جنگ سے رومانویت نبھانا درست نہیں ——– فارینہ الماس

0

جنگ اتنی آسان اور سادہ نہیں جتنا ہم اسے سمجھنے لگے ہیں۔ یہ سرمئی بادلوں سے بھرے آسمان تلے بارش کی ٹھنڈی بوندوں میں مور کے ناچ کا دلکش منظر نہیں، یہ تو لہو برساتے آسمان اور ببول اگاتی دھرتی پر موت کے رقص کی دلسوز داستان ہے۔ ایک ایسی طویل سیاہ رات ہے جس کے آسمان پر سورج اگنا بند کر دیتا ہے۔ یہ انسان کی ایک ایسی قدیمی روایت ہے جس کا تعلق انسان کی وحشی جبلت سے ہے۔ وہ جبلت جو حاوی ہوجائے تو انسان غلبہ پانے یا بدلہ لینے کے جنون میں، طے شدہ اخلاقی ضابطوں اور انسانی قدروں کو اپنے پیروں تلے روند دیتا ہے۔ جنگ کا مقصد کبھی بھی امن کا قیام نہیں۔ یہ قوم کے تشخص یا تمدن کو بچانے کے لئے نہیں لڑی جاتی۔ یہ انسان کو اس کے بنیادی مسائل جیسے غربت، جہالت، بیروزگاری یا افراتفری و ظلم و ناانصافی سے نکلنے میں بھی مددگار نہیں ہو پاتی۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ، جنگ خواہ تیس دن کی ہو یا تیس برس کی، کبھی بھی انسانی مسائل کے حل کا باعث نہیں بنتی۔ یہ کبھی کھیتیوں کو ہریاول نہیں دیتی۔ یہ انسانی بھوک کو ڈھارس دینے کا باعث بھی نہیں بنتی۔ اس کے دوران پرندے اپنے نغمے بھول جاتے ہیں، کلیاں چٹخنا چھوڑ دیتی ہیں۔ اس سے انسان کو نفرت، خوف، انتشار، بے یقینی، دکھ، کرب اور درد جیسے احساس کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ یہ زندگی کے امکان کو معدوم کر دیتی ہے اور کئی نسلیں کھا جاتی ہے۔ یہ موت کا ایک ایسا اندھا ناچ ہے جسے صرف اقتدار کے راج سنگھاسن پر بیٹھی اشرافیہ اپنی تفریح طبع کے لئے برپا کرتی ہے۔ بلکل اسی طرح جس طرح کئی سو سال پہلے بادشاہوں کی تفریح کے لئے گلیڈیٹر کے وحشیانہ کھیل سجائے جاتے تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ خونی کھیل سدھارے ہوئے انسانوں اور کئی دنوں تک بھوکے رکھے گئے وحشی درندوں کے درمیان ہوتا تھا لیکن جنگ کے کھیل میں دونوں طرف، درندگی کا باعث اور شکار انسان ہی ہوتا ہے۔ گلیڈیٹر کا میدان انسانوں اور حیوانوں کے خون سے بھر جاتا تھا لیکن جنگ کا میدان صرف انسانی خون سے ہی لت پت ہوتا ہے۔ یہ کھیل حکمرانوں کو طاقتور بناتا ہے لیکن سدھارے ہوئے فوجیوں کے ساتھ ساتھ، عام انسان جو پہلے سے ہی زندگی کے غم و اندوہ سے نجات کے لئے موت کے اسباب کی تلاش میں ہوتے ہیں وہ اس آگ کا ایندھن بنتے ہیں۔ جنگ صرف خوف تقسیم کرتی ہے ایسا خوف جو انسان کے رگ و پے میں دکھ بن کر اترتا اور موت بن کر تھمتا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو ہر ساعت پر اک بوسہ دیتی ہیں کہ کہیں یہ بوسہ آخری بوسہ نہ بن جائے۔ وہ اپنے شیر خواروں کو اپنی بانہوں کے حصار میں جکڑے رکھتی ہیں کہ کسی گرینیڈ کا کوئی بھولا بھٹکا ٹکڑا یا کوئی اندھی گولی انسانی گوشت کی تاک میں یہاں آجائے تو اسے وہ اس ننھی جان تک پہنچنے سے پہلے اپنا شکستہ وجود پیش کر سکے۔ اگر کسی توپ کے گولے کی گھن گرج دھرتی کو لرزانے لگے تو اس کا تمام تر ارتعاش وہ اپنے وجود میں سمیٹ لے۔ ایسا وقت بھی آتا ہے جب انسان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہوتا، وہ سالوں کی محنت سے تنکا تنکا جوڑ کر بنائے گئے اپنے مال و اسباب کو اپنی آنکھوں کے سامنے برباد ہوتا دیکھ چکتا ہے، اس کے وجود سے اس کی ممتا یا اس کی بپتا بھی نوچ لی گئی ہے اور اب وہ صرف موت سے لڑ رہا ہے۔ وہ جینا چاہتا ہے اپنی بپتا یا ممتا کا سوگ منانے کے لئے یا پھر ان ظلم ڈھانے والوں سے بدلہ لینے کے لئے۔ لیکن موت اس کی طرف بڑھ رہی ہے، کسی خونی ڈائن کی طرح اس کی گردن پر اپنے نوکیلے دانت گاڑنے کے لئے۔

جنگ کو رومانویت کے احساس سے منسوب کرنے والے اور جنگ کی راہ میں کھڑے ہو کر خوشی سے بگل بجانے والے، اس کی آمد کے جشن میں نہال لوگ، اسے دیکھ کر سینہ فخر سے پھیلانے اور جوش سے غرانے والے یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ جنگ نے انسان کو سوائے آنسوؤں اور آہوں کے کبھی کچھ نہیں دیا۔ کیا وہ بھول گئے کہ پہلی عالمی جنگ ایک کروڑ، اور دوسری عالمی جنگ پانچ کروڑ انسانوں کو کھا چکی ہے۔ کیا وہ بھول گئے کہ ہیروشیما اور ناگا ساکی میں کس طرح انسانی جسموں سے گوشت پگھلتے دیکھا گیا؟ اور پھر ان جنگوں کے بعد کتنے ہی انسان بھوک، بیماری، غربت اور دہشت کے باعث مر گئے کس طرح جنگ کے بعد کئی انسانی نسلوں نے موت، بیماری و معذوری کے داغ اٹھائے اس کے قصے تو جنگ کے قصوں سے بھی کئی گنا بھیا نک ہیں۔ ان کے بعد بھی تو کئی چھوٹی بڑی علاقائی جنگوں کے میدان سجتے رہے ہیں۔ عراق میں دس لاکھ، فلسطین میں پانچ لاکھ، افغانستان میں اکیس لاکھ، شام میں دولاکھ، کشمیر میں چار لاکھ جیتے جاگتے نہتے انسان طاقت کے قدموں تلے روند دیے گئے۔ اور ایسے ہی کئی علاقوں میں جنگ یا فساد کے ذریعے انسان اور انسانیت کا قتل عام کیا جاتا رہا۔ انسان کی بربریت اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ ان جنگوں میں سب سے بڑا نشانہ بنایا گیا معصوم بچوں کو، محض 2018 ہی کے ایک برس میں بارہ ہزار بچے موت کے حوالے کئے گئے۔

جو لوگ پاک و ہند جنگ کا منظر دیکھنے کے متمنی ہیں انہیں جان لینا چاہئے کہ اگر یہ جنگ شروع ہوئی تو کبھی بھی ایٹمی جنگ میں بدل سکتی ہے اور ایٹمی جنگ کا مطلب ہو گا پلک جھپکتے میں دس کروڑ سے زائد انسانی اموات اور پھر کئی برسوں تک رہ جانے والے انسانوں کی سسکتی، بلکتی دم توڑتی یا موت کی بھیک مانگتی زندگیاں۔ کئی سالوں تک یہ دھرتی بھوک کے سوا کچھ اگا نہ پائے گی۔ آسمان پر ایٹمی بم کے نتیجے میں چھا جانے والے سیاہ دھویں سے زمین دس سال تک سورج کی روشنی نہ دیکھ پائے گی اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اب کے بار جو ایٹم بم پھٹے گا اس کی طاقت امریکہ کے گرائے گئے بم سے چھ گنا زیادہ ہے اور بم کے علاوہ جو ایٹمی ہتھیار استعمال ہوں گے ان کی طاقت سو کلو ٹن کے قریب ہو گی اور اگر دنیا میں تیسری عالمی جنگ چھڑ گئی تو نتائج کتنے بھیانک ہوں گے اس کا اندازہ اسی پیشین گوئی سے کر لینا چاہئے کہ وہ اس دنیا کی آخری جنگ ہو گی۔ کیونکہ شاید ہی اس کائنات پر کوئی حضرت انسان بچ پائے یا پھر یہ کہ یہ دھرتی انسان کو زندہ رکھنے کے قابل رہ پائے۔

جنگ نظریات کی بنا پر لڑی جائے یا مذہب کی بنیاد پر، یہ دوسروں پر غصہ نکالنے کی خاطر لڑی جائے یا اپنی بقاءاور دفاع کے لئے اس سے قوموں کو خسارے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ خواہ وہ مالی خسارہ ہو یا جانی، انسان کا تمدنی خسارہ ہو یا تہذیبی۔ جنگ قوموں کا آزمایا گیا وہ آخری انسانی حربہ ہے جو قوم کی فکری و شخصی شناخت کو تاراج کر دیتا ہے۔ اگر وہ جنگ جیت بھی جائے تو بھی اس کے ہاتھوں پرانسانی خون کے جم جانے والے سیاہ پڑتے دھبوں کو تاریخ کبھی مٹا نہیں پاتی۔ جنگوں سے انسانی تاریخ کبھی بھی بدل نہ پائے گی۔ کیونکہ یہ محض نفرت کا اظہار ہے۔ نفرتیں تاریخ نہیں بناتیں یہ صرف انسانیت کی تضحیک اڑاتی ہیں۔ قدیم عرب میں جنگ میں دشمن کی لاشوں کے کان، ناک و دیگر اعضاءکی قطع و برید کی جاتی، ان کے دل، جگر کو چبایا جاتا۔ قدیم ایران میں زندہ انسانوں کی کھال کھنچوائی جاتی۔ قدیم ہندوستانی بھی انسان کو جانور کی کھال میں سلوا دیتے۔ سقوط یروشلم کے دوران شہر کی گلیوں میں پھیلا خون گھوڑوں کے گھٹنوں تک جا پہنچا۔ سقوط بغداد کے دوران تاتاریوں نے لوگوں کو اپنا ہی گوشت کھانے پر مجبور کیا۔ ہلاکو خان، چنگیز خان انسانی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کرنے کے دلدادہ تھے۔ صلیبیوں کے ہاتھوں قتل و غارت گری اور تباہی و بربادی کی داستانیں ساڑھے تین سو سال رقم ہوتی رہیں۔ جنگوں میں نفرت، نسلی عصبیت بن کر نازیوں کے ہاتھوں یورپی یہودیوں کی قتل و غارت گری کی صورت سامنے آئی۔ جنگوں کا غیر انسانی سلوک یہ بھی ہے کہ یہ عورتوں کی آبرو ریزی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرواتی ہیں۔ بوسنیا کی جنگ کے دوران پچاس ہزار خواتین کی آبروریزی کی گئی۔ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ہزاروں افغانی لڑکیوں، اور کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری لڑکیوں کی ذلت ایک عام واقعہ بن چکا ہے۔

جنگ کبھی تاریخ نہیں بدلتی، انسانی تاریخ جنگ سے نہیں محبت سے بدلے گی۔ یہ اس وقت بدلے گی جب مذہب، نسل اور فرقے کو بنیاد بنا کر نفرت کی بجائے انسانیت کو ہتھیار بنا کر انسان کو محبت کرنا سکھائی جائے گی۔ کیونکہ کسی بھی انسانی مسئلے کا حل جنگ میں نہیں محبت میں پوشیدہ ہے۔ وہ محبت جو خونریزی، ظلم و بربریت اور وحشت سے نفرت کرتی ہے۔ جو انسانوں کو نسلوں، فرقوں، قوموں اور مذاہب میں تقسیم نہیں کرتی۔ اس کا اپنا ایک مذہب ہوتا ہے جو سب مذاہب سے بڑھ کر ہے اور وہ ہے انسانیت کا مذہب۔ جو انسان کی چیر پھاڑ، قتل و غارت گری سے اپنی وحشی جبلت کی تسکین کی بجائے انسان کو سکھ، آرام، اور احترام دے کر اپنی روح کی تسکین کا سامان کرنا سکھاتی ہے۔ جنگ کا مقابلہ ازل سے محبت ہی سے رہا ہے۔ یہ محبت سے بنائے گھروندوں کو روند دیتی ہے۔ محبت سے جوڑے گئے رشتوں کو برباد کر دیتی ہے۔ لیکن جنگ کا راستہ روکنے کی طاقت محبت ہی عطا کر سکتی ہے۔

کاش یہ دنیا جنگ کے اسباب پیدا کرنے کی بجائے محبت کے اسباق کو دہرانے لگے۔ جنگ کو اپنی طاقت کا اظہار بنانے کی بجائے محبت کو اپنی قوت اور طاقت بنا لے۔ تو شاید وہ اپنے اس سلگتے سیارے پر زندگی کو بچا پائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: