نیرجا Neerja فلم اور کراچی واقعہ

0

دائروں کا سفر آج ایک انڈین فلم نیرجا(Neerja) دیکھنے کا اتفاق ہوا، فلم کی کہانی ایک جہاز کی ہائی جیکنگ کے واقعہ پر مبنی ہے جو پانچ ستمبر 1986میں پیش آیا۔ نیرجھا بھنوٹ جو کہ ایک ائرہوسٹس تھی اور اس کہانی کی ہیروئن ہے۔ نیرجا 5 ستمبر 1986 کو اپنے گھر سے نکلتی ہے تو ماں سےاپنے پسندیدہ تحفے کی فرمائش کرتی ہے چونکہ دو دن بعد اس کی تئیسویں سالگرہ ہے اور سالگرہ کے وقت وہ فلائٹ میں ہوگی۔ پھر ایک لڑکا جو اسے ائرپورٹ پر چھوڑنے آتا ہے۔ اس سے محبت کے عہد و پیمان کرتا ہے اور ایک خط دیتا ہے جو اس کو سالگرہ والے دن کھولنے کی تاکید کرتا ہے۔ نیرجا ایک جرمن ائرلائنز کی ملازم تھی اور یہ اس کی ہیڈ ائرہوسٹس کے طور پر پہلی فلائٹ تھی۔اس دن جرمن ائرلائن کی منزل بمبئی سے نیویارک تھی اور درمیان میں دو شہروں پر کچھ دیر کے لئے رکنا تھا۔ جہاز بمبئ سے اڑتا ہے اور اپنے اگلے سٹاپ پر لینڈ کرتا ہے۔ جہاز کے اندر صفائی کرنے والا عملہ داخل ہوتا اور ساتھ ہی چار ہائی جیکرز بھی فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہو جاتے ہیں۔ نیرجا فلائٹ پرسر کی حیثیت سے پائلٹس کو ہائی جیکنگ سگنل بھیجتی ہے اور تمام پائلٹس جہاز کے ایمرجینسی ایگزٹ سے فرار ہو جاتے ہیں۔ ہائی جیکرز کا تعلق فلسطین کے ابونڈال گروپ سے تھا، ان کے پلان میں جہاز کو سائپرس لے جانا اور بدلے میں اپنے کچھ ساتھیوں کی رہائی حاصل کرنا تھی۔ان کا پہلا پلان نیرجا ناکام کردیتی ہے۔ اس کے بعد کی کہانی عملے، ہائی جیکرز کے ائیر پورٹ انتظامیہ سے مذاکرات اور مسافروں کے اردگرد گھومتی ہے۔

یہ ساری کہانی سترہ گھنٹوں تک چلتی رہی۔ اس دوران ہائی جیکرز ایک امریکی شہری کو گولی مار کر جہاز سے نیچے پھینک دیتے ہیں۔فلم کے درمیان انتہائی جذباتی منظر وہ ہے جب نیرجا کو اپنی موت سامنے نظر آتی ہے، وہ اپنے دوست کا خط کھولتی ہے اور اس خط میں اس کے لئے شادی کا پیغام ہوتاہے۔ ہائی جیکرز نیرجا کو حکم دیتے ہیں کہ تمام مسافروں کے پاسپورٹ اکٹھے کرو تاکہ امریکی شہریوں کی شناخت کر سکیں، نیرجاتمام ائر ہوسٹس کو حکم دیتی ہے No American Passport تمام ائر ہوسٹسز کمال ہوشیاری سے تمام امریکی شہریوں کے پاسپورٹس سیٹوں کے نیچے پھینک دیتی ہیں اور 41 امریکی شہریوں کی جان بچا لیتی ہیں۔ پوری کہانی کا کلائمکس اس وقت ہوتا ہے جب جہاز کا انجن بند ہو جاتا ہے اور تمام بتیاں بھی گل ہو جاتی ہیں۔ ہائی جیکرز حواس باختہ ہو جاتے ہیں اور اندھا دھند فائر کھول دیتے ہیں۔ نیرجا مسافروں کے مدد سے ایمرجینسی ایگزٹ کھول دیتی ہے اور مسافر بھاگم بھاگ باہر نکلتے ہیں۔ نیرجھا کچھ بچوں کی ڈھال بنتے ہوئے گولیاں اپنے جسم پر کھاتی ہے اور اپنی جان سے چلی جاتی ہے۔

یہ فلم دیکھتے ہوئے میرے دل میں نیرجا کے لئے ہمدردی کے بے پناہ جزبات پیدا ہوئے کہ جس طرح اس نے فرض شناسی ،حاضر دماغی ،بہادری سے دہشتگردوں کو ناکامی سے دوچار کیا اور اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی۔لیکن یہ کہانی لکھنے کی وجہ نیرجا نہیں کیونکہ ہائی جیکنگ پر درجنوں فلمیں بن چکی ہیں۔ لکھنے کی اصل وجہ وہ افسوس اور شرمندگی ہے جو کسی نہ کسی طرح مجھ سے جڑی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ پورا واقعہ کراچی کے ہوائی اڈے پر پیش آیا ۔ہائی جیکرز لیاری کی گلیوں میں بیٹھے تمام پلانگ کرتے رہے، ائر پورٹ پر کچھ سیکورٹی اہلکاروں کا چکمہ دیا اور کچھ کو ہلاک کرکے جہاز تک بغیر کسی مزاحمت کے پہنچنے میں کامیاب رہے۔ہائی جیکرز نے ہماری سیکورٹی کے تمام حصار توڑےاور جہاز کے اندر اسلحے سمیت داخل ہو گئے۔ ان کے سہولت کار اور ہمدرد یقیناً پاکستان کے اندر موجود ہوں گےجہاں انہیں اسلحہ ،لاجسٹکس اور رہائش بھی دی گئی ہوگی۔ آج اکتیس سال گزرنے کے بعد بھی ہم اسی دائرے میں سفر کر رہے ہیں، دہشتگردوں کے سہولت کار، ہمدرد ہمارے اندر موجود ہیں اور ہم ان سے برسرپیکار ہیں ۔ اللہ ہمیں اس دائرے کے سفر سے نجات دے آمین۔

نوٹ: نیرجابھنوٹ بھارت کا اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کرنے والی کم عمر ترین خاتون ہیں اس کے علاوہ پاکستان کی طرف سے ان کوتمغہ انسانیت بھی دیا گیا اور وہ بہت سے بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔ ایک بچہ جس کی جان نیرجا نے بچائی وہ آج پائلٹ ہے اور اپنی زندگی کا ہر دن نیرجا سے منسوب کرتا ہے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: