پرویز ہود بھائی کے نام کھلا خط ——- اعجازالحق اعجاز

2

لاہور،

۱۲  اکتوبر، ۲۰۱۹

محترم جناب پرویز ہود بھائی!

السلام علیکم:۔امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کے حالیہ لیکچر جو آپ نے ”اقبال، فلسفہ اور سائنس“ کے عنوان سے حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کے تحت ایک قومی ادارے اکادمی ادبیات میں ارشاد فرمایا کے حوالے سے چند معروضات آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔

آپ نے جو ارشاد فرمایا اس کا لب ِ لباب یہ ہے کہ اقبال فلسفے کا بہت کم علم رکھتے تھے اور ان کا سائنسی علم نہ ہونے کے برابر تھا بلکہ آپ نے انھیں سائنس مخالف ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ہم بھی یہ نہیں کہتے کہ اقبال کوئی سائنس دان تھے۔ لیکن اگر آپ سائنس اور فلسفے کے وفادار ہیں تو آپ کو اقبال کو اس لحاظ سے تو سراہنا چاہیے کہ وہ اس وقت نیوٹن، آئن سٹائن، ہائزن برگ، میکس پلانک، وائٹ ہیڈ، اڈنگٹن اور دیگر بہت سے سائنس دانوں کو بہت حد تک درست طور پر سمجھتے ہوئے ان کے نظریات کو موضوع بحث بنا رہے تھے جب کہ ابھی یہ نظریات حال ہی میں منظر عام پہ آئے تھے۔ اقبال کو اس بات کی تو داد دیجیے کہ جب  ہمارے یہاں برصغیر میں سائنس گریجوایٹس کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پہ گنا جا سکتا تھا اقبال جدید اور عمیق سائنسی نظریات کی طرف ہماری سمت نمائی کررہے تھے۔ اقبال کا سائنسی علم جتنا بھی تھا اور جیسا بھی تھا اس لحاظ سے تو قابل ِ قدر اور یادگار ہے ہی کہ ان سے نہ پہلے سائنسی شعور کو شعرکی صورت میں ڈھالنے کا ایسا ملکہ کسی اردو اور فارسی شاعر کو حاصل تھا اور نہ آج تک ان سے بڑا کوئی ایسا شاعر منظرِ عام پہ آسکا ہے کہ جس کی شاعری میں اس قدر عمیق اور سیر حاصل انداز میں سائنسی نظریات و افکار کو موضوع بنایا گیا ہو۔

بات آپ سے الجھنے کی نہیں مگر اس پہلو سے بھی ہمدردانہ غور فرمائیے کہ اقبال سے بہتر شاعرانہ انداز سے کسی اوراردو اور فارسی شاعر نے ان ادق سائنسی نظریات کو موضوع نہیں بنایا۔ اقبال سے ان نظریات کو سمجھنے میں کہیں کوئی مغالطہ ہوا ہوگا مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ اقبال تو ایک طرف اُ س دور کے سائنس کے زیادہ تر طالب علم حتیٰ کہ سائنس دان بھی آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت، پلانک کا کوانٹم نظریہ اور ہائزن برگ کا اصول لاتیقن پوری طرح ان کی گہرائی میں جا کر سمجھنے سے قاصر تھے اور بیشترمغالطوں کے سمندر میں غوطے کھارہے تھے۔ اقبال تو پھر بھی ان نظریات کی روح کو کافی حد تک جان چکے تھے۔ورنہ اردو اور فارسی ادبیات کے کتنے لوگ جانتے تھے آئن سٹائن، ہائزن برگ اور میکس پلانک کو۔ نظریہ اضافیت، اصول لاتیقن اور کوانٹم نظریے کو کتنے لوگ سمجھتے تھے؟ کون سا دوسرا شاعر یہ کہہ رہا تھا کہ’تڑپتا ہے ہر ذرہ کائنات‘  اورکون یہ کہہ رہا تھا کہ ’لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں‘  اور اس حقیقت سے تو انکار نہ کیجیے کہ ادب کے بہت سے طالب علموں تک اقبال ہی کے ذریعے سے ہی ان نظریات کی شد بد پہنچ پائی۔وہ دور سمجھیے اور اس کا مزاج سمجھیے۔ اُس دور میں جب ہمارے بیشتر شعرا یا تو لب و رخسار کے تذکروں سے باہر نہیں نکلتے تھے یا پھر فرسودہ صوفیانہ موضوعات ہی کو دہراتے رہتے تھے اقبال اس لحاظ سے تازہ ہوا کا جھونکا تھے کہ سائنسدانوں اور سائنسی نظریات پہ بات کررہے تھے۔

آپ نے اگر اقبال کا فارسی کلام پڑھا ہے تو آپ نے ان کی آئن سٹائن پہ نظم بھی پڑھی ہوگی۔ کس قدر زبردست خراج تحسین پیش کررہا ہے اس نابغہ روزگار سائنس دان کویہ ہمارا نابغہ روزگار شاعر۔ کیااس دور کے کسی اور شاعر کے ہاں بھی آپ نے کسی سائنس دان کی ایسی تحسین و تعریف دیکھی ہے؟۔ اقبال تو ستاروں سے آگے جہانوں کی بات کرتا ہے، کائنات کے پھیلاؤ کی بات کرتا ہے، استقرائی استدلال کو استخراجی استدلال پہ بار بار ترجیح دیتا ہے۔ وہ تو یہاں تک کہہ جاتا ہے کہ ایک سائنس دان جو اپنی تجربہ گاہ میں سائنسی مشاہدے میں مصروف ہے دراصل  عبادت میں مصروف ایک صوفی ہے۔ اقبال تو یہاں سائنس اور عبادت کو ہم معنی قرار دینے کی جسارت کر جاتا ہے اور آپ فرما رہے ہیں کہ وہ سائنس کا مخالف ہے۔ کیا سائنس کا مخالف اسے عبادت قرار دے سکتا ہے؟ پھر وہ بابائے اردو کاواقعہ بھی شاید آپ کی نظر سے پنہاں ہے کہ جب وہ اقبال کے پاس اردو تحریک کی مدد کے لیے تشریف لائے تو اقبال نے ان سے کہا کہ سائنسی کتب کوزیادہ سے زیادہ اردو میں منتقل کیا جائے تاکہ ہمارے طالب علموں کی جو بھاری اکثریت انگریزی نہیں جانتی وہ بھی سائنسی علم تک رسائی حاصل کر سکے۔ کیا یہ سائنس کی مخالفت تھی یا کہ حمایت؟؟ڈاکٹر رضی الدین صدیقی کے نام سے کون واقف نہیں۔ ان کی ایک کتاب ہے ”اضافیت“ جو میری نظر میں اس موضوع پہ لکھی جانے والی سب سے بہتر اردو کتاب ہے۔ انھی کی ایک کتاب ”اقبال کا تصورِ زمان و مکاں“ اگر آپ نے مطالعہ فرمائی ہوتی تو شاید آپ ایسی باتیں نہ کرتے۔عالمی شہرت یافتہ سائنس دان ڈاکٹر سعید اختر درانی کی اقبال کے سائنسی شعور کے متعلق آرا بھی ضرور ملاحظہ فرمائیے۔ ڈاکٹر محمد سلیم کا نام اور کام بھی آپ سے پوشیدہ نہیں ہو گا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات کے پروفیسر ایمریطس تھے اور عالمی شہرت یافتہ قابل فخر پاکستانی سائنس دانوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کا ایک اعزاز یہ بھی تھا کہ انھیں ایک عالمی سائنسی جریدے ہیڈرن جرنل کا ایڈیٹر بنایا گیا۔انھوں نے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت پہ اور بہت سے دوسرے سائنسی موضوعات پہ گراں قدر تصانیف تحریر کی ہیں جو عالمی اشاعتی اداروں نے شائع کی ہیں۔آئیے دیکھیے وہ کیاکہتے ہیں:

”اُس دور میں کہ اچھے بھلے سائنس دان بھی نظریہ اضافیت کی اہمیت کو سمجھ نہیں پا رہے تھے، ریاضی کے باقاعدہ علم کے بغیر ایک فلسفی شاعر کا اتنی دوربینی سے اس نقطہ نظر سے زمان و مکاں کے موضوع پر اتنا عبور حاصل کرنا بڑی غیر معمولی بات ہے۔“

اور اب دیکھیے کہ بشیر احمد ڈار اقبال  کے متعلق کیا لکھتے ہیں:

“He thus accepts the value of scientific reason as a means of conquering the world of nature.”

محترم اقبال تو سائنس کی حمایت میں اتنا دور نکل جاتے ہیں کہ وہ یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ آدم کو جو پہلا علم الاسما سکھایا گیا وہ علم الاشیا یعنی سائنس کا علم ہی تھا۔ ان کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیے:

علم  اسما    اعتبار  آدم     است
حکمت  اشیا   حصار  آدم  است
علم    اشیا          علم الاسماستے
ہم     عصا  و  ہم    ید  بیضاستے

اقبال ایک دوسرے مقام پہ کہتے ہیں کہ اب انسان جو بھی ترقی کرے گا اسی سائنسی علم کی بدولت کرے گا،اتنی ترقی کہ ایک روز وہ فرشتوں سے بھی بلندتر درجہ حاصل کر لے گا۔ یہ اقبال کے علاوہ کون سا دوسرا شاعر کہہ رہا تھا۔ وہ تو جگہ جگہ سائنسی علم کے ذریعے کائنات کی تسخیر کا درس دیتے ہیں۔

تا  ز  تسخیر  قوائے  ایں  نظام
ذوفنونیہائے   تو  گردد    تمام

محترم ہم تو نہیں کہتے مگر مہند ر راج سکسینہ تو ایک لمبے چوڑے استدلال کے بعد یہاں تک کہہ جاتا ہے:

”چنانچہ اگر میں اقبال کو ایک بڑا سائنس دان کہوں تو غلط نہیں ایک روشن حقیقت ہے۔“

ایک اور بات کہ اقبال کو سائنسی کتب پڑھنے کا بہت شوق تھا۔جو کتب یہاں دستیاب نہ ہوتیں بیرون ملک سے منگو ا کر پڑھتے تھے۔ خود بھی جب وہ برطانیہ تھے تو بہت سی کتب اپنے ساتھ لائے تھے۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں بہت سی جدید سائنسی نظریات پہ مبنی کتب موجود تھیں۔ ان میں سے تیس کا تو ذکر میں نے اپنی کتاب ”اقبال اور سائنسی تصورات“ میں کیا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ایک ملاقات میں یہ کتاب آپ کی خدمت میں پیش کی تھی اور آپ نے یہ کہا تھا کہ آپ یہ کتاب ضرور پڑھیں گے۔ مگر اس لیکچر کے بعد یہ لگتا ہے کہ آپ نے اس کتاب کے مطالعے کی زحمت گوارا ہی نہیں کی۔تو یہ سائنسی کتب اقبال نے رکھ نہیں چھوڑی تھیں بلکہ گاہے گاہے وہ ان کو پڑھتے رہتے تھے۔ اور جگہ جگہ سے نوٹس بھی لیتے تھے جن میں سے کچھ کے حوالے بھی ان کی تحریروں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کتب میں سے ان کی طرف سے قلم زد کیے گئے اہم اقتباسات میں نے خود بھی ملاحظہ کیے ہیں۔

ایک اور بات کہ اقبال کا سائنسی شعور تواس قدر پختہ تھا کہ وہ انیسویں صدی سے بیسویں صدی میں جو پیراڈائم شفٹ ہو رہاتھا اسے بہت گہرائی میں جا کر سمجھ رہے تھے۔ وہ جدید طبیعیات کی پیراڈائم کو جس انداز سے خوش آمدید کہتے ہیں یقینی طور پہ قابل ِ تحسین ہے۔چناں چہ وہ کہیں بھی سائنس مخالف رویہ نہیں اپناتے۔ اس حوالے سے میرا ایک مضمون بھی ملاحظہ فرمائیے جو روزنامہ دی نیشن میں

Is Iqbal against Science and Reason?

شائع ہوا تھا۔

آپ نے اقبال کے فلسفے اور ان کی پی ایچ ڈی کے موضوع کے غیر فلسفیانہ ہونے کی بات کی ہے تو ہم ان مباحث کو اس خط میں چھیڑنے سے گریز ہی کرتے ہیں کچھ طوالت کے خوف سے اور کچھ اس بات کے پیش نظر کہ یہ آپ کا شعبہ نہیں۔ آپ کا جو شعبہ تھا اس کے متعلق آپ کی رائے کا ہم نے جواب دے دیا۔

اور آخر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ محترم آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ شعرا کے قبیلے کا صرف ایک یہی واحد بڑاشاعر آپ کے سائنس دانوں کے قبیلے کا زیادہ ہم نوا ہے۔ آپ کا زیادہ ذہنی و قلبی ربط تو اسی شاعر سے ہونا چاہیے کہ چلیں جیسے تیسے ہی سہی سائنس کی بات تو کرتا ہے۔ یہ عجیب و غریب مخمصہ اور نفسیاتی مسئلہ ہے کہ آپ سب شعرا کو چھوڑ کر اسی شاعر کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں جس کے آپ کو زیادہ قریب ہونا چاہیے۔یعنی جس سے آپ کوکشش ہونی چاہیے اسی سے گریز کر رہے ہیں۔جو آپ کا محبوب ہونا چاہیے اسی کو معتوب ٹھہرا رہے ہیں۔ شاید اس لیے:

کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں

اسی لیے بعض جدت پسندوں کی طرف سے اسے معاف نہیں کیا جارہا حالانکہ وہ حقیقی طور پر ان سے بڑھ کر جدت پسند اور اپنے وقت سے بہت آگے کا شاعر ہے۔ پچھلی صدی تو تھی ہی اس کی ابھی کئی صدیاں اس کے ساتھ ہی جانی ہیں۔

آداب

مخلص 

اعجازالحق اعجاز

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. گو ہود بھائی کی سطح پر ا تر کر مہذب اور مد لل ہونا انتہائی صبر آزما ہے…مگر اعجاز صاحب. نے بڑی زحمت کی…گو ہود بھائی اس توجہ کے مستحق نہیں…امید ہے اعجاز صاحب آئندہ کسی اور جگہ محنت فرمائیں گے.

  2. بہت خوب اعجاز صاحب میں تو حیران ہوں کہ پرویز صاحب اقبال کے ریاضیاتی تسلسل کے تصور contuinity کا اطلاق زینو پیراڈاکس کے تناظر میں بطور infinite series حرکت کی وضاحت سمجھنے قاصر رہے

Leave A Reply

%d bloggers like this: