اصلاحات کے خلاف پنجاب پولیس کی ہڑتال —- سید اعجاز گیلانی

0

محکمہ پولیس جب طاقت کے ناجائز استعمال کی وجہ سے مافیا کا روپ دھار لیتا ہے تو اسکی لامحدود استحصالی قوت سے عام آدمی کی زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ اور یہی کچھ کم و بیش پاکستان کے تمام صوبوں میں عرصہ دراز سے ہو رہا ہے لیکن ان مسائل کے حل کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ اب حال یہ ہے کہ پولیس نے بالخصوص پنجاب میں اپنے ہی ضابطے ترتیب دے رکھے ہیں، یہ ایک کھلا راز ہے کہ پولیس جرایم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرتی ہے ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت نے کے پی کے میں پولیس اصلاحات کو نافذ کیا، اسکے مثبت اثرات خوشگوار ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے۔ لیکن جب یہی اصلاحات صوبہ پنجاب میں لانے کی کوشش کی گیی تو یہاں کے پولیس افسران، جن کے نیٹ ورک کو توڑنا اور نیے ضابطے لانا جوے شیر لانے کے مترادف ہے، نے ایسا بندوبست کیا کہ سابق آئی جی ناصر درانی اصلاحی کمیٹی کی سربراہی سے مستعفی ہو گیے۔ اس کے نتیجے میں پنجاب پولیس کی اصلاحات کا دعویٰ اور ایک تاریخ ساز کام دفن ہو گیا۔ اسے عوام کی بدقسمتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اب حال یہ ہے کہ پنجاب کی کمزور اور مسکین سیاسی قیادت کے عین ناک کے نیچے پولیس کے اعلی حکام حکومت بنانے گرانے کے کھیل میں کسی نہ کسی طور سے ملوث ہو رہے ہیں۔ اختیارات کا ناجائز استعمال اور رشوت کے مسائل تو بدستور موجود ہیں لیکن سوشل میڈیا پہ مشہور ہونے والے صلاح الدین کیس کا عذر لے کر پولیس اپنی اس مبینہ “بے عزتی” کا بدلہ مظلوم شہریوں سے لے رہی ہے۔

اس وقت پوری پنجاب پولیس عملاً ہڑتال پہ ہے۔ آئی جی پنجاب کے ایک مراسلے کا حوالہ دے کر تفتیشی افسران نے تفتیش کرنا چھوڑ رکھی ہے اور جان بوجھ کے ملزمان کے بیانات پہ ہی انکو چالان کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے پاس تشدد کا کوئی اختیار نہیں ہے لیکن دہشت گردی اور فتل و غارت کی سنگین وارداتوں میں ملوث افراد کی تفتیش تمام دنیا میں روایتی طریقوں سے ہی ہوتی ہے۔ ریکوری فوجداری مقدمات میں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے لیکن پچھلے ایک ماہ سے پنجاب پولیس کسی بھی مقدمے میں ریکوری کیلیے عملاً کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے کیونکہ انہیں صلاح الدین کیس میں ہونے والی بے عزتی کا بدلہ لینا ہے اور اپنے آئی جی صاحب کے مراسلے کی تعمیل کرنا ہے۔

یہ ایک طرح سے عوام الناس کو انصاف کے حصول سے روکنے کے مترادف ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک کی اعلی عدالتیں از خود نوٹس سے تائب ہو چکی ہیں۔ یعنی اب عوام، حکومت پولیس اور عدلیہ کے درمیان ایک گیند کی صورت اختیار کر چکی ہے جن تینوں کو اپنے اختیارات اور فرائض کے بارے میں کلیرٹی نہیں ہو سکی ہے۔ ان حالات میں ملک میں جرایم پیشہ افراد کا منظم ہونا ایک فطری عمل یے۔ ستم ظریفی دیکھیے پولیس کا سربراہ کہہ رہا ہے کہ ہم ریکوری کرانے کے ذمہ دار نہیں ہیں اور عدلیہ کا سربراہ کہہ رہا ہے ہم از خود نوٹس نہیں لیں گے۔

کیا پولیس کے یہ افعال ہڑتال کے زمرے میں نہیں آتے؟ کیا اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ ادارے موجودہ حکومت کے ساتھ کام کرنے سے انکاری ہو چکے ہیں؟ اس بات کا ادراک کرنے کے لیے آئین سٹائین کی ذہانت کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت میں انصاف مہیا کرنے والے ادارے اپنا کام بند کر دیں تو پھر سب کا اللہ ہی حافظ ہے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ پولیس میں اصلاحات کیلیے ہنگامی اقدامات اٹھائے جایں اور اس قسم کے مراسلات کی تحقیق کرائی جاے کہ اسکا اصل مقصد حکومت کو گرانا تو نہیں ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: