پیغام ——– ڈاکٹر فرحان کامرانی

0

دفتر میں ماتم کی فضاء تھی، افشین اور افصح رو رہی تھیں۔ صابر، اسد، حنیف اور صادق کے چہروں پر بھی غم نمایاں تھا۔ دفتر کا پیون سہیل بھی ایک طرف سوگوار صورت بنائے کھڑا تھا کہ ایسے میں ڈائریکٹر صاحب داخل ہوئے۔

”چلو ہم سب وہیں جا رہے ہیں عمران کے گھر“ یہ کہہ کر وہ صابر کی طرف مڑے۔ ”عمران کے بھائی سے بات ہو گئی تمہاری؟“
”جی سر“
”ہوں۔ اچھا، اس کا گھر دیکھا ہوا ہے تمہارا؟“
”جی سر، نارتھ کراچی میں ہے، شادمان ٹاؤن میں“
”اس نے تو مجھے نارتھ ناظم آباد بتایا تھا“
”سر شادمان ٹاؤن نارتھ ناظم آباد ٹاؤن میں ہی آتا ہے۔۔۔“
”خیر تم کو معلوم ہے ایڈریس تو آگے تم اپنی بائیک چلانا، باقی سب دفتر کی وین میں ہوں گے۔ چلو“ یہ کہہ کر وہ پیون سہیل کی طرف مڑے۔ ”دفتر بند کر دو۔ “
”سر میں بھی۔۔“
”اچھا“ ڈائریکٹر صاحب کے لئے منع کرنا مشکل تھا ”چلو ٹھیک ہے تم بھی چلو“

گاڑیاں نکلیں اور ڈیفنس سے شادمان ٹاؤن پہنچیں۔ افصح روتی رہی۔ افشین کا چہرہ بھی سوگوار تھا۔ شادمان ٹاؤن کے ایک 120 گز کے مکان کے سامنے سفید ٹینٹ لگا تھا۔ تین چار مرد اس میں بیٹھے تھے۔ دفتری عملے کے مرد بھی وین سے اور دیگر سواریوں سے اتر کر بیٹھ گئے۔ لڑکیاں گھر کے اندر چلی گئیں، ڈائریکٹر صاحب نے باہر بیٹھے بوڑھے آدمی کو عمران کا والد سمجھ کر تعزیت کی تو بڑے میاں نے تصیح کر دی کہ عمران کے والد اور والدہ تو دو سال قبل ایک ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہو چکے، وہ تو عمران کے پڑوسی ہیں۔ عمران اس گھر میں اپنے بھائی اور بھابھی کے ساتھ رہتا تھا جب کہ اس کی ایک بہن برطانیہ میں رہتی ہے۔ ایسے میں ایک بچہ آ کر سوگوار صورت کے ساتھ خاموشی سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا، یہ کوئی بارہ سال کا لڑکا تھا۔

”یہ عمران کا بھتیجا ہے“ بڑے میاں نے بتایا۔
”اس کے برادر کہاں ہیں، ہم ان سے تعزیت کر لیں“ ڈائریکٹر صاحب نے اپنی قیمتی گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
”وہ آ رہا ہے، یہ یہ آ گیا“ ایک 45 سال کا گنجا شخص نمودار ہوا، ڈائریکٹر صاحب اس سے گلے ملے اور تعزیت کی۔
”عمران ہمارے ہی دفتر میں کام کرتا تھا، میں ڈائریکٹر ہوں۔ یہ اس کے کولیگ ہیں، صابر، اسد، حنیف اور صادق“ سب نے فرداً فرداً عمران کے برادر سے معانقہ کیا۔ ”بہت بہت دکھ ہوا، وہ بہت اچھا لڑکا تھا، یقین ہی نہیں آ رہا کہ وہ۔ یوں اچانک“

عمران کے برادر جیسے سن تھے۔ وہ غور سے ڈائریکٹر صاحب کو دیکھ رہے تھے۔

”اچھا تو نہیں لگتا، ابھی کہ کہتے ہوئے مگر یہ بات تو کرنی ہی پڑتی ہے کہ اس کا جو بھی فائنل سیٹلمنٹ ہے وہ ہم جلد۔ مطلب آپ کے ساتھ پورا تعاون رہے گا۔“
”جی“
”نماز جنازہ کب ہے؟“
”عشاء میں ہے، اسی مسجد میں“
”عشاء میں؟“
”اس کی پھوپھی، مطلب ہماری پھوپھی آ رہی ہیں اسلام آباد سے۔ بہن تو ہماری لندن میں تو۔ ۔ ۔ عشاء میں ہے جنازہ“ یہ کہہ کر وہ مڑے اور دوبارہ گھر کے اندر چلے گئے۔

ڈائریکٹر صاحب نے پھر گھڑی پر نظر ڈالی۔ ”یہ عشاء کی نماز آج کل کس وقت ہوتی ہے؟“ انھوں نے صادق کی طرف دیکھ کر دریافت کیا، صادق نے گھبرا کر حنیف کی طرف دیکھا۔
”ساڑھے 8 بجے (شاید) سر“ حنیف نے جواب دیا۔
”ابھی تو 4 بجے ہیں۔ تم لوگ نماز جنازہ تک رکو گے؟“
”الا، سر میں رک جاؤں گا، میرا تو وہ کولیگ بھی تھا اور ”پھرینڈ بھی تھا سر“ صادق نے مخصوص گلگتی اندا زمیں کہا۔
”ٹھیک ہے جس کو رکنا ہے وہ رک سکتا ہے اور باقی لوگ چلیں۔۔۔ لڑکیوں کو کال کر کے باہر بلاؤ۔ “
تھوڑی دیر بعد سارے لوگ سوائے صادق کے واپس دفتر جا رہے تھے۔

”جی جی۔ جی اب میں ہی ڈیل کروں گا ساری Purchase۔ عمران بھائی کا انتقال ہو گیا۔ آپ کو معلوم ہے۔۔ کیسے؟ اچھا اچھا فیس بک پر آپ کے پاس ایڈ تھے۔ ہاں جی جی۔ ان کے کسی رشتے دار نے اسٹیٹس ڈال دیا ہو گا، ان کے انتقال کا۔ ویری سیڈ۔ جی ہاں، کل میں آپ کا چیک بنواتا ہوں اکاؤنٹ سے“

حنیف نے فون رکھا۔ اپنی گھومنے والی کرسی پر ٹیک لگایا، پھر دوبارہ اپنے کمپیوٹر کی اسکرین پر متوجہ ہو گیا، ایکسل کی اسکرین نیچے کی اور انٹرنیٹ کا براؤزر کھولا اور فیس بک لگایا، اس کے دوستوں کے الگ الگ اسٹیٹس وال پر نظر آئے۔

“I will miss you sir Musharraf”
“Alhamdulillah, Jamhuriat has returned, Geo Jamhuriat”
“Very sad to hear about my friend Mr. (Late) Imran, may his sol rest in peace”
یہ اسٹیٹس صادق حسین کا تھا، حنیف ہنسا۔

”جابر، اسد، ذرا ادھر آنا۔ “دونوں اپنے پارٹیشن سے حنیف کے پاس آ گئے ”پڑھا یہ اسٹیٹس؟“
”اس بیچارے کو نہیں آتی انگلش تو کیا کرے بیچارہ“ صابر نے اعتراض کیا۔
”ابے تو ایک چیز Spell Check بھی تو ہے“ اسد نے رائے دی۔
”چلو جو بھی ہے مگر یار اس نے بیچارے عمران کو یاد کیا ہے۔ مطلب یہ ہنسنے کی بات تو نہیں، ہمیں بھی اسٹیٹس لگانا چاہیے“
”ہوں۔ چلو ٹھیک ہے۔ “
حنیف، صابر اور اسد نے بھی اسٹیٹس لگائے، تھوڑی دیر میں تعزیتی پیغامات موصول ہونے لگے۔

”آج آئی ہے افصح تین دن بعد دفتر۔ کسی سے بات نہیں کر رہی“ حنیف نے صابر سے کہا۔
”تو یار مطلب دونوں میں تھے ناں معاملات، وہ سوگ میں ہے بیچاری، ویسے بھی اتنا اچانک ہی وہ بیچارہ چل بسا“ صابر بولا۔
”ہاں اس کو بہت شوق تھا تیرنے کا، یاد ہے کمپنی کی پکنک پر بھی وہ کتنے آگے چلا گیا تھا تیرتا ہوا، اب کی بار لہروں نے وفا نہیں کی“
”مگر یار یہ اچھی بات نہیں ہے کہ جو اس کے اکاؤنٹ پر تصویر لگائی ہے ناں اس کی۔ انتقال کے بعد یار۔ یہ صحیح نہیں ہے۔“
”نہیں، اسی نے لگائی ہو گی، انتقال کے بعد کون لگائے گا“
”تو چیک تو کر“

حنیف نے اپنا اکاؤنٹ لاگ ان کیا، واقعی عمران کی پروفائل پکچر بدل چکی تھی، وہ شورٹس اور بغیر آستین کی ٹی شرٹ پہنے ساحل پر فخر سے سمندر کو دیکھ رہا ہے، سر پر کاؤ بوائے ہیٹ ہے۔
”یہ کس نے ڈالی ہو گی؟“ اس نے سوچا۔

ایسے میں اس کی نظر اپنے ان باکس پر پڑی۔ کسی کا میسج تھا، اس نے کلک کیا، میسج عمران کی طرف سے تھا، اس نے حیرت سے کھولا۔

”السلام علیکم! کیسے ہو یار؟ مبارک ہو، تم نے میری سیٹ سنبھال لی، عثمان برادرز کا چیک میری دراز میں سب سے اوپر والی فائل میں رکھا ہے“۔

حنیف یہ پیغام پڑھ کر سٹپٹا گیا۔ وہ صبح سے یہ چیک تلاش کر رہا تھا۔ پہلے اس نے سوچا کہ یہ دفتر میں ہی کسی کا مذاق ہے۔ ”عمران کا اکاؤنٹ لاگ ان رہ گیا ہو گا، اس سے اسد یا صابر نے۔ صادق میں تو اتنی عقل ہے نہیں“ اس نے سوچا۔ پھر کچھ سوچ کر میز کی دراز کھولی اور سب سے اوپر والی فائل کو کھولا۔ واقعی اس میں سب سے اوپر عثمان برادرز کا ہی چیک رکھا ہوا تھا۔ یہ وہ آخری کام تھا جو بیچارا عمران نامکمل چھوڑ کر اس دنیا سے چلا گیا تھا۔

”اسد ادھر آنا“ حنیف نے پکارا۔
”جی سر“
”یہ کیا حرامی پن ہے؟“ حنیف نے چیک دکھاتے ہوئے کہا۔
”کیا سر“ کیا ہو گیا حنیف بھائی؟“ اسد سٹپٹا گیا۔
”یہ چیک یہاں رکھ کر تم فیس بک پر میسج کر رہے ہو عمران کے اکاؤنٹ سے؟“
”میں یہ چیک کیسے رکھ سکتا ہوں سر، مجھ سے پہلے دفتر آپ آتے ہیں اور عمران کا اکاؤنٹ میں کیسے لگا سکتا ہوں، اس کا پاس ورڈ مجھے تھوڑی معلوم ہے۔ “
”ارے اس بیچارے کا اکاؤنٹ لاگ ان رہ گیا ہو گا، تم نے اس سے میسج کر دیا“
”ارے حنیف بھائی، کامن سینس سے کام لیں، عمران کا کمپیوٹر اور سیٹ یہ ہے جس پر آپ بیٹھے ہیں، تو اس کا اکاؤنٹ کسی اور کمپیوٹر پرکیسے لاگ ان رہ جائے گا؟“ یہ بات کہہ کر اسد چلا گیا اور حنیف گہری سوچ میں پڑ گیا۔ اس کی نظر پڑی تو ان باکس میں پھر ایک پیغام چمک رہا تھا، پیغام عمران کی ہی طرف سے تھا۔
”چیک ملنے پر خوش ہونے کے بجائے بیچارے اسد پر کیوں چڑھائی کر رہے ہو؟“
”یہ میسج کیا افصح کر رہی ہے؟ اس کے پاس تو وہ گا عمران کا پاس ورڈ۔ مگر وہ اتنا عجیب مذاق کیسے کر سکتی ہے؟“ حنیف نے شدید حیرت سے خود سے سوال کیا۔

”الا، جیک، حال بین؟ الا کاکا۔۔۔۔“ صادق کسی سے فون پر ”شنا“ میں بات کر رہا تھا۔
”دیکھ یہ پشتو میں اپنی گرل فرینڈ سے بات کر رہا ہے“ صابر نے اسد سے کہا۔
”یار گرل فرینڈ سے یاد آیا، افصح تو بالکل نارمل ہو گئی، کل دیکھا تھا کتنا۔۔۔۔ پٹیالہ ڈریس پہن کر آئی تھی۔ “
”ابے یہ لڑکی ذات ہے ہی اسی چیز کا نام“

ایسے میں افصح اور افشین بھی وہاں آ گئے، انہوں نے بھی اپنے ٹفن مائیکرو ویو میں رکھے۔ پھر سہیل آ گیا اور ان کے ٹفن سے پلیٹ میں کھانا منتقل کر کے دونوں کے سامنے رکھ دیا۔ دونوں کھانے لگیں اور ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگیں، ایسے میں افشین نے اسد کو مخاطب کیا۔

”اسد مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے“ وہ اپنے خاص تیز انداز میں بولی۔ اس کی آواز گونجتی تھی۔
”جی بولیں“
”نہیں یہاں نہیں، کھانے کے بعد آپ کے کیبن میں“
صادق اور صابر نے ایک دوسرے کو غور سے دیکھا اور اسد کے چہرے پر بھی حیرت کا تاثر نمودار ہوا۔
”اچھا“

کھانے کے بعد وہ اپنے کیبن میں آیا اور افشین ایک سخت تاثر لئے وہاں آ گئی۔
”یہ آپ کیوں کر رہے ہیں؟ آپ کو احساس ہے یہ کتنی گھٹیا، کتنی گری ہوئی حرکت ہے“
”کیا چیز؟ کون سی حرکت؟ آپ بول کیا رہی ہیں؟“
”آپ کو پتہ ہے، اتنے معصوم مت بنیں آپ“ یہ کہہ کر وہ غصے سے اسد کو گھورنے لگی۔
”یہ کیا کہہ رہی ہے؟“ اسد سوچنے لگا، اسے یاد آیا کہ ایک روز اس نے دفتر کا خواتین کا ٹوائلٹ استعمال کیا تھا جو افشین نے دیکھ لیا تھا۔
”آپ کھل کر بولیں، میری سمجھ نہیں آ رہا، آپ کس موضوع پر بات کر رہی ہیں“
”وہ جو آپ بیچاری افصح کے ساتھ کر رہے ہیں“
اب اسد کو لگا کہ شائد اس گفتگو کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو اس میں اور صابر میں کھانے کے دوران جاری تھی۔
”کیا مطلب؟ میں کیا کر رہا ہوں؟“
”وہ جو آپ میسج کر رہے ہیں اسے، ہم لوگ ڈائریکٹر صاحب کوبتا دیں گے ابھی آپ کو الٹی میٹم دے رہی ہوں۔ آپ سمجھ جائیں، وہ بیچاری بڑی مشکل سے نارمل ہو رہی ہے اور اسے آپ اسے یاد دلا رہے ہیں سب کچھ“

”میں نے کون سا میسج کر دیا؟ ارے افصح کا نمبر ہی نہیں میرے پاس، کیسا میسج؟ وہ میرے پاس فیس بک پر ایڈ نہیں۔ میں نے اسے کون سا میسج کر دیا؟“
”آپ عمران کے اکاؤنٹ سے میسج کر رہے ہیں جی۔ اتنے معصوم مت بنیں آپ۔ آپ نے ہی کیا ہو گا، ہم لوگوں نے حنیف سر سے بھی بات کی، انہوں نے بھی آپ کا نام لیا۔“
”دماغ صحیح ہے آپ کا محترمہ، میں عزت سے بات کر رہا ہوں تو آپ اپنی لمٹ کراس کر رہی ہیں،۔ دماغ ٹھیک ہے؟“ اسد نے آواز تیز کرتے ہوئے کہا۔ ”ابھی چلو ڈائریکٹر کے پاس۔۔ میں دفتر میں آتا ہوں کام کرنے۔ میں کیسے عمران کے اکاؤنٹ سے کسی کو میسج کروں گا۔ چلو ابھی فوراً ڈائریکٹر صاحب کے پاس“ اسد غصے میں اٹھ کھڑا ہوا تو افشین تھوڑی سہم گئی۔
”ریلیکس، ریلیکس! اتنے ہائپر مت ہوں، حنیف سر نے بولا تھا۔“
”اس کو بھی دیکھتا ہوں۔ بہت ہو گئی بکواس!“

تھوڑی دیر بعد افشین، افصح، اسد اور حنیف سب ڈائریکٹر صاحب کے کمرے میں تھے، ڈائریکٹر صاحب غور سے اسد کو دیکھ رہے تھے۔
”تو پرابلم کیا ہے آپ کو؟“ یہ کہ افشین نے آپ پر شک کیوں کیا کہ آپ عمران کا اکاؤنٹ چلا رہے ہیں، یا یہ کہ آپ سے پوچھا کیوں یا یہ کہ حنیف نے ایسا کیوں کہا آپ سے؟ چلو میں ان سے ان کی Reason پوچھ لیتا ہوں، ہاں بھی افشین صاحبہ، آپ نے اسد پر الزام کیوں لگایا؟ یہ کوئی ہیکر ہیں کیا کہ عمران مرحوم کا اکاؤنٹ ہیک کر کے اس سے حنیف اور افصح کو میسج بھیجیں گے؟ ویسے کتنے میسج آئے؟“

”سر روز آ رہے ہیں، الگ الگ باتوں پر۔ کوئی بندہ جو دفتر میں ہو وہ ہی اس طرح دفتر کے اندر کی اسی دن کی باتیں کر سکتا ہے“ حنیف بولا۔
”تو دفتر میں صرف اسد ہے؟ اور جو لوگ ہیں؟ وہ صادق جو اس سے کافی باتیں کرتا تھا، اس پر شک کیوں نہیں کیا آپ نے؟“
”سر سب سے پوچھ گچھ کی ہے مگر وہ اصل میں۔۔۔ اصل میں افصح کو جو میسج آئے ہیں اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں کہ۔۔۔ سر مطلب صرف عمران کو پتہ تھیں یا پھر مطلب ہو سکتا ہے اسد کو پتہ ہوں“ افشین نے تھوڑا گھبراتے ہوئے کہا۔
”آپ کی اس بات کا کیا مطلب کہ عمران کو پتہ تھیں یا ”ہو سکتا ہے“ کہ اسد کو معلوم ہوں؟“ ڈائریکٹر صاحب نے حیرت سے دریافت کیا۔
”یہ بات۔۔ یہ بات آپ سر۔۔۔۔۔۔“ افشین خاموش ہو گئی۔
“I am waiting for your reply Afsheen”
”سر آپ آپ اسد سے پوچھیں“
”سر یہ بکواس کر رہی ہے، میرا کمپیوٹر منگوا کر اس کی ہسٹری چیک کر لیں۔“
”ہسٹری ڈلیٹ ہو سکتی ہے“ افشین بولی۔
”ارے تو کیا ہے ان میسجز میں؟“ ڈائریکٹر صاحب نے حیرت اور تجسس سے پوچھا۔
”سر میں۔۔ مطلب افصح وہ میسج تو آپ کو نہیں دکھا سکتی۔۔ مطلب“

”کیا ”مطلب، مطلب“ کی رٹ لگا رکھی ہے؟ اور آپ افصح کی وکیل ہیں؟ آپ کا کیا انٹرسٹ ہے اور آپ کا کیا تعلق ہے اس بات سے؟ اور افصح بی بی آپ کے پاس کیا ثبوت ہے اسد کے خلاف؟“
”سر میں نے تو اسد کا نام نہیں لیا۔ میں تو سر ان میسجز سے تنگ تھی تو افشین کچھ دکھائے تو اس نے حنیف سر سے بات کی اور انہوں نے اسد کا نام لیا“ افصح نے نظریں جھکائے ہوئے ہی اپنی بات مکمل کی، اس کے آخری جملے پر اسد نے حنیف کو گھور کر دیکھا۔

”جی حنیف صاحب آپ نے کیوں اسد پر ایسا شک کیا؟ عمران کی سیٹ تو آپ کو ملی ہے اس کا کمپیوٹر تو آپ کے پاس ہے، ہو سکتا ہے اس میں اس کا پاس ورڈ سیف ہو اور آپ ہی یہ کارستانی کر رہے ہوں؟“
”سر میں۔۔ میں کیسے سر مجھے تو خود عمران کے میسج مل رہے ہیں۔“

”تو خود کو بھی بھیج دیے ہوں گے تا کہ شک نہ ہو کسی کو۔ ۔ خیر بات یہ ہے کہ محترمہ افشین آپ کو میں آئندہ کبھی کسی دوسرے کے معاملے میں بولتا نہ دیکھوں۔ آئی سمجھ؟ اور حنیف میں تم کو وارننگ دے رہا ہوں کہ اس طرح کی گندی Politics میں برداشت نہیں کروں گا اور محترمہ افصح بی بی آپ سے گزارش ہے کہ ان میسجز کو اگنور کریں اور اگر زیادہ ناگوار ہیں تو بلاک کر دیں ا س پروفائل کو جس سے آرہے ہیں۔ اور اسد کے حوالے سے اس طرح کی باتیں پھیلانے سے آپ سب اجتناب کریں۔ آپ کی جو بھی Relationship ماضی میں اسد کے ساتھ رہی ہے وہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے، اس سے past میں بھی دفتر کا ماحول خراب ہو چکا ہے مگر اب میں ایسا ہونے نہیں دوں گا۔ اب آپ سب جا سکتے ہیں۔“
اس ڈائریکٹر صاحب کے کمرے سے سینہ پھلا کر اور باقی لوگ سر جھکا کر نکلے۔

افصح آ کر اپنی نشست پر بیٹھ گئی، اپنے کمپیوٹر پر فیس بک لگایا تو ”ان باکس“ میں کچھ پیغامات چک رہے تھے۔

“Stupid Dumbo” تم سمجھتی کیوں نہیں کہ یہ میں ہی ہوں عمران۔ اسد نہیں“ افصح سٹپٹا گئی۔ پیغام 5 منٹ پرانا تھا۔ اس وقت کا کہ جب یہ سب ڈائریکٹر صاحب کے کمرے میں تھے، ایک اور پیغام اسی وقت موصول ہوا، پیغام پڑھنے سے پہلے افصح نے اسد کے کیبن کی طرف دیکھا تو وہ خالی تھا اور اسد، صابر اور صادق ڈسپنسر کے پاس کھڑے بات کر رہے تھے جبکہ حنیف اسی پل بیت الخلاء سے باہر آ رہا تھا۔ ”یعنی ان میں سے کوئی بھی یہ میسج نہیں کر رہا۔۔ تو کیا۔۔ افشین؟“ وہ جلدی سے افشین کے پارٹیشن آفس میں جھانکنے کے لئے اٹھی تو وہ بھی خالی تھا، افشین کچن میں کھڑی جلدی جلدی کچھ کھاتی ہوئی نظر آئی۔ ”یعنی ان میں سے کوئی بھی نہیں۔۔ پھر کون؟“ افصح نے ڈرتے ہوئے پیغام کھولا۔

“Baby its me, why don’t you reply? what are you afraid of?”
افصح نے جلدی سے پیغام کو minimize کر دیا۔

(تین ماہ بعد)
افشین نے گھر میں اپنا فیس بک پروفائل لگایا تو عمران کا پیغام اس کے ”ان بکس“ میں موجود تھا۔ ”یہ اسد ہی ہے!“ یہ سوچتے ہوئے اس نے پیغام کھولا۔

“Dear Afsheen,
I hope you are well kindly convey my message to Afsah (I am asking you because she has blocked me)
Dear Afsah, I wish you a very happy married life. You made the right decision and you did it very pragmatically. I am proud of you. I am now aware that you never let any person from your family know about our relationship. So I never existed for them. By the way, you also have another cell number that you never gave me. All of this knowledge is very enlightening. But this newly achieved wisdom is of no use for me because I am dead. Wisdom is for those who are alive, not for me, not any more.
Good Bye,
Yours
Imran”

“That bastard Asad”!” افشین نے دانت پیسے اور اس نے بھی جلدی سے عمران کو بلاک کرنے کے آپشن پر کلک کیا۔

“Are you sure you want to block Imran Ahmed?”

اس نے yes پر کلک کیا۔ اب اس نے چین کا سانس لیا۔ اسی لمحے اس کے موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوا، پیغام عمران مرحوم کے موبائل نمبر سے تھا۔
“Thanks for blocking me”

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: