لنگڑی دانشوری —– فاروق عادل

0

سندھی کہاوت ہے جب تم کبھی لنگڑوں کے گاؤں میں جاؤ تو لنگڑانا شروع کردو ورنہ لنگڑے تمھاری ٹانگ توڑ ڈالیں گے۔ سمجھ دار لوگ ایسے مشوروں کو نظر انداز نہیں کیا کرتے البتہ دیوانوں کی بات الگ ہے۔ ان دیوانوں میں ایک اقبالؒ بھی تھے جنھوں نے غلاموں کے دیس میں آزادی کی بات کی اور اتنے زور دار طریقے سے کی کہ صدیوں کے پسے اور کچلے ہوئے خاک بسر لوگ انگڑائی لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک حقیقت بن کر ابھرا۔یہ تو ہوگیا لیکن خوئے غلامی میں مبتلا ایک قبیلہ ہمارے درمیان ایسا بھی تھا جسے یہ نعرۂ مستانہ خوش آیا اور نہ آزادی کی نعمت ان کے دل و دماغ کو سرشار کرسکی۔ خلد آشیانی فیض احمد فیض یاد آگئے جنھوں نے اقبالؒ کے بارے میں فرمارکھا ہے  ؎

تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا

لگتا ہے کہ اقبالؒ کی طرح فیض بھی کچھ دیوانے ہی تھے جو اپنے (نام نہاد) خوشہ چینوں کے بارے میں خوش خیالی میں مبتلا ہوگئے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ جس طرح ان کی کمندِ خیال فکر اقبالؒ کے بلند آشیانے تک جاپہنچی ہے، ان کے نام لیواؤں کی سمجھ میں بھی کچھ نہ کچھ آگیا ہوگا اور اگر نہیں آیا ہوگا تو کم ازکم وہ میرا لحاظ ہی کرلیں گے لیکن انھیں کیا معلوم تھا کہ معذور اور کج فہم لوگوں کو روشنی راس نہیں آتی، وہ تڑپ کر اندھیروں کی طرف پلٹتے ہیں۔ اقبالؒ پر زبان طعن دراز کرنے والوں کی مجبوری کیا ہے؟ ہماری تاریخ اس کی عبرت انگیز مثالوں سے بھری پڑی ہے۔

تحریک آزادی کے دوران ہمارے بزرگوں کو دو طرح کی مخلوق کا سامنا تھا، ایک وہ تھے، خوئے غلامی جن کی رگ و پے میں خون بن کر دوڑ رہی تھی۔ آزادی کا نعرۂ مستانہ ان کے مردہ ضمیر پرکوڑے کی طرح برسا تو تڑپ کر انھوں نے اُن ہی آقاؤں کا کلمہ پڑھنا شروع کردیا، اپنی قوم سے غداری کے بدلے جن کی نوازشوں کے وہ عادی تھے۔ دوسری مخلوق وہ تھی جو آزادی کی بات تو کرتی تھی لیکن آزادی کے نام پر قوم کو ایک نئی غلامی میں دینے کی سازش میں مصروف تھی۔ یہ وہی لوگ ہیں جو آج کہا کرتے ہیں کہ پاکستان نہ بنا ہوتا تو موجودہ پاکستان، بھارت اور سابق مشرقی پاکستان کے مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوجاتی کہ وہ ہندو کے سینے پر مونگ دلتے۔ کبھی کبھار ان کے استدلال سے مسلمان غائب ہوجاتے ہیں اور وہ بڑی حسرت سے کہا کرتے ہیں کہ انگریز کی سازش سے ہندوستان تقسیم ہوگیا ورنہ یہی ہندوستان ایک عالمی طاقت بن کر ابھرتا۔ گویا ان کی رگ رگ میں خوئے غلامی بسی ہے جن کے لیے انگریز کی غلامی ہی افضل تھی یا پھر ہندو کی غلامی جو عالمی طاقت بنتے بنتے رہ گیا لیکن اس کے باوجود وہ صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ کسی بھی غیر ہندو کو برابر کا انسانی درجہ دینے کو نہ صرف یہ کہ تیار نہیں بلکہ جینے کا حق دینے کا بھی روا ددار نہیں لیکن آفرین ہے کہ یہ مخلوق آج بھی اسی بھارت کا گن گاتی ہے، انھیں کشمیر، مشرقی پنجاب اور آسام سمیت درجن بھر اقوام کے لہو میں رنگا ہوا بھارت کا خوں خوار چہرہ دکھائی نہیں دیتا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر ملک راج آنند: اقبال کا ایک ترقی پسند عاشق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اعجازالحق اعجاز

آج ہمارے درمیان ان دونوں ان دونوں مخلوقات کی مسخ شدہ باقیات موجود ہیں جو ہر ایسے مظہر کو منہدم کردینے کے درپے ہیں جو پاکستانی قوم کے فخر کی علامت اور اس کے درمیان بنائے اتحاد ہے۔چند روز قبل اکادمی ادبیات پاکستان میں اقبالؒ پر زبان طعن دراز کرنے والوں کا تعلق اسی طبقے ہے۔ اس طبقے کی پہچان یہ ہے قومی زندگی کے مختلف ادوار میں اس کی وفاداری ہمیشہ ملک سے باہر رہی۔ ماضی میں یہ لوگ کمیونزم کا نقاب پہن کر ملک کی بنیادوں پر کلہاڑا چلایا کرتے تھے اور آج جب حالات بدلے ہیں، انھوں نے کمیونزم کا لبادہ اتار پھینکا ہے اور اب وہ روشن خیال بن کر امریکا کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی وفاداری کا مرکز نہ کبھی پاکستان رہا ہے، نہ کمیونزم اور سرخ سویرا بلکہ ان کا مطمع نظر انگریزکے غلاموں کی طرح چند ٹکڑوں کا حصول اور پاکستان کی بنیادوں پر کلہاڑا چلانا ہے، اس لیے یہ مخلوق اقبالؒ کو بخشنے پر تیار ہوتی ہے اور نہ قائد اعظم ؒ کو معاف کرتی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان نامبارک مقاصد میں اگر انھیں فیض سمیت کوئی ترقی پسند علامت بھی حارج ہوتی دکھائی دی تو وہ اس پر بھی کلہاڑی چلانے سے کبھی نہیں چوکیں گے۔

اقبالؒ کی توہین پرجناب جلیل عالی، ڈاکٹر عزیز ابن الحسن، برادرم اعجاز الحق اعجاز اور دیگر تما م اہل غیرت کا تحرک اور احتجاج ضروری اور پسندیدہ ہے لیکن کسی مجہول الفکر کی اول جلول باتوں پر صفائی پیش کرنے اور فلسفہ و سائنس وغیرہ کے موضوعات پر اقبالؒ کی دسترس کے ثبوت پیش کرنے کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ البتہ ناگریز ہے کہ اس مخلوق کی اہلیت (Credentials) کو جانچا جائے کہ اس نے علمی اور فکری میدان میں کیا کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں نیز احتساب کے اس زمانے میں یہ احتساب بھی کرلیا جائے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد جب قوم یک جان ہوکر دفاع پاکستان کے لیے ضروری اقدامات کا مطالبہ کررہی تھی،اس وقت یہ مخلوق قوم کے دفاع کی علامتوں اور ملک کے خدمت گاروں کی قبریں بنا کر کس کی خدمت بجا لارہی تھی؟

یہ بھی پڑھیں: پرویز ہود بھائی کے نام کھلا خط ——- اعجازالحق اعجاز
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: