طلاق کی نئی وجہ: آزاد، خود مختار اور منفرد عورت ——— خرم شہزاد

0

فلسفیانہ باتیں کی جائیں تو شائد انسانی معاشرے میں طلاق کا رواج شادی سے بھی بہت پہلے شروع ہو گیا تھا۔ وہ دور جب انسان جنگلوں اور پہاڑوں کا باسی تھا اور بہت سی جگہوں پر عورت کسی ایک شخص کی ملکیت ہونے کے بجائے اجتماعی ملکیت ہی تصور کی جاتی تھی، جب دشمن قبائل کی عورتوں کا اغوا ایک عام بات تھی اور جب کنواری لڑکیوں سے الگ پہچان کے لیے دوسری خواتین کے ہاتھوں پیروں اور گلے میں کچھ نہ کچھ پہنادیا جاتا تھا۔ اس وقت مرد کا جب کسی عورت سے دل اٹھ جاتا یا عورت کوئی اور مرد پسند کر لیتی تو یہ دونوں کسی اور کی ہم نشینی اختیار کر لیتے، اگرچہ یہ آج کے مروجہ طلاق کے نظام کی درست عکاسی نہیں تھی لیکن بہر حال مرد اور عورت کی یہ دوری طلاق کی ابتدائی شکل ضرور تھی۔

فلسفے اور زمانہ قدیم میں بھلا کیا رکھا ہے کہ جب موجودہ جدید زمانے کے سیاپے کم نہیں۔ آج کے جدید معاشرے میں شادی سے زیادہ طلاق کا موضوع ہماری روزمرہ کی گفتگو کا حصہ ہے اور اس میں اہل مشرق و مغرب کی کوئی تخصیص نہیں۔ مشرق میں ہر آٹھویں اور مغرب میں ہر تیسری شادی اس وقت خطرے کا شکار ہے اور دنیا بھر کے ماہرین ہر گزرتے دن کے ساتھ طلاق کی ممکنہ وجوہات تلاش کرنے کی انتھک کوششوں میں مصروف ہیں لیکن خرابی قسمت کہ جب بھی ممکنہ وجوہات کی کوئی فہرست جاری ہوتی ہے اور اس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر پر بات چیت شروع ہوتی ہے، کچھ نئی وجوہات سامنے آنے لگ جاتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بے جوڑ شادیوں، جائیداد بچانے کی کوششوں میں لڑکیوں کو کسی کے پلے باندھ دینے کے ساتھ ساتھ ماں باپ اپنی زندگی میں لڑکی کے فرض سے سبکدوش ہونے کی خواہش میں جو جلدی کرتے ہیں وہ بھی بعد میں برے نتائج کے ساتھ ان کے سامنے آ جاتی ہے لیکن خصوصا طلاق کا ایک بڑا سبب مشترکہ خاندانی نظام کو سمجھا جاتا رہا ہے۔سوشل میڈیا کی ترقی اور میڈیا چینلز کی کثیر تعداد نے اس گفتگو کو نہ صرف مزید پھیلا دیا ہے بلکہ اس میں چٹخارے کا بھی بندوبست کیا ہے۔ ہمارے ہاں این جی اوز کے ساتھ ساتھ بہت سی خواتین انفرادی طور پر بھی جب خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں تو ان کے خیال میں ایک لڑکی مشترکہ خاندانی نظام میں پس کر رہ جاتی ہے کیونکہ اس کا شوہر اپنی والدہ یا بہنوں کا غلام بنا ہوتا ہے اور کمائی ساری گھر والے لے جاتے ہیں۔ لڑکی صبح سے شام تک سارے گھر والوں کے کھانے پینے اور دوسرے کاموں میں مصروف رہتی ہے اور یہ ایک ایسی زندگی ہوتی ہے جس میں اپنے آپ کو قیدی محسوس کرتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کے اندر بغاوت جنم لیتی ہے جو کہ گھر میں لڑائی جھگڑے سے آغاز کرتے ہوئے الگ ہونے یا پھر طلاق پر ختم ہوتی ہے۔ یقینا اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں لیکن صرف مشترکہ خاندانی نظام کو الزام دینا بھی درست نہیں کیونکہ جب انہی دانشوروں سے اہل مغرب اور سعودیہ وغیرہ کی بات کی جاتی ہے جہاں مشترکہ خاندانی نظام موجود نہیں ہے لیکن پھر بھی طلاق کی شرح نہ صرف بہت بلند ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے تو یہ دانشور ادھر ادھر کی باتوں میں جواب کو گھمانے کی کوشش کرنے لگ جاتے ہیں۔

اہل مغرب کے ہاں عورت کی آزادی اور حقوق کا نعرہ نیا نہیں ہے بلکہ وہاں اس کے لیے عملی کوششیں بھی بہت آگے تک پہنچ چکی ہیں اسی لیے وہاں اب بہت سی عورتیں اپنی آزادی پر کسی طرح کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتیں اور پھر بالاخر ذرا سی بات پر بھی گھر اور بندھن ٹوٹنے کی نوبت آ جاتی ہے۔ مغرب کی یہ آزادی مہم ہمارے معاشرے میں ڈراموں اور ڈائجسٹوں سے وارد ہوئی اور اب تو ہر تیسرے ڈرامے میں عورت یا تو گھر توڑ رہی ہے یا پھر اپنی آزادی اور مرضی کی زندگی کے نام پر شوہر کے ہوتے کسی اور سے تعلق بنانے میں لگی ہوئی ہے۔ عام عورت جو کہ ڈرامے کے سب سے مظلوم ترین کردار میں خود کو دیکھتی ہے وہ بھی اب متاثرین میں شامل ہونے لگ گئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی گزشتہ کچھ سالوں میں طلاق کے مقدمات کی تعداد کا بڑھ جانا ہے۔ حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی کے سبب آئے روز حقوق نسواں کے نام پر کسی نئے قانون کی تشکیل بھی معاشرے میں عورت کے گھٹتے مقام اور بڑھتی طلاق کی شرح کا ایک سبب ہے۔ ان تمام حالات میں نہایت خوفناک بات جو سامنے آرہی ہے کہ عورتوں میں طلاق کا ایک نیا سبب یا بہانہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو ثابت کرنے کی خاطر طلاق لے رہی ہے۔

مغرب میں تو خیر عموما لیکن ہمارے ہاں کی ماڈرن عورت بھی آزادی، ترقی اور انفرادیت کو کچھ اور ہی سمجھ بیٹھی ہے۔ پہلے تو اپنے آپ کو ثابت کرنے اور انفرادیت کے لیے گھر بھر سے لڑ جھگڑ کر نوکری کرنا ہی کافی ہوتا تھا لیکن اب جب ہر تیسری عورت نوکری پر ہے تو اب خود کو ثابت کرنے اور منفرد ہونے کے لیے کچھ نیا ضروری ہو گیا۔ سوشل میڈیا اور ماڈرن ازم کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ہر کوئی دوسرے سے جواب طلب کر رہا ہے اور دوسرا بجائے سوال والے کی اوقات اور سبب پوچھنے کے، جواب اور دلائل دینے میں لگا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے جب ایک ماڈرن عورت سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ ایک مکمل آزاد اور خود مختار عورت ہیں، اس بات کو ثابت کریں تو اس کا پہلا جواب یہی ہوتا ہے کہ میں اپنا بزنس خود چلا رہی ہوں اور جہاں چاہوں جب چاہوں آ جا سکتی ہوں، مجھ پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔

لیکن میاں کو بتاتی تو ہیں کہ رات اتنی دیر سے کہاں سے آرہی ہیں اور بچوں کی خاطر بھی تو آپ کو کبھی کبھار سب چھوڑ چھاڑ کر واپس گھر پہنچنا ہوتا ہے؟ اس سوال کے پہلے جواب میں تو کچھ رشتوں کا لحاظ باقی ہو لیکن دوسرے یا تیسرے جواب کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ میاں کو تو میں اپنی جوتی کی نوک پر رکھتی ہوں اور بچے میری کمزوری نہیں ہیں۔ اگلا سوال۔۔۔ ثابت کریں اس بات کو۔۔۔ اور پھر آج کی جدید عورت کے پاس اپنے آپ کو ماڈرن، آزاد اور دوسروں سے منفردثابت کرنے کے لیے ایک ہی کام رہ جاتا ہے کہ وہ گھر اور رشتوں کی جیل سے مکمل آزادی حاصل کرئے اور دوسروں کو کہے کہ لو میں نے ثابت کر دیا کہ میں آزاد بھی ہوں، خود مختار بھی اور منفرد بھی۔

سوال یہ ہے کہ عورت کا خود کو ثابت کرنے کا سفر کہاں اختتام پذیر ہو گا؟ ماضی کی عورت خود کو ایک اچھی بیوی، بہو اور ماں ثابت کرنے میں لگی رہی اور ماڈرن عورت خود کو آزاد، خودمختار اور منفرد ثابت کرنے کی دوڑ میں شامل ہے لیکن یہ عورت سکون کا سانس کب لے گی؟ کب یہ دوسروں کے سوالوں سے باہر نکلے گی اور اپنی زندگی جئے گی؟ ویسے عورت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے کہیں وہ مرد کی روز مرہ استعمال کی اشیاء کی فہرست میں تو جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو رہی؟

یہ بھی پڑھیں: معاشی طور پہ مضبوط عورت اور طلاق کی بڑھتی شرح ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمارہ خان
(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: