بے اثر اقوال سے ذہنی باؤلے پن کا علاج ——– اصغر بشیر

0

اس بحث میں جائے بغیر کہ یہ قول شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کا ہے یا نہیں، ہم اس بات پر اکتفا کر لیتے ہیں کہ میں نے یہ قول ایک وٹس ایپ گروپ میں شیئر دیکھا اور خیالات کے سلسلے جو کئی دنوں سے غائب تھے، اس قول پر غور و خوص سے بننے والی اعصابی لہر کے اردگرد کونپلوں کی صورت نمو دار ہونے لگے۔ قول تھا کہ “اچھے لوگ بھینس کی مانند ہوتے ہیں جو سوکھی گھاس کھا کر بھی میٹھا دودھ دیتے ہیں اور برے لوگ سانپ کی مانند ہوتے ہیں جو میٹھا دودھ پی کر بھی زہر دیتے ہیں”۔ یعنی کسی انسان کے اچھا یا برا ہونے کا پیمانہ یہ ہے کہ اس کے اندر وسائل کو استعمال کر کے آوٹ پٹ کے طور پر دینے کے لیے کیا ہے۔ ایک ایسا آوٹ پٹ جس کو کوئی اور ان پٹ کے طور پر استعمال کرے اور نقصان اٹھائے تو وہ ایک برا انسان یا یوزر ہے۔ اس کے برعکس ایسا آوٹ پٹ جس کو کوئی اور ان پٹ کے طور پر استعمال کرے اور فائدہ اٹھائے تو وہ اچھا انسان یا یوزر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک فرد کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ خود کو ایسا یوزر بنائے کہ اس کی آوٹ پٹ دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو۔

اس مقام پر سوال یہ ہے کہ ایک فرد اپنی آوٹ پٹ دینے میں کتنا خود مختار ہے؟ راقم اس نظریے کا مالک ہے کہ یہ فرد کے اختیار میں نہیں رہا کہ وہ اپنی مرضی سے آوٹ پٹ دے سکے۔ مجھے شک ہے کہ یہ جو میں لکھ رہا ہوں اس کا بیج کسی نہ کسی مقام پر میرے ذہن میں بو دیا گیا تھا جو اچانک وٹس ایپ پر پیغام دیکھ کر تحریک پا گیا اور میں اسی کے زیر اثر لکھتا جا رہا ہوں۔ مجھے شک ہے کہ میں خود نہیں لکھ رہا بلکہ لکھوایا جا رہا ہے۔ ہماری معاشرے کے ایک فرد کے طور پر پی جی، پری نرسری، اور اس جیسی دوسروں بلاؤں کے وقت سے برین واشنگ شروع ہو جاتی ہے اور معاشرے کے ذمہ دار فرد ہونے تک یہ برین واشنگ گھر میں بیوی، محلے میں مولوی اور ملکی سطح پر وردی تک ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایسے میں ایک فرد کے ذمہ یہ لگانا کہ وہ اچھے کی کوشش کرے تو در اصل یہ اور اس طرح کے دوسرے اقوال طاقت ور کو مزید طاقت دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ سرداری نظام میں کمی کمین ذاتوں کی ترتیب میں سب سے اوپر مولوی اور اس کے بعد ماسٹر کا نام لکھا جاتا رہا ہے۔ ہمارے ہاں اچھے کی پہچان کروانے والے یہی دو لوگ بچتے ہیں، ورنہ باقیوں کو یا تو مار دیا جاتا ہے یا بے دخل کر دیا جاتا ہے۔

موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ حضرت ؒ  کے قول کے مطابق انسان کو اچھا یوزر بننے کی کوشش کرنی چاہیے تا کہ اچھا آوٹ پٹ دے سکے اور کیا گستاخی قبل از وقت معاف کرواتے ہوئے اتنا پوچھا جا سکتا ہے کہ ۲۲ کروڑ کی انسانی منڈی جو ایک غیر جمہوری مقتدرہ کی سیوا میں مگن ہے، کون سے آوٹ پٹ کو اچھا سمجھے؟ ایک طرف ضمیر ہے اور دوسری طرف دینی و دنیاوی علوم کی خاص شکل ہے جو بچپن سے ذہنوں میں ٹھونس دی جا تی ہے اور کندھوں پر لاد دی جا تی ہے۔

اس بات کو ایک اور رخ دیا جا سکتا ہے کہ سماجی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اگر ہمارے لیے اچھے کا معیار دوسروں کی تکلیف ٹھہرے تو کیا سانپ بننا جائز ہے؟ کیا وہی دوسروں کے لیے تیار کیا جانے والا سانپ اگر خود کے بچوں کو ڈسنے لگے تو وہ قابل ِ گردن زنی ہو گا یا نہیں؟ کیا ہم دوسروں کو یہ بتانے کی اجازت دیں گے کہ وہ اپنے اصولوں کے مطابق ہمیں جانچ سکیں اور ہمیں آئینہ دکھا سکیں؟

زبان بندی کا دور چل رہا ہے، کچھ کہنے کی جسارت نہیں۔ بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ادوایات اپنا اثر کھو دیں تو ایک مریض مرتا ہے لیکن اقوال اپنا اثر کھو دیں تو معاشرے اور تہذیبیں دم توڑ ڈیتی ہیں کیونکہ ذہنی باؤلے پن کا علاج صرف اقوال سے ممکن ہے۔

(Visited 1 times, 4 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: