شریف اعوان: رت بدلنے لگی رنگِ گل دیکھنا —- عزیز ابن الحسن

0

کئی مہینوں بلکہ برسوں کی بیک ڈور ڈپلومیسی یعنی فیس بک اور ٹیلی فونی مشاورت کے بعد بالآخر عزیز از جان برادر شریف اعوان سے سترہ اٹھارہ برسوں کے بعد ملاقات ہوئی تو
جیسے خوشبوئے زلفِ بہار آگئی، جیسے پیغامِ دیدارِ یار آگیا

کبھی کبھی یوں ہوتا ہے کہ کوئی دوست آپ سے اتنا قریب، آپ کے معاملات میں اتنا دخیل اور آپ کی زندگی میں اتنا شریک ہوتا ہے کہ اس سے خاص طور پر ملنے، ملتے رہنے یا پھر بہت طویل عرصے تک مل نہ سکنے پر بھی دوری کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا۔ آکسفورڈ ادبی میلے، اسلام آباد میں مجلس موسیقی سیشن میں رنگ بھرنے کیلیے گزشتہ دنوں وہ اسلام آباد آئے تو ازرہِ محبتِ قدیم خاکسار سے ملنے بھی تشریف لائے۔

ان سے ملے تو جیسے صدیوں کی دوری یک لخت مٹ گئ جیسے جنموں کا بیراگ لمحوں میں سنجوگ بن گیا۔ وہی خوشی وہی محسوسات اور وہی مسرت ہوئی جو روز کے ملنے والوں کو ہوتی ہے۔ نہ کوئ اوپرا پن نہ کوئ نمائشی تکلفی رویہ۔ ہم ملے تو بغیر کسی تمہیدی گفتگو کے گھنٹوں یوں محو تکلم رہے کہ رسمی کلمات ادا کرنا بھی یاد نہ رہا اور باتیں یوں شروع ہوئیں جیسے ابھی کل کی چھوڑی ادھوری بات پوری ہورہی ہو۔

چالیس برس اُدھر کی بات ہے۔ میں تو چلئے پھر بھی نام کے ایک شہر، سانگھڑ، کا باسی تھا مگر یہ شریف اعوان تو قسم کھانے کی حد تک ایک نج نخالص دیہاتی لڑکا تھا۔ بعد کو سندھ کے دوسرے بڑے شہروں، حیدرآباد اور کراچی وغیرہ، میں جاکر تو ہم سب ہی وہاں کے شہری اطوار والے لڑکوں کے پیچ پینڈو ہی گنے گئے تھے مگر سچ پوچھئے تو اُس وقت سانگھڑ میں شریف اعوان مجھ جیسے قینچی چپل گھسیٹے پھرنے والے گنوار کو بھی بس کچھ ایویں ہی سا لگا تھا۔

ہم “شہر” کے پلے اور “پڑھے” ہوئے تھے جبکہ میرا یہ برادر جان برابر میٹرک سانگھڑ کے بیرونجات میں واقع چک نمبر3 کے ہائی اسکول سے، اور تب کے لحاظ سے بہت اعلان نمبروں میں کرکے “اعلی تعلیم” کے لئے سانگڑ کے اکلوتے گورنمنٹ کالج میں ایف ایس سی کرنے کے لیے آیا تھا۔ اس کی تعلیم مجھ سے اس اعتبار سے بھی اعلی اور آگے تھی کہ جب میں گورنمنٹ ہائی سکول سانگڑ سے میٹرک کرکے نواب شاہ روڈ پار والے کالج (موجودہ نام صبغۃ اللہ شہید کالج) میں داخل ہوا تو شریف اعوان وہاں سے مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے لیاقت میڈیکل کالج، جامشورو کے لئے کوچ کرنے والا تھا۔ میں کہ ابھی کالج کی فضا سے ناآشنا اجنبی کے طور پر سہما سہما اور اپنے آپ میں گم گم پھرتا تھا شریف اعوان کالج کے ایک نمایاں طالب علم کے طور چہک مہک اور خصوصاً اردو کے اساتذہ پروفیسر فضل حق خورشید اور پروفیسر اشفاق احمد بخآری کی آنکھوں کا تارا بن کے چک رہا تھا۔ اپنے دوسرے ہم جماعتوں میں یہ اتنا نمایاں اور اساتذہ کی نظر میں اتنا اعتبار پا چکا تھا کہ سانگھڑ کالج میگزین کے ایڈیٹر کیلیے بھی اساتذہ کی نظر انتخاب اسی پر پڑی تھی۔ لیجئے مدیرِ مکرم سے میرے پہلے اختلاف کی بِنا یہیں پڑ گئی۔ کالج میگزین کے لیے ایف ایس سی سال اول کے اس کودکِ خاکسار نے “مسئلہ قومیت، اقبال اور حسین احمد مدنی” کے عنوان ایک مضمون گھسیٹ مارا جو اس دور، 82-1981 میں، پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی تحریریں پڑھتے ہوئے مجھ پر وارد ہوا تھا۔ شریف اعوان نے بطور ایڈیٹر، یا ویسے ہی، اس مضمون کے مندرجات سے کچھ اتفاق نہ کیا۔ گویا اگر ہم اس وقت بعمر اٹھارہ برس اپنے محلے کے چھوٹے موٹے دانشور تھے تو شریف اعوان کا شمار تب بھی ہم سے کئ گز آگے کے اصحابِ علم میں ہوتا تھا۔ معلوم نہیں کہ وہ میگزین کبھی چھپا یا نہیں چھپا، لیکن اس مضمون کے ضائع ہوجانے کا دکھ آج بھی طبیعت کو ملول اور اس مسئلے پر خیالات کو تازہ رکھے ہوئے ہے۔

شریف اعوان سے میرا راست تعلق اگرچہ کالج کے زمانے میں ہوا اور ہم ایک دوسرے سے بہت بعد میں ملے لیکن ہمارے والدین اور ہمارے بڑے بھائی صاحبان اس حادثۂ نافاجعہ (مشارٗ الیہ پہلوٹھی کے مضمون کی گم شدگی کو سمجھا جائے) سے برسوں پہلے ہماری پیدائش کے زمانے سے ہی ایک دوسرے کے بہت قریبی جاننے والے تھے۔ ایک سے ماحول، ایک سے حالات اور ایک سی مزدورپیشگی نے ہمارے والدین کو ہمیشہ سے بہت قرب میں رکھا تھا۔ اس زمانے میں عام سواری اپنی ٹانگیں یا زیادہ سے زیادہ سائیکلیں ہوتی تھیں۔ شریف اعوان کا آبائی گاؤں اگر چک نمبر 3 تھا تو میرے والدین بھی شہر سانگھڑ میں آباد ہونے سے پہلے وہیں قریب کے ایک گاؤں چک نمبر گیارہ سے اٹھ کر شہری زندگی میں آئے تھے۔ اسکول مدرسے کی زندگی شروع ہونے سے کہیں پہلے ابا کی سائیکل پہ بیٹھ کر گاؤں سے شہر میں آنا اور راستے میں پڑنے والی سیم نہر کے کناروں کو نہر کھودنے والی مشین کے ہاتھوں تیزی سے اونچے اونچے ٹیلوں میں بدلتے دیکھتے جانا اُس وقت آٹھ نو سالہ بچے کے لیے ایک ایسا زندہ تجربہ تھا مگر ان ٹیلوں کی یاد کو آج تخیل کے دیدبان نے ایک پرسرار ہیولوں میں بدل دیا ہے۔ یہی سیم نہر جو ہماری طرف چک نمبر گیارہ سے آنے والے راستے میں پڑتی تھی وہ وہی نہر تھی جو اُدھر شریف اعوان کے چک نمبر 3 سے شہر میں داخل ہونے والے راستے کی زمینوں کا شور آلود پانی اپنے جلو میں بھرتی اپنے پراسرار ٹیلوں کی معیت میں جمڑاؤ ہیڈ میں جا پڑتی تھی۔ نہیں معلوم کہ اُس طرف شریف اعوان بھی اپنے ابا کی سائیکل پر بیٹھ کر شہر آتے ہوئے میری طرح ایسے ہی منظروں میں کھویا رہتا تھا یا نہیں لیکن اتنا تو بہت اچھی طرح یاد ہے کہ اس کے والد اپنے گاؤں سے اسی سیم نہر پر اپنی طرف بنے پل گزر کر جب شہر میں داخل ہوتے تو ان کا پہلا پڑاؤ میرے ابا اور بھائیوں کے پاس ہی ہوا کرتا تھا۔ یہ بھی یا پڑتا ہے کہ کالج میں شریف اعوان سے ملاقات ہونے سے بہت پہلے میں نے اپنے بھائیوں کے پاس ان کے ابا کو بکثرت آتے اور گھنٹوں بیٹھ کر چائے پیتے اور گپیں لگاتے دیکھا تھا۔ ہمارے بزرگوں میں جب ایسا قرب اور یگانگت کا ماحول تھا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ بعد کی عمروں میں میرے اور میرے اس برادرِ بزرگ کے مابین زمین کے کالے کوس اور اوگھٹ زمانوں کے لمبے فاصلے قرب کے احساس کو دھندلا کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے روز شریف اعوان اور میں اتنے برسوں کے بعد بھی یوں ٹوٹ کے ملے کہ کہ گویا کبھی جدا ہی نہ تھے۔

1983 میں میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی، حیدرآباد میں برقی مہندسی پڑھتا تھا اور شریف اعوان لیاقت میڈیکل کالج جامشورو میں ایم بی بی ایس کے دوسرے تیسرے سال میں تھا۔ مجھے یاد ہے میں اپنے ہاسٹل واقع وحدت کالونی، حیدرآباد سے اسے ملنے اس کے ہاسٹل جامشورو میں جاتا تو ہاسٹل کے برآمدوں کی چھوٹی دیوار پر بیٹھ کر کسی نہ کسی موضوع پر ہماری طول طویل باتیں ہوتیں۔ وہ اس وقت مولانا مودودی کے تفسیری نکات کا شیدائی تھا اور میں ڈاکٹر اسرار احمد کی خطابت و درس قرآن کا قتیل۔ ہم دونوں کے درمیان مذہبی اور دینی خیالات کے اشتراک کے ساتھ ساتھ ادبی اور فارسی شعری ذوق بھی ایک متحدہ میدانِ بدعملی تھا۔ یاد پڑتا ہے کہ اسی ہاسٹل میں ایک روز میں نے اس کے سامنے فارسی کا یہ معروف مصرعہ

زبان یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم

پڑھا تو اسنے اس کا مصرعِ ثانی

چہ خوش بودے اگر بودے زبانش در دہانِ من

سنا کر بدن میں وہ تھرتھری جگائی کہ آج اڑھتیس برس بعد بھی یہ شعر سامنے آتے ہی کام و دہن میں لبوبِ کبیر و صغیر کا شہد گھولنے لگتا ہے اور اس کیف کا تو ذکر ہی کیا کہ جب کوئ سیاہ چشم کشمیری کی جنمی نیم باز آنکھوں والی ثمر قندی اس مصرعے کی یوں قرات کرکے مخاطَب کی عادت بگاڑنے اور ایمان غارت کرنے کا سامان بیک جنبشِ لب کرے کہ
چہ خوش بودے اگر بودے زبانم در دہان تو

مذہب، تاریخ، ادب اور شاعری کے علاوہ اس زمانے میں شریف اعوان کا ایک مستقل شوق تجوید اور قرات بھی ہوتا تھا۔ وہ عمر کہ جس میں نوجوانوں کو فلمی گانے اورغزلیں گنگناتے کالجوں کے سامنے والی سڑک پر محبوباؤں کے انتظار میں ٹہلنے کے مشاغل درپیش ہوتے ہیں اس دورِ شبابِ کو شریف اعوان نے خالص بوڑھوں والے شوق (بلکہ اِس زمانے کے اعتبار سے چارۂ بیچارگی کہیے) یعنی زیرِ لب قرآن پاک کی آیتوں کی تلاوت سے شیریں تر کرتے گزارا ہے۔ ہاں یہ امر بھی خاطر نشین رہے ہے کہ یہ کوئی عصمت بی بی از بے چارگی والا معاملہ نہیں تھا۔ شریف بھلے کو ایک غریب گھرانے کا فرزند تھا مگ بعمر 57 سال بھی یہ أج بھی اتنا وجیہہ و شکیل اور گل بدن ہے کہ اس روز جب یہ مجھ سے ملنے اسلامی یونیورسٹی آیا تو میرے ایک ہم کار سمجھے کہ شاید یہ یہاں پی ایچ ڈی کا کوئی اسکالر وغیرہ ہے۔ تو قیاس کیجئے کہ 1983 میں ایک نوعمر ایم بی بی ایس طالبعلم ڈاکٹر کے طور پر یہ کیسا لگتا ہوگا! ذرا سا شہد ملے سفید دودھ کی سی رنگت، سیاہ بال اور سیاہی مائل بھوری باریک مونچھیں، چھریرا بدن اور باریک چمپئ جلد والے گالوں کے اوپر چمکتی آنکھوں پر پتلے شیشوں کی عینک لگانے والا بائیس تیس سالہ شریف اعوان! اس وقت ہم اس لڑکے میں شرمیلی لڑکیوں کی سی نزاکت اور مردانہ وجاہت کا عجیب امتزاج دیکھا کرتے تھے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تجوید و قرات اور قرآن پاک کی تلاوت اس کیلئے سراسر ذوقی و شوقی معاملہ تھا۔ آپ جہاں اسے تنہا پاتے اسے ہلکے سروں میں قرآن پاک کی آیتیں پڑھتے دیکھا جا سکتا تھا۔ ایسا نیک وجیہ اور قابل دوست تھا میرا یہ دیہاتی ایم بی بی ایس طالبعلم!

مگر ایں، یہ کیا؟ اس زمانے میں جب کہ اچھے خاصے اونچے گھرانے کے نوجوانوں کے لیے ڈاکٹر بننا ایک آئیڈیل ہوتا تھا شریف اعوان نے یکایک اپنا راستہ بدل لیا اور سول سروس کا امتحان دے ڈالا۔ یہی نہیں بلکہ نہایت اعلی نمبروں میں پاس بھی کیا۔ اس کوچے کا مجھے چونکہ بالکل کچھ پتہ نہیں، لیکن سننے میں آیا ہے کہ سب سے اونچے درجے میں پاس ہونے والے اس دور میں کوئی ڈی ایم جی گروپ اختیار کیا کرتے تھے۔ مگر شریف نے یہاں بھی پورے ہوش و حواس سے اختیاری طور پر اپنے لیے ایک مختلف شعبے، فارن سروس کا انتخاب کرلیا کہ باہر ملکوں میں جانے، وہاں کا تہذیب و تمدن جاننے، مختلف زبانیں سیکھنے بولنے اور رنگا رنگ مخلوقِ خدا سے ملنے جلنے کے موقعے نکلتے رہیں گے۔ تب پہلی مرتبہ میری آنکھوں نے اس جوان رعنا کو ایک بدلے ہوئے حلیے میں دیکھنا شروع کیا۔ اس سے پہلے ہم اسے ہمیشہ شلوار قمیض میں ملبوس دیکھا کرتے تھے بس اس فرق کے ساتھ کے لیاقت میڈیکل کالج جامشورو میں وہ پینٹ شرٹ بھی پہننے لگا تھا۔ لیکن جب اس نے سول سروس اختیار کرلی تو اب اس کا پہناوہ دیکھتے ہی مجھے اس زمانے میں سندھ کے وزیر اعلی غوث علی شاہ کی خوش لباسی یاد آیا کرتی تھی۔ سفید براق شلوار قمیض اور اوپر کالی واسکٹ پہنے شریف اعون جب اس چھوٹے سے شہر سانگڑ کی سڑکوں اور گلیوں میں سے گزرتا تو اپنے ہی انداز کا ایک بانکا معلوم ہوتا تھا۔

منظر بدلتا ہے۔ سال 1987 ہے۔ میرے پاؤں کی قینچی چپل بدل چکی ہے اس کی جگہ اب باٹا کی سپر ون سوفٹی ہے۔ (پینوراما سنٹر، مال روڈ، لاہور کی ایک باٹا شو دکان پر سانگھڑ سے میرے ساتھ چلی مجھ دیہاتی کی اس سپر ون سوفٹی کے ساتھ جو لطیفہ ہوا وہ میں کسی اور موقعے پر درج کروں گا) میں اسی چپل کے ساتھ اب لاہور آ گیا ہوں اور شریف اعوان سول سروس اکیڈمی لاہور میں ٹریننگ کا عرصہ گزار رہا ہے۔ لباس اس کا وہی کریزدار شلوار قمیض، اوپر کالی واسکٹ، لیکن پیروں میں میری جیسی سپر ون سوفٹی نہیں بلکہ سیاہ چمکدار بوٹ ہیں۔ لاہور میں بھی اس سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن اب اعوان صاحب عالمِ افسری میں داخل ہورہے تھے اور ہم وہی ادیبوں کے جھرمٹ اور پاک ٹی ہاؤس کی مجلسوں میں جوتیاں چٹخاتے

ع  پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں

کی تصویر بنے گھوما کرتے تھے۔

افسر ہوکر بھی شریف اعوان کے مزاج میں افسری کی خو بو اگرچہ کبھی نہیں آئی مگر سراج منیر اور ڈاکٹر برہان احمد فاروقی جیسے درویشوں کی صحبت نے نے مجھ فقیر کو ایک الگ ہی ڈھنگ سکھایا تھا جس کا ایک رنگ، اور چوکھا رنگ، افسروں سے دور رہ کر خوشحال و خوش باش زیست کرنا، ترجیحِ اول کے طور پر ہمیشہ ساتھ رہا۔ کچھ افسر نما مویشیوں پشوؤں کی بداطواری کے بل نکالنے کیلیے ہم نے مصحفی کے مسلک کو ہمیشہ علاج بالمثل کی سی دور رس قوت تاثیر کا حامل پایا تھا ولہذا اسی پر عمل پیرا رہ کر اپنی زندگی کو سکھی رکھا ہے۔

نخوت سے جو کوئی پیش آیا
کج اپنی کلاہ ہم نے کر لی

یا پھر بقول میر

چلے ہم اگر تم کو اکراہ ہے
فقیروں کی اللہ اللہ ہے
نہ افسر ہے نے درد سر نے کلہ
کہ یاں جیسا سر ویسا سرواہ ہے

قصۂ درویشِ جدید و افسرِ شریف یعنی اپنے برادر جان برابر کے ذکر سے یہاں ذرا گریز کرتے ہوئے سراج منیر کا ایک لطیفہ سنائے بغیر آگے بڑھنے کو جی نہیں چاہتا۔ فورٹریس سٹیڈیم لاہور میں ایک دفعہ میلۂ مویشیاں لگا ہوا تھا۔ معروف شاعر شہزاد احمد کا گھر اسی علاقے سے گزر کے کہیں آگے تھا۔ ایک دفعہ وہ سراج بھائی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ باتوں باتوں میں کہنے لگے
“سراج میلہ مویشیاں دیکھنے نہیں گئے”؟
سراج بھائی ترنت بولے
“جب جی کلبلاتا ہے تب اٹھ کے چل پڑتا ہوں۔ بس فوٹرس سٹیڈیم کی بجائے مخالف سمت پکڑتا ہوں۔ لوئر مال پر واقع سول سیکریٹریٹ میں ایک سے بڑھ کر ایک پشو پنکھی اور مال مویشی موجود پاتا ہوں۔ کوئی گھوڑے کیطرح ہنہناتا خوب ہے، کوئی گدھے کی طرح دولتیاں اچھی جھاڑتا ہے۔ کوئی کوے کی طرح کائیں کائیں کرتا ہے تو کوئی طوطے کی طرح آنکھیں اچھی پھیرتا ہے۔ ٹک دیکھتا ہوں دلشاد کرتا ہوں اور نکل آتا ہوں!”🙂

ہاں تو ذکر تھا اپنے اس برادر عزیز اور افسرِ شریف کا جو بڑا افسر تو بن گیا مگر سانگھڑ کی دیہاتی مٹی نے اس کے مزاج میں جو ایک فروتنی، خاکساری، نیازمندی اور محبت رکھی تھی اس میں اس نے ذرا کمی نہیں آنے دی تھی۔ اوپر سراج منیر کے حوالے سے ہمارے ایوان ہائے افسران یعنی صوبائ و مرکزی سول سکریٹریوں کے استھان میں پائے جانے والے جس قماش کے ڈھور ڈنگروں کا ذکر ہوا، اس تازہ ملاقات پر ایسی ہی کچھ مخلوق کے چند واقعات شریف اعوان نے بھی سنا کر خوب محظوظ کیا۔ بتایا کہ ملازمت کے چند مراحل میں ان کے کچھ افسران بالا ان سے خواہ مخواہ پرخاش کھانے لگے تھے۔ کسی ایسے ہی اللہ کے بندے کے ہاتھوں انہیں حیدرآباد میں ایک ایسے اسٹیشن پر لگا دیا گیا جہاں کرنے کا کچھ خاص کام نہیں تھا۔ لمحاتِ فراغت کی کثرت تھی اور ذمہ داری کوئی تھی نہیں تو میں نے اس وقت کو غنیمت جانا اور موسیقی کے مہان استادوں سے راگ ودیا کا وگیان لینا شروع کر دیا۔ بڑے افسروں کی یہ “مہربانی” میرے لئے ایک نعمت بے بہا ثابت ہوئی۔ میں نے کلاسیکی موسیقی میں بڑی مشق بہم پہنچائی۔ افسروں نے تو اپنی طرف سے مجھے زچ کرنے کے لئے یہ اہتمام کیا تھا مگر انہیں کیا پتہ کہ ان کی اس کرم فرمائی کی بدولت مجھ پر فن موسیقی کے مہان راگ داروں نے اپنے لطف و عنایت کے کون کون سے در وا کردئیے ہیں۔ ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ “35 سالہ عرصۂ ملازمت مجھے تکلیف دینے والے چار میں سے دو افسر تو اپنے انجام کو یوں پہنچے کہ برملا اپنے کیے کی مجھ سے معافی مانگی جو میں نے کھلے دل سے دی مگر ہوتا یوں تھا کہ میں جس جس کو معاف کرتا تھوڑے دنوں بعد ہی وہ مر جاتا تھا۔ ان متاخرین میں سے دو ایک لوگ ابھی باقی ھیں۔ یوں تو بہت بدحال ھیں۔ ذہنی اور طبعی اعتبار سے۔۔ لیکن کبھی کبھی سوچتا ھوں کیوں نہ ان کو بھی صدق دل سے ‘معاف’ کر دوں۔۔۔ پھر خدا کی ذات سے ڈر جاتا ھوں۔ اب جی چاھتا ھے کہ وہ اپنی طبعی خواری کی عمر گزاریں اور طبعی موت مریں”۔۔۔!!!

کسی کی معافی میں ایسی تاثیر تو ہم نے دیکھی نہ سنی۔ ان کے معاف کرنے کی یہ موت گیر کرامت سن کر میں نے بھی ان سے اتفاق کیا کہ اپنے ایزا رسانوں کی معافی تلافی کا یہ کام آپ نا ہی کیا کریں تاکہ ان کا عرصۂ حیات دراز تر رہے🙂!

لگتا ہے کہ اس تذکرۂ شریف و لذیز میں کچھ زیادہ ہی آگے آگیا ہوں۔ اس لیے بہتر ہے کہ بات کا سرا پھر پیچھے سے پکڑا جائے کہ اس زمانے سے جڑا ہوا ایک لطیفہ سنائے بغیر آگے بڑھنا بات بےمزہ کرنے والی بات ہے۔ 1995 میں جب میں نے لاہور چھوڑ کر اپنے پرکھوں کے شہر حسن ابدال میں گھر آباد کیا تو میرے اس گُنوں والے بھائی اور دوست کی تعیناتی اس سے بہت پہلے ہی لاہور سے اسلام آباد میں ہوچکی تھی۔ میرے گھر ان دنوں سوئی گیس کا کنکشن نہیں لگ رہا تھا۔ محکمے والے طرح طرح کے بہانوں سے ٹرخا رہے تھے۔ ایک دن بیٹھے بٹھائے خیال آیا تمہارا دوست جو اتنا بڑا افسر ہے وہ آخر کس دن کام آئے گا؟ تو ایک روز اچانک آستانۂ عالیہ شریفیہ اعوانیہ میں وارد ہو کر چائے پی اور اس سے “حاملِ رقعۂ ہذا” قسم کا پروانہ لے سوئی نادرن گیس کے ایک افسر بالا کے منہ پر جا مارا۔ گیس کنکشن اس رقعۂ حملیت کے کتنے عرصے کے بعد لگا، اب یہ تو یاد نہیں لیکن دفتر سے نکلتے ہوئے برادرِ شریف و ظریف نے ایک ایسا لطیفہ سنایا جو آج تک جملہ کمزوریوں کے موقع پر پہلا گفتۂ شگفتہ بن کر یاد آتا ہے اور کمزوری کی زد میں آئے فریق کا غصہ فرو کرنے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ برادر من بولے کہ اگر کنکشن فوراً نہ لگا تو میں گیس کے جی ایم کو پھر فون کرونگا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ تم مجھے فون کر کے یاد دلاتے رہو کیونکہ میں بات اکثر بھول جاتا ہوں اور پھر یہ لطیفہ کہ “بھائی بات یہ ہے وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ

‘ہماری دو ہی کمزوریاں ہیں۔ ایک تو عورت ہماری کمزوری ہے اور دوسری ہمیں مردانہ کمزوری ہے۔’
تو میرے بھلکڑپن کی کمزوری کا خیال رکھنا”

اب ہمارے شریف اعوان کا بھلکڑ پن تو ایک ایسا موضوع ہے کہ جس کے بلامبالغہ بیسیوں واقعات ہیں۔ اس ذکر کے ساتھ ہی اکبر معصوم کی یاد بے طرح دل کو ستانے لگی ہے کہ ان میں سے اکثر باتیں اکبر معصوم کی سنائی اور کچھ بھائ صاحب کی اپنی بتائی ہوئی ہیں۔ اکبر کہا کرتا تھا کہ یار پروفیسر تو تم ہو مگر معلوم نہیں پروفیسروں والی ساری عادتیں شریف اعوان کے نام کیسے لکھی گئی ہیں۔ شریف اعوان اور اکبر کی دوستی اور ان سے جڑے واقعات و معاملات اپنی جگہ ایک داستان ہیں جن کا یہ موقع نہیں ہے۔ میری اور اکبر کی سانگھڑ میں جو ایک چھوٹی سی منڈلی تھی اس کا ایک مستقل و بکثرت مذکور مگر عملاً کم کم موجود کردار شریف اعوان رہا ہے۔ اکبر اور شریف اعوان کے بہت سے شوق مشترک تھے جن میں سے ایک اہم شوق شاعری اور خطاطی بھی ہے۔ اسی شوق اور دوست کیلیے سراپا ایثار و محبت ہونے، مگر اپنے معصومیت بھرے بھلکڑ پن اور پروفیسرانہ غائب دماغی کی وجہ سے وہ اکبر کے پہلے مجموعہ کلام کے ناشر ہوتے ہوتے رہ گئے تھے۔ یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جب شریف اعوان فارن سروس چھوڑ کر بطور انکم ٹیکس کمشنر اسلام آباد سے کراچی منتقل ہوچکے تھے اور میری ان سے ملاقاتوں کے بیچ عشروں کا وقفہ آچکا تھا۔

مگر اس سے بہت پہلے بھی جب شریف اعوان کبھی حیدر آباد اور پھر لاہور سے سانگھڑ آتا تو بس اڈے سے اپنے گاؤں کی طرف جانے والے راستے میں اس کا پہلا پڑاؤ اکبرکی دکان پر ہوا کرتا تھا۔ اس وقت اکبر ابھی اپنی ٹانگوں سے مکمل معذور نہیں ہوا تھا اور شاعری، مصوری اور خطاطی کے ساتھ ساتھ اپنا خاندانی گھڑی سازی کا کاروبار بھی سنبھالے ہوئے تھا۔ ایک روز شام کو میں اکبر کی دوکان پر پہنچا تو اس نے ہنسی سے بےحال ہوتے ہوئے شریف اعوان کی غائب دماغی کا ایک واقعہ سنایا۔ دوکان پر کام پر بیٹھنے کی دو نشستیں تھیں ایک پر اکبر خود اور دوسری پر اس کے ابا بیٹھ کر کام کیا کرتے تھے۔ ان کرسیوں کے ساتھ ایک بڑا اور ذرا فاصلے پر کچھ چھوٹا شوکیس رکھا رہتا تھا جس میں نئ اور پرانی مرمت ششدہ گھڑیاں پڑی ہوتی تھیں۔ عام گاہکوں اور ملنے والے دوست احباب کیلیے بڑے شو کیس کے باہر ایک نرم گدے والی بنچ بچھی رہتی۔ ہم لوگ باہر اکثر اسی بینچ پر بیٹھا کرتے تھے مگر جب کبھی اکبر کے ابا دکان پر نہ ہوتے تو کبھی کبھی چھوٹے شوکیس کے پاس بنے راستے سے اندر جاکر ہم اکبر کے بالکل قریب ایک چھوٹی تپائی پر جا بیٹھ براجا کرتے تھے۔ اس روز شام کو اکبر نے بتایا کہ

آج شریف اعوان آئے تھے۔ اضطرابی سی کیفیت تھی۔ بیٹھے بیٹھے اٹھ کھڑے ہوتے اور ٹہل ٹہل کی باتیں کرنے لگتے۔ باتوں کے دوران ان کی کوشش رہی کہ دوکان کے اندر میرے قریب آکے تپائی پر بیٹھیں مگر باتوں میں اتنے محو تھے کہ چھوٹے شوکیس کے قریب والے کھلے راستے کی طرف ان کی کوئی توجہ نہیں تھی۔ اب وہ باتیں کرتے جارہے ہیں اور تھوڑے تھوڑے وقفے سے بڑے حجم والے وزنی شوکیس کو خاصا زور لگا کر دھکیلنے کی کوشش کرتے جاتے ہیں۔ اس جہدِ مسلسل سے آخر انہوں نے شوکیس کو سرکا کے اندر آنے کی نئ جگہ بنالی اور بڑے رسان سے میرے قریب بیٹھ کر اسی انہماک سے سلسلہ کلام جاری رکھا۔ انہیں یہ احساس تک نہ ہو سکا کہ سامنے والے راستے سے اندر آنے کی بجائے انہوں نے کس مشقت سے بھاری والا شوکیس کھسکا کر ایک “نیا راستہ” بنا لیا تھا۔ اکبر نے بتایا کہ میں یہ سب دیکھ کر ہنستا رہا مگر اس دھان پان اعوان کو پھر بھی سمجھ نہ آئی کہ میں کیوں ہنسے جا رہا ہوں”!

یہ تو کچھ بھی نہیں۔ میرے اس برادرِ عالی فکر کی مصروف دماغی کا ایک کلاسیکل واقعہ تو گوشِ نصیحت نیوش و عبرت و ہوش فروش سے سننے کے لائق ہے جو اس نے اس زیر تحریر خاکے میں اپنے بھلکڑ پن کے ذکر کی خبر پاکر خود سنایا ہے:

یہ ابھی میڈیکل کالج میں تھے کہ سانگڑ سے ابا نے انہیں ایک شادی کارڈ دیا کہ ہالا میں جو ان کے فلاں سندھی دوست رہتے ہیں ان کے بیٹے کی شادی ہے اور تم نے میری طرف سے اس میں شرکت کرنی ہے۔ وقت آنے پر ابا کے سعادت آثار بیٹے نے کالج سے چھٹی کی، جامشورو سے بس پر بیٹھے اور پہلی فرصت میں ٹنڈوالھیار جا اترے۔ اب جو لوگ سندھ کے شہر ٹنڈوالھیار اور ہالا کا محل وقوع جانتے اور ان کی سمتوں اور فاصلے سے واقف ہیں کچھ وہی اندازہ کر سکتے ہیں کعبہ جانے والے اعرابی کا رخ اگرترکستان کی طرف تو اس کے حج کا کیا انجام ہوتا ہے۔ کافی دیر تک ٹنڈوالھیار کے گلی کوچوں میں “مخدوموں کے شہر ہالا” والے محلے میں شادی والا گھر ڈھونڈتے پھرے۔ انہیں جب متعلقہ دوست کا گھر نہ ملا تو تھک کر ایک ٹانگے پر سوار ہوگئے اور تازہ دمی سے پھر وہ کوچہ تلاش کرنے لگے۔ جب ٹانگے والا بھی ٹنڈو الھیار میں “ہالا والا پتہ” پانے میں ناکام ہو کر تھک ہارا تو اسنے ایم بی بی ایس، سال سوم کے طالبعلم ڈاکٹر اور مستقبل کے انکم ٹیکس کمشنر، کراچی کے ہاتھ سے کارڈ لے کے دیکھا اور ہمارے دوست کو دیکھتا ہی رہ گیا! تب ان پر منکشف ہوا کہ ’’انڈس راگ‘‘ میں کومل سر کتنے لگتے ہیں اور تیور کتنے!

شریف اعوان ایک زمانے میں بھلے کو ہالا میں نہ پہنچ سکا ہو لیکن آگے چل کے اس نے “سندھ سنگیت” کی باز آوری و جمع بندی کا جو کام کیا اس کی ساری دنیا میں پذیرائی ہوئی اور دور دور تک سنگیت پریمیوں پر حال طاری ہوا۔ اکبر کی دوکان پر بھاری شوکیس سرکا کر اس نے بے دھیانی میں جس طرح ایک نیا راستہ تلاش کرنے کی بِنا ڈالی تھی بالکل اسی طرح مصروف دماغی کی حالت میں اپنے گمان میں گم، سخت مشقت سے اپنے لیے ایک نیا راستہ نکالنا اور نہایت رواروی میں اس پر گامزن ہوجانا، شریف اعوان کا ایک ایسا طور ہے جس پر وہ زیادہ سوچ بچار نہیں کرتا۔ سوچ بچار کا عمل تو اس کا لاشعور کرتا ہے۔ یہ تو بس چل پڑتا ہے اور قدرت اس کے راستے کے چھوٹے سے چھوٹے پڑاؤ کو بھی بامراد منزل بناتی رہی ہے۔

اب دیکھیں ناں ایک غریب والدین کا بیٹا، ایک دیہاتی اسکول سے میٹرک کرتا ہے، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ہیں اور پاؤں پالنے میں ہی نظر آنے لگے ہیں۔ ابھی اسی دیہی اسکول میں ہے کہ اس کے استاد ماسٹر نذیراحمد اس کی تعریفیں کئے نہیں تھکتے۔ کالج میں پہنچتا ہے تو اپنی ادبی لیاقت کے سبب میگزین انچارج بن جاتا ہے۔ وہاں سے ایم بی بی ایس کیلیے لیاقت میڈیکل کالج جامشورو پہنچتا ہے۔ ڈاکٹر بنتے بنتے دے سول سروسز اکیڈمی لاہور میں جاپہنچتا ہے۔ فارن سروس کا متوالا ہے مگر اسلام آباد میں تھوڑا عرصہ ہی گزار کر پھر اسی رواروی میں انکم ٹیکس کمشنر کے طور پر کراچی جا پہنچتا ہے جہاں اس کی تہذیبی صلاحیتوں، موسیقیانہ مہارتوں اور فنونی پیش کاریوں کا ایک نیا دور شروع ہوجاتا ہے۔ میرا تعلق چونکہ افسر شریف اعوان کے بجائے قرآنی جمالیات کے عاشق، شعر شناس ادیب، دانشور، سنگیت گیان کے ودوان اور سُر ساگر کے پیراک شریف اعوان سے رہا ہے اس لئے میں نہیں کہہ سکتا کہ بطور افسر اس نے کراچی میں کیا کیا کارنامے سرانجام دیے۔ اس کا ایک سبب تو یہ بھی ہے کہ اس بیس سالہ عرصے میں میری اس سے براہ راست نہ کوئی ملاقات ہوئی نہ ہی تسلسل سے کوئی رابطہ رہا۔ البتہ اس کی ثقافتی سرگرمیوں اور کاوشوں کی اطلاع مجھ تک بکثرت پہنچتی رہی تھی اور اس کا واسطہ اکبر معصوم تھا۔

جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ سرکاری ملازمت کے دوران ہی برادرم شریف اعوان نے گُنی استادوں اور خانصاحبوں سے راگ ودیا کی شکشا لینی شروع کر دی تھی۔ 5-2004 میں اس نے موسیقی کے فروغ کیلیے آل پاکستان میوزک کانفرنس (APMC) کی کراچی شاخ قائم کی۔ پھر اس کے من میں یہ بات سمائی کہ صرف کلاسیکی موسیقی ہی نہیں بلکہ کہ پاکستان کے طول و عرض میں بکھری ہر طرح کی موسیقی، لوک گیت، جمالیاتی فنون، ادب، آرٹ اور تھیٹر، یعنی کلچری اظہارات کی جملہ صورتوں، کے فروغ اور انہیں محفوظ کرنے کے لیے پائیدار بنیادوں پر مزید کام کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے 2008ء میں اس نے تہذیب فاؤنڈیشن کے عنوان سے APMC سے الگ ایک ادارہ قائم کرلیا جس کے بانی سرپرستوں میں مشتاق احمد یوسفی کا نام بھی ہے۔ اس ’’تہذیب‘‘ نے شدھ کلا کے ساتھ ساتھ پرفارمنگ آرٹس کی دیگر صورتوں کو بھی اپنی تگ و تاز کا حصہ بنایا۔ اس مہم کارنامے میں برادرم کی نصف بہتر بھی ان کے شانہ بشانہ شریک رہیں۔ تہذیب فاؤنڈیشن کے منچ سے انہوں نے نہ صرف فنون کی ان صورتوں کو ڈیجٹلی محفوظ کرنا شروع کیا بلکہ دنیا بھر میں ان کے فروغ کے لیے میلے سجائے اور ’’سندھ سنگیت‘‘ منصوبے کے تحت پاکستان کے بڑے گائکوں کے پروگرام منعقد کروائے، ان میں عام سامعین کو شریک کیا پھر بہترین اسٹوڈیوز میں ان کی ریکارڈنگ کروا کر پہلے بارہ سی ڈیز کا سیٹ جاری کیا اور اب اس کا USB ایڈیشن بھی تیار کرلیا گیا ہے۔ بلوچی موسیقی کے ریکارڈ بھی بنائے گئے ہیں اور سندھی وپشتون موسیقی پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔

اسی ’’تہذیب‘‘ کے تحت انہوں نے موسیقی کی بعض نایاب کتب کو بھی دریافت اور ترجمہ کرکے شائع کروایا ہے۔ مثلا واجد علی شاہ اختر کی نایاب فارسی تالیف “صوت المبارک” جس کے ایک جز کی امیر مینائی نے فارسی میں شرح لکھی تھی، اس کے غیر مطبوعہ نسخے کو ترجمہ کروا کر “نغمۂ قدوسی” کے عنوان سے شائع کیا(مترجم اطہر مسعود)، اسی طرح عبدالحلیم شرر کا آل انڈیا موسیقی کانفرنس، 1916، میں پڑھا گیا خطبۂ صدارت بھی مدون اور انگریزی میں ترجمہ کرایا گیا ہے۔

تہذیب فاؤنڈیشن کا ہی ایک حصہ ’’تہذیب میلہ‘‘ بھی ہے جس کا سال میں ایک بڑا اور دو چھوٹے پروگرام ہوتے ہیں جس میں نوجوان نسل جوق در جوق شرکت کرتی ہے۔ اسی ادارے کے تحت ایک تہذیب ایوارڈ بھی جاری کیا گیا ہے جو ادب و آرٹ کے پانچ مختلف شعبوں ــ نثر، شاعری، مصوری، راگ موسیقی اور لوک موسیقی ــ میں کسی جوہر قابل کو مع ایک لاکھ روپے دیا جاتا ہے۔ تہذیب فاؤنڈیشن کے اگلے منصوبوں میں پاکستان میں 70 سال کے دوران گائی جانے والی غزلوں کا ایک انتخاب اردو اور رومن رسم الخط میں اور ان غزلوں کو جن راگوں میں گایا گیا ان کے بارے میں مکمل تفصیلات دینے کا پروگرام شامل ہے۔ شریف اعوان کی ان تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں کو بین الاقوامی سطح پر بہت پذیرائی ملی ہے۔ 2015 سے لے کر 2018 تک انہیں عالمی فورم پر ایوارڈ بھی ملتے رہے۔ علاؤہ ازیں جرمنی جیسے ملکوں میں انہوں ںے ’’انڈس راگ پروجیکٹ‘‘ کو متعارف بھی کروایا ہے۔

خود اپنے قلم سے انہوں نے جمالیات، موسیقی اور دیگر فنون پر کچھ کتابیں بھی ترتیب دی ہیں۔ مثلاً ’’خشونت سنگھ کا پاکستان‘‘، ’’قرآنی جمالیات” وغیرہ۔ 2018 میں ہی معروف ستار نواز استاد رئیس خان کے بارے میں اس نے ایک نہایت خوبصورت اور اعلی قسم کا تعارفی کتابچہ انگریزی میں ترتیب دیا اور ان کی ایک DVD بھی ریکارڈ کرکے جاری کی ہے۔

اسی تہذیب فاؤنڈیشن ایوارڈ کے سلسلے میں انہوں نے اپنے پرانے دوست اکبر معصوم کے ساتھ پروگرام بھی کیے اور 2012 میں اسے ایوارڈ بھی دیا۔ اکبر اپنی ویل چیئر پر بھی ان پروگراموں میں شریک ہوا جہاں بڑے پیمانے پر اس کی شاعری کی پذیرائی ہوئی اور انور مقصود اور ڈاکٹر اسلم فرخی جیسے ادیبوں اور عالموں نے اس کی شاعری کو سراہا جس سے اس کے اندر اپنی بیماری سے لڑنے کی نئی ہمت بھی پیدا ہوئی اور وہ جب تک جیا اس کے اندر نئی شاعری کیلئے امنگیں بھی جوان رہیں۔

اب آخر میں کچھ کلمات اپنے اس عزیز دوست کے ذاتی شخصی کمالات اور قرآن پاک کی تجوید و قرات اور موسیقی میں اس کے اکتسابات کے حوالے سے کہہ کر یہ سلسلہ ختم کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا قرآن پاک کے لحن اور صوت و آہنگ سے برادرِ عزیز و شریف کی رغبت بہت کچھ پیدائشی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے اس فن کے بڑے استادوں سے اکتساب فیض کرکے اپنے طبعی شوق میں مزید رسوخ پیدا کیا ہے۔ اس سلسلے میں اس نے سب سے پہلے زانوئے تلمذ کالی موری، حیدرآباد کے ایک قاری صاحب کے مدرسے میں تہہ کیا۔ سول سروس کے بعد جب وہ اسلام آباد میں آگیا تو شوق کے یہ سلسلے یہاں بھی دراز تر رہے۔ یہاں قاری خوشی محمد الازہری کے مدرسے میں باقاعدہ تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ اس مدرسے کے ایک اور سینیئر استاد اور مدرسے کے مہتمم قاری بزرگ شاہ الازہری سے مدرسے میں اور ان کے گھر جا کر بھی سالہاسا ل تک فیض حاصل کرتے رہے۔ پھر ان کا تعلق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے ایک بہت محترم سینئر پروفیسر قاری شیخ عبد الحئی احمد زہران سے ہوگیا جوہ قاری عبدالباسط الازہری کی سطح کے آدمی تھے۔ شریف اعوان نے بتاتے ہیں کہ ان تینوں بزرگوں کا تعلق قُراء کے اُس گھرانے سے تھا جس میں قاری عبدالباسط کے مکتبِ تجوید و قرات کے برعکس آوازوں کو لمبا کرکے کھینچنے کے بجائے غور و تدبر کے ساتھ قرآن پڑھنے پر ہے۔ آیت میں جس جگہ پر زور دینا مقصود ہو یہ قُراء اس آیت پر اس مقام کو مؤکد کر کے آگے بڑھتے ہیں۔ بقول شریف کے، استاد زہران کا مقام یہ تھا کہ ایک دفعہ قاری عبدالباسط اسلام آباد میں آئے تو محفل قرات میں شیخ زہران بھی موجود تھے۔ حفظِ مراتب کے تحت قاری باسط کی قرات سب سے آخر میں ہونی تھی مگر انہیں شیخ زہران کی موجودگی میں ایسا کرنے میں تأمل تھا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ اس محفل میں شیخ زہران نے قرات نہ کی۔ ان کی جگہ ان کے ایک شاگرد نے تلاوت کی اوراس کے بعد قاری عبدالباسط کی قرات ہوئی۔ تو فن قرات میں اس سطح کی اساتذہ سے ہمارے دوست نے خوب کسبِ فیض کر رکھا ہے۔

اس کے بعد اور شاید ساتھ ساتھ ہی اس نے موسیقی کے بڑے استادوں سے سنگیت کی عملی تربیت حاصل کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس سلسلے میں ان کے پہلے استاد کراچی میں استاد ظفر علی خاں، گوالیار گھرانے والے تھے اور پھر استاد الیاس خاں مرحوم پٹیالہ گھرانے سے انہوں نے موسیقی کی عملی سوجھ بوجھ پائی۔ اسی طرح کچھ عرصے تک اس دور کے ایک اور بڑے استاد نصیرالدین سامی صاحب سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ آدمی جس کی وجہ سے پچھلے پانچ سال کے دوران میں خود کو کلاسیکی موسیقی کا شاگرد کہنے کا کچھ حوصلہ پاتا ہوں، وہ ہیں استاد شاہد حمید صاحب۔ یہ صاحبِ میراث استاد تو نہیں بلکہ اصلاً ایک بینکر تھے جنہوں نے اپنے شوق کی خاطر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنی محنت سے کلاسیکی موسیقی میں استادانہ سطح کی مہارت بہم پہنچائی اور پھر کلاسیکی موسیقی میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری کیا۔ ہمارے شریف اعوان انہی استاد شاہد حمید کے ہونہار اور صاحب اجازت شاگردوں میں سے ہیں۔ صاحب اجازت اس طرح کہ اب وہ عوامی میں سطح پر گا سکنے کے اہل قرار دیے گئے ہیں۔ روایتی صوفیہ کے سلسلوں کی طرح موسیقی کے گھرانوں میں بھی کوئی شاگرد اس وقت تک عام عوام کے سامنے نہیں گا سکتا جب تک استاد سے باقاعدہ دستارفضیلت نہ بندھوالے اور گانے کی اجازت نہ حاصل کرلے۔

اُس روز اس سے ملاقات کے بعد یہ راز کھلا کہ ہمارے یہ دوست شریف اعوان، محض ایک سینئر بیروکریٹ ہی نہیں بلکہ کلاسیکی موسیقی کے ایک صاحب ارشاد اور صاحب اجازت گائیک بھی ہیں۔ مگر اتنا کچھ حاصل کرنے کے باوجود برادرم اعوان کا کہنا ہے کہ اس کوچہ دلداری و لذت کاری میں جس شخص نے ابتدائے سفر میں ہی اسے بہت متاثر کیا اور جن سے زندگی کے بہت سے اسرار و رموز سیکھے اور جن سے اس کا روحانی رشتہ ہے وہ ہیں ڈاکٹر ابوالخیر کشفی۔ اس سلسلہ کلام کا اختتام اگر کشفی صاحب کے ایک جملے پر کیا جائے تو یہ سب کچھ شاید بابرکت بھی ہوجائے اور ہم جیسوں کے بعض امراض کا علاج بھی ہو۔

برادرم اعوان نے بتایا کہ ایک دفعہ کشفی صاحب کے ہاں قوالی کی ایک محفل تھی۔ میں نے قوالوں کی کچھ ترتیب بنائی اور کچھ کلام بھی انتخاب کرکے دیا اور کشفی صاحب سے کہا کہ میں نے یوں یوں سب کچھ ٹھیک ٹھاک کر دیا ہے اب آپ کو ہر شے میں ایک نفاست و ذوق کی کارفرمائی نظر آئے گی۔ کشفی صاحب سارا انتظام دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور اور میرے حسن انتظام اور حسن ذوق کی تعریف کی مگر آخر میں کہا دیکھو بیٹے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ تمہیں اللہ کی طرف سے خوش ذوقی کی دولت وافر طور پر ارزانی ہوئی ہے لیکن یہ ہمیشہ یاد رکھنا کہ
“موقع بے موقع اپنی خوش ذوقی کا اظہار و نمائش کرتے پھرنا بدذوقی کی دلیل ہوتی ہے”۔
شریف اعوان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ابوالخیر کشفی جیسے لوگوں کا طریقۂ تعلیم اتنا دلنشین اور پرتاثیر تھا کہ میں نہ انہیں کبھی بھلا سکا نہ ان کی اس نصیحت کو!
۔۔۔۔۔۔۔
شریف اعوان سے میرا برسوں کا ٹوٹا ہوا رابطہ فیس بک کے ذریعے بحال ہوا تھا۔ بچھلے کچھ عرصے سے برادرم شاہد اعوان کے شذروں پر ہم خاصی نوک جھونک کرتے رہتے تھے۔ اس روز جب شریف اعوان سے مدتوں بعد ملاقات ہوئی تو ہم نے گھنٹوں باتیں کیں مگر حیرت ہے کہ سیاسی مسائل پر ہمارے درمیان ایک کلمے کا تبادلہ بھی نہ ہوا۔ معلوم نہیں کس سبب سے اور کیوں، مگر رخصت ہوتے ہوئے میرے اور اس کے درمیان ایک مسئلہ کسی اگلی ملاقات پر تفصیلی بات کے لئے معلق رہ گیا۔ میں نے کہا کہ زندگی میں قدرے مطمئن رہنا تو میں نے سیکھ لیا ہے مگر مسرت کس شے کا نام ہے، اور برٹرنڈ رسل کے الفاظ میں، اسے مسخر کیسے کیا جا سکتا ہے اور اندر کا گھمبیر سناٹا کیسے دور کیا جائے، یہ میں ہنوز نہیں جان سکا۔ معلوم نہیں اگلی ملاقات میں میرے یہ ہمدم دیرینہ اس کٹھنائی سے مجھے کیسے نکالیں گے!

اس ملاقات کے روز موسم بہت اچھا تھا اور سرما کی پہلی بارش بھی ہوئ تھی۔ اگلے کئی دنوں تک اس کے ساتھ بیتے وقت کے احساس کو فیض کے یہ شعر سرشار کیے ہوئے ہیں:

جس کی دید و طلب وہم سمجھے تھے ہم، رُو بُرو پھر سرِ رہگزار آگیا
صبحِ فردا کو پھر دل ترسنے لگا، عمرِ رفتہ ترا اعتبار آگیا
رُت بدلنے لگی رنگ دل دیکھنا، رنگ گلشن سے اب حال کھلتا نہیں
زخم چھلکا کوئی یا کوئی گل کھلا، اشک اُمڈے کہ ابرِ بہار آگیا

یہ بھی پڑھیں: سرخ سلام : کامریڈ جام ساقی کی یاد میں -------- شاہد اعوان

(Visited 1 times, 7 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: