’’تاریخِ گُم گَشتہ‘‘ مائیکل ہیملٹن مورگن ——– ترجمہ و تلخیص: ناصر فاروق

2

(تعارف: یہ کتاب اسلام یا کسی مذہب کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ کسی علم الٰہیات یا مذہبی نظریہ پر بھی مبنی نہیں۔ یہ کتاب ایک ایسی تہذیب کے بارے میں ہے، جو اسلام کی رہنمائی میں تشکیل پائی۔) مائیکل ہیملٹن مورگن


آل ِ روم
’’ا۔ ل۔ م رومی قریب کی سر زمین میں مغلوب ہو گئے ہیں اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہو گا جبکہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبر دست اور رحیم ہے۔ ‘‘ (سورہ روم)

اسلام کے ابتدائی دنوں میں، اگرچہ عرب کا بیشتر علاقہ مسلمانوں کی قلمرو میں داخل ہو چکا تھا، یہ ایک غریب خطہ تھا، طاقت ور سلطنتوں سے الگ تھلگ بے آب و گیاں قبائلی دنیا تھی۔ ہندوستان، فارس، اور بحر احمر کے گرد آباد قوت کے مراکز سے یہ دور تھا۔ رومی اور فارسی سلطنتوں کی شان و شوکت کے مقابلہ میں قابل ذکر بھی نہ تھا۔ اس کا قطعی امکان نظر نہیں آ رہا تھا، کہ اسلام عالمی سطح پر تبدیلی کی کوئی لہر بھی پیدا کر پائے گا۔ مگر آنے والے سو سالوں میں ایسا ہی ہوا۔ یہ انتہائی غیر متوقع انقلاب کیوں برپا ہوا؟ یہ تاریخ گُم گَشتہ ہے۔

پیغمبر مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و اٰلہہ وسلم ) کی زندگی میں، مسلمانوں نے شمال اور مشرق کی سرحدوں سے فارسی اور بازنطینی قوتوں کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اپنی عرب سرحدوں کو محفوظ اور مستقبل کی حکمت عملی کو مضبوط بنیادوں پر اٹھا رہے تھے۔ یہ بہت ہی عجیب تھا، کہ جوں جوں عرب پیش قدمی کر رہے تھے، دونوں بڑی قوتیں پسپا ہو رہی تھیں۔ مدینۃ النبی کی جانب، مفتوحہ زمینوں سے مال غنیمت اور محصولات کا بہاؤ تیز ہو رہا تھا۔ بالکل اُسی طرح جیسے بازنطینی سلطنت نے مصر اور شام کے مقبوضہ علاقوں پر بھاری محصولات عائد کیے تھے، تا کہ قسطنطنیہ کی رومی مرکزیت کو زیادہ سے زیادہ قوت بہم پہنچائی جائے۔ عرب مسلمان بھی اسلامی ریاست کی وسعت اور شان و شوکت کا ذائقہ محسوس کر رہے تھے۔

ایک بار جب صدیوں سے بند دروازے کُھلے، ترقی اور تہذیبی نمو کے مواقع ملتے چلے گئے۔ قدیم عرب کی ماؤں اور عورتوں نے باپوں، بھائیوں اور بیٹوں کو انجان دنیاؤں کی جانب روانہ کیا۔ ایمان کی قوت سے سرشار مجاہدین کے لشکر شمال، مشرق اور مغرب کے شہروں پر غالب آتے چلے گئے۔ وہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و اٰلہہ وسلم) کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ، جہاں جہاں ہو گزرے، لوگ مفتوح ہوتے چلے گئے۔ یہ منجمد معاشروں میں انقلابی پیش قدمی تھی۔

اس بے سرو سامانی میں اس مہم کے نتائج ناقابل یقین تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ و اٰلہہ وسلم) کے وصال کو ابھی دو ہی سال گزرے تھے، کہ اسلامی ریاست بازنطین کا بہت بڑا حصہ جذب کر چکی تھی، ان مفتوحہ علاقوں میں شام اور فلسطین نمایاں تھے۔ حضرت عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی خلافت میں مسلم افواج بازنطینی مصر کا رخ کر رہی تھیں۔ شمالی افریقا میںبھی پیش قدمی جاری تھی۔ حضرت عثمان (رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی خلافت میں فارس اسلامی ریاست کا حصہ بن چکا تھا۔

عرب مسلمانوں کی ابتدائی پیش قدمی پر مغرب میں لکھی گئی تاریخ تعصبانہ ہے۔ یہ تاریخ کہتی ہے، کہ اسلام کی پہلی صدی محض باہمی لڑائیوں اور ایسی فتوحات پر مبنی ہیں، جن میں مذہب کو مغلوب معاشروں پرجبراً مسلط کیا گیا۔ عربوں کی یہ مہم بڑی حد تک عسکری تھی، جو جنگ کے روایتی طریقوں پر ہی عمل پیرا تھی، معاشروں پر اسلامی فتوحات کے منفی اثرات یکساں طور پر پڑے تھے۔ مغرب کے یہ تاریخی ذرائع وہ زمینی حقائق گُم کر گئے تھے، جو دیگر زیادہ اہم واقعات کی صورت میں وقوع پذیر ہو رہے تھے۔

سب سے پہلی بات، روایتی تاریخ جس اہم پہلو کو گُم کر گئی، وہ اسلام کے پھیلاؤ میں کامیاب معاشی حکمت عملی کا ہے۔ اس پھیلاؤ میں مذہب کی جبری تبدیلی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سپاہیوں کو کیش ادائیگیوں کا طریقہ کار بہت کامیاب ہوا۔ اسلامی ریاست کے طول و عرض میں خلیفہ وقت کی رائج کردہ کرنسی بڑی تعداد میں گردش کر رہی تھی۔ قصبات اور شہروں میں زندگی کے اطوار جدید تر ہو رہے تھے، تجارتی اور شہری ترقی کے نئے مظاہر سامنے آ رہے تھے۔ جب کہ رومی اور فارسی سلطنتوں کے معاشی نظام بوسیدہ ہو چکے تھے، رو بہ زوال تھے۔

دوسری بات، مذہب کی جبری تبدیلی کا الزام زمینی حقائق کے منافی ہے۔ مسلمانوں نے جن علاقوں کو فتح کیا، وہاں وہ اقلیت ہی میں رہے۔ مثال کے طور پر فارس میں پہلی صدی ہجری تک مسلمانوں کی آبادی دس فیصد سے بھی کم رہی۔ ابھرتی ہوئی عالمی اسلامی ریاست کا ایجنڈا بنیادی طور پر سیاسی محسوس نہیں ہوتا۔ عرب حکمران اقلیتوں پر مذہبی جبر مسلط نہیں کرتے تھے، یا شاید وہ مفتوحہ کالونیوں پر مذہبی جبر میں کوئی مالی فائدہ نہ دیکھتے تھے۔ کیونکہ اُن کے ریوینیو کا بڑا حصہ اہل کتاب کے محصولات پر مبنی تھا، جو ظاہر ہے مذہب کی جبری تبدیلی پر منہا ہو جاتا، پھر اُس صورت میں نئے مسلمانوں کے لیے فلاحی خدمات میں اضافہ بھی کرنا پڑتا، یعنی حکومت وقت کو مزید مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا۔ اس لیے اسلام کے ابتدائی دنوں میں یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مفتوحین کے لیے مذہبی آزادی بھرپور تھی، اُن پر اسلام کی قبولیت کے لیے کسی قسم کا دباؤ نہیں تھا۔ وہ معاشرتی سرگرمیوں میں مکمل آزاد تھے، تجارت اور حکومتی کاموں میں بھرپور معاون و مددگار تھے۔ وہ اپنی عبادت گاہیں تعمیر کر سکتے تھے۔ تاہم توہین اسلام اور توہین رسالت کی واضح ممانعت تھی۔

دیگر مذاہب کے لیے رواداری اور برداشت کا یہ رویہ گُم گَشتہ تاریخ کا اہم باب ہے۔ جب مسلمانوں نے اسکندریہ فتح کیا، تو اُن کا رویہ قبطی عیسائیوں کے مذہبی پیشوا بنجامن کے ساتھ کیسا تھا؟ ایک قبطی عیسائی مؤرخ لکھتا ہے، ’اُس وقت کے امیر نے مصری صوبوں کے حکام کو خط لکھا۔ کہ

’’یہ اُس مقام کے لیے تحفظ اور سلامتی کا پروانہ ہے، جہاں قبطی عیسائیوں کے اسقف اعظم بنجامن موجود ہوں، اُن پر خدا کی سلامتی ہو۔ اُن کی عزت و تکریم کی جائے اور گرجا گھروں کے معاملات معمول کے مطابق چلانے دیے جائیں۔‘‘

جب پادری بنجامن نے یہ پروانہ سنا، وہ خوشی اور اطمینان سے اسکندریہ لوٹے، چوغہ زیب تن کیا اور اپنے لوگوں کی قیادت سنبھالی۔ یہ قبطی عیسائی وہ لوگ تھے جن پر رومی حکمران ہیراکلئس نے تیرہ سال مسلسل ظلم کے پہاڑ توڑے تھے۔ مگر اب وہ اسلامی ریاست میں آزادی سے مذہبی زندگی گزار سکتے تھے۔ اُس وقت کے امیر نے حکم دیا کہ فادر بنجامن کو اُس کے سامنے تکریم کے ساتھ پیش کیا جائے، جب فادر بنجامن پیش ہوئے تو امیر بڑی محبت سے پیش آیا اور اپنے درباریوں اور دوستوں سے کہا کہ اب تک جتنے علاقے فتح کیے ہیں، فادر بنجامن جیسا ولی اللہ نہیں دیکھا۔ یہ کہہ کر وہ فادر کی جانب مُڑا اور کہا کہ

’’آپ آج سے اسکندریہ میں اپنے گرجاگھروں کا نظام پھر سے سنبھالیے اور میرے حق میں دعا فرمایے کہ مغرب کی جانب جا سکوں اور فتح مند ہو کر سلامتی سے لوٹ سکوں، جیسا کہ میں نے مصر کے معاملہ میں کیا، پھر جو آپ کہیں گے وہ میں آپ کے لیے ضرور کروں گا۔ فادر بنجامن نے امیر کے لیے دعا کی اور ایک ایسا خطبہ دیا جو سننے والے تمام حاضرین کے لیے نافع تھا، پھر وہ بڑے احترام سے رخصت کیے گئے۔ بعد ازاں انھوں نے امیر کے پروانہ کو حرف بہ حرف سچا پایا۔‘‘

بین المذاہب رواداری اور برداشت کی یہ مسلم پالیسی ایک ایسی شاندار روایت کا آغاز تھا، جس نے مسلمانوں، یہودیوں، عیسائیوں، اور ہندوؤں کو مسلم علاقوں میں امن وسلامتی سے زندگی گزارنے کا بھرپور موقع دیا اور یہ روایت اکیسویں صدی تک مستحکم نظر آتی ہے۔

ابتدائی مسلمانوں کی نئی دنیاؤں سے ہم آہنگی ایک ایسی تزویراتی خوبی تھی، جس نے اسلامی ریاست کی وسعت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ علم کی پیاس اور تجربہ کی جستجو نے مسلمانوں کے کئی سنہرے ادوار کی بنیاد رکھی۔ پہلے عرب اور پھر اندلس وفارس سے یہ سنہرے ادوار وسطی ایشیا، اناطولیہ اور مغل ہندوستان تک نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کے عروج کی پہلی صدی میں الٰہیات انسانی طبیعت کا جزوہ لاینفک بن چکی تھیں، مذہب عمومی رویہ میں سرایت کر چکا تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب باقی دنیا میں قتل و غارت اور جنگ و فساد کا ماحول تھا، خانہ جنگی جاری تھی اور تخت الٹائے جا رہے تھے، ہر جانب ایک ابتری تھی۔ تاہم اس اکھاڑ پچھاڑ میں مسلمانوں کی پیش قدمی سے ایک ایسی تہذیب تشکیل پا رہی تھی، جو فارسی ادب، بازنطینی طریقہ تعلیم و ہنر اور یونانی فلسفوں سے بہرہ مند تھی۔ علوم کا یہ سلسلہ بہت جلد مسلمانوں کے پہلے سنہرے دور میں بار آور ہونے والا تھا۔

کلاسیکی عربی اب نئے علوم کی زبان بن رہی تھی۔ یہ اب مذہبی مکالموں کی زبان تھی، تجارت اور روزمرہ معاملات کی زبان تھی۔ فارسی، شامی، بربر، بازنطینی، اور دیگر قوموں اور نسلوں کے لوگ عربی زبان سیکھ رہے تھے۔

سو سال تک اسلامی ریاست کی سرحدیں پیش قدمی کرتی رہیں۔ مسلمان لشکروں نے شمالی افریقہ سے مغربی گوتھ کو نکال باہر کیا تھا۔ سن 711 عیسوی میں بربر نسل کے آزاد غلام طارق بن زیاد نے عربوں اور بربروں پر مشتمل فوج کے ساتھ گوتھ ہسپانیہ پر چڑھائی کی، اُسے فتح کیا۔ ایک سال بعد ہی مسلمانوں نے سندھ کی جانب پیش قدمی کی، یہ خطہ آج کے پاکستان میں شامل ہے۔

کچھ مؤرخین کہتے ہیں کہ’ ہسپانیہ حملہ ‘باغی آئبیرین عیسائیوں کی تحریک پر ہوا تھا، جنھوں نے شمال کے مسلمانوں سے بادشاہ راڈرک کے خلاف مدد مانگی تھی۔ گوتھ ہسپانیہ پہلے ہی شدید انتشار کی زد میں تھا۔ یہاں کئی طبقاتی وگروہی مسائل پر تنازعات موجود تھے، اس کے علاوہ یہودیوں کے خلاف حکمرانوں کی باقاعدہ مہم جوئی تھی۔ گوتھ اقلیت کی حکومت ظالم اور سفاک تھی۔ رومی دور سے بھی پہلے یہاں آباد مقامی باشندوں کی اکثریت شدید عتاب کا شکار تھی۔ گوتھ حکمرانوں کو لاطینی عوام کے دل جیتنے میں کوئی دلچسپی نہ تھی اور یہ خطہ زوال روم سے آنے والے معاشی اور معاشرتی جمود کا شکار تھا۔

جبکہ شمالی افریقا کے امیر موسٰی بن نصیر مخمصہ میں تھے کہ آیا کہیں ہسپانیہ کا معاملہ کوئی سازش نہ ہو، انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ مسلمانوں کا آئبیریا کی جانب رخ کرنا کہیں مشکلات سے دوچار تو نہیں کر دے گا؟ انہوں نے پہلے چھوٹی مہمات روانہ کیں تا کہ اسپین کی دفاعی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے، مگر انھیں بمشکل ہی کوئی دفاعی لائن ملی۔ چنانچہ انھوں نے طارق بن زیاد کی کمان میں بڑی مہم روانہ کی تا کہ اسپین میں قدم جمائے جا سکیں۔ طارق نے اُس خطہ زمین پر لنگر ڈالے جسے آج جبرالٹر پکارا جاتا ہے، یہ اصل نام جبل الطارق کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ تیس اپریل 711 کو طارق بن زیاد نے یہاں فوج اتاری۔ ایک تاریخ ساز خطاب کیا

’’اے جواں مردو! جنگ کے میدان سے اب مفر کی کوئی صورت نہیں ہے۔ دشمن تمہارے سامنے ہے اور سمندر تمہارے پیچھے۔ صبر اور مستقل مزاجی کے سوا اب تمہارے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ تمہارے دشمن کے پاس فوج بھی ہے اور اسلحہ جنگ بھی۔ تمہارے پاس بجز تمہاری تلواروں کے اور کچھ بھی نہیں۔ اگر تم اپنی عزت و ناموس بچاؤ دشمن جو تمہارا مقابلہ کرنے کے لیے بڑھا آ رہا ہے اس کے دانت کھٹے کر دو۔ اس کی قوت کو ختم کر دو۔ میں نے تم کو ایسے امر کے لیے نہیں پکارا جس سے میں خود گریز کروں۔ میں نے تم کو ایسی زمین پر لڑنے کے لیے آمادہ نہیں کیا جہاں میں خود لڑائی نہ کروں۔ اگر تم نے ذرا بھی ہمت سے کام لیا تو اس ملک کی دولت و حشمت تمہارے قدموں کی خاک ہو گی۔ تم نے اگر یہاں کے شہسواروں سے نپٹ لیا تو خدا کا دین رسول اللہ کا حکم یہاں جاری و ساری ہو جائے گا۔ یہ جان لو جدھر میں تم لوگوں کو بلا رہا ہوں اُس راہ کا پہلا شخص میں خود ہوں۔ جب فوجیں ٹکرائیں گی تو پہلی تلوار میری ہو گی جو اٹھے گی۔ اگر میں مارا جاؤں تو تم لوگ عاقل و دانا ہو کر کسی دوسرے کا انتخاب کر لینا مگر خدا کی راہ میں جان دینے سے منہ نہ موڑنا اور اس وقت تک دم نہ لینا جب تک یہ جزیرہ فتح نہ ہو جائے۔ ‘‘

پیغمبر اسلام کے وصال کے تقریبا سو سال بعد سن 732 تک، مغرب بعید میں مسلمانوں کی گرفت جزیرہ نما آئبریریا پر مضبوط ہو چکی تھی۔ جنوبی فرانس کے بہت سے علاقوں میں مسلمان امراء نے انتظامی امور سنبھال لیے تھے۔ یہ سب منظم حملوں کا حاصل نہیں تھا، بلکہ رضاکارانہ مہم جوئی کا نتیجہ تھا۔ عموماً مسلمان معزز عیسائی خاندانوں میں رشتے داریاں قائم کر رہے تھے۔ اگرچہ ہسپانیہ سمیت خلافت اموی کی عمل داری میں معاشی اور معاشرتی نیٹ ورک شہری ریاستوں کی صورت میں مستحکم ہوئے تھے، جن کی قوت کا مرکز دمشق ہی تھا۔ یہ ریاستی پھیلاؤ مغرب میں ہسپانیہ سے منگولیا تک اور جنوبی فرانس سے بحر ہند کے شمال اور افریقا کے جنوب تک چلا جاتا تھا۔

درحقیقت اسلامی اور عیسائی تہذیبیں عہد روم کی یادداشتوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ دونوں تہذیبیں بہت سے عقائد میں مشترک ہیں، دونوں ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں اور کئی مذہبی روایات میں مماثل ہیں۔ آج مغرب میں اسلام سے تصادم کا پراپیگنڈہ اپنی اصل میں سیاسی اور فوجی ایجنڈا ہے، نہ یہ اُس وقت کسی (خلائی ) اسلام کی جانب سے (مقامی) عیسائیت کی تباہی کا سامان تھا اور نہ ہی آج ہے۔ دونوں تہذیبوں کے درمیان تصادم کی یہ گمراہ کُن تشریح مغرب میں ہزار سال سے کی جاری ہے۔ اس سوچے سمجھے ٹکراؤ کا سلسلہ ابتدائی لڑائیوں سے جا ملتا ہے۔ خاص طور پر جب فرانس کے شمالی علاقوں کی جانب مسلمانوں کی پیش قدمی رُکی اور یورپ کا وہ حصہ اسلامی تہذیب سے بہرہ مند نہ ہو سکا، جو بعد میں اسلام دشمنی میں بہت آگے تک گیا، یہاں تک کہ مسلمان یورپ سے بے دخل کر دیے گئے۔

یہ بھی تاریخ میں کہیں گُم ہو جاتا ہے کہ یورپ میں جس نائٹ Knight کی دیومالائیت پر کافی کچھ لکھا گیا، اُس کی زرہ بکتر، ہتھیار، آلات اور جنگی تدبیریں (خلائی) مسلمان حملہ آوروں ہی کی درآمد شدہ تھیں۔ تاریخ گُم گشتہ بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے طور طریقے، عادات و خصائل، خیالات، فکریات، علوم اور ٹیکنالوجی آٹھ صدیوں تک یکطرفہ منتقلی کا عظیم الشان سلسلہ تھا۔ مگر مغرب کے تاریخی بیانیہ میں اسلام اور یورپ کے تنازعات ہی سب کچھ نظر آتے ہیں۔

مغربی روایات میں یہ نکتہ نظر عام پایا جاتا ہے کہ اگر مسلمان پورے یورپ کو فتح کر لیتے، تو یہ براعظم اسلامی تہذیب کا گہوارہ بن چکا ہوتا، روم کا کیتھولک چرچ مٹ چکا ہوتا اور یورپ جیسا کہ ہم اسے جانتے ہیں کہیں نہ ہوتا۔ مؤرخ ایڈورڈ گبن، جو اس روایتی فکر کا ترجمان تھا، ایک ہزار سال بعد لکھتا ہے

’’فتح کی لکیر جبرالٹر سے لوئر کے کناروں تک کامیاب پیش قدمی کر چکی تھی۔ اتنا ہی خطہ اگر سیراسین (مسلمان) مزید فتح کر لیتے، تو پولینڈ کی حدود کو چھو لیتے اور اسکاٹ لینڈ کی چڑھائیوں پر پہنچ جاتے، دریائے رائن پار کرنا پھر کوئی بڑا کام نہ تھا، اور شاید عربی بیڑے بغیر کسی مزاحمت ٹیمز کنارے لنگرڈال دیتے، شاید قرآن کی تفاسیر آکسفورڈ میں پڑھائی جا رہی ہوتیں، اور منبروں سے محمد (صلی اللہ علیہ و اٰلہہ وسلم) کی وحی کا پیغام عام کیا جا رہا ہوتا۔ ‘‘

مگر تاریخ میں اس بات کے شواہد نہیں ملتے کہ مسلمانوں کا پورے یورپ پر غالب آنے کا کوئی ارادہ تھا، جس طرح کہ وہ جزیرہ آئبیریا پر غالب آئے تھے۔ سن 737 عیسوی میں مسلمانوں کو ناربون میں فیصلہ کُن شکست ہوئی، جس کے بعد اُن کی طرف سے (توسیع پسندی کی) کوئی جنگی مہم نہ دیکھی گئی اور اگر مسلمان واقعی شمال کی جانب توسیع کا ارادہ کر لیتے، زمینی حقائق کہتے ہیں کہ کوئی بڑی قوت مقابلہ پر ٹھہر نہ پاتی۔

گُم گَشتہ تاریخ کا ایک باب کہتا ہے کہ سات سو سال تک مسلمان یورپ کی معاشی، علمی اور ٹیکنالوجی ترقی کی رفتار اور معیار عیسائی یورپ سے کہیں بہتر اور اعلٰی تر تھا۔ اگر ترقی کی یہ پیش رفت فرانس، جرمنی، اور اٹلی میں بھی ہوتی، تو کیا وہ مسلمانوں سے استفادہ نہ کرتے؟ حقیقت یہ ہے کہ شکست کے باوجود، مسلمانوں کے مثالیوں، علوم اور ٹیکنالوجی نے غیر مسلم مغربی ریاستوں پر یکساں اثرات مرتب کیے تھے۔ یہ اثرات زیادہ تر لطیف پیرائے میں تھے۔ یہ اثرات تہذیبی رنگ لیے ہوئے تھے۔ مگر ان پہلوؤں کو تاریخ گُم گَشتہ کی نذر کیا گیا۔ مگر صدیوں پر پھیلی دھند بھی ان تہذیبی اثرات کو مٹا نہیں سکی ہے۔ آج بھی مسلم فکر، تخلیق، اور فن کی لطافت مغرب کی ترقی میں جھلکتی ہے۔

مسلمانوں کے علوم اور ٹیکنالوجی میں یورپیوں کے لیے کشش اورمسلمانوں کی قوت اور مذہب کے لیے اُن کا خوف، یہ دونوں کیفیات یورپی نشاۃ ثانیہ اور اُس کے بعد تک طاری نظر آتی ہیں۔ سولہویں صدی میں جب یورپ عالمی استعماری قوت بن چکا تھا، اسلامی تہذیب سے مخاصمت کی کیفیت برقرار تھی۔ مسلمانوں کے سنہرے ادوار مغرب کے لیے کسی رستے ہوئے زخم کی مانند تھے۔ چنانچہ ایک یورپ مرکز تاریخ از سر نو لکھی گئی، جس میں مسلمانوں کے سنہرے ادوار کی تہذیبی عظمت حذف کر دی گئی اور نمایاں طور پر جدید ریاضی، علم فلکیات، دوا سازی، سائنس، ٹیکنالوجی، ریاست کاری، اور کثیر الثقافتی معاشرہ بندی کا سہرا یورپیوں کے سر باندھ دیا گیا۔

اگر تاریخ گُم گَشتہ پر گہری نظر دوڑائی جائے، تو مسلمانوں کی یورپ میں عسکری مہم جوئی سے فرصت نے انھیں علمی سرگرمیوں میں توانائی صرف کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا تھا۔ اگرچہ اُن کی فوجی کامیابیاں حیرت انگیز تھیں، اُن کی علمی اور تخلیقی صلاحیتیں اور کامیابیاں عظیم تر تھیں۔

اسلامی خلافت ’’661‘‘ اب کہانی کا رخ دمشق کی جانب کرتے ہیں۔ سینٹ پال کا یہ قدیم شہر اسلامی ریاست کا دارالخلافہ بن چکا تھا۔ اسلام نے درجنوں زبانیں بولنے والے لاکھوں انسانوں کو یہاں لا بسایا تھا۔ مگر یہ صورتحال عسکری فتح اور تبلیغ سے زیادہ ایسی معاشرہ بندی کا نتیجہ تھی، جو انتظامی مہارتوں اور انسانی اقدار کی عملی صورت گری کا شاہکار تھی۔ امویوں کی حکومت تھی۔ انھوں نے ایک ایسی پرشکوہ مسجد کی تعمیر کا ارادہ کیا، جو فن تعمیر کا ایسا مثالی نمونہ قرار پائی، کہ تیرہ صدیوں تک دیگر تہذیبوں کی فنی تخلیقات پر اثرات مرتسم کرتی رہی۔ ساتویں صدی کی یہ مسجد اسلامی تہذیب کی روشن صبح کا استعارہ تھی۔ بازنطینی روم کا مدفن تھی۔ اطالوی نشاۃ ثانی کی نوید سحر تھی۔

الجامع الموی اسلامی اور مسیحی فن تعمیر کا عمدہ امتزاج ہے۔ جس فرش پر اس مسجد کی تعمیر اٹھائی گئی، وہ بازنطینی گرجا گھر کا تھا، کہتے ہیں یوحنا اصطباغی یہیں مدفون ہیں۔ اس سے بھی پہلے یہ خطہ زمین رومیوں کی عبادت گاہ تھی، یہاں سیارہ مشتری کی عبادت ہوا کرتی تھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے عہد میں یہاں مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے عبادت کے مخصوص حصے مختص تھے، مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کے بعد یہاں باقاعدہ جامع الموی کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔

اموی خلیفہ الولید کے دور میں عیسائیوں سے دو سو سال قدیم گرجا گھر کی زمین باقاعدہ خریدی گئی، یہ وعدہ بھی کیا گیا کہ دمشق کے دیگر گرجا گھروں کا یقینی تحفظ کیا جائے گا۔ جب امویوں کی یہ شاہی مسجد مکمل ہوئی، اس کی شان و شوکت اور طرز تعمیر قابل دید تھی، عمارت کا چہرہ مہرہ یونانی اور رومی تھا۔ گولائی لیے ہوئے محراب ہسپانیہ میں مسلم فن تعمیر کی علامت بن گئے۔ اس کے ستون اور اندرونی و بیرونی ساخت میں رومی و یونانی طرز تعمیر کی جھلکیاں نمایاں تھیں۔ یہ واضح کرتی ہیں کہ مسلمانوں نے دیگر تہذیبوں کے جمالیاتی پہلوؤں کو اختیار کرنے میں کسی حیل و حجت سے کام نہیں لیا اور ان جمالیاتی پہلوؤں میں عمدگی پیدا کی، انھیں اپنی شناخت عطا کی۔ مسجد کے وسط میں خوبصورت گنبد اور اس کے ساتھ دائرے میں بنی کھڑکیاں روم کی یاد دلاتی ہیں۔ اس مسجد کی طرز تعمیر میں زوال روم اور نشاۃ ثانیہ سے یہ مماثلتیں کیوں تھیں؟ کیا یہ ان تہذیبوں کا باہم اور عظیم تر اظہار تھا؟

بارہویں صدی کا ایک اندلسی عرب مؤرخ لکھتا ہے

’’دمشق دنیا کا سب سے گنجان آباد شہر تھا۔ شہر کی فصیلوں کے پیچھے تنگ گلیوں کا سلسلہ تھا، اینٹ اور گارے سے بنے تین منزلہ مکانات دور تک قطار میں نظر آتے تھے۔ بازاروں میں رش رہتا تھا۔ مصالحوں کی خوشبو فضا میں بسی رہتی تھی۔ اس شہر میں بہت سارے حمام تھے۔ قانون اور مذہب کے طلبہ کے لیے بیس بڑے تعلیمی ادارے قائم کیے گئے تھے۔ ایک بہت بڑا اسپتال تھا جہاں مفت علاج کیا جاتا تھا۔ یہاں سینٹ میری کا شاندار گرجا گھر تھا، جہاں آرتھوڈکس عیسائی آزادی سے عبادت کرتے تھے۔ اس شہر میں تین ہزار یہودی امراء کی کمیونٹی آباد تھی، یہ یروشلم سے پناہ لینے یہاں آئے تھے، اور اب یہاں ان کی اپنی یونیورسٹی بھی قائم ہو چکی تھی۔ اس شہر کی سب سے پرشکوہ عمارت جامع مسجد الموی تھی۔ اس میں قدیم گرجا گھر کی تین چھوٹی راہداریاں اصل حالت میں موجود تھیں جو بیسی لیکا (قدیم رومی ایوان) تک جاتی تھیں۔ دیواریں پچی کاری سے مرقع تھیں، جو مسلمانوں کے طرز تعمیر کی پہچان تھیں۔ عظیم الشان پیاز نما گنبد مسجد کی شان بڑھاتا تھا۔ مسجد میں تانبے کے دو بڑے شاہین ایستادہ تھے، جو ہر دو گھنٹے بعد دھات کی ایک گیند چونچ سے پیتل کے ایک پیالے میں گراتے تھے، جہاں سے یہ گیندیں گھوم کر واپس وہیں لوٹ جاتی تھیں۔ رات میں پانی کی ایک گھڑی روشنیوں کا انتظام کرتی تھی، یہ روشنیاں رنگین شیشوں کے عقب سے جھلکتی تھیں۔ ان سب عجائبات سے زیادہ عجیب شے درس و تدریس کا وہ سلسلہ تھا، جو مسلسل جاری رہتا تھا۔ علماء ستونوں سے پشت لگائے، سامنے دائرے میں بیٹھے شاگردوں کو پڑھاتے تھے اور کبھی کبھی دوران درس فرط جذبات سے اُن کے چہروں پر آنسو رواں ہو جاتے تھے۔‘‘

امویوں کی خلافت کے دور میں بھوکوں کے لیے کھانے اور بے گھروں کے لیے ٹھکانے کا بندوبست ریاست کی ذمے داری تھی۔ شہر میں پانی پہنچانے کے لیے وہ تکنیک اور طریقہ کار استعمال کیے گئے، جو شاید فارس سے درآمد شدہ تھے۔ نظام آبپاشی، نہری اور نالیوں کا یہ نظام تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ پوری اسلامی ریاست میں پھیلایا گیا، جو ایک دن ہسپانوی عیسائیوں کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا جدید دنیا تک پہنچا۔ امویوں نے عربی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا اور سکوں پر عربی عرسم الخط کی بنا ڈالی۔

دنیا پر دمشق کی اموی خلافت کے اثرات عظیم الشان ہیں۔ یہاں سے مزید کئی سنہرے ادوار کا سلسلہ آگے بڑھا۔ ایک مسلم اندلس کی جانب گیا۔ عظیم خیالات اور تخلیقات کی نئی دنیا وجود میں آئی۔ یہودی میمونائیڈز کے فلسفہ سے جدید یونیورسٹی، جدید دوا سازی اور جدید کثیر الثقافتی معاشرہ بندی تک، یہ سب تاریخ گُم گَشتہ ہے۔

حصہ دوم کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. نعیم الرحمٰن on

    بلاشبہ یہ ایک شاندارکتاب ہے۔جس میں اسلامی ادوارکاغیرجانبداری سے جائزہ لیاگیاہے۔مسلمانوں کے مفتوحہ علاقوں میں دین پرجبرنہ کرنے کی وجوہ بھی بیان کی گئی ہیں۔حال ہی میں محترم اشعرنجمی کے منفردجریدے اثبات کا’’احیائے مذاہب‘‘ نمبرشائع ہواہے۔ڈھائی ہزارصفحات پرمبنی اس نمبر میں بھی اس کتاب کاکچھ حصہ ہوناچاہیے۔ضخیم نمبرمیں اس کاحصہ ہے یا نہیں دیکھناپڑے گا۔لیکن مائیکل ہیملٹن مورگن کی عمدہ کتاب کاناصرفاروق کاکیاترجمہ یقیناً پڑھنا چاہیے۔کتاب تلاش کرنا پڑے گی

  2. برادر نعیم الرحمان ، آپ کی توجہ عزت افزا ہے۔ تاہم یہ وضاحت یہاں ضروری ہے کہ ترجمہ ’’گُم گَشتہ تاریخ‘‘ تک محدود ہے۔ یعنی مصنف کی کتاب سے وہ حصے ترجمہ کیے جارہے ہیں جوتاریخ گُم گَشتہ کے ضمن میں آتے ہیں، یعنی آپ اسے تلخیص سمجھ سکتے ہیں۔ البتہ کوشش کی گئی ہے کہ مسٹر مورگن کے اصل الفاظ کا ہی ترجمہ کیا جائے، اور رنگ آمیزی سے بچا جائے۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: