ٹرمپ کی پالیسیاں اور تارکین وطن ۔۔۔ احسان اخونزادہ

0

صدر ٹرمپ کی سب سے زیادہ پریشانی اپنے اس وعدے کے حوالے سے ہے جس کا نمبر تو تیسرا تھا مگر اب ترجیحات کی فہرست میں ٹاپ پر رکھ دیا گیا ہے اور یہ وعدہ غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کاروائیوں کا ہے انہیں امریکا بدر کرنے کے اقدام ہیں اور اسکو سنجیدگی سے برتنے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ مجھے میرے لوگوں نے امریکا کا صدر چنا ہے ساری دنیا کا نہیں اسلئے سب سے پہلے امریکا ہی میری ترجیح ہے اب خدا لگتی تو یہ ہے کہ ان تارکین وطن میں کچھ تو خیرگئے ہی غیر قانونی طور پر ہیں یا کبھی گئے تھے اور رک گئے تھے اور واپس کبھی اس لئے نہیں آئے کہ دوبارہ جاناپھر ممکن نہ ہوتا مجھے کوئی دس سال قبل نیویارک میں ایک دوست محمد محسن کے ڈرائیور نے بتایا تھا کہ وہ کراچی سے آیا تھا اور نوسال کی اپنی بیٹی چھوڑ کر آیا تھے اور اب اگلے ماہ اسکی شادی ہونیوالی ہے مگر تب سے اب تک صرف تصویروں میں اسے بڑا ہوتے دیکھا ہے خیر ایسے تو یقیناََ بہت ہیں مگر مجھے ایسے بہت سے تارکین وطن کا بھی علم ہے جو ہر لحاظ سے قانونی طور پر امریکا گئے ہیں اور گرین کارڈ ہولڈر ہیں اور کئی سال سے وہ امریکن شہریت کیلئے کوالیفائی بھی کرتے ہیں مگر انہوں نے یہ زحمت اس لئے نہیں اٹھائی کہ انہیں گرین کارڈ کی وجہ سے کم و بیش و ہ ساری مراعات حاصل ہیں اور ووٹ وغیرہ دینے میں انہیں دلچسپی نہیں ہے اور یہ جو اب ٹرمپ کے آنے سے پریشان ہیں یہ سب امریکی شہریت لے چکے ہوتے اور ووٹ کا حق رکھتے تو شاید صورت حال مختلف ہوتی۔ اور تو اور ان کے پاس امریکن پاسپورٹ تک نہیں جسکے بعد بہت سے ممالک میں انہیں ویزہ لینے کی بھی ضرورت نہیں رہتی ۔

مگریہ کام ان کی ترجیحات کی فہرست میں کہیں بہت نیچے پڑا ہے البتہ ٹرمپ کے آنے اور تارکین وطن کے حوالے سے تیز و تند بیانات کی روشنی میں اب صورتحال بدل رہی ہے ابھی کل ہی کولو راڈو میں مقیم میرے دوست چودھری سمیر کا فون آیا ہے اور اس نے بتایا ہے کہ وہ بیٹی کے پاسپورٹ کے سلسلے میں صبح نو بجے کھلنے والے پاسپورٹ آفس کوئی آٹھ بجے پہنچ گیا کہ بروقت کام نبٹا کر فارغ ہو جائے تو پتہ چلا کہ اس کا نمبر دوسو واں ہے،لمبی لائنیں لگی ہوئیں ہیں گویا ، یار لوگوں کواب پاسپورٹ بنانے یا اسکی تجدید کروانے کا ہوش آیا ہے جہاں وہ رہتے ہیں اس میں رہنے کے آداب سے منہ موڑے ہوئے ہیں اب اگر کوئی ٹرمپ آ کر کہتا ہے کہ مجھے امریکیوں نے صدر بنایا ہے اور میں ان کے مفادات کا خیال رکھوں گا تو کیا برا کر رہا ہے۔ ابرار الحق کی مثال سامنے ہے کہ جس ویزے پر وہ جاتا رہا ہے وہ محض وزٹ ویزہ تھا مگر وہ وہاں جاکر کنسرٹ یعنی ’’ بزنس ‘‘ کرتا رہا ہے اور قانون کے مطابق ٹیکس بھی نہیں دیا تو کیا اسے بلیک لسٹ کرنے پر یار لوگوں کا احتجاج بنتاہے اب اس کی مخالفت وہاں رہنے والے کریں تو ایک بات ہے مگر بے چارہ ٹرمپ تو ہر ملک،ہر شہر اور ہر گلی کوچے میں بے وقار بن گیا ہے ۔پشتو کہاوت کے مطابق وہاں خارش کرنا بے معنی سی سرگرمی ہے جہاں خارش نہ ہو رہی ہو،ذوق نے بھی یہی کہا تھا کہ
رندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

اب اگر ٹرمپ کوئی غلط کر رہا ہے تو اس کا حساب کتاب اسکے ساتھ ہو ہی جائے،سر دست تو میڈیا سے سینگ اڑائے ہوئے ہے کیونکہ امریکا میں آنے پر پابندی کے احکامات تو عدالت نے مانے نہیں اسلئے دو دن پہلے اس نے کہہ دیا کہ پابندی نہ سہی مگر ویزے کے حصول کے عمل کو مزید سخت اور پیچیدہ بنا رہے ہیں اور پھر فوراََ ہی خود کو چیک کرتے ہوئے کہا یہ میں ان سات ممالک کی بات کر رہاہوں جن پر پا بندی لگائی تھی اب اگر اپنے ملک اپنے لوگوں کیلئے وہ یہ سب کر رہا ہے اور اسکی وجہ میں،آپ یا وہ متاثر ہوتا ہے تو اس میں اسکا کیا قصور یہ تو گر و جی (غالب) نے بہت پہلے کہہ دیا تھا۔
دیکھئے غیر سے کیا خوب نبھائی اس نے
نہ سہی ہم سے پر اس بت میں وفا ہے تو سہی

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: