کند ہم جنس باہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز با باز ——— گُل ساج

0
فقیر  کے ابا جی کو کُتب بینی کے ساتھ ساتھ کبوتر رکھنے کا شوق بھی رہا مگر چونکہ ایک زمانے میں کبوتر پالنا اُڑانا معیوب سمجھا جانے لگا تو معاشرتی دباؤ کی وجہ اس شوق کو تج دینا پڑا۔  کچھ پردیس میں نوکری بھی اس شوق کے آڑے آئی ۔
فقیر کو کبوتروں کا شوق و شغف ایک طرح سے وراثت میں ملا۔
بچپن میں پانچ سات کبوتر میں نے بھی رکھے۔۔
ہمارے گھر سے مُتصل تین گھر ایسے تھے جہاں باقاعدہ کبوتر اڑائے اور لڑائے جاتے تھے۔
میں اپنا پیشتر وقت وہیں گزارتا تھا،کبوتروں کے مقامی نام و اقسام آج تک مجھے ازبر ہیں ۔۔
جوا،  کُھمبی، خال،  زاغ،  لال چپڑا، چوٹی دار، مکھیا وغیری لڑاکا کبوتر ہیں۔
جبکہ اصیل کبوتر وزن میں ہلکے اونچی اڑان کے حامل ہوتے ہیں مقامی زبان میں انہیں “ہوائی کبوتر” کہا جاتا ہے یہ کئی کئی دن خلاء میں گھومتے رہتے ہیں ۔۔
لٹھا اور لکی کبوتر (فین ٹیل پیجن)  بھی پالتو کبوتروں میں شمار ہوتے ہیں یہ اڑان کے لئیے موزوں نہیں ۔
کبوتر کی اونچی لمبی بے تھکن پرواز کے لئیے انہیں زبردست مقوی خواراک دی جاتی ہے دیسی گھی میں مختلف میوہ جات شامل کرکے کھلائے جاتے مگر  ساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ وزن اور جسامت میں بھاری نہ ہونے پائیں یوں کبوتر سست ہوجاتے ہیں زیادہ دیر تک اُڑ نہیں پاتے۔
کبوتر بازی دلچسپ مشغلہ ہے
اسکی اپنی زُبان اپنی اصطلاحات ہیں ۔
کُٹی !!
کُٹی  ایسی مادہ کبوتر کو کہتے ہیں جسکی دُم کے پر کاٹ دئیے جاتے ہیں تاکہ اسکی پُشت نوکدار رہے اور پکڑنے میں  آسانی ہو بوقت پشت کے پروں کی وجہ سے ہاتھ سے پھسل نہ جائے۔
کبوتروں کو جب پرواز سے واپس بلانا ہو تو کُٹی کو پکڑ کے اُسکے پر کھول کے پھڑ پھڑا کے لہرا کے محوِپرواز کبوتروں کی جانب رُخ کر کے آ آ آ آو آو پُچ پُچ کی آوازیں نکالتے ہوئے کبوتروں کو واپسی کا بُلاوا دیا جاتا ہے  اِسے “کُٹی پھینکنا” کہتے ہیں۔۔جونہی کبوتر کُٹی کو دیکھتے ہیں تو سمجھ جاتے ہیں کہ اب پرواز سے بس کرنی ہے اور واپس پلٹنا ہے۔۔
کُٹی پھینکنا ایک طرح سے” ریٹرن بیک کاشن “ہے۔
کبوتر بازی میں گرچہ کُٹی کی خاصی اہمیت ہے مگر یہ وہ مظلوم کبوتری ہوتی ہے جو غریب کی جورو “سب کی جورو” تمام کبوتروں کی مشترکہ محبوبہ ہوتی ہے۔
بے حال بے ڈھنگی سست الوجود کبوتری، جسے ہر کبوتر  ٹھونگوں سے ہلکان بھی کئیے رکھتا ہے اور وقت پڑنے پہ مجبوری میں اس سے “جنسی پیاس” بجھانے سے بھی نہیں چوکتا۔
نر کبوتر گُٹرکوں گُٹرکوں کرتےہوئے مادہ کبوتر کے ارد گرد گھومتے ہوئے بڑی ادا سے  کبھی گردن اٹھا کے تو کبھی جھکا کے سینہ تان کے خوبصورت موومنٹ کرتے ہوئے کبوتری کو پرچاتا ہے لُبھاتا ہے (اس عمل پہ انگلش کی ٹرن سڈیوس عین فِٹ بیٹھتی ہے) اس دوران اسکی گردن کے پنکھ کھڑے ہوتے ہیں اور دُم کے پروں میں بھی ایک خاص طرح کی اُٹھان در آتی ہے
یہ کافی کافی دیر مادہ کبوتر کے گرد گھومتا رہتا یے ،ناز نخرے والی کبوتری مگر تین تین دن بھی لِفٹ نہیں کراتی۔۔
نرکبوتر منہ سے غُٹرکوں غُٹرکوں آواز نکالتے ہوئے گردن کو تقریباً زمین سے لگاتے ہوئے یعنی بِچھ بِچھ جاتے ہوئے اور جیسے مادہ کبوتر سے راز نیاز وعدہ وعید کر رہا ہو۔۔
مرد تو پھر مرد ہوتا ہے آخر باتوں کے ریشمی جال غُٹرکوں غُٹرکوں کر کے بُنتا جاتا ہے اور مادہ کبوتر کے گِرد لپیٹتا جاتا ہے آخر کار مادہ کبوتر پسیج جاتی ہے اور باہم وصل کی گھڑی آن پہنچتی ہے
مادہ کبوتر سپر ڈال دیتی ہے اور نر کے سامنے ذرا سی جُھکتی ہے سرتسلیم خم کرتی ہیں یہ نر کبوتر کے لئیے گرین سگنل ہوتا ہے۔
نر کبوتر مادہ کے اوپر سوار ہو جاتا ہے اور اپنی دُم کے پروں کے بیچ موجودہ اعضائے تناسل کو مادہ کبوتر کی پنکھوں میں پوشیده اِندام انہانی سے مِس کرتا ہے۔
یہ کبوتروں کے مابین “وظیفہ مباشرت” ہے ۔
لذتِ وصال سے مادہ کبوتر کی مخمور چال ڈھال دیدنی ہوتی ہے وہ ایک دلفریب ادا سے فخریہ انداز میں سینہ پُھلائے  پنکھوں کو ہوا میں اٹھائے ہلکا سا راونڈ لگاتی ہے۔
اور بیچاری کُٹی کے نصیب کہ جسکا دل کرے منہ اٹھا کے “ستم پروری” کردے نا ناز نا نخرے نہ ہی منت سماجت۔
 البتی کُٹی کے مقدر بھی کچھ دِن بھی سنورنے کے چانسز بدرجہ اتم موجود رہتے ہیں یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ ہی مغضوب و مظلوم رہے نئے بال و پر نکلنے پہ وہ بھی پُرادا کبوتری میں ڈھل جاتی ہے۔
میں ابھی شہری علاقوں میں گھروں کی چھتوں پہ اڑائے جانے والے کبوتروں کی بات کر رہا۔
مختلف ڈربوں سے اڑنے والے کبوتر آسمان کی نیلگوں فضائے بسیط میں آپس میں مدغم ہو جاتے ہیں اور کافی دیر تک باہم مُشترک پرواز کرتے ہیں۔
کبوتروں کے مالک اپنی اپنی چھتوں سے  زوردار آواز  سے سیٹیاں بجاتے ہوئے انہیں مہمیز کرتے ہیں بعض اوقاف یہ فریضہ تین چار افراد مل کے انجام دیتے ہیں۔
سیٹیاں بجانا اور کوک لگاتے ہیں  تاکہ کبوتر اونچی اور طویل اُڑان بھریں اور تین یا چار مختلف غول آپس میں اس طرح مل جائیں کہ خود کبوتر بھی اپنے گروہ کی پہچان سے انجان ہو جائیں ، طویل پرواز کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔۔
کبوتر باہم پرواز کرتے کرتے دور نکل جاتے ہیں  یہاں تک کہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں تب انہیں قریب کے مضافاتِ اُفق پہ بڑے غول کی صورت میں پرواز کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔۔
ان میں سے کئی کبوتر اپنی ٹولی سے جُدا ہو کہ آفاق میں گم ہو جاتے ہیں اور تین تین دن تک پرواز کرتے رہتے تھے ۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ پانچ پانچ دن کی طویل پرواز کے بعد کبوتر واپس لوٹتے ہیں ۔
اُڑان ختم کرنے کے لئیے کُٹی دکھائی جاتی ہے اس دوران کبوتر اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف پلٹتے ہیں اور ساتھ میں مُقابل کے دو چار کبوتر بھی ہمراہ لئیے آتے ہیں یہی دوچار کبوتر جو اپنی ڈار سے بچھڑ کر مخالف کبوتروں کے گروہ میں غیر دانستگی میں شامل ہوکے انکے ٹھکانے پہ اتر آتے ہیں یہی اس اُڑان کا  اس مقابلے کاحاصل و مقصود و سود ہوتا ہے۔
دوزخا !!
دوزخا لکڑی کی مضبوط چھڑی کے مخروطی یا بیضوی فریم میں طاقتور موٹے دھاگے سے بُنا ہو جال نُما ہتھیار ہے جو کبوتر کو پکڑنے کے کام آتا ہے۔
“کبوتر باز شکاری” دوزخے کو جسم کے پیچھے کمر کے ساتھ چِپکا کے چُھپا کے ایک ہاتھ میں کُٹی تھامے  غیر طرف سے ڈال پہ آ جانے والے کبوتر کو پرچاتے لبھاتے ہوئے اسکی جانب بڑھتا ہے  نیا پنچھی اِس دوران تھوڑا بہت ریلیکس ہوچکا ہوتا ہے ۔
کبوتر باز جب دیکھتا ہے کہ اب کبوتر دوزخے کی رینج میں ہے تو یکدم دوزخے کو گُھما کے کبوتر کی طرف جھپٹاتا ہے  یوں کبوتر  دوزخے کے جال میں پھنس جاتا ہے ۔
دوزخا گھمانا بہت بڑا فن ہے اگر کبوتر باز ذیادہ مہارت نہ رکھتا ہو ہو تو کسی ماہر  دوزخا زن  کی خدمات مستعار بھی لی جاتی ہیں ۔۔
اگر دوزخا خطا جائے تو ساری محنت اکارت جاتی ہے اور کبوتر اُڑنچھو ہوجاتا ہے پھر ہاتھ ملتے رہو ۔۔
پکڑے جانے والے کبوتر کو بیعوض رقم  واپس مالک کو لوٹادیا جاتا ہے یا قیدی کبوتروں کے تبادلے کا کام لیا جاتا ہے ۔
اگر کبوتر نسلی یا خوبصورت بُلند پرواز ہو تو اسے واپس کرنے کے بجائے پر باندھ کے یا کُتر کے اپنے پاس ایک دو ماہ رکھتے ہیں جبتک کہ وہ نئیے مالک نئیے گھر اور نئیے ساتھی کبوتروں سے مانوس نہیں ہوجاتا جب وہ اسے اپنا گھر سمجھنے لگتا ہے تب اسے پرواز کے لئیے کبوتروں کی ڈار میں شامل کر دیتے ہیں۔
بعض اوقاف یہ کبوتر واپس پرانے مالک کے پاس چلا جاتا ہے یا پھر نئیے مالک کا وفادار بن جاتا ہے۔
“گردان کبوتر “
گردان کبوتر وہ کبوتر ہے جو اپنے گھر اور ٹھکانے کو اچھی طرح پہچانتا ہے یہ کہیں بھی چلا جائےیا غلطی سے کسی کی پکڑ میں  آجاٰئے خواہ چھ ماہ ہی کیوں نہ گزر چکے ہوں واپس اپنے گھر ضرور آتا ہے
چند ایسے کبوتر ہی اپنے مالک کا فخر ہوتے ہیں ۔
بعض اوقات ان گردان کبوتروں کو بطور جاسوس یا بطور چارے کے دشمنوں کی صفوں میں داخل کردیتے ہیں تب یہ کچھ دن مخالف ٹھکانے پہ گزارتا ہے وہاں کبوتروں سے دوستی گانٹھتا ہے اور مخالف کے دو چار کبوتروں کو درغلا کے بہلا پھسلا کے اپنے اصل مالک کے ٹھکانے پہ لے آتا ہے ۔
“مُدا لڑانا “
کبوتر بازی کے باقاعدہ مقابلے منعقد کئیے جاتے ہیں، جنوبی پنجاب میں مقامی زبان میں انہیں  “مُدا” لڑانا کہتے ہیں ۔
مہینہ دو مہینہ پہلے مدعے کااعلان کیا جاتا ہے مقابلے میں حصہ لینے والے کبوتر باز اپنے اپنے ڈربے لے کر وسیع و عریض میدان میں تھوڑے تھوڑے فاصلوں پہ ٹھکانہ بناتے ہیں۔
کبوتروں کو اپنے ٹھکانوں کا عادی کرنے کے لئیے  کچھ دن پہلے ہی اڑان پریکٹس شروع کر دی جاتی ہے اس دوران اگر کبوتر مخالف ٹھکانوں پہ چلا جائے تو غیر مشروط واپس کر دیا جاتا ہے۔
یہ مقابلے تین دن یا زیادہ تک جاری رہتے ہیں کبوتروں کے شوقین لوگ بطور تماشائی بھی بڑی تعداد میں موجودہ ہوتے ہیں۔
ان مقابلوں میں بعض اوقات کبوتر باز اپنا تقریباً پورا کبوترانہ اثاثہ بھی ہار آتے ہیں ۔۔
“چھوٹ مارنا”
کہتے ہیں کہ
“کبوتر باز کی نگاہ ہمیشہ آسمان پہ رہتی ہے”
یہ نگاہِ بلند اسے ٹھوکر کھانے کا مسبب بھی بنا دیتی ہے ۔
دراصل آسمان جانب یہ نظر کبوتر کی تلاش میں رہتی ہے جونہی اجنبی کبوتر نظر آتا ہے وہ اپنے گھر کی جانب دوڑتا ہے اور  ڈربہ کھول کے کبوتروں کو اجنبی کبوتر کے تعاقب میں چھوڑ دیتا ہے۔
 کبوتر فضا میں اجنبی کبوتر کو گھیرے میں لے کر اپنے مالک کی چھت پہ لے آتے ہیں اور پھر دوزخے کا کام شروع ہوتا ہے۔
اس دوران اجنبی کبوتر کے اصل مالک کو خبر ہوجائے تو وہ اپنے کبوتر  کو پرائی منڈیر سے واپس لانے کے لئے جتن کرتا ہے۔
وہ اپنے دو چار گردان کبوتر لے جا کر انہیں یکے بعد دیگرے اس دیوار منڈیر یا عمارت کی طرف پھینکتا ہے جہاں اسکا کبوتر دوزخے کی زد میں  آیا ہی چاہتا ہے۔۔
اس عمل کو کبوتر بازی بھاشا میں “چھوٹ مارنا” کہتے ہیں ۔
گردان کبوتر پھڑ پھڑاتے ہوئے اپنے ساتھی کبوتر کو خوابِ خرگوش سے بیدار کرتے ہیں کہ “مُورکھ یہ تمہارا ٹھکانہ نہیں جہاں تو بسیرا کئیے ہے” پھڑ پھڑا کے ایک آدھ پھیرا لگا کے ساتھی کبوتر کو متوجہ کرتے ہیں۔
بُھولا ہوا کبوتر اپنے پرانے ساتھیوں کو اپنے گرد پھڑپھڑاتے دیکھتا ہے تو انکے ساتھ اڑان بھر لیتا ہے۔
یوں وہ گردان کبوتر اپنے بُھولے بھٹکے ساتھی کو واپس اپنے دیرینہ ٹھکانے پہ لے آتے ہیں ۔۔۔
اگرچہ کبوتر بازی کلاسک شوق ہے جسے مشہور و معروف شعراء ادباء نے اپنایا مرزا غالب سے علامہ اقبال تک کبوتر ہمارے ادیبوں کی توجہ کے مرکز رہے ہیں ۔
کبوتر دراصل خوبصورتی نزاکت نفاست  نزاکت و محبت اور وفاداری سے معمور پرندہ ہے  اسی لئیے شعراء نے کبوتر کی گردن آنکھ کی سرخی، ڈورے سرچونچ کلغی پتلی کمر رنگت چھب ڈھب ادا اور نظر کو لطافت بخشتی نفاست کو محبوب کی تعریف کا استعارہ بھی بنایا ہے۔
مگر ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ کبوتر بازوں کی اپنی ہی الگ دلچسپ دنیا ہوتی ہے جو اسے گرد و پیش سے اجنبی و بے نیاز کردیتی ہے رنج و مصیبت خوشی و مسرت سے انجان کبوتروں میں مگن مصروف و مسرور رکھتی ہے۔
 کبوتر بازی کو بعض اوقات اچھی نظر سے نہیں دیکھاجاتا اور اسے “شوقِ آوارگی” میں شُمار کیا جاتا ہے اسے نسبتاً کمتر درجے کا کام سمجھا جاتا ہے کبوتر کی امن پسندی جسے کئی طبقے بزدلی سے تعبیر کرتے ہیں  اسلئیے کبوتر بازوں کی صحبت کو تن آسانی کم ہمتی کا سبب گردانا جاتا ہے۔
تبھی کہا جاتا ہے کہ
“کند ہم جنس باہم جنس پرواز کبوتر با کبوتر باز با باز”
(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: