ آج وہ ہر بات کا جواب دینے کو تیار بیٹھا تھا “میں نے کوئی بڑا آدمی نہیں بننا۔ بڑا آدمی بن کر کیا کروں گا؟ سب کہتے ہیں تم پاپا کی جگہ ہو۔ پاپا کا کیا ہے اتنی محنت کرتے ہیں۔ ہم ہیں پھر اس کے بعد ہمارے چاچا ہیں، پھوپھی ہیں۔ سب کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پاپا کے اپنے پاس کیا ہے دو پینٹوں اور شرٹوں کے علاوہ؟”۔ میں نے اسے بتانے کی کوشش کی کہ تمہارے پاپا بہت اچھے ہیں۔ سب کے کام آنے والے انسان ہیں۔ تمھیں ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ نقشِ قدم کا مطلب نہیں سمجھے گا لیکن ایسا بالکل بھی نہیں تھا۔ بولا “چھوڑیں، نقشِ قدم کیا بننے ہیں۔ ایک ہی شوز ہیں ان کے پاس جو نیچے سے دو مرتبہ اتنا گھس چکے ہیں کہ پاپا کی جرابیں پھٹ جاتی ہیں۔ موچی نے بھی کہہ دیا کہ اپنے ابا کو بولو، نیا خرید لے۔ اب یہ لے کر مت آنا”۔ آج تو وہ مجھے حیران کئے جارہا تھا۔ میں نے اسے سمجھانا چاھا مگر وہ میری سننے کے موڈ میں ہی نہ تھا۔ کہنے لگا “آپ گھر میں سب سے بڑے ہوتے تو آپ کو پتہ چلتا۔۔۔ بڑا بھائی ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے”۔

میں خاموشی سے اٹھ کر چلا آیا۔ اب اسے کیا بتاتا کہ میں بھی گھر میں سب سے بڑا ہوں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20