پنجاب پولیس: سوال، جس کا جواب کوئی نہیں —- محمود فیاض

0

موجود حکومت کے لیے اب کلمہ خیر کہنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، مگر انہوں نے جو بھاری پتھر اٹھانے کے وعدے کیے تھے، اب ان کو چوم چوم کر رکھتے جا رہے ہیں تو تبرا تو بنتا ہی ہے۔

پولیس، خاص طور پر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پولیس لاء اینڈ آرڈر کے نظام کو عوام کے لیے حفاظت کی بجائے دہشت، نفرت اور خوف کی علامت بنا کر دکھاتا ہے۔ عمران خان نے متعدد مرتبہ اس محکمے کو ٹھیک کرنے کی امید دلائی تھی، اور مثال کے طور پر انہوں نے خیبر پختونخواہ کی پولیس کا ذکر کیا تھا، جہاں پولیس ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہو چکی ہے۔

یہ حقیقت بھی تجزیہ کاروں سے چھپی ہوئی نہیں تھی کہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کی پولیس میں کئی بنیادی فرق ہیں، جن کو سمجھے بغیر اس محکمہ کی درستگی ناممکن ہے۔ مکھی پر مکھی مارنے کے ویژن نے محض ناصر درانی کو پنجاب کے آئی جی لگانے کے اقدام پر ہی اکتفا کیا، اور اسکا انجام بھی انکے فوری استعفیٰ پر منتج ہوا۔ ضروری تو یہ تھا کہ اس وقت ناصر درانی کے تحفظات دور کیے جاتے اور پوری حکومتی طاقت سے انکو باور کروایا جاتا کہ آپ اپنا کام پوری آزادی سے کریں، تاکہ یہ محکمہ جو پنجاب کے لیے آزار بن چکا ہے ، عوام کے لیے بہتر کیا جا سکے۔ مگر افسوس ایسا نہ ہوا۔

صلاح الدین کیس پر پولیس تشدد جو پنجاب معاشرے کی ایک جانی مانی حقیقت ہے، ایک بار ایسے انداز میں سامنے آیا کہ سخت س سخت دل بھی تھرا اٹھے۔ ایک نیم پاگل، یا مجہول شخص۔ جس کو جرائم پیشہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے یا وہ خود چوریاں کرتا تھا، اس پر ایسا تشدد کرنا کہ اسکی بغلوں کی کھال جلا دینا، جسم ادھیڑ دینا اور ہڈیاں توڑ دینا، یہ ظاہر کرتا تھا کہ تفتیشی تشدد اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں انسان کو خدا یاد نہیں۔ فطری طور پر سوشل میڈیا اور انسانیت نے اس پر تکلیف کا اظہار کیا۔ اور محکمہ پولیس اور حکومت پر ایک بار پھر پریشر آیا کہ وہ اس محکمہ میں جاری غیر انسانی روایات پر از سر نو چیک لگائیں اور ممکن ہو تو بیگناہ اور کمزور کو اس نظام کی کڑکی سے بچائیں۔

پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں ابھی تک کیا اقدامات کیے ہیں انکی تفصیل زمینی حقائق کو تاحال بدلنے سے قاصر ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پچھلے چند ماہ میں جرائم کی شرح پچیس فیصد بڑھ چکی ہے۔ سوشل میڈیا پولیس تشدد، دیگر مظالم کی تفصیلی ویڈیوز سے اٹ چکا ہے۔ اور محکمہ پولیس میں کسی بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ جو جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس محکمہ کو جس طرح سے سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں استعمال کیا گیا ہے اور اس میں جس انداز سے پچھلے تیس سال میں بھرتیاں جاری رہی ہیں، اس سے اس محکمہ کا قارورہ ہی بدل چکا ہے۔ یہاں سیاسی وفاداریوں پر ہی نوکری کو مضبوط کیا جاتا ہے اور سیاست میں بدلتے حالات کے مطابق خود کو بدلا جاتا ہے۔ پنجاب میں شہباز شریف کے پولیس و پٹوار پر جن جپھے کو عثمان بزدار جیسے “تیلی پہلوان” سے چھڑوانے والے ویژن کو سات سلام ۔ کم از کم محکمہ پولیس میں دیانتدار آفیسران کی امیدیں ایک بار پھر بجھ گئییں کہ وہ کھل کر ریاست کی وفاداری کر سکیں۔ جو مافیا ہے وہ تو اپنا خدا پہلے سے جانتا ہے۔

حال ہی میں ہائیکورٹ سے ملنے والی کچھ اطلاعات کے مطابق تقریبا صد فیصد کیسز جو عدالتوں میں آ رہے ہیں ان میں پولیس نے ریکوری کا خانہ خالی چھوڑ رکھا ہے۔ جو عدالتی و قانونی مسائل سے نابلد ہیں انکے لیے عرض کردوں کہ ریکوری اس کو کہتے ہیں جب پولیس کے تفتیشی افسران ملزم سے پوچھ گچھ اور دیگر بھاگ دوڑ کر کے آلہ قتل، وجہ قتل، یا دیگر ثبوت دریافت کرتے ہیں۔ چونکہ پولیس کو تشدد سے منع کر دیا گیا ہے اس لیے پولیس نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ ریکوری ہی نہ کی جائے۔ یعنی بزبان حال یہ محکمہ کہہ رہا ہے کہ انکی ٹریننگ ہی نہیں ہوئی کہ ملزم پر تشدد کے علاوہ کسی طریقے سے شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔ باقی پوری دنیا میں نہ جانے یہ محکمے کیسے کام کرتے ہیں۔

خیر اس پولیسانہ اقدام سے اس وقت ہو یوں رہا ہے کہ عدالتیں بے بس ہیں کہ ریکوری کے بغیر شک کا سارا فائدہ ملزم کو ملتا ہے اور اصلی قاتل و مجرم بھی آسانی سے ضمانت یا رہائی پا رہے ہیں۔ ان پر فرد جرم عائد کرنا ممکن نہیں رہا۔

دوستو، آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایسے محکمے میں اصلاحات کرنا کسی عام ذہنیت کے بس کی بات نہیں۔ بقول آئن سٹائن، آپ نے جس ذہن کے ساتھ مشکل پیدا کی ہے، اسی ذہنیت کے ساتھ اس مشکل کا حل نہیں نکال سکتے۔ بالکل اسی طرح پولیس کے محکمے کی اصلاحات پولیس کے محکمے کے اندر سے ہونا ناممکن لگتا ہے، خصوصاً جب اس محکمے کے افسران کا اپنا ذہن تشدد کو بعض معاملات میں جائز و ناگزیر سمجھتا ہو۔ خصوصاً جب اس محکمے کی کیمسٹری ہی ایسی بن چکی ہو کہ سیاسی و علاقائی مافیا سے تعلق ہی کو بقا کی علامت سمجھا جاتا ہو۔

ایسے میں عمران خان کی حکومت، اور عثمان بزدار کی شرافت کیا کر سکتی ہے؟ یہ سوال آپ سے ہے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: