محمد الیاس کے تین ناول ——– نعیم الرحمٰن

0

محمد الیاس اسی کے عشرے میں منظر عام پر آنے والے اہم افسانہ نگاروں کی صفِ اول میں شامل ہیں۔ تین دہائیوں سے زائد مدت میں محمد الیاس اردو ادب کا دامن کئی بے مثال افسانوں سے مالا مال کر چکے ہیں۔ جن میں ’’دوزخ میں ایک پہر‘‘، ’’تحفہ‘‘، ’’سانولی سلونی‘‘ اور ’’دعا‘‘ جیسے افسانے شامل ہیں۔ ان کے نو افسانوی مجموعے قارئین کے ذوقِ مطالعہ کی بھرپور تسکین کر چکے ہیں۔ جن میں’’منظر پسِ غبار‘‘، ’’صدیوں پر محیط اک سفر‘‘، ’’مور پنکھ پر لکھی کہانیاں‘‘، ’’دوزخ میں ایک دوپہر‘‘، ’’لوحِ ازل پر لکھی کہانیاں‘‘، ’’آئینے میں گم عکس‘‘، ’’کٹریاں اور چوبارے‘‘، ’’اندھیروں کے جگنو‘‘ اور ’’گلیوں اور بازاروں میں‘‘ شامل ہیں۔ ارشد نعیم کا ایک دیباچہ میں کہنا ہے کہ محمد الیاس تعلقات عامہ سے بھاگے ہوئے درویش صفت تخلیق کار ہیں اور کسی صلے یا ستائش سے بے پروا افسانوی ادب میں خوبصورت اضافے کر رہے ہیں۔ انہوں نے چونکہ عملی زندگی کے کٹھن ادوار کا سامنا کیا ہے، اسی لئے ان کی کہانیوں میں مشاہدے کی گہرائی اور گیرائی بہت متاثر کن ہے۔ ان کا مشاہدہ اکثر اوقات اتنی جزئیات کے ساتھ افسانے کے قالب میں ڈھلتا ہے کہ اس پر مکمل تجربے کا گمان ہوتا ہے۔

خاقان ساجد کے مطابق محمد الیاس کے موضوعات کا کینوس بہت وسیع ہے۔ شائد ہی کوئی موضوع ان کے سحر آفریں، دل نشیں، دل ستاں قلم سے بچ سکا ہو۔ انہوں نے ہماری تہذیبی اور سماجی زندگی کی ہر کروٹ اور ہر قوس کو فن کارانہ چابک دستی سے اپنی گرفت میں لیا ہے۔ وہ اسی سرزمین کے باسی اور اسی پر بسنے والے انسانوں کی کلفتیں اور راحتیں بیان کرنے کے خوگر، اپنے کھیتوں، کھلیانوں، دریاؤں، پہاڑوں اور ریگستانوں کے سفیر بن کر اپنے لوگوں کے آدرشوں، انفرادی و اجتماعی رویوں، غموں اور خوشیوں، آسودگیوں اور محرومیوں کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ زندگی جن کی رقیب ہے، جو زندگی کے سوتیلے ہیں، محمد الیاس کا قلم بطورِ خاص ان بلادکشوں کا دم ساز ہے۔

کئی افسانوی مجموعوں کے بعد محمد الیاس کے قلم نے ناول کی جولان گاہ میں قدم رکھا اور یکے بعد دیگرے تین ناول تحریر کر کے اپنی دھاک بٹھا دی۔ محمد الیاس کا پہلا ناول ’’کہر‘‘ تھا۔ پھر انہوں نے ’’برف‘‘ تحریر کیا۔ ان کا تیسرا ناول ’’بارش‘‘ کے نام سے منصئہ شہود پر آیا۔ جس کے بعد انہوں نے تین مزید ناول ’’دھوپ ‘‘، ’’پروا‘‘ اور ’’حبس‘‘ بھی تخلیق کئے۔ اردو ادب کے بیشتر قارئین اور ناقدین یہ گلہ کرتے ہیں کہ اردو زبان میں اچھے ناول بہت کم لکھے گئے ہیں۔ اردو کے شاہکار ناولوں کو ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ مجھے اس نقطئہ نظرسے ہمیشہ اختلاف رہا ہے اور میرا دعویٰ ہے کہ اردو زبان کے قارئین اور ناقدین نے کئی اہم اور بڑے ناولوں پر توجہ ہی نہیں دی۔ اسی خیال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محمد الیاس کے ابتدائی تین ناولوں کا جائزہ پیش ِخدمت ہے۔

محمد الیاس کے تینوں ناولوں کے موضوعات، کردار، فضا اور کہانی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ لیکن ان کے بعض پہلو اور مرکزی کرداروں میں کسی حد تک مماثلت نظر آتی ہے۔ ناول نگار کا بنیادی موضوع مذہبی انتہا پسندی کے مختلف روپ، مذہبی اور جاگیرداری سماج کے استبداد کی بیخ کنی اور تمام انسانوں کی برابری اور اتحاد بین المذاہب کی تلقین ہے۔ مذہب کی من مانی تعبیر کرنے اور اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنیوالے اپنی راہ میں حائل ہونے والی کسی بھی رکاوٹ کو ہٹانے کی خاطر ہر اقدام درست سمجھتے اور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور انہیں مفتیانِ دین اور برتر سماج کی بھر پور حمایت میسر ہوتی ہے۔ ناول ’’کہر‘‘ کا مرکزی کردار خان اسلم اور زرینہ کا مہاجر خاندان اور ان کا اکلوتا کمسن بیٹا اکرم ذولقرنین عرف نین ہے، ناول کی اصل کہانی نین اور اس سے سات سال بڑی عیسائی میگی کی انوکھی داستان عشق پر مبنی ہے۔ ناول ’’برف‘‘ کا مرکزی کردار صوم و صلواۃ کے پابند کپڑے کے متمول تاجر شیخ نور الاسلام کی بیٹی اور چار بھائیوں کی اکلوتی بہن فخر النساء عرف بی بی جان ہے۔ کہانی فخر النساء اور ظفر کے ملکوتی اور بے مثل پیار کی ہے۔ جبکہ ناول ’’بارش‘‘ کا ہیرو وسیع جاگیر اور جائیداد کی مالک بیگم تاجور سلطانہ کا پوتا اور اکلوتا وارث شہر یار عرف شہری ہے۔ اس کی کہانی بھی شیری اور شہری کے منفرد قسم کی بچپن کی محبت کے گرد گھومتی ہے۔ تینوں مرکزی کردار معاشی طور پر مضبوط اور امیرخاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ منہ میں سونے کا چمچہ لیکر پیدا ہوئے۔ لیکن رواداری پر مبنی اور مختلف سوچ کا حامل ہونے کی وجہ سے اپنوں ہی کے نادانستہ فیصلوں اور تغافل کا شکار بن جاتے ہیں اور تمام عمر ان کے اپنے بھی انہیں نہیں سمجھ پاتے اور وہ انہی کے ستم کا نشانہ بنتے ہیں۔

محمد الیاس کی فکر اور کسی حد تک ناول کے موضوع کا اندازہ ہر ناول کے ابتدائیے اور انتساب ہی سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ ’’کہر‘‘ کا ابتدائیہ کچھ یوں ہے۔ ’’ابتدا! علیم و خبیر کے نام سے۔ جو جانتا ہے کہ زمین پر ظالم کی رسی دراز ہے۔ ‘‘ناول کا انتساب ہے۔ ’’ان انسان دوستوں کے نام۔  جنہوں نے اپنی زندگیاں۔  محروم طبقات کو غصب شدہ حقوق دلانے کیلئے وقف کر دی۔ ‘‘

’’برف‘‘ کا پہلا ورق الٹتے ہی قاری کی نظر ان الفاظ پر پڑتی ہے۔ ’’ابتدا! اللہ کے نام جو بندے کا ذہن اور دل اپنے نور سے منور کرتا ہے۔ ‘‘ اور انتساب ہے۔ ’’اللہ کے ان چنیدہ بندوں کے نام جو زمین پر محبت کی فصل بوتے ہیں۔ ‘‘

’’بارش ‘‘ کے پہلے ورق پر تحریر ہے۔ ’’ابتدا! اللہ کے نام سے جو بکھرے ہوؤں کو یک جا کرنے والا ہے۔ ‘‘ اور انتساب ہے۔ ’’غلام نسلوں کی نمائندہ انسان نما مخلوق۔ ہاریوں، مزارعوں، چوہڑوں، بھکاریوں اور کسبیوں کے نام جن کے خون پسینے کی کمائی، بھیک اور خرچی پر حکمراں اور مراعات یافتہ طبقے۔ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔‘‘

منشا یاد کا کہنا ہے کہ محمد الیاس ایک ایسا فکشن رائٹر ہے جو نمود و نمائش اور تعلقات عامہ کے اس دور میں الگ تھلگ رہ کر اپنی خوب صورت تحریروں سے اردو فکشن کو مالا مال کر رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بڑے ادبی کارناموں کے لئے گوشہ نشینی، بے نیازی اور میر تقی میر، میاں محمد بخش، مجید امجد اور قرۃ العین حیدر کی تنہائی پسندی کی تقلید از حد ضروری ہوتی ہے۔ میں ایک مدت سے ان کے افسانے پڑھتا اور ان میں چھپی ہوئی انسانی دردمندی کو دل ہی دل میں سراہتا اور فکری حوالے سے ان کے نسلی، سماجی، سیاسی اور مذہبی تعصبات کے خلاف فن کارانہ احتجاج کو دیکھتا آ رہا تھا۔ جب وہ بے نیاز مگر باکمال فکشن رائٹر ‘‘کہر‘‘ کا تحفہ لے کر افسانہ منزل پر طلوع ہوا۔ میری اس کے افسانوں سے دیرینہ شناسائی تھی۔ مگر ناول نے مجھ پر اس کے تمام فکری اور فنی کمالات ایک ساتھ وا کر دیے۔ اعتراف کے عنوان سے دیباچہ نے پوری طرح گرفت میں لے لیا۔ جس میں مصنف نے سارا دکھ، سارا غم و غصہ، اپنے دل کی بھڑاس نہایت مناسب الفاظ اور پیرائے میں بیان کر دی۔ چند ٹکڑے دیکھتے ہیں۔

’’جس معاشرے کو ظالموں نے یرغمال بنا رکھا ہو، مجھ ایسا کوئی بھی بے نوا ادیب سارا سچ لکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ظلم اور جبر کے نطفے سے منافقت اور ریاکاری جیسی فاحشہ اولادیں جنم لیتی ہیں۔ ایسے ماحول میں بہت سے نیکیاں بھی معاشرتی جبر کے تحت کی جاتی ہیں۔ ‘‘

’’زندگی کے ہر شعبے میں راہ بنانے کے لئے طالع آزماؤں نے چور راستے کھوج نکالے ہیں۔ جنت میں جانے کے لئے بھی شارٹ کٹ اختیار کرنے کی جستجو لگی رہتی ہے۔ دینی اور دنیاوی معاملات میں یکساں جارحانہ رویے اپنانے کا چلن عام ہے۔ ایسے سماج میں سچ بولنے والے کو جہنم رسید کرنے کے لئے رضاکار ہمہ وقت کمر بستہ رہتے ہیں، جن کا ایمان ہے کہ ایک ’’نابکار‘‘ کی لاش کے فاصلے پر جنت کا دروازہ ان پر کھل سکتا ہے۔ ‘‘

کہر کا آغاز کشمیر، پوٹھوہار اور پنجاب کے وسط میں کہیں آباد ایک چھوٹے سے قصبے سے ہوتا ہے۔ جہاں قیامِ پاکستان کے بعد ضلع امرتسر آگ اور خون کے دریا سے گزر کر آنے والے ضلع امرتسر کے زمیندار گھرانے کو جائیداد الاٹ ہوئی ہے۔ میاں بیوی اپنے کمسن بچے کے ساتھ ایک صبح ٹرین سے قصبے پہنچتے ہیں۔ سردی کی اس صبح مقامی دکان دار حافظ برخوردار، اسلم خان اور زرینہ کو اپنے گھر لے جاتا ہے۔ خان اسلم اور زرینہ کو ابتدا میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور الاٹ شدہ جائیداد اور زمین کا مکمل قبضہ حاصل کرنے اور قصبے میں اپنے قدم مضبوطی سے جمانے کے لئے مضبوط سہارا درکار ہوتا ہے۔ اسی مقصد کی خاطرخان اسلم اور زرینہ اپنی ہی زمینوں پر کچے گھروں میں آباد عیسائی گھرانے کے ایک فرد پاکھڑا پہلوان سے رشتہ استوار کرتے ہیں۔ پاکھڑا کی بیٹی میگی جو اکرم سے سات سال بڑی ہے۔ اس سے بیحد پیار کرتی ہے اور اسے نین کے نام سے پکارتی ہے۔ بچہ پیار کا بھوکا ہوتا ہے۔ اس لئے نین بھی میگی کا دیوانہ بن جاتا ہے اور اس کے بغیر پل نہیں گزارتا۔ اپنی ضرورت کے تحت زرینہ کو پاکھڑا پہلوان میں اپنا بچھڑا بھائی نظر آتا ہے لیکن جائیداد پر مکمل قبضے کے بعد اسلم اور زرینہ کو عیسائی خاندان سے ملنا جلنا ناگوار گزرنے لگتا ہے۔ زرینہ تہجد گزار اور عبادت گزار ہونے کے ساتھ بیحد توہم پرست اور وہمی خاتون ہے۔ نمازی پرہیزگار خان اسلم بیوی کی ہر بات پر آمنا صدقنا کرنے کا عادی ہے۔ مطلب براری کے بعد زرینہ کو غیر مذہب سے میل جول سے اپنا اور بچے کا ایمان خطرے میں نظر آتا ہے۔ اس قسم کے مواقع سے فائدہ اٹھانے والے تو عموماً آس پاس ہی ہوتے ہیں۔ جو زرینہ کے خیال کو مزید پروان چڑھاتے ہیں۔ زرینہ کو غیر مسلم خاندان سے دور رہنے کیلئے الہام بھی ہونے لگتے ہیں۔ جبکہ نین کسی صورت بھی میگی سے دور ہونے کو تیار نہیں۔ اس کا اسکول میں بھی میگی کے بغیر دل نہیں لگتا۔ بچے کی اس ضد کو جادو کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد ناول کا پورا پلاٹ نین اور میگی کی روز بروز پروان چڑھتی محبت اور خان اسلم اور زرینہ کی اپنے بیٹے کو میگی کے سحر سے بچانے کی کش مکش کے گرد گھومت اہے۔ میگی اور نین کا لگاؤ رنگ، نسل، مذہب اور سماجی حیثیت سے ماورا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اس انوکھے عشق کی اصل نوعیت کا قدرے بڑی عمر کی میگی کو بھی علم نہیں۔ وہ نین کو اپنا دوست، بھائی، بیٹا، باپ، محبوب اور شوہر سب کچھ مانتی ہے۔ نین کو بھی اس میں حقیقی ہمددرد، دوست، محبوبہ اور بیوی نظر آتی ہے۔ انسانوں کے درمیان مذہبی دیواریں حائل کرنے کے خلاف محمد الیاس نے ان کرداروں کی تشکیل کمال مہارت سے کی ہے اور ان کی وساطت سے اپنا پیغام بخوبی قاری تک پہنچایا ہے اور معاشرے کے تضادات اور فرسودہ روایات کا پردہ چاک کیا ہے۔

محمد الیاس کو کردار نگاری پر عبور حاصل ہے۔ ان کا قلم جو کردار بھی تشکیل دیتا ہے۔ کردار کا حلیہ، قد و قامت، رنگ ڈھنگ اور سراپا اس مہارت سے صفحہ قرطاس پر بکھرتا ہے کہ پڑھنے والے کے سامنے جیتی جاگتی شخصیت آ جاتی ہے۔ کہر میں بھی کرداروں کی ایک کہکشاں ہے۔ جو زندگی کے مختلف روپ اور انداز آشکار کرتے ہیں۔ نصیر الاسلام اور اسکی بیوی حسینہ بیگم بھی دو ایسے ہی کردار ہیں اور ان کے حوالے سے انوکھا کردار حضرت صاحب کا بھی سامنے آتا ہے۔ حضرت صاحب در اصل چودہ پندرہ سالہ گونگا اور ذہنی طور پر معذور لڑکا بگا ہے جو پاک پتن میں نصیر اور حسینہ کے ہاتھ لگ گیا۔ بگا کے بال پیدائشی طور پر سفید او رچہرہ دودھیا گلابی ہے۔ روشنی میں اسکی آنکھیں پوری طرح نہیں کھلتیں۔ دونوں میاں بیوی نے بگا کو پیر کے روپ میں پیش کر رکھا ہے اور بڑی تعداد میں خواتین اولاد اور دوسری منتوں کیلئے پیر صاحب کے پاس آتی ہیں۔ حسینہ ان عورتوں کو نشہ آور مٹھائی کھلا کر بلیک میلنگ کیلئے انکی برہنہ تصویریں لیتی ہے۔ نصیران کی آبرو ریزی بھی کرتا ہے۔ یہی حسینہ مکمل پردے میں حضرت صاحب کا پیغام لیکر زرینہ کے بھی جاتی ہے اور اسے عیسائی خاندان کی قربت کے سنگین نتائج سے آگاہ کر کے کافی پیسا بھی اینٹھتی ہے۔ بے شمار وارداتوں کے بعد یہ دونوں میاں بیوی قانون کی گرفت میں آ جاتے ہیں اور بگا اپنے والدین کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ بگا کا باپ اور چچا بھی دولت کے لالچ میں اپنے بیٹے کو بوستان نامی مجرم کو ٹھیکے پر دے دیتے ہیں۔ جو اسے لیکر پیر خانے کا نیا کاروبار شروع کر دیتا ہے اور جب بگا کے والدین کے مطالبات بڑھنے لگتے ہیں تو اسے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ کیونکہ زندہ پیر کے مقابلے میں مردہ پیر سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔

اکرم کے دوست جلال خان کا باپ حضرت گل بھی کہر کا دلچسپ کردار ہے۔ حضرت گل کبھی خرکار تھا اور اس نے لوٹ مار اور اس قسم کے کاموں سے کافی دولت جمع کر لی ہے۔ اس نے کشمیر کے جہاد میں حصہ لیا تھا۔ جہاں چودہ سالہ بملا کماری کی آنکھوں کے سامنے اس کے والدین کو انکا سونا چھین کر قتل کرتا ہے اور اسے بوری میں ڈال کر ساتھ لے آیا اور روتی پیٹتی لڑکی کو مسلمان کر کے اپنی بیوی بنا لیا۔ نکاح کے وقت بملا کماری سے کہتا ہے کہ اللہ کا شکر کرو تم کو مسلمان کر دیا۔ روز گوشت کھاؤ اور موج اڑاؤ۔ روؤ مت اللہ ناراض ہو جائے گا۔

عمدہ پلاٹ، شاندار اسلوب اور زندہ جاوید کرداروں سے مزین ناول ’’کہر‘‘ شروع سے آخر تک انتہائی دلچسپ ہے اور اس کا شمار بجا طور پر اردو ادب کے بہترین ناولوں میں کیا جا سکتا ہے۔

ناول ’’برف‘‘ کی کہانی دینداری پر نازاں شیخ نور الاسلام اور شریعت کی انکی خود ساختہ تعبیر کی بھینٹ چڑھنے والی انکی بیٹی فخر النساء کے گرد گھومتی ہے۔ شیخ صاحب کا ایمان ہے کہ لڑکی کا نکاح نہ کرنا بے حیائی کے فروغ کا باعث بنتا ہے اور والدین کو یہ فریضہ جلد از جلد ادا کر دینا چاہئے اور اس ضمن میں بیٹی سے پوچھنا قطعی ضروری نہیں ہے۔ شیخ نور الاسلام ایک دیندار کپڑے کے تاجر ہیں۔ جنہوں نے تمام عمر عبادت و ریاضت کے ساتھ رزق ِ حلال کمایا۔ سردی گرمی آندھی طوفان یا چاہے گھر میں میت ہی نہ پڑی ہو اذان کی آواز کے ساتھ موذن کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے شیخ صاحب مسجد کا رخ کر لیتے ہیں۔ ان کے چار بیٹے ہیں۔ انہوں نے چاروں کو میٹرک تک تعلیم دلائی۔ بورڈ کا امتحان دیکر جوں ہی بیٹا فارغ ہوتا تو نتیجہ آنے سے پہلے ہی شیخ نور الاسلام ایک بائیسکل، کپڑے کے آٹھ تھان اور کپڑا مانپنے کا گز دیکر بیٹے سے فرماتے کہ جا بیٹا، بے ایمانی مت کرنا، رزق کی کمی نہیں آئیگی۔ آٹھ دس ماہ میں سائیکل کے کیریئر پر مبنی دوکان کا سرمایہ بڑھ جاتا اور مزید ایک ڈیڑھ سال میں مال ایک کمرے کے برابر ہو جاتا تو بیٹے کی الگ دوکان کھول دی جاتی۔ اگلے سال سادگی سے اسکی شادی کر دی جاتی۔ شیخ صاحب کا سب سے بڑا بیٹا ضیاالاسلام پچیس سال کا اور سب سے چھوٹا تنویر الاسلام ساڑھے اٹھارہ سال کا ہے۔ چاروں بیٹے شادی شدہ اور تین صاحبِ اولاد ہیں۔ مین بازار میں چاروں کی الگ الگ دوکانیں ہیں۔ سب سے چھوٹی اولاد اکلوتی بیٹی فخر النساء ہے۔ چوتھی جماعت تک بیٹی سرکاری اسکول میں محلے کی لڑکیوں کے ساتھ جاتی رہی۔ پھر باپ نے صبح اور چھٹی پر لانے اور لے جانے کی ڈیوٹی خود سنبھال لی۔ بیٹی کو موٹی چادر اڑھا دی گئی۔ پہلے شیخ صاحب چلتے ہوئے سرِ راہ ہر کسی سے سلام دعا میں پہل کرتے۔ اب بیٹی سے آگے گارڈ کی طرح چلتے اور انداز جنگجو سپہ سالار کا اپنا لیتے۔ محلے کے لڑکے جو پہلے سلام کر کے دعائیں لیتے اب عجیب نظروں سے فخر النساء کو دیکھتے۔ شیخ صاحب ان سے کہتے کہ اسکول کالج کیوں نہیں گئے۔ سرِ راہ کیوں کھڑے ہو۔ چند لڑکوں نے ایسے سوال جواب پر بدتمیزی کی۔ انہی لڑکوں میں شامل ظفر احمد کے باپ نے شیخ صاحب کی شکایت پر ظفر کی کافی پٹائی بھی کی۔ فخر النساء انتہائی حسین ہی نہیں تھی اسے تعلیم کا بھی بیحد شوق تھا۔ لیکن اسکول کے راستے میں محلے کے لڑکوں کی معمولی چھیڑ چھاڑ پر وہ فخر النساء کی شادی دگنی عمر کے مولوی عمر فاروق سے کر دیتے ہیں۔ انکے خیال میں مولوی عمر فاروق کی زیادہ عمر اور پہلی بیوی کو طلاق کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور نہ فخری کی ماں کو بیٹی کی شادی پر رائے دینے کا کوئی حق ہے۔

شادی سے قبل ظفری نے گھریلو ملازمہ کے ذریعے فخری کو خط اور شناختی کارڈ کی کاپی بھیجی۔ خط میں لکھا تھا، فخر النساء میں کل عصر اور مغرب کی نماز کے دوران اس شخص کا جائزہ لیتا رہا جسے تمہارے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ وہ کسی طرح تمہارے لائق نہیں ہے۔

شادی کے بعد فخر النساء میٹرک کے پرائیویٹ امتحان میں اول آتی ہے۔ جس پر مولوی عمر فاروق کو کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ وہ افغان جہاد میں کامیابی اور افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام پر بیحد خوش ہے۔ عمر فاروق کے جہاد کا رُک کشمیر کی جانب ہو چکا ہے اور وہ اس کیلئے کثیر فنڈز اکٹھا کر چکا ہے اور یہ دولت گھر میں ہی چھپا کر کشمیر کے نام نہاد جہاد میں شریک ہو جاتا ہے۔ عمر فاروق ایک لالچی، سازشی اور مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرنے والا شخص ہے۔ جو جہاد کے نام پر مال بٹورنے میں کوئی ہرج نہیں سمجھتا اور یہ ہتھیائی ہوئی دولت گھر میں چھپا کر رکھتا ہے اور بیوی سے انتہائی ناروا سلوک روا رکھتا ہے اسے گھر جانے اور دیگر خواتین سے بھی ملنے نہیں دیتا۔ جہاد فنڈ میں ہیرا پھیری پر عمر فاروق قتل کر دیا جاتا ہے تو وہ شہید مشہور کر دیا جاتا ہے۔

فخر النساء شہید کی بیوہ ہو کر باپ کے گھر آ جاتی ہے تو شیخ صاحب کو ایک مرتبہ پھر بیٹی کا جنازہ جائز کرانے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ محلے کا ایک آوارہ لڑکا نیکوکاری کا ڈھونگ رچا کر شیخ صاحب کو متاثر کر لیتا ہے۔ پانچ وقت نمازیں، تبلیغی جماعت کے لوگوں کا ساتھ اور شیخ صاحب کی جوتیاں سیدھی کرنا۔ زبیر کی شہرت کے پیشِ نظر چاروں بیٹے اور بیوی بھی رشتے کی مخالفت کرتے ہیں تب شیخ صاحب بیوی سے پینتیس سالہ رفاقت توڑنے کی دھمکی دے ڈالتے ہیں۔ شیخ صاحب فخری سے کہتے ہیں کہ بیٹی! اب تم پر منحصر ہے کہ ماں باپ کی رفاقت قائم رکھنے میں میرا ساتھ دو۔ فخری جواب میں کہتی ہے کہ

’’آپ کی خوشی اسی میں ہے، تو ٹھیک ہے۔ میں اپنی ماں کو اس عمر میں بے وقار ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔ ‘‘

نکاح کے فوری بعد زبیر اپنے اصل رنگ میں آ جاتا ہے۔ شیخ صاحب نکاح فسخ کرانا چاہتے ہیں تو فخری کو اغوا کر لیتا ہے اور اس پر بہیمانہ تشدد کرنے کے ساتھ جنسی استحصال بھی کرتا ہے۔ تشدد کر کے اسے شراب نوشی پر مجبور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرے باپ کو قابو کرنے کیلئے بہت ڈھونگ رچانے پڑے۔ جب تو پوری طرح میرے رنگ میں ڈھل جائے گی تو واپس لے جاؤں گا۔ تب تو خود باپ سے شراب مانگے گی۔ شیخ صاحب پولیس میں رپورٹ کرتے ہیں تو زبیر کا باپ عجائب خان کہتا ہے کہ زبیر اور فخری ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ گئی ہے۔ شیخ صاحب کی بہت زیادہ بے عزتی ہوتی ہے۔ شیخ صاحب اب بھی یہی کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا پوری نیک نیتی کے ساتھ اور شریعت کے احکامات کے مطابق کیا۔ بس رشتہ داری غلط لوگوں کے ساتھ ہو گئی۔ بیٹی کے غم میں ماں سخت بیمار ہو جاتی ہے۔ آپریشن کا بھی فائدہ نہیں ہوتا۔ تب شیخ صاحب دعا کرتے ہیں۔

’’اے اللہ! اے غفور الرحیم! جو بھی میری بیوی سے میرے حق میں لغزش ہوئی ہے۔ میں نے سچے دل سے معاف کیا۔ تو بھی اس سے در گزر فرما اور جان کنی کے عذاب سے نجات عطا کر۔ ‘‘

یہ پارسائی کا غرور کہ اتنا کچھ ہونے پر بھی شیخ اپنی کوئی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور بیوی کی بیماری اور تکلیف کو بھی اس کے گناہوں کا شاخسانہ سمجھتا ہے۔ زبیر اپنی حرکتوں کی وجہ سے بالآخر قتل ہو جاتا ہے اور فخری ایک مرتبہ پھر بیوہ ہو کر لوٹ آتی ہے۔ اس کی ماں مر چکی ہے۔ ان تمام باتوں کے بعد بھی شیخ حاجی نور الاسلام باز نہیں آتے۔ بیوہ بیٹی کو گھر بٹھانا ان کے نزدیک عذابِ الہٰی کو دعوت دینا ہے۔ اس بار شیخ صاحب ایک جعلی عرب شیخ حاطب بن عبادہ المصری کو منتخب کرتے ہیں جو عرب بھی نہیں ہے اور یہ شیخ بھی قتل ہو جاتا ہے۔

پے در پے صدمات اور صبر و رضا کے نتیجے میں فخر النساء کندن بن جاتی ہے اور بی بی جان کے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔ ناول ’’برف‘‘ کے دراصل تین ہی کردار ہیں۔ فخر النساء عرف بی بی جان، شیخ نور الاسلام اور ظفر عرف ظفری۔ فخری اور ظفری ایک دوسرے سے نہ ملنے کے باوجود حقیقی اور پاکیزہ محبت کرتے ہیں۔ یہ تینوں کردار اردو ادب کے لازوال اور امر کردار ہیں۔ بی بی جان اور ظفری کے حوالے سے محمد الیاس نے زندگی کی مثبت قدروں کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ محبت میں ایثار اور قربانی کے معنی آشکار کئے ہیں۔ بی بی جان کا کردار انتہائی جاندار اور ناقابل فراموش ہے۔ اور شیخ نور الاسلام کے روپ میں مصنف نے نیکی اور پارسائی کا غرور کمال مہارت سے پیش کیا ہے۔ ایک انسان جب پارسائی کے غرور میں مبتلا ہو جائے تو وہ کس حد تک گر سکتا ہے اور کبھی بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا۔ مذہب کے نام پر عورت کا استحصال کس طرح کیا جاتا ہے یہ انتہائی چشم کشا ہے۔

زبیر، اس کے اہل خانہ، عمر فاروق اور اسکا باپ، ظفر، مس راجہ اور دیگر بے شمار کرداروں کے حوالے سے زندگی کے مختلف پہلووں اور ماحول کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نام نہاد جہاد کے نام پر کیا کچھ ہوتاہے۔ ہمارے ملک میں پولیس کا کردار کیا ہے۔ اصل نیکی اور سچائی کیا ہے یہ اور بہت کچھ ناول برف میں محمد الیاس نے انتہائی فنی مہارت اور چابکدستی سے بیان کیا ہے۔

محمد الیاس کا تیسرا شاہکار ’’بارش‘‘ ہے۔ بارش شہریار عرف شہری اور درشہوار عرف شیری کے انوکھے عشق کی داستان ہے۔ شہریار، بیگم تاجور سلطانہ کا پوتا ہے۔ جس کے ماں باپ ایک حادثے میں مر چکے ہیں۔ درشہوار، بیگم تاجور کے بھتیجے سردار وقار احمد کی بیٹی ہے۔ بیگم تاجور کے لئے ان کے اصول ہی زندگی ہیں۔ شہری ان کا اکلوتا وارث اور سہارا ہے لیکن اپنے اصولوں کی خاطر انہیں اس کی بھی پروا نہیں۔ شہری نے انتہائی شاہانہ انداز میں زندگی بسر کی ہے۔ لیکن وہ زندگی کی بہت سے حقائق سے واقف نہیں اور بہت سی باتوں میں وہ شیری کا محتاج ہے۔ منہ پھٹ شیری جو درست سمجھتی ہے کر گزرتی ہے۔ شہری اور شیری کے درمیان ایک ایسا انجان رشتہ ہے جو ٹوٹے نہیں ٹوٹتا۔

بیگم تاجور کے والد سردار مقدم ایام پیری میں سفر حج کے دوران چوبیس پچیس سال کے نوجوان عبد الرحیم مخدوم سے بیحد متاثر ہوئے اور اپنی اکلوتی بیٹی بیگم تاجور کی شادی اس سے کر دی۔ عبد الرحیم نے سردار مقدم سے کیا وعدہ نبھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ بیگم تاجور بھی اپنے شوہر کو بیحد پسند کرتی تھیں لیکن اپنی خود پسندی کے سبب کبھی اپنا رویہ نہ بدل سکیں اور مخدوم ایک بارش کی شام ایسے گھر سے رخصت ہوئے کہ پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے۔

درشہوار کا باب سردار وقار احمد ایک انتہائی با اثر بیوروکریٹ ہے۔ مزاج اور کردار کے اعتبار سے وہ خوبیوں اور خامیوں کا عجیب مجموعہ ہے۔ اس خاندان کا شمار ملک کے بڑے جاگیرداروں میں ہوتا تھا۔ سردار وقار بزرگوں کا بہت احترام کرتا تھا۔ سماجی اعتبار سے پست افراد کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتا۔ لوگوں کے کام کرنے کیلئے اپنا سروس ریکارڈ خراب کرنے سے بھی گریز نہ کرتا۔ بعض معاملات میں انتہائی ظالم اور بعض میں بیحد رحمدل تھا۔ مگر پرلے درجے کا بد زبان۔ خود کبھی ایک پائی رشوت نہیں لی لیکن اسٹاف کو مال بنانے سے نہیں روکا۔ نظریات کے اعتبار سے بھی سردار وقار احمد کی شخصیت تضادات کا مجموعہ تھی۔ وہ ملک کی نظریاتی اساس کے حوالے سے بھی جذباتی تھا تو جاگیردار اور سرمایہ دار طبقے کی بقا بھی اسے عزیز تھی۔ وہ ہم جنس پرستی کی قبیح عادت میں مبتلا ہے۔ جس سے بیٹی اور بیوی سمیت سب اہلِ خانہ آگاہ ہیں۔ خاندان کی ایک بزرگ فضیلت بیگم، سردار وقار کی بیوی صباحت کو میاں کی قبیح عادت چھڑانے کیلئے نواب نجف علی جواں بخت کا واقعہ سناتی ہیں۔ نواب صاحب کی اہلیہ ایک رات شوہر کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑی ہو گئی اور عرض کیا۔

’’حضور! آپ خوا مخواہ کیوں خوار ہوتے ہیں موتی سی آبرو گئی اور دولت بھی امرد پرستی میں بہائے چلے جا رہے ہیں۔ لونڈے کے پاس وہ کیا ہے، جو اس ناچیز کنیز کے پاس نہیں۔ اس کم بخت کے پاس ایک ہی مخرج ہے، جو حضور کو مرغوب ہے۔ ہم دونوں سے لیس ہیں۔ لیجئے شوق فرمائیے۔ یوں ہم دین و دنیا، دونوں سے تو نہ جائیں گے۔ شرم  و حیا ایک طرف رکھے ہم آسن بنائے پڑے ہیں۔ ایک بار پھر عرض ہے۔ ۔ حضور! تکلف نہ کیجئے، ہم پر علم ٹوٹے جو اف بھی کریں۔ امرد سے کم تر ثابت ہوں قسم ہے آپ عباس علمدار کی، خنجر گھونپ دیجئے گا۔ اری بہن کیا بتائیں؟ قبلہ نواب صاحب پانی پانی ہوئے جا رہے ہیں۔ چادر سے بیگم کا بدن ڈھانپا۔ چند لمحے خالی خالی نظروں سے دیکھنے کے بعد فرمایا، خوش اختر اب جو کبھی الٹی روش پر چلیں تو پہلے ہی قدم پر ہمارا تعزیہ ٹھنڈا ہو جائے۔ ‘‘

یہ اور بڑے اور مشہور خاندانوں کے ایسے کتنے ہی قصے محمد الیاس نے پیش کئے ہیں۔ کرداروں کی ایک کہکشاں ہے جو رواں دواں ہے۔ اگر ایک ایک کردار کا نام اور اس کی مختصرخصوصیات بھی بیان کی جائیں مضمون کو سمیٹنا ممکن نہیں ہو گا۔ ناول بارش محمد الیاس کے قلم کا شاہکار ہے۔ جس میں جہاں ہمارے جاگیرداری سماج کا کچا چٹھا کھولا گیا ہے وہیں بیورو کریسی کی سفاکی کو بیان کیا گیا ہے۔ عام لوگ اور خاندانی ملازم کس طرح ان کے اشاروں پر ناچتے پر مجبور ہوتے ہیں اور بغاوت کا کیا انجام ہوتا ہے۔ یہ سب حیران کن بھی ہے اور خوفناک بھی۔

یہ با اثر خاندان اپنے ذاتی مفاد کیلئے غیر تو غیر اپنوں کو بھی کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ یہی ناول بارش کا اصل موضوع ہے۔ شہری خاندان کی انہی روایات اور مفادات کی بھینٹ چڑھتا ہے اور اتنے بڑے خاندان اور جاگیر کا وارث ہونے کے باوجود تمام زندگی تنہا ہی گزار دیتا ہے۔ مختلف لوگ اس کی سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ شہری عام آدمی کا دکھ محسوس کرتا ہے۔ لیکن اس کی پرورش جس انداز سے ہوئی ہے۔ وہ ان تمام آسائشوں کو ترک نہیں کر سکتا۔ وہ اور شیری دو جسم اور ایک جان ہیں لیکن خاندانی مسائل انہیں دور کر دیتے ہیں اور شہری کو بزرگوں کے دباؤ پر جہاں آرا سے شادی کرنا پڑتی ہے۔ جس لڑکی سے متاثر ہو کر وہ خفیہ شادی کرتا ہے اسے سازشوں کے ذریعے ختم کرا دیا جاتا ہے اور بالآخر شیری ہی اس کی زندگی میں امید کی کرن بن کر داخل ہوتی ہے اور جہاں آرا کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ شہری اور شیری کو جدا کرنا ممکن نہیں ہے۔

محمد الیاس کے دیگر ناولوں کی طرح بارش میں بھی انسان کی رنگ، نسل، مذہب، زبان اور قوم میں تقسیم کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ تقسیم کتنی غیر فطری اور ناروا کیوں نہ ہو۔ زندگی کے حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور چند افراد کی انفرادی کوششیں اس پست و بالا کی تقسیم کو ختم نہیں کر سکتیں۔ لیکن انسانوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کرنے کی مذمت ضرور کی جانی چاہئے۔ اسی سے بہتری آئے گی۔

محمد الیاس نے اپنے تینوں ناولوں میں طبقاتی تقسیم کے خلاف آواز بلند کی ہے اور انسانی مساوات پر زور دیا ہے۔ ان ناولوں کی موجودگی میں اردو ادب کو اچھے ناولوں سے تہی دامن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اردو ادب کے قارئین کی خدمت میں ان کے دیگر تین ناولوں، افسانوں اور ناولٹس کا بھی تجزیہ جلد پیش کیاجائے گا۔ ان کی مزید تحریروں کا بھی انتظار رہے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: