انصاف اور تحریک انصاف —- جسٹس وجیہہ الدین کی عدنان کریمی سے ’لایعنی باتیں‘

0

محل نما کوٹھی کے اندر داخل ہوئے تو قدموں کی آہٹ کے سوا سُننے کو کچھ بھی میسر نہ تھا، باہر کی فضا میں آفتاب پورے آب وتاب کے ساتھ روشنی بکھیرنے میں مصروف اور اندر کے ماحول میں تاریکی رقصاں اور تنہائی کا سماں تھا، جیسے جیسے آگے بڑھتے جاتے، گھپ اندھیرے کو چیرتے ہوئے بٹن کی طرف اُن کا ہاتھ بڑھتا تو “ٹک ٹک” کی خفیف آوازوں کے ساتھ برقی قمقمے روشن ہوتے چلے جاتے اور ہم پیچ دار راستوں کو عبور کرتے ہوئے دیوان خانہ پہنچے تو صاحبِ قصر غرّائے:

“تمہیں کتنی مرتبہ کہا ہے کہ فنائل مت استعمال کیا کرو، یہ مضر ہے، مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، آئندہ اگر مجھے بُو آئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا”

بند دیوان خانہ کھولتے ہی موصوف کی غرّاہٹ نے لمحہ بھر تو مجھے چونکا کر رکھ دیا کہ کہیں صاحب کی نفسیات تو متاثر نہیں ہوئی، اُن کے شانوں کی اُوٹ سے مخاطب کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود، ہمیں بیٹھنے کو کہا اور خود حمام والے حصے کی طرف گئے تو صنف نازک کی ایک نقاہت بھری آواز اُبھری:

“جی صاحب جی، آئندہ خیال رہے گا”

ہماری طرف پلٹے تو ملازم پانی کا گلاس ہاتھ میں تھامے ایستادہ تھا، گلاس ہاتھ سے لیتے ہوئے فشارِ دم کی قُرصیاں نکالیں، پھانکنے سے قبل ہمیں بتایا کہ بلڈ پریشر ہائی ہوگیا ہے، ٹیبلٹ لینا ضروری ہے، ہم دل ہی دل میں منمنائے کہ آپ نے تو فشارِ خون کے تمام لوازمات پورے کر رکھے تھے، خون نے تو ہچکولے ضرور لینا تھا۔ دوا لینے کے بعد کچھ دیر توقف کیا، ہمارے سوالات سے پیشتر ہی خود بول پڑے:

“میں ابھی آغا خان سے آرہا ہوں، آج کل طبیعت مستقل ڈانواں ڈول رہتی ہے، اضطراب نے میرے کمرہ کی راہ دیکھ لی ہے۔ اچھا یہ بتائیں آپ جماعتِ اسلامی سے ہیں؟ کیا کوئی انٹرویو کے لیے آئے ہیں؟ کونسا اخبار ہے آپ کا؟”

موصوف کے تابڑ توڑ سوالات سے نبرد آزمائی کے لیے خاکسار نے لب کشائی کی اور بلا کسی توقف کے جواب دیتا رہا:

نہیں سر! جماعتِ اسلامی تو درکنار میرا کسی بھی مذہبی و سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ کوئی خاص فارمل طریقے سے انٹرویو کے لیے بھی نہیں آیا، نہ ہی کسی اخبار سے باقاعدہ وابستہ ہوں، بس آپ سے ملاقات کی خواہش تھی اور چند “لایعنی باتوں” کی تشریح چاہتا تھا۔ لایعنی لفظ پر زور دینے نے ایسا کمال دکھایا کہ جسٹس صاحب کے چہرے پر تبسم کی لکیریں واضح ہونے لگیں۔

اچھا آپ یہ جوس لیجیے! پھر “لایعنی باتیں” ہوتی رہیں گی، جوس کا گلاس ایک طرف رکھتے ہوئے پہلا سوال اُن کی طرف اچھالا: سر! آپ کا شمار پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنماؤں میں ہوتا ہے، آپ نے عمران خان اور ان کی پارٹی کو بہت قریب سے دیکھ رکھا ہے، آپ پارٹی میں بڑے متحرک رہے ہیں، پھر یکایک ایسا کیا ہوگیا کہ آپ پی ٹی آئی سے علیحدہ ہوگئے، علیحدگی کی کیا وجہ بنی؟

خلا میں گھورتے ہوئے گویا ہوئے: نہیں کوئی خاص وجہ تو نہیں البتہ جب میں نے آبزرو کیا کہ تحریک انصاف جو نعرہ اور مشن لے کر چلی تھی اب اس مشن اور ڈگر سے ہٹ گئی تو میں نے ایک طرف ہونے میں ہی عافیت جانی، گوشہ نشینی اختیار کرنے کی ٹھانی، خان صاحب سے میرے اچھے تعلقات تھے اور ہیں، تاہم اب یہ تعلقات محض رسمی سلام دعا تک محدود ہوکر رہ گئے ہے۔

میرا دوسرا سوال اُن کے پہلے جواب ہی سے برآمد ہوا، سر! تحریک انصاف کا اپنے نظریات سے منحرف ہوجانا، اپنے مشن کو چھوڑ بیٹھنا اور اپنی ڈگر سے ہٹ جانے میں آپ خان صاحب کو قصور وار نہیں سمجھتے؟ میرے سراپے کو بغور دیکھنے کے بعد بولے: آپ کوئی ریکارڈر تو ساتھ نہیں لائے ہیں؟ میری طرف سے جب کسی بھی آلاتِ ریکارڈنگ کی نفی کی گئی تو کہنے لگے کہ یہ باتیں کبھی بھی اور کہیں بھی آپ درج نہیں کریں گے، یہ سب آپ کے پاس امانت ہیں، میں نے امانت کی حفاظت کا یقین دلایا تو پورے بیس منٹ پر مشتمل ایسی ہوش ربا زبانی ڈاکیومینٹری سُنائی کہ میں ششدر رہ گیا، (چونکہ ان کی وہ باتیں امانت ہیں، اس لیے یہاں تحریر کرنے سے قاصر ہوں) بہر کیف آپ کے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ ان سب عوامل کے پیش نظر میں خان صاحب کو قصور وار نہیں سمجھتا بلکہ مجبور محض سمجھتا ہوں۔

اچھا سر! ابھی تحریکِ انصاف کی نئی نویلی حکومت بنی ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ خان صاحب ڈیلیور کر پائیں گے؟ اور۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا سوال ادھورا ہی تھا کہ جسٹس صاحب درمیان میں بول پڑے کہ آپ کو خان صاحب سے کوئی ذاتی پرخاش تو نہیں؟ نہیں سر! میری کیا مجال کہ اتنی بڑی مہان ہستی سے مجھے کوئی عناد ہو، اگر بالفرض کسی بغض کا شائبہ بھی ہو تب بھی خان صاحب کی صحت اور حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔ یہ تو صرف سوالات برائے اضافۂ معلومات ہیں، اس سے زیادہ کوئی خاص ایجنڈا نہیں۔

میرے ادھورے سوال پر لب کشائی کرتے ہوئے بولے: دیکھیے صاحب! اصولی طور پر یہ بات ذہن نشین کرلیجیے کہ نظامِ حکومت عام طور پر اچھے ہی ہوتے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ حاکم کون ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رح حاکم ہوں تو خلافتِ راشدہ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ مشہور مقولہ ہے:

“It is the man behind the gun”

بندوق ڈاکو کے ہاتھ میں ہو یا فوجی کے ہاتھ میں، لیکن استعمال میں فرق واضح ہوگا۔ اصل ہمیں دیکھنا ہوگا کہ حکومتوں کے پیچھے کون ہوتے ہیں، کیا کرتے ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ اگر پس پردہ محرکات کو سمجھنے اور اُن سے نبھانے میں ہم کامیاب ہوگئے تو پھر سو سال تک مزہ سے حکمرانی کرتے رہیے۔ خان صاحب ابھی اس حکمرانی کے میدان میں نو وارد ہیں، ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں، توقعات بھی ہیں خدشات بھی ہیں، بنا بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ کیسی تاریخ بنتی ہے۔

میرا چوتھا سوال بھی سیاسی نوعیت کا تھا، سر! نواز شریف صاحب کا ٹرائل ہورہا ہے، میاں صاحب کبھی جیل میں، کبھی عدالت میں اور کبھی گھر میں نظر آتے ہیں، ان معاملات کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ آپ اس کو سیاسی انتقام نہیں سمجھتے؟

کھڑکی سے پردہ سرکاتے ہوئے بولے: احتساب سب کا یکساں ہونا چاہیے، کسی کو انتقام کا نشانہ بنانا یا اس کا تاثر دینا غلط ہے، تمام کرپٹ لوگوں کو بلا امتیاز کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے، ستر سالوں میں جب بھی احتساب ہوا تو آوازیں اٹھنی شروع ہوگئیں، ہمیں شخصیت سے نہیں بلکہ اس کے جرم سے سروکار ہونا چاہیے۔

آپ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے سینئر جج رہے ہیں، آپ سمجھتے ہیں کہ آج کا ہمارا عدالتی نظام آزاد اور خود مختار ہے؟ سوال کی توصیف کی اور کہا کہ بہت اچھا اور برمحل سوال کیا آپ نے، عدالتوں کی خودمختاری پر تو سوال نہیں اٹھنا چاہیے البتہ عدالتیں آزاد ہیں یا نہیں اس پر ہر ایک کی اپنی سوچ ہے اور ہر ایک اپنی رائے رکھتا ہے، میری بھی اپنی ایک رائے ہے جسے میں آف دی ریکارڈ بھی بتانا پسند نہیں کرتا اور نہ ہی میں اس کا پابند ہوں، ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ حاکموں کے ضمیر اور قاضیوں کے ترازو کو بِکنا نہیں چاہیے۔

رخصت ہونے کے لیے کھڑے ہوئے تو تصویر درمیان میں آن پڑی، کہا کہ تصویر کے لیے باہر چلتے ہیں تاکہ تصویر واضح آئے، باہر آئے، کڑکتی دھوپ میں تصویر بناتے ہوئے اپنے چہرے کو بالکل سپاٹ رکھنا کسی مجاہدے سے کم نہیں، خاکسار تو اس “مجاہدہ” میں کامیاب رہا البتہ جسٹس صاحب کے چہرے پر ان کے کپڑوں کی مانند سلوٹیں نمایاں ہیں۔ ان کی کوٹھی سے باہر نکلتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ میں انصاف سے تو مل چکا لیکن تحریکِ انصاف سے نہ مل سکا، جسٹس صاحب کسی زمانہ میں انصاف اور تحریک انصاف کو ساتھ لیے چلتے تھے لیکن اب انصاف ان کے پاس رہ گیا لیکن تحریک انصاف نہ رہا۔

(جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد پاکستان کے مایہ ناز جج ہیں، آپ سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے سابق سینئر جج رہ چکے ہیں، تحریک انصاف کے بانی اراکین میں آپ کا شمار ہوتا ہے، آج کل اپنی تنظیم “پاکستان عام لوگ اتحاد پارٹی” کے چئیرمین ہیں۔)

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف اور بدتمیزی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرنود عالم

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: