دانشِ عصر: احمد جاوید — (اردو ناول – کلاسیکی و جدید روایت) گفتگو: خرم سہیل- حصہ 1

0

گذشتہ دنوں ہمارے عہد کے ممتاز ترین دانشور، شاعر، صوفی اور ’دانش۔پی۔کے‘ کے سرپرست اعلی جناب احمد جاوید صاحب سے، خرم سہیل نے دانش کے لئے خصوصی گفتگو کی۔ یہ مکالمہ پانچ حصوں میں شایع کیا جارہا ہے۔ اس طویل مصاحبہ میں جاوید صاحب نے بہت سے موضوعات پہ پہلی بار گفتگو کی۔ جن میں اردو ناول، فکشن، منٹو کا فن، فلم، ڈرامہ، سینما، میڈیا کا سراب، گلوبلائزیشن، سماجیات کے بدلتے پہلووں سے لے کر نظام تعلیم، دائیں بائیں کی تقسیم اور عوام، اقبال احمد، سلیم احمد، شاعری، میر اور غالب تک شامل ہیں۔


سوال: عہدِ حاضر میں ہونے والی ناول نگاری کے تناظر میں بتائیے کہ آپ نے کن ناولوں کا مطالعہ کیا اور ان میں سے کون سے پسند بھی آئے؟

جواب: اگر آپ اردو میں لکھے گئے ناولوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو میرا اندازہ ہے کہ جن ناولوں کو کسی بھی حلقے نے، لائقِ اعتبار نقادوں میں سے کسی نے اہم ناول قرار دیا ہے، میں نے شاید ان میں سے اکثر پڑھ رکھے ہیں۔ ویسے جو ناول آخر میں پڑھا ہے، وہ مرزا اطہر بیگ صاحب کا “غلام باغ” ہے۔ یہ کئی برس پہلے چھپا تھا لیکن میرے مطالعے میں چند ماہ پہلے ہی آیا ہے۔ یہ یقیناً اہم ناول ہے، theme بھی اچھا ہے تاہم اس میں دو کمزوریاں ہیں۔ پہلی تو یہ کہ thematic structuring اتنی اچھی نہیں ہے، اور دوسری کمزوری یہ کہ نثر خاصی کمزور ہے۔ خیر، یہ تو اب تک کا پڑھا ہوا آخری ناول تھا، اگر آپ اجازت دیں تو میں اردو ناول کی پوری روایت کے حوالے سے اپنے تاثرات عرض کروں۔ یہ روایت اتنی مختصر سی ہے کہ اسے عہد ِ حاضر ہی میں سمجھیں۔ کئی ناول دیکھے جو ایک یا ایک سے زائد وجوہات سے اچھے لگے، اہم محسوس ہوئے۔ جیسے مشہور اور مقبولِ عام ناولوں کے علاوہ فاروق خالد کا “سیاہ آئینے”، انور سن رائے کا “چیخ” وغیرہ۔ مجھے نہیں معلوم کہ ڈپٹی نذیر احمد کا “ابن الوقت” اور پنڈت رتن ناتھ سرشار کا “فسانۂ آزاد” آج بھی مقبول ہے یا نہیں۔ اس لیے ان کا نام لے کر کہہ رہا ہوں کہ یہ بہت زبردست چیزیں ہیں خصوصاً “فسانۂ آزاد” کا تو ہماری روایت میں جواب ہی نہیں لایا جا سکتا۔ سرشار جیسا زرخیز تخیل اور زبان پر ان کی طرح کی قدرت اور ان کا سا اسلوب شاید اردو میں کہیں نہ ملے۔ ڈپٹی صاحب بھی ظاہر ہے کہ زبان اور اسلوب میں امامت کا درجہ رکھتے ہیں۔ لیکن بے نظیر زباں دانی کے باوجود ان کا اسلوب کسی پیچیدہ تخیل اور تجربے کو بیان نہیں کر سکتا۔ کسی تجربے کی واقعیت کو تو ڈپٹی صاحب ایسے بیان کرتے ہیں کہ شاید ہی کوئی کر سکے، لیکن اس تجربے کو ذرا پیچیدگی کے ساتھ اور ذرا گہرائی میں جا کر تشکیل دینے والے عناصر اول تو ان کے پیش ِ نظر نہیں ہوتے اور اگر کہیں تجربے کی واقعیتی ساخت کے باوجود اُس میں قدرے پیچیدگی وغیرہ کا پہلو پیدا بھی ہوتا ہے تو ڈپٹی صاحب کے مجلسی اور مدرّسی اسلوب کی وجہ سے وہ خود بخود پیدا ہونے والا پہلو دب جاتا ہے۔ شاید اُس زمانے کے آدمی کا مزاج ہی ایسا تھا کہ چیزوں کے ساتھ تعلق کے زاویے طے شدہ تھے اور انفرادی طرز ِ احساس وغیرہ کی اُسے ضرورت محسوس نہ ہوتی تھی۔ لیکن کچھ بھی ہو، ڈپٹی نذیر احمد کا “ابن الوقت” اردو ناول کے بڑے کرداروں میں سے ہے۔ اور ویسے بھی ڈپٹی صاحب کی کردا ر نگاری خاصے کی چیز ہے۔

احمد جاوید اور خرم سہیل

معاشرتی طبقہ بندی میں صور ت پکڑنے والی نفسیات اپنے گنے چنے مظاہر ہی رکھتی ہے۔ طبقوں میں راضی خوشی تقسیم سماج کے افراد میں نفسیاتی گنجلک بھی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہےاور تنوع بھی کم ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے یہاں شخصیت اور کردار کی بس کچھ ہی قسمیں ہوتی ہیں جن میں فرق کی بنیاد یا تو مذہبی اور اخلاقی ہوتی ہے یا نسلی اور معاشی وغیرہ۔ طبقاتی امتیاز کے داخلی اسباب اور تاریخی محرکات کی حیثیت اُن معاشروں میں بالکل ضمنی اور ثانوی اور unnoticed ہوتی ہے۔ تو یہ ایک طرح سے ڈپٹی نذیر احمد کی مجبوری بھی تھی۔ وہ اپنے کرداروں میں اور ان کرداروں کے ماحو ل میں نفسیاتی اور تاریخی کشاکش کو دیکھ ہی نہ سکتے تھے تو بیان کہاں سے کرتے۔ لیکن بھائی یہ سب کہہ تو دیا لیکن ڈپٹی نذیر احمد کی نثر اتنی مضبوط ہے کہ content کی کمزوری بھی اُسے متاثر نہیں کر سکتی۔ باقی اُن کی مقصدیت اور اصلاح پسندی پر بھی بات کرنی چاہیے مگراس کا یہ موقع نہیں، پھر کبھی سہی۔ ڈپٹی صاحب پر باتیں کرتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی یاد آرہے تھے، ان باتوں کے anti-thesis کے طور پر۔ ان کا ناول “کئی چاند تھے سر ِ آسماں” اپنی تہذیب کے ایک طرح سے سیکولر در و بست اور جمالیاتی اصول و مظاہر کا اچھا بیان ہے۔ مجھے اس کے بارے میں بھی نہیں پتا کہ یہ مقبول ہے کہ نہیں۔یہ بہت منفرد اور اہم ناول ہےجس میں ایک محدود ماحول میں تاریخ اور تہذیب کے تصادم کا ایک خاص گوشہ اور ٹکڑا کسی قدر کمزور تخیل کے باوجودعمدگی سے بیان ہوا ہے۔ مگر تخیل کمزور ہے، اس لیے منظر نگاری بھی کمزور ہے۔ زبان درست تو بہت ہے لیکن اس میں تخلیقی پن کم ہے۔ تخلیقی پن سے میری مراد شاعرانہ پن یا اسلوب کی رنگینی اور سج دھج نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ روزمرہ درجے کی صحت اور accuracy کا اہتمام اتنا زیادہ ہوگیا ہےکہ اکثر جگہ پر لفظ محض مفہوم بن کر رہ گیا ہےاور ذرا گہرائی کے ساتھ محسوس نہیں ہوپاتا۔ یوں ہی ایک گمان سا ہے، یا خواہش کہہ لیجیے کہ یہ ناول اگر انتظار حسین یا نیر مسعود لکھتے تو اس میں یہ کمزوریاں بھی نہ رہتیں اور کچھ خوبیوں کا اضافہ بھی ہوجاتا۔

ہاں اگر اجازت ہو تو خرم صاحب جو آپ نے نہیں پوچھا یا آگے چل کر پوچھیں گے، اس پر بھی کچھ ٹوٹی پھوٹی باتیں کر دوں۔ کسی تہذیب، روایت، تاریخ یا ذرا نیچے اتر کر کسی سماج کے اقدار اور مظاہر، mechanics اور اُس تہذیب کے microcosm کو گویا تجربے اور مشاہدے کی حد تک سمجھنے جاننے کے لیے شاعری اور فکشن کا مطالعہ ضروری ہے۔ خاص طور پر Epics، ڈرامے اور ناول کا۔ انھیں نہ پڑھنے کا نقصان ایسا ہے جس کی تلافی سماجی علوم میں مہارت پیدا کر کے بھی نہیں ہوسکتی۔ آپ افلاطون کو گھول کر پی جائیں تو بھی یونانی تہذیب کو اس وقت تک نہیں سمجھ سکتے جب تک ہومر کو نہ پڑھیں، سوفوکلیس وغیرہ کو نہ پڑھیں، ان کے qualified reader نہ بنیں۔ ناول ذہن اور احساس کی جن سطحوں پرزندگی کا تعارف کرواتا ہے اور تاریخ کی چھپی ہوئی واقعی یا غیر واقعی پرتوں کو کھولتا ہے اور تجربے پر عائد بندشوں کو ڈھیلا کر کے تجربے میں توسیع کے ان امکانات کو ابھارتا ہے جو عالم فاضل دماغ کےلیے غیر مانوس ہوتے ہیں۔ تاریخ اور ایک طرح سے realistic تخیل میں پیوندکاری کا عمل کرتا ہے ایک ناولسٹ۔ لیکن ظاہر ہے کہ ناول نگاری کی ایک خاص روایت میں کام کرنے والا ناولسٹ۔ اسی طرح تہذیب جو انسان اور تاریخ كے درمیان تعلق كے نتائج كا مجموعہ ہوتی ہے، ناول كا ایك فطری مضمون ہے۔ میرا مطلب یہ ہے كہ ناول كا بطورِ ہیئت تجزیہ كیا جائے تو صاف دكھائی دیتا ہے كہ یہ صنف تہذیبی اظہار سے بہت مناسبت ركھتی ہے۔ ناول نویسی كو تہذیب نگاری كاعنوان دینا بھی غلط نہ ہو گا۔ جیسے ان لوگوں كی بات درست معلوم ہوتی ہے جو یہ كہتے ہیں كہ ناول پڑھے بغیر تہذیب كو نہیں سمجھا جا سكتا۔ لیكن پھر بھی مشكل یہ ہے كہ ادب پڑھنے والا، شاعری پڑھنے والا، ناول پڑھنے والا تہذیب شناسی وغیرہ كا مقصد لے كر كتاب نہیں كھولتا۔ اس كے لیے یہ بات زیادہ متاثر كن نہیں ہے كہ ڈكنز كو پڑھے بغیر انگریزی معاشرت كو نہیں سمجھا جا سكتا یا استاں دال كو نہ پڑھا جائے تو اس زمانے كی فرنچ سوسائٹی كا پورا علم حاصل نہیں ہو سكتا۔ ظاہر ہے وہ ادبیات كا قاری ہے، كوئی ریسرچر تھوڑا ہی ہے۔

ادب كا مطالعہ، محمد حسین آزاد كی اصطلاح میں، آہ یا واہ پر تمام ہو جاتا ہے۔ ہاں، اس آہ یا واہ كے اسباب و محركات ہر متن میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہاں نقاد داخل ہوتا ہے جو ان اسباب و محركات كی تشخیص كرتا ہے اور ان كی درجہ بندی كرتا ہے۔ تنقید گویا ایك متوازی عمل ہے جو تخلیقی روایت كو ایك بالاتر مجموعی روایت سے ہم آہنگ ركھتا ہے۔ یعنی تخلیقی تخیل كو اسی شعور كا فعل بنا كر دكھاناجس سے نظریات وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ آج كل لٹریری تھیوری كا جو چلن دكھائی دیتا ہے، اس كے پیچھے یہی اصول كار فرما ہے۔ تخلیقی عمل ہو یا تحقیقی عمل، دونوں كی لگام ایك ہی ہاتھ میں ہے۔ اس پہلو سے دیكھا جائے تو شاید یہ بات كم از كم پہلی نظر میں غلط نہ لگے كہ ناول میں تخلیق اور تحقیق كا ہم اصل ہونا زیادہ وضاحت سے ظاہر ہے۔ اسی لیے جن ناولوں كو كم و بیش اتفاقِ رائے كے ساتھ بڑا مانا جاتا ہے وہ كوئی نہ كوئی ورلڈ ویو ركھتے ہیں۔ یہ ورلڈ ویو تخلیقی اور جمالیاتی مقاصد تك پہنچنے كے مختلف مراحل میں اپنی تصدیقی اور اطلاقی ضرورتیں بھی پوری كرتا ہے اور مفہوم بننے كی شرطیں نبھاتےہوئے فہم كی بعض معمول كی عادتوں سے آزادی پیدا كر كے اس ورلڈ ویو كی ایسی عملی اور داخلی اسٹركچرنگ كرتا ہے جہاں چیزیں ایك نئی معنویت كی حامل بن جاتی ہیں۔ اگر اپنی سہولت كے لیے حقیقت كا لفظ استعمال كرنے كی اجازت ہو تو میرے مطالعے كی حد تك كوئی بڑا یا اہم ناول ایسا نہیں ہے جس نے مسلمہ حقیقت، مثلاً حقیقتِ وجود تك رسائی كے نئے راستے اور اسے دیكھنے كے نئے زاویے اور اسے سمجھنے جاننے كے نئے احوال وغیرہ نہ فراہم كیے ہوں۔ اردو میں بھی جو چند ناول كوئی ورلڈ ویو ركھتے ہیں اور اس كا ایك تخلیقی بیان بھی ركھتے ہیں، وہی بڑے ناول یا اہم ناول، جو بھی كہہ لیں، مانے گئے ہیں۔ مثلاً آگ كا دریا، اداس نسلیں، علی پور كا ایلی، گردشِ رنگِ چمن وغیرہ وغیرہ۔ اسی لیے ناول كے بارے میں یہ كہتے ہوئے ہچكچاہٹ محسوس نہیں ہوتی كہ انسان، تہذیب، تاریخ، زبان وغیرہ كی ایسی معرفت جس كے لیے ذہن چھوٹا ظرف ہے، ناول سے حاصل ہو جاتی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے كہ علم اگر غلط ثابت ہو جائے تو ذہن اور چیزوں كے تعلق میں اس غلط علم كا جو كردار ہوتا ہے، وہ بالكل ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ كیونكہ ہم ناول كی بات كر رہے ہیں اس لیے كہہ رہے ہیں كہ ایك ناول نگار ذہن اور شے كے تعلق كے متروكات كو بھی استعمال میں لے آتا ہے اور اس طرح چیزوں كے ساتھ تعلق كی وہ سطحیں بھی بیدار رہتی ہیں جنھیں عام طور سے علم كا موضوع نہیں بنایا جاتا اور اگر كہیں بنایا بھی جاتا ہے تو ذہن اس میں اتنی ملاوٹ كر دیتا ہے كہ انہیں اعتماد كے ساتھ محسوس كرنا ممكن نہیں رہ جاتا۔ اسی پہلو سے ہم ناول كو ایسا متن كہہ سكتے ہیں جو تاریخ كے مختلف متون میں مركزیت كے ساتھ اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ جیسے ایزرا پاؤنڈ نے ٹی ایس ایلیٹ كی ویسٹ لینڈ كو ایڈٹ كر كے بیسویں صدی كی سب سے بڑی نظم بنا دكھایا، ایسی ہی ایڈیٹنگ ناول نگار تاریخ كے ویسٹ لینڈ كی كرتا ہے یا كر سكتا ہے۔ تو خیر، یہ بات یقینی ہے كہ اگر كسی تہذیب میں ناول نگاری كی روایت مضبوط ہو اور مسلسل حالت میں ہو، تو اس تہذیب كو اس میں لكھے گئے ناولوں كی مدد سے جتنا سمجھا جاسكتا ہے، اتنا كسی اور علمی ذریعے سے نہیں سمجھا جا سكتا۔ عقائد، بنیادی تصورات، زبان، معیشت، معاشرت، رسم و رواج، طبقاتی نفسیات وغیرہ كا جیسا مشاہدہ بلكہ تجربہ ناول پڑھ كے ہو سكتا ہے وہ كسی اور ڈسپلن میں لكھی گئی كتاب پڑھ كے ممكن نہیں ہے۔ لیكن بھائی، ظاہر ہے كہ تمام ناول ایك سے نہیں ہو سكتے، یعنی بہت سے ناول ہوں گے جن میں تہذیب تاریخ وغیرہ كا كوئی تكلف نہیں پالا گیا ہوگا۔

تو اب تك جو عرض كیا ہے اس كی بے لچك تعمیم نہ كی جائے تو بہتر ہو گا۔ تاہم ایك چیز ایسی ہے جس كے بغیر ناول، ناول نہیں كہلا سكتا چاہے وہ كسی بھی روایت میں لكھا گیا ہو۔ اور وہ ہے كردار اور زبان! نفس اور لفظ كی باریكیاں دسترس میں نہ ہوں تو آدمی ڈائجسٹوں كے لیے كوئی سیریز تو لكھ سكتا ہے مگر ناول اور فكشن نہیں۔ ایك اچھا ناول نگار آدمی كے ہر ٹائپ كو اعلی درجے كی نفسیاتی بصیرت كا موضوع بننے كے لائق بنا دیتا ہے، اور اسی طرح بولی جانے والی زبان كے اكہرے پن اور یكسانی كو اس حد تك ختم كر دیتا ہے كہ وہ خیالات اور احساسات بھی آمادۂ اظہار ہو جاتے ہیں جو زبان كی روزمرہ تنگی اور گراوٹ سے اكتا كر، مایوس ہو كر چپ سادھ چكے تھے۔ ناول شاعری كے مقابلے میں بھی زبان كی عمومی طاقت میں زیادہ اضافہ كرتا ہے اور اس میں پھیلنے كی حركت پیدا كرتا ہے، جیسا كہ شاعری اس میں بلندی كے امكانات كو بروے كار لاتی رہتی ہے۔ ویسے ہی ایك بات آگئی ہے، كہہ دینے میں شاید كوئی حرج نہ ہو۔ وہ بات یہ ہے كہ شاعرانہ زبان چیزوں كے ساتھ تعلق كی بعض علمی ضرورتیں اور نفسیاتی حاجتیں پوری نہیں كرتی لیكن ناول، یا یوں كہہ لیں كہ فكشن زبان كو ذہن سے زیادہ زندگی سے جوڑتا ہے جس كی وجہ سے ناول كی زبان میں ایك متحرك پھیلاؤ ہوتا ہے جو شاعری كی بعض اصناف میں ہے مگر اس میں آرائشی پہلو اتنا غالب ہوتا ہے كہ وہ پھیلاؤ زندگی كے جیتے جاگتے مظاہر كے ساتھ علاقہ نہیں پیدا كر پاتا۔ لیكن بہرحال یہ كوئی موازنہ نہیں ہو رہا، شاعری كا اپنا ایك نظامِ ادراک و اظہار ہے اور ناول كا اپنا۔ شاعر ناولسٹ بن جائے تو شاعری خراب ہو جائے گی اور ناول نگار شاعر بننے كی كوشش كرے تو ناول غارت ہو جائے گا۔ كہنا یہ چاہ رہا ہوں كہ ناول زبان كی تفصیل كو تعمیرِ نو كے عمل میں ركھتا ہے جبكہ شاعری اجمال اور اصول كو بھی تازہ اور پرمعانی ركھتی ہے۔ مجھے تو یہی محسوس ہوتا ہے كہ شاعری میں معانی جیسے علامت كے اجزا ہیں۔ اس وجہ سے ہر معنی خود سے بلند ہوتا رہتا ہے اور قاری كو اس عروجِ مسلسل كا خیال اور احساس وغیرہ كے حوالے سے ساتھ دینا پڑتا ہے۔ دوسری طرف ناول میں الفاظ جیسے كسی واقعے كے كردار ہیں، ایسے كردار جنھیں اسكرپٹ سے تجاوز كرتے رہنے كی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔ آپ خود تجربہ كر كے دیكھ لیں، دوستووسكی كا كوئی ناول كھول لیں یا كافكا كی كوئی كتاب لے لیں یا كسی اور كی۔۔۔ میرا خیال ہے كہ آپ یقیناً محسوس كریں گے كہ بظاہر سادہ سے احساسات در حقیقت بہت پیچ در پىچ ہیں۔ كم از كم دوستووسكی كو پڑھتے وقت مجھے تو ہمیشہ ایسا ہی لگتا ہےكہ احساسات اور ان كے محسوسات كی جبری نسبت ٹوٹ گئی ہے۔ احساسات میں قلبِ ماہیت سے ملتا جلتا یہ عمل شاعری پڑھتے وقت شاید كبھی محسوس نہ ہو۔

ایك ذاتی سی بات عرض كرتا ہوں۔ ہم لوگوں كی زندگی ایسی ہو گئی ہے كہ ذہن و دل كا بہت ہی چھوٹا سا حصہ بیدار رہتا ہے۔ مطلب، ذہن كی تزئین كرنے والے تخیل كا كوئی مصرف ہی نہیں رہ گیا ہے، چیزوں اور لوگوں سے تعلق كا ایسا ڈھب بن چكا ہے كہ دل كو اپنے نسبتاً گہرے پیشنز كو سلائے ركھنا پڑتا ہے۔ سب خیالات و احساسات دیہاڑی دار مزدوروں كی طرح ہو كر رہ گئے ہیں، كام مل جاتا ہے تو روكھی سوكھی كھا لیتے ہیں اور نہیں ملتا تو اسی روكھی سوكھی كے تصور میں سو جاتے ہیں۔ قلب و ذہن كا یہ افلاس جب بہت تنگ كرنے لگتا ہے تو میں عموماً رومی كے دیوان اور دوستووسكی، كافكا اور سیموئل بیكٹ سے مدد لیتا ہوں۔ یہ چاروں ہمیشہ بیہوشی، بے حسی اور پست ہمتی كا كوئی نہ كوئی توڑ ضرور فراہم كر دیتے ہیں۔ آپ تو سمجھتے ہی ہیں كہ آج كل بار بار دیكھنا پڑتا ہے کہ ہم آدمی رہ بھی گئے ہیں یا نہیں؟ آدمیت كی تجدید ہی میرے خیال میں اصل كام ہے جس میں شاعری اور فكشن سے بہت مدد ملتی ہے۔ احساس، جذبے اور تخیل پر لگا ہوا زنگ نظریات وغیرہ كی كھرپی سے صاف نہیں ہو سكتا، اس كے لیے وہ ذوقِ حیات چاہیے، وہ جذبۂ وجود چاہیے جو آدمی كو ہونے كی مستی سے چھكا ہوا ركھتی ہے۔ خالص، كھری اور پور پور میں سرایت كیے ہوئے دھار دار مستی سے! كم از كم ہمارے یہاں زندگی جسے جدید زندگی كہہ كر فخر كیا جاتا ہے، كلوروفارم بن كر رہ گئی ہے۔ وجود كا نظام چلانے والے تمام احوال اور ذہن كا گھر روشن ركھنے والے تمام آدرش سن ہو كر رہ گئے ہیں۔

كوئی بڑی تباہی آتی ہے تو بڑے درخت اور بڑے جانور وغیرہ فنا ہو جاتے ہیں، بس چھوٹی چھوٹی زہریلی جھاڑیاں اور حشرات الارض ہی بچ جاتے ہیں، ہمارا یہ حال ہے۔ چھوٹے چھوٹے احساسات، معمولی معمولی خیالات اور سانپوں كی پھنكار جیسے جذبات ہی اب ہماری كل پونجی ہے۔ تو بھائی كہاں كا احساساتی تنوع اور تخیل كی رنگا رنگی! سب كو دیمک لگ چكی ہے۔ كبھی كبھی خواہش ہوتی ہے ہرا بھرا ہونے كی، تو پھر دیوانِ شمس، وار اینڈ پیس وغیرہ كھول لیتا ہوں مگر مصیبت یہ ہے كہ كھولی جانے والی كتاب بند بھی كرنی پڑتی ہے۔

سوال: پاكستانی ادب میں آپ كا كوئی پسندیدہ ناول نگار جس سے متاثر ہوئے ہوں، یا جس كو آپ بڑا ادیب سمجھتے ہوں؟

بڑے كی شرط نہ لگائی جائے تو كئی ناول نگار ہیں جو مجھے بہت پسند ہیں۔ جیسے عبداللہ حسین، فاروق خالد، ممتاز مفتی، انتظار حسین، جمیلہ ہاشمی اور محمد خالد اختر جن كا ”چاكیواڑا میں وصال” بڑی زبردست اور منفرد چیز ہے۔ آج كل كے ناول نگاروں میں مرزا اطہر بیگ ہیں، انور سن رائے ہیں، ظفر سید ہیں، اور بھی دو تین نام ہیں جو ابھی یاد نہیں آرہے۔ یہاں میں ایك نام اور لوں گا مگر تحسین كے بجائے شكات لیے: محمد سلیم الرحمن جو عہدِ حاضر كے سب سے بڑے نظم گو تو ہیں ہی، سب بڑے ناولسٹ بھی ہوتے لیكن ان كی بے توجہی نے اردو فكشن كا بڑا نقصان كر دیا۔ اور ہاں، عزیز احمد کا نام لینا تو بھول ہی گیا۔ انھوں نے بھی اردو کو چند اچھے ناول دیے ہیں۔۔۔۔۔۔ “گریز، شبنم، ایسی پستی ایسی بلندی”۔ ان کےدو ناولٹ بھی کمال کے ہیں، “خدنگ ِ جستہ” اور “جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں”۔ واہ۔

ہم لوگوں كی زندگی ایسی ہو گئی ہے كہ ذہن و دل كا بہت ہی چھوٹا سا حصہ بیدار رہتا ہے۔ مطلب، ذہن كی تزئین كرنے والے تخیل كا كوئی مصرف ہی نہیں رہ گیا ہے، چیزوں اور لوگوں سے تعلق كا ایسا ڈھب بن چكا ہے كہ دل كو اپنے نسبتاً گہرے پیشنز كو سلائے ركھنا پڑتا ہے۔ سب خیالات و احساسات دیہاڑی دار مزدوروں كی طرح ہو كر رہ گئے ہیں، كام مل جاتا ہے تو روكھی سوكھی كھا لیتے ہیں اور نہیں ملتا تو اسی روكھی سوكھی كے تصور میں سو جاتے ہیں۔

سوال: آپ کی نظر سے فہمیدہ ریاض کا ناول “قلعہ خاموشی” گزرا؟ آپ جو گفتگو اور اصول بتا رہے ہیں، وہ اسی کے عین مطابق لکھا ہوا ہے۔

جواب: میں نے نہیں دیکھا۔ اور یہ اعترافِ جرم ہے، اظہارِ بے نیاز ی نہیں۔ فہمیدہ ریاض نظم و نثر دونوں میں اچھی تھیں۔ ان کا یہ ناول ان شاء اللہ پہلی ہی فرصت میں دیکھوں گا۔

سوال: اردو میں بڑا ناول آپ کسے سمجھتے ہیں؟

جواب: بدتمیزی یا اشتعال انگیزی نہ سمجھا جائےتو مجھے، یقینا میری ہی بدذوقی ہوگی، کوئی اردو ناول اس بڑائی کا حامل نظر نہیں آتا جو مثال کے طور پر دوستووسکی، کافکا، پروست، جوائس وغیرہ کے ہاں پوری قطعیت سے پائی جاتی ہے۔ دو چار ناولوں میں بڑائی کی سکت تو البتہ محسوس ہوتی ہے مگر بعض تہذیبی، نفسیاتی، لسانیاتی اسباب سے وہ سکت گھٹ کر رہ گئی۔ جیسے “آگ کا دریا” ہے یا “غلام باغ” ہے۔ ان دونوں ناولوں کو بڑے ناول بنانے کا موقع کسی نہ کسی بہت بنیادی کمزوری کی وجہ سے مِس کر دیا گیا۔ “دشت ِ سوس” کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ حلاج کا جہنم گویا انگیٹھی میں جھونک دیا گیا۔ حلاج کو بہت آسانی سے ناول کی روایت کے سب سے زندہ اور مکمل کرداروں کی صف میں لایا جا سکتا تھا لیکن بہر صورت یہ کام عقیدت مند جذباتی تذکرہ نویس بن کر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ تو وہی کر سکتا تھا جو ققنس اور سمندر بن سکتا ہو۔ بھائی، یہ کراچی والا پس ماندہ اور آلودہ سمندر نہیں بلکہ آگ میں زندگی کرنے والا وجود ہے جسے بے درد لوگ اپنی جھینپ مٹانے کے لیے کیڑا کہہ دیتے ہیں۔ عرفی کا مشہور شعر ہے، آپ کو بھی یاد ہوگا:
ھم سمندر باش و ھم ماھی کہ در جیحون ِ عشق
قعر ِ دریا سلسبیل و روے دریا آتش است

قرۃ العین حیدر کی نثر اچھی ہے، مطالعہ بھی وسیع لگتا ہے، تاریخ اور اس کے جبر کا شعور بھی ہے لیکن ان کے ہاں تکلف بہت ہے، آرائش بہت ہے، اس لیے واقعہ بھی نک سک سے درست اور سوچا ہوا سا لگتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ وہ تصویر اچھی بنا لیتی ہیں، خیال کو صفائی کے ساتھ اور سجا بنا کر پیش کر دیتی ہیں مگر یہ سب خوبیاں اکثر جگہوں پر کاغذ کے پھولوں کی طرح ہیں، ان میں وہ زندگی، تپش اور vitality خاصی کم ہےجو تخیل اور تجربے کی دوئی کو ختم کر دیتی ہے۔

سوال: مستنصر حسین تارڑ کے ناولوں کو کس طرح دیکھتے ہیں، بالخصوص اُن کا ناول “بہاؤ” جو اسلوب اور بیانیے کے حوالے سے اپنی خاص شہرت رکھتا ہے؟

جواب: ارے جناب میری کیا رائے وائے، البتہ آپ نے کچھ بھولے ہوئے دن یاد دلا دیے، مبارک دن۔ تارڑ صاحب اور میں نے سعودی عرب کا ایک سفر ساتھ کیا تھا۔ کچھ دن ریاض میں گزارے پھر مدینے چلے گئے۔ میں الگ ہوٹل میں ٹھہرا اور وہ اپنی بیگم کے ساتھ دوسرے ہوٹل میں۔ وہاں اچانک میری کمر میں شدید تکلیف ہوئی جس نے مجھے بستر پر ڈال دیا۔ تارڑ صاحب کو اس ناگہانی اُفتاد کی خبر نہ ہوسکی کیونکہ نہ وہ جانتے تھے کہ میں کہاں ٹھہرا ہوا ہوں اور نہ ہی مجھے پتا تھاکہ وہ کہاں ہیں۔ ایک آدھ دن بعد مکے بھی ہم لوگوں کو ساتھ ہی جانا تھا۔ ظاہر ہے وہ مجھے ڈھونڈتے رہے ہوں گے مگر میں حرم ہی جانے سے معذور تھا تو انھیں کہاں سے ملتا۔ بہرحال، وہ پروگرام کے مطابق عمرہ کر کے غالباً آگے لندن چلے گئے اور میں ادھر چھ سات دن تک مدینہ ٔ منورہ ہی میں صاحب فراش رہا۔ اللہ جانے کیسے کیسے خیال ان کے دل میں آئے ہوں گے۔ لاہور واپس پہنچ کر میں نے رابطہ تو کیا مگر بات نہ ہوسکی۔ شاید ان دنوں وہ لندن میں تھے۔ بہرحال اب ملاقات ہوئی تو عرض کروں گا کہ سرکار مجبوری تھی، بے پروائی نہیں۔

سوال: وہ ناول جو بہت زیادہ مقبول ہے، اس سے مراد زیادہ فروخت ہونا اور پڑھا جانا ہے اور اب ڈرامے کی شکل میں دیکھا بھی جانا ہے۔یہ ڈائجسٹ لکھنے والے ناول نگار ہیں جس میں خواتین و مرد دونوں طرح کے لکھاری شامل ہیں۔ آپ کی نظر میں مظلوم عورت اور سطحی جذبات بالخصوص مذہب کے حوالے سے، کیا اس طرح کی ناول نگاری کو ادب کہا جا سکتا ہے، آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: ظاہرہے یہ سب کچھ ادب تو نہیں ہےمگر کسی نہ کسی درجے میں تخلیقی سرگرمی ضرور ہے۔ زبان کی تعمیر میں بھی ان کا ایک کردار بہرحال ہےجو چاہے انجینئر کی سطح کا نہ ہو، مزدوروں کی سطح کا بہر حال ہے۔ یہ بات ان ناول نما چیزوں کے بارے میں کہہ رہا ہوں جو ڈائجسٹوں کے لیے لکھی جا رہی ہیں۔ انھیں ناول مجبورا کہنا پڑ رہا ہے ورنہ ناول اصل میں ایک ریسرچ پروجیکٹ بھی ہوتا ہے اور ناول نگار میں ایک باریک بیں محقق بھی فعال ہوتا ہے۔ وہ تاریخ اور آدمی کے درمیان تعلق کی پیچیدہ حرکیات کا معروضی ادراک بھی رکھتا ہے۔ باقی رہی نچلے درجے کی جذباتیت اور سنسنی خیزی کی بات، تو یہ ہمارا مزاج ہے۔ جو لوگ اپنے نظریات کی ذہنی اور اخلاقی تشکیل نہیں کرسکتے وہ انھیں جذبات میں بدل دیتے ہیں۔ یہ جذبات کبھی چنگیز خان کے سے ہوتے ہیں اور کبھی شیخ چلی کے سے۔ غرض زندگی میں اصول اور اقدار بننے کا تقاضا رکھنے والے تمام تصورات ہمارے یہاں جذبات کے تنور اور خوابوں کے فریزر میں رکھے ہوئے ہیں۔ اس معاملے میں مذہبی غیر مذہبی کی کوئی خاص تفریق نہیں ہے، یہ ہمارا اجتماعی مزاج ہے۔ اس کے علاوہ تماش بینی اور دکھاوا بھی یوں لگتا ہے کہ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ یہی سب رویے ان ناولوں سے بھی ظاہر ہیں جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا۔ لیکن چلیں ایک رونق تو لگی ہوئی ہےجو ہمیں احساس دلاتی ہے کہ زندگی سے لاتعلقی اور محرومی کے باوجود ہم مسخروں کی طرح سہی، جی تو رہے ہیں۔ زندگی چاہے شیخ چلی کی ہو، قابل ِ قدر ہے۔ رہی بات سطحی جذبات اور جارحانہ جذباتیت کی، تو بھائی جذبات آئینہ ہوتے ہیں وجودی معیار کا۔ وجود ہی اتھلا اور سطحی ہو تو جذباتی گہرائی اور ٹھہراؤ کہاں سے آئے۔ اور وجودی طمانیت اور شانتی ہوگی تبھی تو ہرے بھرے جذبات پیدا ہوں گے۔ لیکن چلو اس للکارتی بنکارتی جذباتیت نے ہمیں مجموعی طور پر اپنی کم تری اور مہملیت کے جان لیوا احساس سے کم ازکم آج تو بچا رکھا ہے، کل کی کل دیکھی جائے گی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

اس طویل انٹرویو کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

(Visited 1 times, 8 visits today)

About Author

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: