عہد جہالت لوٹ آیا ہے ——– خرم شہزاد

0

اسلام سے پہلے عرب معاشرہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور اپنی بیٹیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے۔۔۔ یہ تین چھوٹے چھوٹے سے جملے ہم میں سے ہر ایک نے نہ صرف پڑھے ہیں بلکہ اسلام کے بارے بات کرتے ہوئے کہیں نہ کہیں ہم ان جملوں کا لازمی استعمال کرتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان جملوں کی روح کو آج تک سمجھنے کی ہم نے کوشش نہیں کی۔کیا عرب کاروبار میں اپنے زمانے کے دوسرے معاشروں سے بہت آگے نہیں تھے کہ ایک ایک تاجر کے کئی سو اونٹ سامان تجارت لے جایا کرتے تھے؟ کیا عرب سخاوت میں بے مثال نہ تھے کہ حاتم جیسے سخی اسی عرب سرزمین پر پیدا ہوئے اور عربوں میں سخاوت کے حوالے سے باقاعدہ مقابلہ ہوتا تھا اور دوسرے سے کم سخی ہونا برداشت نہیں ہوتا تھا؟ کیا عرب تعلیم اور شاعری میں اس قدر ترقی یافتہ نہ تھے کہ بلاشبہ دوسروں کو عجم یعنی گونگا کہتے تھے؟اگر ان سب سوالوں کے جواب ہاں میں ہیں تو پھر عرب کیسے جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے؟ کیوں اور کس لیے دنیا جہاں کو چھوڑتے ہوئے اسلام کے لیے خطہ عرب کا انتخاب ہوا؟ آپ کو سوچنے اور جواب تک پہنچنے کے لیے کوئی اشارہ چاہیے تو بتا دیں کہ ساری کہانی تو پہلی تین لائنوں میں ہی چھپی ہوئی ہے اگر ہم اسے سمجھ سکیں۔

عرب معاشرے کی جہالت کی جہاں اور بہت سے وجوہات تھیں وہیں دو وجوہات سب سے بڑی تھیں۔ پہلی کہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو تو ان کے پاس ایک ہی جواب ہوتا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب انہیں حق کی دعوت دی جاتی تو وہ یہی کہتے کہ اب تمہاری خاطر کیا ہم اپنے ابا و اجداد کے طریقوں سے ہٹ جائیں، ان کی روحیں کیا سوچیں گی۔ دوسری وجہ بیٹیوں کو زندہ زمین میں گاڑ دینا تھا، جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو تو جواب دیتے کہ بیٹی کی وجہ سے ہمیں دوسرے کے سامنے سر جھکانا پڑ جاتا ہے، بیٹی ہمارے لیے باعث شرمندگی ہوتی ہے اور ہماری زندگی اسی فکر میں گزر جاتی ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ اس سب سے نجات کے لیے بیٹی کو پیدا ہوتے ہی گاڑ دینا زیادہ بہتر لگتا ہے۔ ایسے معاشرے میں اسلام کا آغاز ہوا اور دنیا نے پھر عرب معاشرے میں برپا ہوئے انقلاب کا بھی مشاہدہ کیا۔

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لازم نہیں کہ عین و بین اسی طرح دہرایا جائے کہ زمان و مکان کے حوالے سے کچھ تبدیلیاں ضرور شامل حال ہوتی ہیں لیکن واقعات کی مماثلت اس قدر ہوتی ہے کہ باآسانی اندازہ ہو جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عرب کے جاہل معاشرے کی تاریخ چودہ سو سال بعد ہمارے معاشرے میں دہرائی جا رہی ہے؟ آپ یقینا اختلاف کریں گے کیونکہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار ہیں۔ ہم اپنی بیٹیوں سے بہت محبت کرتے ہیں اور انہیں دنیا جہاں کی آسائشیں مہیا کرنے کے لیے ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ بیٹیوں کی تعلیم و ترقی کے لیے بھی ہماری کوششیں کسی تعارف کی محتاج نہیں اور آج درجنوں یونیورسٹیاں، سینکڑوں کالجزاور ہزاروں سکول ہمارے دعوے کی صداقت ثابت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زندگی کے عملی میدان میں خواتین کی شمولیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور ہر شعبہ زندگی میں خواتین کو آگے آنے کے لیے سہولیات نہ صرف حاصل ہیں بلکہ دن بدن ان میں اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔المختصر ہم ایک جدید، پڑھے لکھے، ترقی یافتہ اور باشعور معاشرے کے نمائیندے اور عکاس ہیں اور ہمارا کسی طور عرب کے اُس جاہل معاشرے سے موازنہ ممکن نہیں ہے۔

کیا کہانی اتنی سی ہے یا اتنی ہی سادہ ہے جتنی ہم نے سوچ رکھی ہے۔ نہیں یقینا نہیں۔۔۔ کیونکہ ایک لڑکی صرف ایک جسم نہیں ہوتی بلکہ احساسات اور جذبات بھی اسی جسم کا حصہ ہوتے ہیں جنہیں نہ تو ہم مانتے ہیں اور نہ ہی کسی طرح کی پرواہ کرتے ہیں۔ ایک لڑکی کو بڑی محبت سے شاعری اور ادب پڑھانے کے بعد اس کی شادی جب سینٹری کا بزنس کرنے والے سے کر دی جاتی ہے تو یہ بھی اس لڑکی کا ایک طرح سے قتل ہی ہے۔ اس کی سوچ، خواہشات، خوابوں اور جذبات کو زندہ گاڑ دینے کا نام ہے۔ جہیزکی چار چیزیں دینے کے بعد جائیداد میں اس کے لیے کچھ نہ رکھنا بھی اس کے حقوق کا ہی قتل ہے۔ لڑکی غیروں میں دے کر خاندان کی ناک نہیں کٹتی لیکن زمین جائیداد کے غیروں میں جانے پر بزرگ قبروں میں تڑپ جائیں گے تو یہ بھی عہد جہالت کی ہی نشانیوں میں سے ہے۔کسی نازک مزاج لڑکی خواب دیکھنے والی لڑکی کو کرخت مزاج سے بیاہنے سے بہتر تو اس کا قتل کر دینا ہی ہے کہ ساری زندگی وہ کسی مسلسل عذاب میں بھلا کس لیے گزار دے۔ جب ایک نینو ٹیکنالوجی میں ایم فل کرنے والی لڑکی کی شادی میٹرک پاس بھانجے یا بھتیجے سے صرف اس لیے کر دی جاتی ہے کہ خاندان سے باہر شادی کریں گے تو لوگ کیا کہیں گے، تب واقعی لوگ تو شائد کچھ نہ کہیں لیکن مورخ یہ ضرور کہے گا کہ اہل اسلام اور خصوصا پاکستانیوں کے ہاں عہد جہالت لوٹ آیا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20