آئیں ! افواہ پھیلانا سیکھیں —– اظہر عزمی

0

(ایک اشتہاری کی باتیں)

یہ میڈیا کا زمانہ ہے۔ کوئی بات پھیلانا منٹوں کی بات ہے۔ جتنی انسانی تاریخ پرانی ہے افواہ کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ افواہ کا مقصد، تعین، تانا بانا، پھیلانے کا طریقہ کار اور ذرائع کا استعمال۔ افواہ ا نفرادی ہے یا اجتماعی، ملکی نوعیت کی ہے یا عالمی۔ اس سب کی ایک سائنس ہے۔

افواہ عربی کا لفظ ہے۔ یہ عربی میں مذکر اور اردو میں مونث ہے۔ ہم اس کو خواتین سے معذرت کے ساتھ مونث ہی لے لیتے ہیں۔ ہماری ہاں افواہ اڑائی جاتی ہے۔ اردو میں اسے ہوائی بھی کہا جاتا ہے۔ شعر عرض ہے:

کون کہتا ہے کہ ہم تم میں جدائی ہوگی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی

آج کی مہذب دنیا افواہ کو پروپیگنڈا کا نام بھی دیتی ہے۔ جسے سیاسی جماعتیں اور حکومتیں بھرپور طریقہ سے استعمال کرتی ہیں۔ عالمی سیاست میں پروپیگنڈا جنگوں سے زیادہ کار گر ہتھیار ہے جس پر بے تحاشا پیسہ لگایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ پروپیگنڈے کے ہتھیار کو سب سے پہلے دوسری جنگ عظیم میں استعمال کیا گیا اور وہیں سے اس کی افادیت اور حاکمیت کا اندازہ ہوا۔

روزمرہ زبان میں اسے بے پر کی اڑانا بھی کہتے ہیں۔ آپ لاکھ کہیں کہ میں کبھی کسی افواہ، ہوائی یا بے پر کا حصہ نہیں بنا تو صاحب جس معاشرے میں قیام پذیر ہیں یہاں اگر یہ سب نہ ہو تو زندگی میں مزہ ہی کیا ہے۔ ہمارے ہاں تو لوگ سچ کو چھپانے اور افواہ کو سچ ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ شعور کا نہ ہونا،طبیعت کا میلان اور وقت کی فراوانی افواہوں کی سب سے زرخیز زمین ہے۔ میں نے بڑے بڑے معقول لوگوں کو افواہ جیسے سستے شغل سے لطف اندوز ہوتے اور اسے یقین سے آگے پڑھاتے دیکھا ہے۔ افواہ سازی اور افواہ فروغی ہمارے قومی مزاج کا حصہ ہے۔

افواہ سازی اب ہمارے ملک میں منافع بخش انڈسٹری کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں زیر زبر پیش کے ساتھ ٹی وی چینلز ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

پہلے جب میں میڈیا اس حد طاقتور نہیں تھا یا یوں کہہ لیں کہ تھا ہی نہیں تو یہ افواہیں سینہ بہ سینہ پھیلتیں جو کہ سینہ گزٹ بھی کہلاتا۔ آئیں میں آپ کو اپنے لڑکپن کے زمانے میں لے چلتا ہوں جب پہلی مرتبہ مجھے ایک افواہ ساز سے ملنے کا انتخاب ہوا۔ یہ کوئی اور نہیں میرا اسکول کا ہم جماعت تھا۔ جنرل ضیا الحق کا زمانہ تھا۔ ایک دن وہ اور میں مارکیٹ گوشت لینے گئے۔ قصائی کے پاس بہت رش تھا۔ ہم دونوں ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ وہ مجھ سے باتیں کرتے ہوئے بولا:

بھائی لالو کھیت (لیاقت آباد) میں ہنگامہ شروع ہو چکا ہے۔ پولس شیلنگ کر رہی ہے۔

میں حیران کہ یہ اسے کیا ہوا؟ میں نے حیرت کا اظہار کیا اور قویب تھا کہ کچھ بولتا۔ اس نے میرا ہاتھ دبا دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ دکان پر کھڑے افراد اور قصائی بظاہر میرے دوست کی طرف نہیں دیکھ رہے لیکن سب کے کان اسی طرف لگے ہیں۔ دوست نے ہنگامہ سے متعلق زیادہ تفصیلی گفتگو نہیں کی۔

اب ذرا تماشا دیکھیں۔ ایک خاتون جو گوشت لینے میں بہت مین میخ کر رہی تھیں:
بالکل روکھا گوشت دو۔ چھیچھڑے نہیں لوں گی۔

جیسا کہ عام طور مین میخیے گاھک کرتے ہیں۔ ایک دو بار تو قصائی نے اس کی فرمائش پوری کی۔ آخر چڑ کر بولا:
اماں جیادہ نخرے نہ کر۔ جلدی لے لے جو لینا ہے۔ لالو کھیت میں بڑی زوروں کا ہنگامہ چل رہا ہے۔

اس پر ساتھ کھڑے گاھک نے جو اس عورت کے فرمائشوں سے تنگ تھا، بول پڑا۔ خاتون نے جو یہ ماحول دیکھا تو خاموشی سے گوشت لے کر چلی گئیں۔ باقی گاہک بھی زیادہ بحث میں نہیں پڑے اور ہم بہت جلد گوشت لے کر وہاں سے آگئے۔ میں نے افواہ ساز دوست سے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ بولا دکان پر رش دیکھا تھا۔ اگر یہ سب نہ کرتا تو گھنٹہ تو لگنا ہی لگنا تھا۔ میں نے کہا کہ کیا فرق پڑتا ؟۔بولا کہ اب تم دیکھنا کیسا فرق پڑتا ہے۔ یہ قصائی ہر گاہک کو الٹا سیدھا گوشت دے گا اور کہے گا:

بھیا جلدی جلدی گوشت لے لو۔ پتہ نہیں شام تک ہنگامہ پھیل نہ جائے۔ اللہ جانے کل دکان کھلے بھی کہ نہیں۔ اسی طرح ہر گاہک گھر اور محلے میں یہ افواہ ایسے سنائے گا کہ جیسے خود ہنگامہ دیکھ کر آرہا ہے۔۔افواہ سے متعلق سوچنا یا اس کی تصدیق کا تو ہم سوچتے ہی نہیں۔

جب ہم کالج پہنچے تو اس وقت بھی جنرل ضیا ملک پر مسلط تھے۔ سیاست پر پابندی تھی۔ اخبارات سخت سنسر شپ کا شکار تھے۔ آدھے اخبارات بغیر خبر، سفید کاغذ کے ساتھ شائع ہوا کرتے تھے۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد ان کی صاحبزادی صنم بھٹو کی شادی ہوئی تو اخبار میں سر شاہنواز بھٹو کی پوتی کی شادی کی مختصر سی خبر شائع ہوئی۔

یہ بات تو خیر ضمننا آگئی۔ سیاسی جماعتیں جنرل ضیا زمانے میں بھی سینہ گزٹ خبروں اور افواہوں کے لئے عوامی مقامات استعمال کیا کرتے تھیں گو کہ اس میں بھی کافی خطرہ ہوتا۔ ہمارے محلے میں ایک صاحب ہوا کرتے تھے۔ عمر کوئی 60 سے اوپر ہوگی۔ ایک سیاسی جماعت کے سکہ بند کارکن تھے۔ ہمارے 2D سے کالج جانے اور ان کا کام پر جانے کا ایک ہی وقت تھا۔ بس سمجھ لیں جس کے ساتھ وہ بیٹھ گئے اس کی جان مصیبت میں ہوتی۔ پہلے برابر والے سے سلام دعا کرتے اور پھر عوامی مسائل کا سہارا لے کر حکومت پر لعن طعن شروع کردیتے اور اس کے بعد جو افواہ اڑانا یا ان کی دانست میں پیغام دینا ہوتا دے دیتے۔ مسئلہ یہ تھا کہ ان کی کوئل جیسی آواز بہت اونچی تھی جو پوری بس میں گونجتی تھی۔ جو لوگ ان کو جانتے تھے ذرا ہٹ کر رہتے۔ میں تو جہاں ان کو دیکھتا بس کی دوسری طرف چلا جاتا۔

افواہ پھیلانے اور اس کو سمجھنے کی بھی ایک سائنس ہے۔ بہتر ہے کہ آپ اس باخبر ہوجائیں اور اس کی تشہیر میں ملوث نہ ہوں۔

افواہ کیا ہے؟ ایک خبر جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ لوگوں کو ارادی یا غیر ارادی طور پر دھوکا دینے کے لئے جھوٹ بولنا۔ افواہ کی کئی اقسام ہیں اس لئے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تعریف اور فوائد بھی بڑھتے جاتے ہیں۔

مقصد اور ہدف کے تعین کے بعد افواہ ایسی ہو جو کہ سنسنی پھیلا دے اور سننے والا بلا سوال و جواب اور تصدیق آگے سنانے کے لئے دوڑ پڑے۔ افواہ عوامی امنگوں کی آئینہ دار ہونی چاہیئے۔ اس میں نفع نقصان دونوں کا پہلو ہو سکتا ہے۔ ہماری عوام دونوں افواہوں کو ایک ہی انداز سے لیتی ہے۔ افواہ بہت زیادہ بے پر کی نہیں ہونی چاہیئے اس میں کسی حد تک یقینیت ہونا ضروری ہے۔ افواہ کو کبھی تفصیل سے بیان نہ کریں۔ افواہ جتنی سادہ ہوگی اتنی ہی تیزی سے جنگل کی آگ کی طرح پھیلے گی۔ زیادہ پھندنے بازی کی تو افواہ اپنی موت آپ کو جائے گی۔

افواہ پھیلانے کے لئے لوگوں کا انتخاب بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بہت زیادہ کھوجی اور پرتجسس لوگ افواہ سے متعلق سوال جواب شروع کردیتے ہیں جو کہ افواہ کے لئے زہر قاتل ہے۔ افواہ کے لئے ضروری ہے کہ ہر ایک کو تنہائی میں بتائی جائے اور تاکید کردی جائے کہ کسی کو ہرگز ہرگز نہ بتانا۔ افواہ کی برق رفتاری اور یقینییت چیک کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس اپنے قریبی حلقہ احباب میں پھیلائیں اور دیکھیں یہ کب تک اور کتنی بدلی ہوئی شکل میں آپ تک پہنچتی ہے۔ افواہ میں جو اضافت ہو اس سے اندازہ لگا لیں کہ آپ نے عوامی خواہشات کا کتنا خیال نہیں رکھا۔ آئندہ افواہ پر اس بات کا پوری طرح خیال رکھیں۔

مصنف کا تعلق ایڈورٹائزنگ کے شعبہ تخلیق سے ہے ۔ 30 سال پر محیط کیریئر میں متعدد ٹی وی کمرشلز اور جنگلز آپ کے کریڈٹ پر ہیں۔ 90 کی دھائی میں اخبارات میں مختلف موضوعات پر آرٹیکلز لکھے ۔ ٹی وی کے لئے ڈرامہ بھی لکھتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کا کچرہ : مسئلہ نہیں لائف سٹائل ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خرم شہزاد

(Visited 1 times, 5 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: