رعونت ———– خرم شہزاد

0

خالص پاکستانی مزاج کی وجہ سے اب لوگوں کی سوچ میں دو چیزوں نے اپنا اعلیٰ مقام بنا لیا ہے جنہیں زندگی کے باقی معمولات جیسے کھانا پینا، سونا، معاشرہ اور معاشرت کی طرح ہماری عام زندگی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔یہ دو چیزیں عوامی اپوزیشن اور رعونت ہیں۔

آپ کسی بھی ہوٹل پر چلے جائیں، تھری فور فائیوسٹار سے لے کر چھپڑ ہوٹل تک (ہوٹل کی کوئی قید نہیں)، کسی ادارے کی تقریب میں ہوں یا کسی نجی محفل میں، حاضرین کی ایک بڑی تعداد حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتی ہوئی ملے گی حالانکہ اگر آپ تنقید کرنے والوں پر غور کریں تو یہی لوگ ابھی گزرے الیکشن میں حکومتی پارٹی کو ووٹ دے کر بھی آئے ہوتے ہیں مگر یہ ہمارا مزاج بن گیا ہے کہ حکومت جو بھی آئے، سیاہ کرئے یا سفید کرئے، لوگوں نے کرنی تنقید ہی ہے اور پھر جیسے جیسے حکومتی عرصہ بڑھے گا تنقید الزامات میں تبدیل ہوتی جائے گی۔ کافر، ملک دشمن، غدار سے بڑھتا ہوا جوش آخر کا ر امریکہ، یورپ اور بھارت کے تھلے لگے ہونے کے الزامات پر آکر رک جائے گاکیوںکہ حکومتی عرصہ بھی پورا ہوا چاہتا ہے۔ نئے الیکشن میں اپنے انہی دوستوں اور مہربانوں کو دوبارہ یہی عوام نوازنے کے بعد یعنی اسمبلی میں پہنچا کر گھر آتے ہی ٹی وی آن کریں گے اور پھر سب کچھ وہی۔۔۔ وہی ہم، وہی ہمارے ووٹ اور وہی ہمارے بھکاری نمائیندے۔۔۔ وہی ٹی وی کے ٹاک شو، وہی ریٹنگ کا شور وہی دعوے وہی جواب۔۔۔۔ وہی ٹیکر، وہی سرخیاں اور وہی عوام کی امیدیں اور باتیں۔۔۔

پاکستانی مزاج میں در آنے والی دوسر ی دخل در معقولات کا نام رعونت ہے۔ کسی بھی شخص کو ذرا سے قابل ذکر عہدے سے نواز دیا جائے یا کسی ذمہ داری کے قابل کر دیا جائے تو اس کی گردن میں فورا سریا اگ آتا ہے اور اسکی گفتگو سے ایسی رعونت کی بو آتی ہے کہ مزید کچھ کہا جائے تو شاید برائی بھی برا مان جائے۔ رعونت کا یہ خیال مجھے اکثر حکومتوں کی طرف سے نجکاری کے بیانات کو دیکھ آتا ہے۔ ویسے بھی پاکستان میں حکومت ہمیشہ ایڈہاک ازم طرز پر چلائی جا تی ہے جس میں کسی بھی عہدے دار کے صبح و شام کا کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ یہاں سپریم کورٹ میں پیش ہونے کے واسطے پلاینگ والوں کو وزیر دفاع لگا دیا جاتا ہے، ریلوے والے مہنگائی کے بارے بیانات دے رہے ہوتے ہیں اورکئی وزرا، ممبر قومی و صوبائی اسمبلی تو پورے عرصے میں نظر تک نہیں آتے۔ ایسے منظر نامے میں موجود حکومت بھی گزشتہ حکومت کی طرح اسٹیل مل اور پی آئی اے کی نجکاری کی باتیں شروع کرتی ہے اور ایک لمبی لسٹ ان کے ہاتھ میں ہے اس بیان کے ساتھ کہ گھاٹے میں چلنے والے اداروں کا بوجھ حکومت کیوں اٹھائے ایسے تمام اداروں کی نجکاری لازمی ہونی چاہیے۔سوال یہ ہے کہ آخر نجکاری ہی ہماری قومی ضرورت کیوں ہوتی ہیَ؟ ہمارے پاس نجکاری کے علاوہ کوئی اور حل کیوں نہیں ہوتا؟

عوام ہوتے ہی بے وقوف اور سادہ لوح ہیں، ایوانوں میں نظر آنے والے اکثر احباب اس بات کی توثیق کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس بلند مقام تک کبھی نہ پہنچ سکتے تھے، مگر خیز عوام کتنے ہی بے وقوف اور سادہ لوح ہوں مگر اتنی بڑی بڑی حکومتوں کو اپنی ووٹ سے قائم کرنے والے یہ بات تو جانتے ہی ہیں کہ انسان اپنی نظریات میں دہریا ہو سکتا ہے مگر ادارے دہریے نہیں ہوتے۔ ہر ادارے کا ایک سربراہ ہوتا ہے اور ہر منتخب حکومت اپنی مرضی کے سربراہ کی تعیناتی کرتی ہے (اور اگر اگلا مرضی کے مطابق کام نہ کرے تو آدھی رات کو بھی اسے کھڈے لائن لگانے کا نوٹیفیکشن جاری کیا جاسکتا ہے)۔ ہر حکومت ملک کے تما م قومی اور عوامی اداروں کے لیے ایک پالیسی بناتی ہے اور تمام ادارے ان پالیسیوں کی روشنی میں کام کرتے ہیں۔ حکومت کے تما م کل پرزے صرف انہی پالیسیوں کے بنانے اور ان پر احسن طریقے سے عمل کرنے کے نام پر چھے سات ہندسی تنخواہیں اور مراعات سمیٹتے ہیں۔ ادارے اور ملک کے وقار اور معیار کے نام پر وزیر محترم سے لے کر ایک انتظامی عہدیدار تک کو شاہی مراعات نصیب ہوتی ہیں ورنہ بندہ مزدور تو آج بھی فقط چند ہزار کے لیے اپنے خون کو پسینہ کر رہا ہے۔ اس سب کہی ان کہی کے بعد سوال یہ ہے کہ گذشتہ حکومت پر شیم شیم کرنے والوں کے پاس اور گذشتہ حکومت میں اپنے سے گذشتہ حکومت پر شیم شیم کرنے والوں اور ایسے ہی سلسلے کو پہلی حکومت تک کھینچ لیں، کے پاس ملک اور ادارے چلانے کے لیے کیا واضح پالیسی ہے؟ عوام ابھی تک کڑوی گولیاں ہی نگل رہے ہیں میٹھی گولیوں کی نوبت بھی آئے گی یا پھر کسی پستول کی گولی کی نوبت آجائے گی؟ کیا کسی بھی حکومت کو ووٹ اس لیے دئیے جاتے ہیں کہ وہ بجائے خود کواور اداروں کو ٹھیک کرنے کے، فورا ہی نجکاری پلان پیش کر دے اور اداروں کو بیچنا شروع کر دے؟حکومت کے اہل اور قابل وزراء میں اگر اتنی قابلیت اور سکت نہیں ہوتی کہ وہ کسی ایک قومی ادارے کو بحال کر سکیں تو وہ کس منہ اور شرم سے اپنی عہدوں پر کام کر تے ہیں؟ اداروں کے نااہل سربراہوں کو پابند سلاسل کیوں نہیں کیا جاتا اور جس محترم وزیر صاحب نے انکا تقرر کیاہوتا ہے، اس پر ایک نااہل بندے کو تعینات کرنے اور قومی دولت کو مجرمانہ طور پر ضائع کرنے کا جرم کیوں ثابت نہیں ہوتا اور ایسے افراد کا نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈالا جاتا؟

پاکستان میں حکومت کرنے والو، بھلے برا مناو لیکن آج تک کی تاریخ میں کوئی ایک ایسی حکومت بتا دو جس نے کہا ہو کہ اسے خزانہ بھرا ہوا وراثت میں ملا تھا۔۔۔ آپ لوگوں نے ہی حکومت میں رہنا ہے اور ہمیشہ یہی بیانات دینے ہیں کہ خزانہ خالی تھا تو خدارا ملک میں کچھ ادارے تو چھوڑ دو تاکہ تم سے بعد والی حکومتیں یا تم ہی اگلی حکومت میں کچھ بیچنے کے قابل تو رہو۔ اس سب کے باوجود بھی ہر شخص حکومت میں رہنا ہی چاہتا ہے اور اپنی خامیوں کے باوجود دوسروں کو الزام دیتا ہے تو یہ ہماری گردنوں میں اگے ہوئے سریے کی بدولت ہمارے مزاجوں میں در آئی رعونت کا کمال ہے کہ ہم کسی انسان کو انسان نہیں سمجھتے، اس ملک کو اپنا ملک نہیں سمجھتے، ہم تو اپنے آپ کو ہی کچھ اور سمجھ بیٹھے ہیں اور یہی بات ہمارے معاشرے کا ناسور بنتی جا رہی ہے۔۔۔ اور ہاں نہ تو کبھی گھاٹے میں اسٹیل مل رہی ہے اور نہ پی آئی اے، گھاٹے میں پاکستان اور اس کے عوام ہیں جن پر نااہل لوگ حکمران ہیں جن کی گردنوں میں سریا اگا ہوا ہے۔یہ سریا اور رعونت صرف حکمرانوں میں نہیں بلکہ عوام میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے کیونکہ یہی عوام پھر انہی نا اہل لوگوں کو منتخب کرتے ہیں، یہ بھی بڑی رعونت سے مخالف پارٹی کے حمایتی کو کہتے ہیں کر لو جو کرنا ہے ہم نے تو ووٹ ایسے ہی دینا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حکمرانوں اور عوام کی یہ رعونت ہمیں کہاں لے جائے گی؟ سوال تو یہ ہے کہ اس رعونت کی قیمت چکانے کو ہمارے پاس ہے کیا۔۔۔ سوائے خالی باتوں، بھڑکوں اور کہانیوں کے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: