ضرورت الہامین : برائے سیکورٹی فورسز، پاکستان —– خرم شہزاد

0

ہمیں اپنے اداروں کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہے جن میں الہام کی صلاحیت درجہ ولایت تک پائی جاتی ہو،البتہ کسی قدر صلاحیت والے بھی اپنے کاغذات جمع کروا سکتے ہیں۔ آپ کی صلاحیت نوکری کے مستقل ہونے اور مالی فوائد کی ضامن ہے۔خواہش مند حضرات نیچے دئے گئے پتہ پر اپنی سی وی جمع کروائیں، کوئی شارٹ لسٹ،ٹسٹ یا انٹرویو نہیں ہو گا، سی وی جمع کروانے والا اگلے روز سے اپنی ڈیوٹی کے لیے دفتر ہذا پہنچ جائے، پابندی وقت بہت ضروری ہے۔ الہامین کو پاکستان کے کسی بھی سیکورٹی ادارے کے ساتھ ڈیوٹی کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے، البتہ زیادہ ضرورت سڑکوں پر لگے ناکوں اور آپریشنوںمیں رہے گی۔ الہامین کو سیکورٹی فورسز کے ایک عام جوان کو حاصل شدہ عزت، تنخواہ اور مراعات کے برابر سب کچھ دیا جائے گا۔ خود کو صیغہ راز میں رکھنے والے الہامین کو کھوج نکالنے کے لیے اگر کچھ علاقوں کا آپریشن بھی کرنا پڑا تو وسیع تر عوامی، ملکی اور قومی مفاد میں اس ناگزیز کام سے بھی پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔

وزات دفاع، وزارت داخلہ حکومت پاکستان اور چاروں صوبائی حکومتیں سوچ میں تو آپ پڑ گئے ہوں گے کہ یہ کس قسم کا اشتہار ہے مگربہت جلد مشتہر ہونے والے اس اشتہارکاایک وسیع پس منظرہے لیکن صرف دو بڑے واقعات کا ذکر ضروری ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کراچی میں ایک ٹیکسی ڈرائیور مراد (جس کے لیے اب کروٹ کروٹ جنت کی دعا ہی کی جا سکتی ہے) کو رینجرز نے گولی مار دی کیونکہ اس نے ناکے پر رکنے کے بجائے گاڑی بھگانے کو ترجیح دی، خطرے کے احساس اور کسی ممکنہ دہشت گردی کے خیال سے رینجرز والوں نے پیچھے سے فائر کیا اور ڈرائیور موقع پر ہلاک ہو گیا۔ میڈیا نے خوب ہنگامہ مچایا اور مجاہدین سوشل میڈیا نے انی پائی رکھی کیونکہ سارے ہی درد مند دل والے تھے۔حادثے کے فوری بعد بیوہ کو میڈیا کے سامنے لاکر ہمدردی حاصل کرنے اور سارے معاملے کو یک طرفہ کرنے کا جو قدم اٹھایا گیا اس کی وجہ سے یہ سوال فوری طور پر دب گیا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے رینجرز کے اشارے کو نظر انداز کیوں کیا۔ کراچی جیسے شہر میں خراب حالات میں کسی شخص کی طرف سے کیا جانے والاایسا کوئی بھی اقدام لائق تحسین تو ہر گز نہیں کہا جا سکتا، مگر ہمارے پیارے اینکرز پوچھتے ہیں کہ آخر ٹیکسی کا پیچھا کیوں نہ کیا گیا۔ کیا ہمیں نہیں معلوم کہ ایک بیٹ، پہرے یا ناکے پر عموما چار تا چھے اہلکار ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں جبکہ ہر بیٹ، پہرے یا ناکے پر گاڑی کی موجودگی ضروری نہیں ہے کیوں کہ ابھی اس ملک کی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمارے اتنے محبوب نہیں ہوئے کہ ان کی صلاحیت بہتر کرنے کی طرف بھی ہم توجہ دیں۔ خیر، اندازوں اور قیاس آرائیوں کو بڑھائیں تو کئی سوال جواب مانگتے ہیں۔ مثلا اگر رینجرز والے گاڑی کا پیچھا کرتے اور گاڑی میں دہشت گرد ہی سوار ہوتے جو کہ دور کہیں گاڑی چھوڑ کو رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر غائب ہو جاتے تو کیا ہم رینجرز والوں کی تعریف کرتے (ایسی خبروں کہ جن میں دہشت گرد یا کوئی بھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر غائب ہو جاتا ہے پر رواں تبصرہ جس انداز میں اور جس زبان میں ہم کرتے ہیں وہ تو کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں)۔ دوسری بات کہ انہی دنوں سند ھ میں پولیس والوں کے اغواء کا واقعہ ابھی تازہ تھا۔ کیایہ ممکن نہیں تھا کہ اگر دو سے تین اہلکار پیچھا کرنے چلے جاتے تو باقیوں کے اغواء کی کوشش نہ کی جاتی۔ سب باتوں کو چھوڑ کو یہ مان بھی لیا جائے کہ واقعی ٹیکسی ڈرائیور جلدی میں تھا اور اس کے ساتھ اس کا بیمار بچہ بھی تھا توسوال یہ تھا کہ رینجرز والوں کے اشارے پر رکنے کی وجہ سے وہ کتنا لیٹ ہو جاتا۔ ہم سب روزانہ کئی بار ایسے اشاروں پر رکتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دیر ہوتی تو صرف۔۔۔ ایک آدھ منٹ کی۔اور یقینا یہ ایک آدھ منٹ ہی ہوتا مگر دہشت گردوں کی طرح گاڑی بھگانے کی وجہ سے مشکوک ہوجانے کے بعد کسی بہت بڑی دہشت گردی کی کاروائی کا خیال آجانا کوئی انہونی تو ہرگز نہیں ہے جسکی روک تھام کے لیے رینجرز کی طرف سے کیا جانے والا یہ اقدام قابل مذمت تو ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔

دوسرا ساہیوال واقعہ ہے جس میں قانون نافذ کرنے والوں کو ایک اطلاع ملی اور اس پر کاروائی کی گئی، لوگ ہلاک ہوئے، قانون نافذ کرنے والے گرفتار ہوئے اور ہماری چند دن کی ہا ہو کے بعدچسکے لینے کو اور بہت کچھ ملنے لگاتو ہمیں ان سے کوئی سروکار نہیں رہا لیکن میڈیا اور سوشل میڈیا نے جس طرح سے اس واقعے پر بھی آسمان سر پر اٹھایا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار ہی گرفتار ہوئے یہ سب صرف اور صرف پاکستان میں ممکن ہو سکتا تھا اور یہ ممکن بنایا گیا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ٹی وی کے سامنے بیٹھے ناظر اور اخبار پڑھتے قاری نے اپنا سر اور دماغ بھی استعمال کرنے کی کوشش کی ہے یا وہ اینکروں کی شعلہ بیانیوں اور کالمسٹوں کی لفاظی پر ہی ارسطو اور بقراط بنا ہوا ہے۔ ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ ابھی تک پاکستان میں وہ حالات نہیں آئے کہ جب پاگل اور جنونی لوگ فورسز کا حصہ بن گئے ہوں تو پھر آخر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہلکاروں کی کیا ایسی مجبوری تھی کہ ایک بیمار بچے کے والد پر گولی چلانی پڑی یا گاڑی میں بچوں کے ہونے کے باوجود فائر کھولنا پڑا۔ قتل کی حمایت نہ کرتے ہوئے بھی ہمیں یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ عام آدمی جو اس صورت حال کا شکار ہو رہا ہوتا ہے اس کا رویہ اس موقع پر کیا تھا جس کے جواب میں اہلکاروں کے لیے کوئی قدم اٹھانا ضروری ہو گیا تھا، گاڑیاں بھگا لے جانا، اشاروں پر نہ رکنا اور عورتوں بچوں کو بطور ڈھال استعمال والے واقعات کم از کم یہ ضرور بتاتے ہیں کہ ہم بہ حیثیت قوم اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام کرنا نہیں جانتے۔ ہم گھر سے نکلتے ہوئے گاڑی کے کاغذات صرف اس وجہ سے نہیں اٹھاتے ہیں کہ راستے میں اگر کسی “ٹُلے” نے روک لیا تو چالیس پچاس اس کی ہتھیلی پر رکھ دئیں گے۔ یہ پہروں اور ناکوں کے اشارے ہمیں “ڈسٹرب” کرتے ہیں اور ذہنی اذیت میں مبتلا کرتے ہیں۔ اس صورت حال کی بہتری کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس بس یہی چارہ رہ جاتا ہے کہ وہ الہامین کو بھرتی کریں اور ان کی ڈیوٹیاں سڑکوں پر لگائیں، انہیں اپنے ساتھ آپریشن میں لے کر جائیں۔تاکہ وہ اشارہ توڑنے والی گاڑی کے بارے میں بتا سکیں کہ اس میں دہشت گرد نہیں بلکہ وہ معصوم اور بھولے بھالے لوگ تفریح کے لیے جا رہے ہیں جو کسی اشارے پر رک کر”پلسیوں” کی وقت گزاری کا بہانہ نہیں بننا چاہتے۔ یہ الہامین کسی بھی دہشت گردانہ کاروائی کا فوری تجزیہ کر کے بتا سکیں گے کہ آیا یہ ملک دشمنوں کی طرف سے ملک کا امن خراب کرنے کی کوشش ہے یا پھر مرنے والوں کی زندگی پوری تھی اور یہ کام تو ان کی موت کے لیے بہانہ اور ایک رسمی کاروائی تھی۔ اس طرح رینجرز اور پولیس والوں کو ہر جگہ آپریشن بھی نہیں کرنا پڑے گا اور عوام کے ساتھ ان کے تعلقات میں بہتری آنے کی امید ہے۔

الہامین نہ ملنے کی صورت میں ہر پہرے اور ناکے پر دو مزید افرادجن میں سے ایک ہماری “دردمند سول سوسائٹی” سے اور دوسرا میڈیا سے ہوانہیں بھی تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ انہیں اپنے عوام کے رویوں سے شناسائی کے ساتھ ڈیوٹیوں پر موجود اہلکاروں کے احساسات سے بھی آگاہی حاصل ہو۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ان اہلکاروں کی راہنمائی کے فرائض بھی انجام دئیں تاکہ پھر کسی بھی صورت حال کا اچھے اور سلجھے طریقے سے سامنا کیا جا سکے اور اگر کوئی ملبے گرئے تو اس کا سامنا یہ درد مند سول سوسائٹی اور میڈیاکر سکے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو الہامین ہی وقت کی ضرورت ہیں اور اس ضرورت کو جس قدر جلد پورا کر لیا جائے ہماری عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے اتنا ہی اچھا ہے۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: