پاکستان، کشمیر اور سنکیانگ ——– عمیر فاروق

0

بھارت کی طرف سے پاکستان پہ الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان نے کشمیر پہ تو آواز بلند کی لیکن سنکیانگ کا نوٹس نہ لیا۔ ہمارے ایک طبقے نے بھی بھارت کی تان سے تان ملائی یہ سوچے بغیر کہ دونوں معاملات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ سنکیانگ چین کی بین القوامی حدود کے اندر غیر متنازعہ طور پہ چین کا حصہ ہے جبکہ کشمیر کبھی بھی انڈیا کی بین الاقوامی سرحد کے اندر نہیں رہا اور یہ تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے۔

جہاں تک مختلف عالمی مسائل پہ ریاستی رائے زنی کا تعلق ہے تو پہلا اصول یہ ہوتا ہے کہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات عملی یا زبانی مداخلت سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ ان ممالک کے اقتداراعلی یا ساورنٹی میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ یہ عمومی رویہ تمام مہذب دنیا اپناتی ہے حتی کہ کوئی بہت گھمبیر مسئلہ درپیش نہ ہو۔

اسی لیے پاکستان آسام یا انڈیا کی ریڈ بیلٹ پہ ہمیشہ خاموش رہا اور انڈیا کو اس لئے ہدف تنقید نہ بنایا کہ مبادا اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا تاثر نہ جائے۔ سنکیانگ پہ خاموش رہنے کا اعتراض لاشعوری طور پہ یہ بھی فرض کر لیتا ہے گویا جس طرح امریکہ انسانی حقوق کی عالمی چیمپین شپ کا دعویدار ہے اسی طرح پاکستان کو مسلمانوں کے بارے میں ایسا ہی جارحانہ رویہ اپنانا چاہیے۔

لیکن کیا سنکیانگ واقعی کوئی اسلامی مسئلہ ہے ؟ کیا اویغور تحریک کی بنیاد مذہب ہے ؟

واقعات اس کی تائید نہیں کرتے چین کا ان کے ساتھ رویہ جو بھی ہے مذہب اسکی وجہ یا بنیاد ہرگز نہیں ورنہ کم لوگوں کو علم ہے کہ سنکیانگ کے ہی مشرق میں واقع کانسو کا صوبہ بھی بھاری مسلم اکثریت کا حامل صوبہ ہے وہاں ایسی کوئی تحریک موجود نہیں اور نہ ایسی کوئی شکایات، اسی طرح چین کی ہان النسل مسلمان آبادی کا معاملہ ہے انکی طرف سے بھی ایسی کوئی شکایت کبھی سامنے نہیں آئی۔ سنکیانگ کی اویغور تحریک کی بنیاد اویغور قومیت ہے نہ کہ مذہب۔

علیحدگی کی ان قومیتی تحریکوں کا معاملہ کافی الجھا ہوا ہے بے شمار ملکوں میں یہ موجود ہیں کبھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور کبھی عالمی سیاست کی ضروریات اور مخالف ملک انہیں ہوا دیکر آگے لے آتے ہیں۔ درحقیقت یہ اخلاقی یا انسانی نہین بلکہ سیاسی معاملات ہوتے ہیں اور ان کو سیاسی زاویہ سے ہی لینا ہوتا ہے۔

مثلا روہنگیا کا معاملہ ہی لے لیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی میڈیا نے اسکو مسکمانوں پہ ظلم کے زاویہ سے ابھارا لیکم معاملہ یہ نہیں تھا ورنہ برما کے اندر برمی مسلمان بھی تو ہین ان سے یہ سلوک کیوں نہیں؟ برمی لوگوں نے روہنگیا کو کبھی برمی نہیں مانا وہ انہیں بنگالی ہی سمجھتے آئے اور روہنگیا نے بھی کبھی برمی ہونے کا دعوی نہ کیا۔

برما کی طرف سے روہنگیا کے ساتھ سلوک ویسا ہی تھا جیسا یوگنڈا اور سری نام کی طرف سے آزادی کے بعد انڈین آبادی کو خارج کردینے کا عمل۔ دیکھا جایے تو روہنگیا کا معاملہ برما اور بنگلہ دیش کے درمیان تھا دوسری طرف بھارت بھی تو بنگالی النسل مسلمانوں کی شہریت کا اسی طرح انکار کررہا ہے جس طرح برما

یقیناً بنگلہ دیش ہی دونوں معاملات میں فریق ہے اور اگر بنگالی حکومت چپ ہے تو پاکستان کیوں ریاستی سطح پہ نوٹس لے؟ پاکستان تو سرے سے فریق ہی نہیں۔

یہی معاملہ یمن اور شام کا بھی ہے انسانی المیہ اور ذاتی سیاسی ہمدریوں سے قطع نظر کم لوگوں کو علم ہے کہ پاکستان نے جہاں ایک طرف یمن میں فوج نہیں بھیجی وہاں شام کے قضیہ میں ہر فورم پہ شامی ریاست کا ساتھ دیا نہ کہ کسی باغی گروپ کا۔

ایسا ہی معاملہ ترکی اور شام کے کرد علاقے کا ہے۔ انسانی سطح پہ یہ یقیناً ایک بہت بڑا المیہ ہے لیکن ریاستی ردعمل کسی حل کی جانب پیش رفت ہونا چائییے نہ کہ جذباتی ردعمل۔ کرد مسئلہ ایک وسیع مسئلہ ہے جو ایک آدھ نہین بلکہ چار ریاستوں کا مسئلہ ہے۔

علیحدگی کی تحریکیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انکے پیچھے مخالف ریاستوں کے مفادات جُڑے ہوتے ہین جو اپنے مقاصد کے لئے ان تحریکوں کو آلہ کار بناتے ہیں لہذا جلدبازی میں آکر جذباتی ردعمل دینا اور کسی کی کھیل کا مہرہ بن جانا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ دوسرے ممالک کی ساورنٹی میں مداخلت سے گریز ہونا چاہئے۔ چونکہ ترکی نے فوج شام کی حدود میں داخل کی ہے تو اعتراض کا پہلا حق شام کا ہے۔ یہ معاملہ پہلے شام، ترکی اور کردوں کا ہے اس کے بعد کسی اور کا اور ہمیں بھی اس کا مفت میں ٹھیکہ لینے سے گریز کرنا چاہئے۔

یقیناً کرد مسئلہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور ایک آدھ نہین بلکہ چار ممالک اس میں فریق ہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک یہ معاملہ وفاقیت federalism کا ہے اور یہی اسکا حل ہے ایران، ترکی، شام وغیرہ کو وحدانی ریاستیں بنے رہنے کی بجائے وفاقیت کی طرف آنا چاہیے

لیکن ظاہر ہے کہ میرا یہ توقع کرنا غلط ہوگا کہ ریاست میرے نظریہ پہ لازماً عمل کرے اسی طرح دیگر دوستون کو اپنے سیاسی نظریات کے بارے میں یہی تسلیم کرنا ہوگا کہ ریاست انکے سیاسی نظریہ کی پابند نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: