ترکی کا کرد مخمصہ ‎——– عمیر فاروق

0

ترکی نے شام کے کرد علاقے میں فوج داخل کردی اور لڑائی جاری ہے، یہ اس کھیل کا اگلا ایپی سوڈ ہے جو داعش کو شام میں داخل کرنے سے شروع ہوئی تھی اور بالاخر یہ ہونا ہی تھا۔

جب شام میں داعش کو انجیکٹ کیا جارہا تھا تو ایردوان کی حمایت اور سہولت کاری دیکھ کر حیرانی تھی کہ کیا وہ اس کے حتمی نتائج اور ترکی کی سالمیت پہ اس کے اثرات کو نہیں سمجھتا؟ ترک تھنک ٹینکس اور فوج کب تک اس پالیسی کو برداشت کرے گی ؟ کہیں کسی نئے مارشل لاء کا دروازہ ہی نہ کھل جائے وغیرہ۔

ایردوان کو آخرکار خطرے کی گھنٹی بجی لیکن اسکی وجہ ترک سالمیت پہ اس کے ممکنہ اثرات نہ تھے بلکہ جب مغربی پریس نے شام میں داعش کی آمد کی تمام تر ذمہ داری ایردوان پہ ڈالنا شروع کی تو وہ سنبھلا اور پالیسی یوٹرن لے گیا امریکہ کو چھوڑ کر روس کا رخ اختیار کیا۔ لیکن جو کچھ وہ کر چکا تھا اسکا فال آؤٹ تو سامنے آنا ہی تھا۔

مشرق وسطی کی پیچیدہ صورتحال میں ایک اضافی پیچیدگی کُرد سوال کی بھی ہے اس سے قبل کہ اس سوال کو ابتدا سے دیکھا جائے یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ بالکل آج کی سیاست میں اسرائیل ممکنہ کُرد ریاست کو تشکیل پانے کی صورت میں اپنا قدرتی اتحادی سمجھتا ہے۔

اسی لئے جب امریکہ، سعودیہ، اسرائیل، ترکی اور گلف کے ممالک شام میں داعش کی پشت پناہی کررہے تھے عین اسی وقت اسرائیل اور مغرب خاموشی سے کردوں کو بھی ہلا شیری دے رہے تھے۔

ایرانیوں کو عام طور پہ سیاسی اعتبار سے بہت ہوشیار اور باریک بین سمجھا جاتا ہے لیکن وہ بھی مار کھا گئے انکی فوری ضرورت شام میں داعش کا راستہ روکنا تھی لہذا انہوں نے ایرانی کُردوں کی پرائیویٹ آرمی المعروف پیش مرگہ کو شام میں جاکر لڑنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اسلحہ اور تربیت بھی دی اور پھر وہی پیش مرگہ واپس ایران آکر اب ایران کے لئے سردردی بن چکی ہے اگرچہ ایران کی اندرونی خبریں چھپائی جاتی ہیں۔

یہی مسئلہ ترکی کا بھی ہے بلکہ ایران سے کہیں زیادہ، مشرقی اناطولیہ میں اکثریت کُرد آبادی کی ہے جسکا بڑا شہر دیار باقر ہے اور کرد آبادی ترکی کی کل آبادی کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ کرد آبادی چار ممالک، ایران، عراق، شام اور ترکی میں منقسم ہے لیکن انکی سب سے بھاری تعداد ترکی میں موجود ہے جہاں علیحدگی کی تحریک کافی پرانی ہے۔

مسلم ممالک جب بشارالاسد کو ہٹانے کی مقدس جدوجہد میں مصروف تھے عین اس وقت انکی ناک کے نیچے مغرب اور اسرائیل اگلے قدم یعنی کردستان کی راہ بھی ہموار کرتے جارہے تھے شام کی جنگ میں روس کی آمد نے بشار کو بچایا تو مغرب نے اس کو تسلیم کرنے کے عوض عراق میں کردستان پہ ریفرنڈم تسلیم کروالیا۔ گوکہ ریفرینڈم کے بعد عراق نے اربیل کی مجوزہ عراقی کرد ریاست کو مکمل اختیارات نہ دیے لیکن منصوبے کی پہلی اینٹ بہرحال رکھ دی گئی باقی تین ممالک کے کردوں کے لئے ایک مقامی کرد پلیٹ فارم ضرور مہیا کردیا گیا تاکہ مغرب پہ براہ راست امداد کا الزام عائد نہ ہوسکے۔

دردسری ایران کے لیے بھی ہے کیونکہ اس نے خود ہی اپنی کرد آبادی کو مسلح ہونے دیا یا مسلح کیا اکادکا خبریں وہاں سے بھی لڑائی کی آتی رہتی ہیں لیکن ترکی کا مسئلہ زیادہ بڑا ہے کیونکہ اسکا ایک تہائی کے قریب علاقہ کرد ہے موجودہ ترک پلان خالصتاً فوجی پلان ہے وہ شام کے اندر داخل ہوکر سرحدی علاقے سے کرد آبادی کو بیدخل کرکے وہاں شامی عرب مہاجرین کو آباد کرنا چاہتے ہیں چونکہ عراقی اربیل کے ریفرینڈم کے بعد سے کُرد اور عرب مخاصمت چلی آرہی ہے لہذا انکا خیال ہے کہ اس طرح درمیان میں عرب آبادی کی موجودگی کی وجہ سے ترکی اور شام و عراق کی کرد آبادی کے درمیان ایک حفاظتی حصار( cordon sainataire) قائم ہوجائے گا اور اسلحہ یا دیگر اس نوع کی مزاحمتی ترسیل ممکن نہ رہے گی۔

اب آتے ہیں کُرد سوال بلکہ وسیع تر معنوں میں قومیتی سوال کی طرف۔

ماضی میں جو کچھ ہوا وہ تو تاریخ کا حصہ ہے لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد جب طاقتیں مشرق وسطی کا نقشہ مرتب کرنے میں مصروف تھیں تب بھی کُرد مندوب نے یورپ جاکر کردستان بنائے جانے کا بھی مطالبہ کیا تھا جو شائد ترکی اور ایران کی ناراضی کے خوف سے مسترد کیا گیا یا شائد یہ سوال مستقبل کے لئے چھوڑ دیا گیا یاد رہے کہ مجوزہ اسرائیل کا پلان تب بھی موجود تھا۔

اس ضمن میں صرف مغرب کو الزام دینا بھی درست نہیں اور سارا الزام غلط نقشے بنائے جانے پہ تھوپ دینا بھی درست نہیں کہ ان نقشوں کے باعث قومیتیں مختلف ممالک میں تقسیم ہوگئیں۔ یہ دنیا میں تقریباً ہر جگہ ہوا ہے۔ جرمن پانچ ریاستوں میں تقسیم ہیں صرف ہٹلر نے ایک وحشیانہ کوشش میں انکو ایک ریاست میں اکٹھا کرنے کی سعی کی تھی جس نے یورپ کو آگ اور خون میں نہا دیا۔ فرنچ تین ریاستوں میں اطالوی تین اور باسک دو ریاستوں میں تقسیم ہیں یہ نقشہ تو سب سے مہذب اور جدید یورپ کا ہے۔

ہم نے مسلم ممالک کی اپنی غلطیوں کی طرف کبھی توجہ نہیں دی حالانکہ دینا چاہیے تھی۔ پہلی جنگ عظیم کا زمانہ سلطنتوں کے خاتمے اور انکے ملبہ سے ریاستوں کے ظہور کا زمانہ تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کی صرف بیرونی وجوہات ہی نہیں تھیں اندرونی بھی تھیں ترک اور عرب نیشنلزم بھی مقبول ہو چکا تھا اور یہ بھی اسکی ایک وجہ رہی۔ لیکن اس وقت عالمی رجحان بھی نسل، لسان، ثقافت وغیرہ کے قومیتی نظریہ کا تھا اور یہ سوچ مقبول تھی کہ ریاست کی شہریت کی بنیاد یہ قومیتی نظریہ ہونی چائیے۔ یہ رجحان برصغیر میں بھی نظر آیا یہاں صرف کانگریس ہی نہین بلکہ جمیعت علمائے ہند بھی اس کی قائل نظر آئی حالانکہ یہ انکی اوریجنل سیاست کے بھی خلاف تھا اور انکی تحریک خلافت کے بھی الٹ تھا۔

یہی وجہ رہی کہ جدید ترکی کے قیام کے ساتھ ہی جہاں ترکی کی ارمنی اور یونانی عیسائی آبادی کی شہریت کا انکار کیا گیا اور انہیں ریاست سے نکالا گیا وہاں کردوں کو شائد مسلمان ہونے کے باعث رعایت تو دی گئی لیکن انہیں کرد تسلیم کرنا ریاست کے لسانی، نسلی اور ثقافتی قومیتی نظریہ کے خلاف نظرایا لہذا انکے کرد ہونے کا انکار کرکے انہیں پہاڑی ترک کا نام دیا گیا۔ ایران ترکی وغیرہ میں آج بھی کرد زبان بولنا گھٹیا اور قابل استہزا فعل گنا جاتا ہے۔ یہی حال عربوں کا ہے اگرچہ بقول عام کردوں کے شامی عربوں کا رویہ ہمیشہ نسبتاً روادار ہی رہا اور شامی کردوں کو عرب آبادی سے خال ہی شکایت رہی۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ابتدا سے ہی ترک، ایرانی اور یہ عرب ریاستیں لسانی قومیتی نظریہ کے باعث ثقافتی لسانی شاؤنزم کا شکار تھیں

ادھر یورپ میں ہٹلر نے جو کچھ کیا اسکے بعد یورپ اور جدید دنیا تو اس شدت پسندانہ نظریہ سے تائب ہوگئی لیکن مسلم ممالک میں یہ نظریہ شدومد کے ساتھ موجود رہا۔ اسرائیل کے قیام کے بعد عرب ممالک میں عرب قومیت پرستی کی ایک شدت پسندانہ لہر نے جگہ لی۔

آج سو سال بعد بھی جب حال یہ ہے کہ ایران فارسی کے علاوہ کوئی دوسری زبان بولنا یا عرب آبادی میں عربی کے علاوہ کرد زبان بولنے پہ تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو ردعمل بھی پیدا ہوتا ہے۔

یورپ نے تو اس تنگ نظر قومیتی نظریہ سے باہر آکر امن کی منزل کو پالیا بلکہ تمام مہذب دنیا ہی اس پہ متفق ہوگئی کہ ریاست کا جغرافیہ ہی قومیت کی بنیاد ہے بدقسمتی سے مشرق وسطی اس تنگ نظری سے باہر نکلنے کو تیار نہیں اور ایک المیہ سے دوسرے المیہ کی طرف سفر جاری ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: