فکر استشراق اور عالم اسلام میں اس کا اثر و نفوذ ۔۔۔ ایک نظر میں‎ ——– راجہ قاسم محمود

0

ڈاکٹر محمد شہباز منج صاحب کی کتاب “فکر استشراق اور عالم اسلام میں اس کا اثر و نفوذ” تحریک استشراق اور مستشرقین کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے اہم کتاب ہے۔ ساتھ ہی عالم اسلام میں اس فکر نے لوگوں کو کس طرح متاثر کیا اس کا اجمالی جائزہ لیا گیا ہے۔ نیز متجددین کس طرح مستشرقین کے کام سے متاثر ہوئے جس سے ان کی فکر و نظر میں کس حد تک تبدیلی واقع ہوئی۔ ڈاکٹر منج صاحب کی یہ کتاب ان باتوں کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ تقریباً ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب القمر پبلی کیشنز لاہور نے شائع کی ہے۔

اپنے مقدمے میں ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ تحریک استشراق بارے میں مسلمانوں کا دعوی یہ ہے کہ اہل مغرب نے مستشرقین کے ذریعے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی مسخ شدہ تصویر پیش کی۔ کے مستشرقین میں سے بہت سے لوگوں نے تحریک استشراق کا انکار کیا۔ اس بارے میں مسلمانوں کا موقف زیادہ وزنی ہیں۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اہل مغرب نے اسلامی علوم اور تہذیب و معاشرت کا مطالعہ کیا اور یہ حقیقت ہے ہے کہ انہوں نے بالعموم اسلام اور بالخصوص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے بارے میں گھناؤنا اور متعصبانہ رویہ اختیار کیا، اس طبقے اعتراف بہت سے قد آور مغربی اہل قلم نے کیا ہے اور یہی وہ گروہ ہے جس کو ہم مستشرقین اور تحریک استشراق کے حوالے سے زیر بحث لاتے ہیں۔

یہودیت و مسیحیت کا اسلام سے یا مغرب کا اسلام سے باہمی تعارف تصادم سے ہوا، انہوں نے اسلام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے ہوئے اس کے بارے میں دشمنی کا رویہ اپنایا۔ بالخصوص مسیحیت جس کی تعلیمات میں سختی کا جواب سختی سے دینا منع تھا نے اپنی تعلیمات سے ہٹ کر مسلمانوں کے خلاف جنگیں چھیڑ دیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو مشرک، دشمن خدا اور دشمن مسیح باور کرا کر اپنے ہم مذہبوں کو مشتعل کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہوں۔ یہ محاذ آرائیاں فقط میدان جنگ تک محدود نہ رہیں بلکہ قلم و قرطاس سے بھی لڑی گئی، قلم و قرطاس کی اس جنگ کو راجر بیکن، ریمنڈ لل اور مارٹن لوتھر جیسے لوگوں نے توانائی بخشی۔ یہ معرکہ آرائی اتنی زہر انگیز تھی کہ مغربی محقیقن کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ مغرب میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو سب سے بڑھ کر قابل نفرین بنانے کی شعوری کوشش کی گئی۔ استشراق کی اس تحریک نے مسلمانوں کو بھی متاثر کیا بلکہ اس تحریک کا پہلو بھی یہ تھا کہ مسلمانوں کے اندر تجدد و مغربیت کو اختیار کرنے کی کوشش کی جائے اور بہت سے لوگ استشراق کے اس وار کا شکار بھی ہوئے اور بہت سے مسلم اہل فکر و دانش نے تجدد و مغربیت کو ناصرف اختیار کیا بلکہ اس کے پرجوش داعی بن گئے۔ اس طرح جیسے مسیحیت میں اصلاح مذہب کی کوششیں ہوئی وہ ہی کوشش اسلام کے باب میں بھی کرنے کی کی گئی مگر اس کو وہ مقبولیت نہ ملی جو عیسائیت کی اصلاح کے نام پر حاصل ہوئی۔

پہلے باب میں ڈاکٹر صاحب نے شروع میں متشرق اور استشراق کا لغوی واصطلاحی معنی و مفہوم بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بات کو واضح کرنے کے لیے مختلف طریقے سے تعارفیں کی ہیں مگر میں ایک ہی کو نقل کرتا ہوں۔

’’مستشرق سے مراد عام طور پر وہ غیر مشرقی عالم لیا جاتا ہے جو مشرقی علوم کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے اور استشراق سے مراد لیا جاتا ہے مشرقی علوم کے حوالے سے تحقیق اور مطالعہ میں مشغول ہونا‘‘ (ص۔ 38)

مستشرقین کے عرف عام میں ‘مشرق سے مراد وہ خطے لیے جاتے ہیں جہاں اسلام کو فروغ حاصل ہوا۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ استشراق کا سب سے اہم میدان اسلام ہی رہا مگر ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ کئی مستشرقین ایسے ہیں جنہوں دیگر مشرقی علوم اور تہذیبوں پر کام کیا۔ ایسے ہی اسلام کا مطالعہ کرنے والے تمام مستشرقین کے بارے میں یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہ سب اسلام کے بارے میں منفی رویہ رکھتے تھے کئی لوگ نے خالص علمی تحقیق کے لیے بھی اسلام کو موضوع بنایا۔

اسلام اور عیسائیت کے درمیان کشمکش کا آغاز جنگ موتہ سے ہوا۔ جنگ موتہ کے بارے میں مغربی اہل قلم جن میں تھامس رائٹ، فلپ کے ہٹی، ایڈورڈ گبن اور چارلس ملز شامل ہیں نے مسلمانوں کو جارح اور ظالم قرار دیا۔ یہ لوگ اپنا تعصب اور تنگ نظری چھپا نہیں سکے۔ ویسے عیسائی قلم کاروں کی اسلام سے مخاصمت کا تاریخی تناظر میں جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب تک اسلام جزیرہ نما عرب میں رہا تو عیسائیت اس کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتی تھی جب یہ عرب سے باہر پھیلا اور اپنے مخالفین کو ختم کرتا گیا یہاں تک کہ عرب کے عیسائی قبائل عیسائیت ترک کر کے اسلام میں داخل ہوئے تو عیسائی حکمرانوں نے اسلام کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا۔

صلیبی جنگوں کا سلسلہ ایسے ہی شروع ہوا، ڈاکٹر صاحب نے حروب صلیبیہ کے نام سے ان جنگوں کا اختصار سے ذکر کیا ہے جس سے ایک عام قاری کو ان جنگوں کے حوالے سے قابل اعتماد معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔ صلیبی جنگوں میں عیسائیت اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی تو اس نے اسلام پر حملہ کرنے کے لیے ایک اور میدان کا انتخاب کیا وہ تحریری و تصنیفی سطح پر اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے بارے میں منفیت کو اجاگر کرنا۔ یہ ہی تحریک استشراق کا مضبوط آغاز تھا۔ ویسے تو یہ کام سب سے پہلے جان آف دمشق (John of Damascus) جو کہ 749 عیسوی میں مرا نے شروع کیا تھا جس نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نبوت کا انکار کر کے معاذ اللہ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دیومالائی قصوں کا ہیرو بنا دیا۔ اس نے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی شخصیت کو مجروح کرنے کے لیے دو کتابیں لکھیں، جان کے پیروکاروں نے اس کے کام کو جاری رکھا اور اسلام مخالف لٹریچر کا انبار لگا دیا۔ یہی لٹریچر مغربی اسکالرز کے لیے قرون وسطی سے لیکر بیسویں صدی تک مصادر کا کام دیتا رہا۔ جان کے بعد بھی کئی لوگوں نے زہر انگیز کتابیں لکھیں جن میں سے کچھ کا ڈاکٹر صاحب نے تذکرہ کیا ہے۔ یہ لٹریچر بعد کے مستشرقین نے انگریزی و دیگر مغربی زبانوں میں ترجمہ کیے۔ بہت سے بڑے مغربی اہل قلم اس گھناؤنے کھیل میں ملوث رہے اور اسلام کی مسخ شدہ تصویر کو حقیقت بنا کر پیش کرتے رہے۔ ان کی پھیلائی ہوئی کذب بیانیاں اس حد تک گمراہ کن تھیں کہ منٹگمری واٹ اور فلپ ہیٹی کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ مسیحیوں نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو سمجھنے میں غلطی کی۔

مستشرقین کے پھیلائے ہوئے جھوٹوں کا کیرن آرم سٹرانگ نے بھی ذکر کیا ہے اور یہاں تک لکھا کہ مغرب میں لوگ یہ سن کر حیران ہوتے ہیں مسلمان اس خدا کی عبادت کرتے ہیں جس کی یہودی اور عیسائی کرتے ہیں۔ مغرب کا یہ شدید تعصب اور جھوٹ پر کھڑا مقدمہ تھا کہ جس کی وجہ سے سترھویں صدی عیسوی میں اگر کسی نے مغرب میں اسلام کو سمجھنے کی کوشش کی تو وہ ان خرافات سے بچ نہ پایا۔ مارٹن لوتھر جیسا شخص بھی اسلام کو حق کا دشمن گردانتے ہوئے اسلام کو ترکوں کا مذہب قرار دیا۔ اس نے معاذ اللہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کو پوپ سے بھی بدتر کہا۔ اٹھارویں صدی میں کچھ نرمی پیدا ہوئی اور کانٹ نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بارے میں نرم رویہ اختیار کیا مگر لوگ اس کے خلاف ہو گئے۔ پھر گبن، والٹیئر، گوئٹے جیسے لوگ بھی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بارے میں تعصب سے باہر نہ آ سکے۔ تحریک استشراق کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بنیادی طور پر دو مقاصد تھے ایک مسلمانوں کے علمی ذخائر کو اپنے ملک منتقل کر کے ان کی مدد سے مادی ترقی کی جا سکے اور دوسرا اسلام کی تاریخ و تہذیب کو مسخ کر کے پیش کیا جائے۔ اس لحاظ سے مستشرقین قابل تعریف بھی ضرور ہیں کہ انھوں نے مسلمانوں کا سرمایہ علم محفوظ کیا بلکہ کئی اہم مخطوطات اور مصادر ان کے ذریعے سے ملے مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انھوں نے مسلمانوں کے علمی ورثے کو لوٹا اور اپنے اسلام مخالف عزائم کی تکمیل کی۔

استشراق کا ایک ہدف عیسائیت کی تبلیغ بھی تھا، مسلمان ممالک میں اس غرض سے تبلیغی مشن بھیجے گئے، مالیاتی اور ادارتی تعاون بھی ان کو حاصل رہا۔ مسلم طلبہ میں مسیحیت کو پھیلانے کے لیے سکول کھولے گئے جہاں کا نصاب سیکولر ہوتا۔

مولانا ابوالحسن علی ندوی کے مطابق مستشرقین عام طور پر مغربی حکومتوں اور اہل اقتدار کا ہر اول دستہ رہے ہیں اور ان کو علمی کمک پہنچاتے رہے ہیں۔ کچھ مستشرقین روزی روٹی کمانے کے لیے تحریک استشراق میں شامل ہوئے اور کئی لوگوں کے دیگر معاشی مفادات نے ان کو اس تحریک کا حصہ بنایا۔

تحریک استشراق میں ایسے لوگ بھی شامل رہے ہیں جنہوں نے خالص علمی مقصد اور خدمت علم کے جذبے سے تحقیقات کیں۔ یہ ہی وہ طبقہ ہے جس کے ذریعے اسلامی علمی جواہرات و نوادر منظر عام پر آئے۔

مستشرقین یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان مطالعہ و تحقیق میں معروضیت اور غیر جانبداری پائی جاتی ہے جبکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو وہ موضوعی مطالعہ اور جانبداری صاف نظر آتی ہے۔

دوسرے باب میں ڈاکٹر منج صاحب نے استشراقی فکر کے مطالعہ اسلام کی نوعیت پر بات ہے۔ استشراق کا مقصد اسلامی مسلمات کے حوالے سے شکوک وشبہات کو پیدا کرنا تھا، اس مقصد کو لیکر مستشرقین نے اسلام کے اساسی عقائد و تصورات کو ہدف تنقید بنایا۔ اس میں وحی الٰہی، سیرت مقدسہ، معجزات، قرآن اور اس کی حیثیت، حدیث و سنت، قرآن کا غیر محرف ہونا، ناسخ و منسوخ، جزا و سزا، جنت و دوزخ، جہاد، تعدد ازدواج، اسلامی فقہ اور تہذیب کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کیے گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے ہر عقیدے و تصور کے بارے میں مستشرقین کے پھیلائے ہوئے شکوک کا ذکر کیا ہے۔ ہر ایک کی تفصیل میں جائے بغیر دو تین مثالیں کا ذکر کرتا ہوں۔

قرآن مجید کو کلام اللہ کہنے کی بجائے کلام رسول کہا گیا۔ اس کے پس منظر میں وحی کا انکار کے ساتھ، قرآن کی حیثیت کو مشکوک بنانا شامل تھا۔

معجزات کو غیر عقلی و غیر سائنسی قرار دے کر ان کو جعلی قرار دیا گیا۔

اسلامی فقہ کو رومن لا سے مستعار کہا گیا، نیز اس کہا گیا کہ اس کی دی گئی سزائیں نہایت سخت اور ناقابلِ عمل ہیں۔

اسلام کے تصور آخرت، جزا و سزا کو یہودیت و عیسائیت سے ماخوذ مانا گیا۔ اس ہی بنیاد پر اسلام کو یہودیت و عیسائیت کا چربہ تک کہا گیا۔

حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ذات پر جو رکیک حملے کیے گئے وہ نقل کرتے ہوئے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ کس قدر ایک مقدس و معطر ہستی کو ان ظالموں نے بدنام کرنے کی کوشش کی اور ان کی حقیقت سے عام لوگوں کو دور رکھا۔

ڈاکٹر منج صاحب لکھتے ہیں کہ مستشرقین نے مسلمانوں کو تبدیلی مذہب کی بجائے تجدد و مغربیت اور اصلاح مذہب کی دعوت دی تاکہ ‘جدید معاشرے’ میں اسلام قابلِ قبول ہو سکے۔ تجدد و اصلاح مذہب کی اس استشراقی کوشش کے نتیجے میں ہر مسلم ملک میں کچھ پڑھے لکھے لوگوں کا ایک گروہ پیدا ہوا جس نے اسلام کا مطالعہ مستشرقین کے طے کردہ معیارات پر کیا جس سے وہ ہی نتائج آئے جو مستشرقین کو مطلوب تھے۔ عالم اسلام میں اصلاح و ترقی کے نام پر تجدد و مغربیت کے جتنے علمبردار ہوئے، ان کے افکار پر مستشرقین کی چھاپ واضح دکھائی دیتی ہے۔ مستشرقین اور مسلم تجدد پسندوں کی طرف سے تیار کردہ لٹریچر کو امت کے بڑے طبقے نے قبول نہیں کیا اور وہ اس روایت سے جڑے رہے۔ راسخ العقیدہ علماء نے مستشرقین اور اہل تجدد کے افکار کا ناقدانہ جائزہ بھی لیا اور اسلام کا دفاع بھی کیا۔

تیسرے باب میں ڈاکٹر صاحب نے مسلم دنیا کے ان اسکالرز اور دانشوروں کا ذکر کیا جنہوں نے تحریک استشراق سے متاثر ہو کر تجدد و مغربیت کو اختیار کیا۔

پہلے ان میں اہل اقتدار اور امراء کا طبقہ آتا ہے۔ جن ترکی کے ضیاء گوک الپ اور مصطفی کمال اتاترک سرفہرست ہیں۔ ضیاء گوک الپ نے ترقی کو مکمل طور پر مغربی تہذیب کی پیروی سے مشروط قرار دیا، وہ مغربی تہذیب کے پرزور وکیل تھے اور وہ اس کے مکمل طور پر اپنانے کی بات کرتے تھے وہ اس کی اچھی چیزوں کو قبول اور بری چیزوں کو ترک کرنے والے تصور کو گمراہ کن کہتے تھے۔

کمال اتاترک بھی تجدد و مغربیت کے سب سے بڑے نقیب تھے، اس لیے انھوں نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اسلام کو ترکوں کی عملی زندگی سے بے دخل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔

کمال کی اصلاحات نے کئی اور مسلم اہل اقتدار ان کا گرویدہ بنا دیا، جن میں ایران کے رضا شاہ پہلوی، مصر کے جمال عبد الناصر، انڈونیشیا کے احمد سوئیکارنو، تیونس کے حبیب بورقیبہ اور لیبیا کے کرنل قذافی تجدد و مغربیت ہی کے علمبردار تھے۔

تجدد و مغربیت نے جدید مسلم دانشوروں کو بھی متاثر کیا جس کی مثال مصر کے ڈاکٹر طہٰ حسین اور پاکستان میں ڈاکٹر فضل الرحمان شامل ہیں۔ دونوں نے مسلمانوں کو مغربیت اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ ڈاکٹر طہٰ حسین نے حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کے تاریخی وجود کا ہی انکار کر دیا، وہ دینی غرض کے لیے عربی ادب کے مطالعہ کی مخالفت کرتے کہتے کہ اس کا مطالعہ بطور ادب ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان نے حدیث کے اوپر اعتراضات اٹھائے، ساتھ ہی معراج جسمانی کا بھی انکار کردیا اور اس کے متعلق تمام روایات کو جعلی قرار دیا۔ کچھ ایسے ہی نظریات غلام احمد پرویز کے بھی تھے۔

استشراقی اثرات نے کئی مفسرین کے دل میں بھی جگہ بنائی۔ اس بارے میں ڈاکٹر صاحب نے متعدد مشہور شخصیات کا ذکر کیا ہے جن میں مصر کے مفتی محمد عبدہ اور ان کے حلقہ فکر سے وابستہ شیخ رشید رضا، قاسم امین، علی عبدالرزاق اور شیخ طنطاوی جوھری شامل ہیں۔ ان سب نے مختلف معاملات پر تجدد و مغربیت کو قبول کرکے اسلامی تصورات کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔

برصغیر میں سرسید احمد خان، مولوی چراغ علی، ممتاز علی، سید امیر علی اور غلام احمد پرویز بھی تجدد و مغربیت سے متاثر ہو کر اس کے نقیب بنے۔

تجدد و استشراق کے یہ اثرات بانی قادیانیت مرزا غلام احمد اور قادیانیت کے دوسرے فرقے لاہوری جماعت کے بانی محمد علی لاہوری پر بھی پڑے۔

ڈاکٹر صاحب نے اس باب میں ان تمام حضرات کی تحریروں سے وہ افکار نقل کیے ہیں جن پر استشراقی چھاپ واضح دکھائی دیتی ہے۔

آخری باب میں ڈاکٹر صاحب نے تحریک تجدد کا جائزہ لیا کہ اس کو مسلمانوں میں محدود کامیابی ملی جو کہ اس کی ناکامی کی دلیل ہے۔

اس کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے مصنف کہتے ہیں کہ خود متجددین کے ہاں ایک طبقے نے یہ افکار بہ امر مجبوری قبول کیے جن میں مفتی عبدہ اور سرسید کا اقرار موجود ہے۔ پھر اس طبقے کے ہاں دنیاوی و مادی ترقی پر زیادہ زور ہے جبکہ عوام الناس اہل مذہب میں سے انھی لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو مادیت کی بجائے روحانیت کو پسند کرتے ہیں۔

ایک اور وجہ ان متجددین کی تحقیقات بھی جنیوئن نہیں، سرسید اور مفتی عبدہ کے بعد آنے والے متجددین ان دونوں ہی کے خوشہ چیں ہیں۔ تجدد رفتہ رفتہ دین کی حقیقی تعبیر سے بہت دور لے جاتا ہے اس وجہ سے امت کا راسخُ العقیدہ طبقہ کبھی بھی ان کو قبول نہیں کرتا۔

متجددین کو ڈاکٹر صاحب مشورہ دیتے ہیں کہ اگر وہ واقعی اسلام کا معروضی مطالعہ پیش کرتے ہیں تو ان کو یہودیت و عیسائیت کے روایتی اسلام مخالف طرز فکر سے آزاد کرنا ہو گا۔ اس حوالے سے مفتی عبدہ کے طرز فکر کو ڈاکٹر صاحب نے درست کہا ہے وہ فقط متجددانہ افکار کے لیے گنجائش پیدا کرتے ہیں اور روایتی فکر کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہیں بناتے۔

ڈاکٹر صاحب نے راسخ العقیدہ علماء کو بھی کچھ تجاویز دی ہیں کہ ان کا طرز عمل بھی ردعمل میں تجدد کو پیدا کرتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے چیزوں کو خواہ مخواہ خطرہ بنا کر راسخ العقیدہ تجدد کو راہ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ اگر کوئی زمین کو گول یا متحرک سمجھے، شرعی دلائل کی بنیاد پر سماع و موسیقی کی مطلق حرمت کی نفی کرے، نجی جہاد کی مخالفت کرے، چہرے کے پردے کو ضروری نہ قرار دے اور سائنسی ایجادات سے استفادے کی بات کرے تو یہ باتیں ہرگز تجدد قرار نہیں دی جا سکتی۔ راسخ العقیدہ علماء جب ان باتوں کو بھی تجدد قرار دیں تو یہ ان کی زیادتی ہے۔ ایسے ہی مغرب کی مکمل نفی والا رویہ بھی تجدد کے لیے ہمدردی پیدا کرتا ہے۔ مغربی تہذیب کی اچھائیوں کو اپنانے سے مسلم معاشروں کو فائدہ ہو گا اس میں اسلام کے خطرے والی بات درست نہیں ہے۔

ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ ان میں سے اکثر متجددین کو غلط تعبیرات اختیار کرنے پر گمراہ تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر دائرہ اسلام سے خارج نہیں۔ قادیانیوں کا مسئلہ الگ ہے کیونکہ وہ قانونی اور اجماعی نقطہء نظر سے امت مسلمہ کا حصہ نہیں۔

ایسے ہی متجددین کی ہر بات قابلِ رد نہیں بلکہ اگر کوئی بات اسلامی تصورات کو مزید مضبوط کرے تو اس کو بھی قبول کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر صاحب کی کتاب لائق مطالعہ ہے جس سے استشراق، استشراقی تعلیمات اور ان کے مسلم ملک پر اثرات کا بہت وسیع جائزہ لیا گیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: